Opinions

فیض کے مشورے سے، ڈاکٹر کے مشورے تک

July 30, 2015

ظہیر اختر بیدری — یہ غالباً 1969یا 1970 کی بات ہے میں ملک کے معروف ہفت روزہ لیل و نہار کی مجلس ادارت میں شامل تھا۔ لیل ونہار کا آفس طارق روڈ پر تھا اس زمانے میں ویگن یا چنگچی وغیرہ نہیں ہوا کرتے تھے ، بسیں بھی مخصوص روٹس پر ہی چلتی تھیں، طارق روڈ جانے کے لیے دو تین بسیں بدلنی پڑتی تھیں ، فیض احمد فیض اور سبط حسن لیل و نہار کے سرپرست تھے وہ اکثر آفس آیا جایا کرتے تھے ہم اور حسن عابدی ہی رسالے کا زیادہ کام کرتے ۔۔۔

اُردو پریس پر نظرثانی کی ضرورت

July 30, 2015

غلام جیلانی خان — اخبار نویسی گویا دکانداری اور اخبار بینی گاہکی کے زمرے میں آتی ہے۔ اخبار نویسی کی دکان میں کام کرنے والوں میں بہت سے ’’قبیلوں‘‘ کے لوگ شامل ہوتے ہیں،مثلاً خبریں اکٹھا کرنے والے، خبریں وصول کرنے والے، انگریزی خبروں کو اُردو میں ترجمہ کرنے والے،خبروں کی چھان پھٹک کرنے والے، ان کے مندرجات کی تصحیح کرنے والے، سیاسی اور مذہبی خبروں کو شدت پسندی کے عنصر سے پاک کرنے والے ،کمپوز کرنے والے، پروف ریڈنگ کرنے والے، خبروں کو ترتیب دینے والے، سرخیاں لگانے والے، شہ سرخیاں(سپر لیڈ اور لیڈ وغیرہ) بنانے/نکالنے والے، یہ فیصلہ کرنیوالے کہ کون سی خبر کتنے کالم میں ہو اور اخبار کے کس صفحے پر لگائی جائے، اخبار کو مصور کرنے والے، صفحہ اول اور صفحہ آخر بنانے والے، اشتہارات لانے والے، حکومتی اشتہاروں کو حاصل کرنے اور پھر ان کی ادائیگی کے لئے تگ و دو کرنے والے، مختلف ایڈیشن مرتب کرنے والے، ادارتی صفحہ/ صفحات ترتیب دینے والے، پریس کاپی تیار کرنے اور چھاپنے والے اور بروقت مارکیٹ تک پہنچانے والے۔۔۔ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ اس میں سینکڑوں افراد شامل ہوتے ہیں۔ سینکڑوں ہزاروں کا روزگار اخبار سے وابستہ ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہزاروں خاندان شعبہء ۔۔۔

پاکستانی نثری ادب میں طبقاتی کشمکش کا بیانیہ

July 30, 2015

حفیظ خان — پاکستانی زبانوں کے نثری ادب میں طبقاتی کشمکش کے بیان سے قبل یہ دیکھنا کہیں زیادہ ضروری ہے کہ ہمارے خطے ، خاص طور پر وادئ سندھ میں اب تک ترقی پسندی کِن معروف معنوں میں لی جاتی رہی ہے۔ میرے نزدیک کسی بھی معاشرے کے سیاسی ، ادبی اور مذہبی ایوانوں میں جمود اور تغیر کے درجات کا تعین کرنے کے لئے بنیادی طور پر ایک ہی قوت کار فرما ہوتی ہے اوروہ ہے سیاسی بالا دستی کی خواہش جو معاشی گراف کی بلندی اور پستی سے نمو حاصل کرتی ہے۔باقی کی شعبدہ بازیاں اور موضوعاتِ بحث ، جنہیں ہم ترقی پسندی سے کھلواڑ کے نام پر اپنے اطراف میں سجائے رکھتے ہیں، وہ کبھی یک رنگ یا یک شاخہ نہیں ہوتے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے ہاں کی زبانوں میں بھی ہمہ قسم طبقاتی منافرت اور مزاحمت کا نام ، بِلا تخصیص نوعیت ترقی پسندی رکھا جا چکا ہے ۔ حالانکہ مزاحمت کبھی بھی صرف تغیر کے جلو میں نہیں چلتی۔جس طرح عمل سے ردِ عمل وجود میں آتا ہے اور اِرتکازِ قوت کے مقابل، مرکز سے گریز کی قوتیں پروان چڑھتی ہیں ، اُسی طرح مزاحمت بھی ہمیشہ صرف تغیر ، تبدیلی یا تحریک کے ۔۔۔

نفاذ اردو کی تیاری۔۔۔ اور ہماری قومی ذمہ داری

July 30, 2015

تاثیر مصظفیٰ — سپریم کورٹ میں نفاز اردو اور لاہور ہائی کورٹ میں انگریزی کوسرکاری سکولوں میں ذریعہ تعلیم بنانے کے حکومتی فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اکثر و بیشتر حضرات اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ’’اردو کا دامن تنگ ہے اور یہ تعلیمی دفتری اور عدالتی نیز دیگر میدانوں میں انگریزی کی جگہ نہیں لے سکتی یا اس کے قابل نہیں ہے ‘‘۔ان سطورمیں انہی غلط فہمیوں کے ازالہ کے لئے کچھ ٹھوس حقائق پیش کئے جارہے ہیں ۔۔۔

اردو زبان اور ہم

July 29, 2015

چودھری رفاقت علی — آئین پاکستان کا آرٹیکل 251 کا تعلق پاکستان کی قومی زبان سے ہے۔ جس کے الفاظ آئین میں درج کچھ یوں ہیں۔ 1۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور یوم آغاز سے پندرہ برس کے اندر اندر اس کو سرکاری و دیگر اغراض کے لئے استعمال کرنے کے انتظامات کئے جائیں گے۔ 2۔ شق i۔ کے تابع انگریزی زبان میں اس وقت تک سرکاری اغراض کے لئے استعمال کی جا سکے گی جب تک اس کے اردو سے تبدیل کرنے کے انتظامات نہ ہو جائیں۔ 3۔ قومی زبان کی حیثیت کو متاثر کئے بغیر کوئی صوبائی اسمبلی، قانون کے ذریعہ قومی زبان کے علاوہ کسی صوبائی زبان کی تعلیم، ترقی اور اس کے استعمال کے لئے اقدامات تجویز کر سکے گی۔ قومی زبان کے حوالہ سے یہ ہیں وہ الفاظ جو آئین پاکستان 1973 ء میں درج ہیں آئیے اب دیکھتے ہیں کہ اس پر عمل درآمد کرنے کی عملی صورت حال کیا ہے؟ کونسا کام کیا جا چکا ہے اور کونسے کام ابھی کرنا باقی ۔۔۔

اردو میڈیا کا مزاج بدل رہا ہے!

July 29, 2015

غلام جیلانی خان — اردو پریس میڈیا کی رسائی دنیا کے ان حصوں تک محدود ہے جن میں اردو زبان سمجھی ،پڑھی یا بولی جاتی ہے۔ چونکہ اردو اقوامِ متحدہ کی اُن زبانوں کی فہرست میں بھی شامل نہیں جو بین الاقوامی زبانیں کہلاتی ہیں، اس لئے اردو کی گلوبل Reach اور اہمیت بھی محدود سمجھنی ۔۔۔

Why only one national language?

July 28, 2015

Zubair Torwali — As per media reports, the cabinet division has issued a letter to federal departments directing them to use Urdu in their public and official correspondence. The directive also states that the president, prime minister and his cabinet ministers have to make speeches in Urdu in Pakistan and abroad. The media also reported this move as making Urdu the official language of Pakistan and consequently fulfilling the obligation made by the 1973 Constitution wherein it is suggested that English would be replaced by Urdu within 15 years. On May 14 this year, the federal cabinet decided that Urdu would be the official language as per Article 251 of the ۔۔۔

لالو کھیت کے بے تاج بادشاہ

July 27, 2015

شکیل صدیقی — اچھا شعر سننے اور سمجھنے کو ہر پڑھے لکھے شخص کا دل چاہتا ہے۔ کچھ اسی قسم کی عادت مجھ میں بھی ہے۔ مجھے پچپن ہی سے اقبال، غالب، ذوق اور میر کی شاعری سے شغف رہا ہے۔ بعد میں آنے والے شعراکرام جن میں فیض احمد فیض، عزیز حامد مدنی اور احمد فراز بھی میرے مطالعے میں آتے رہے۔ اگر آپ شاعری نہیں کرتے تو لوگ جانتے ہیں کہ آپ ایک اچھے سامع ہیں۔ اس لیے ٹٹ پونجئے قسم کے شاعر اپنے دیوان لیے آپ کے پیچھے گھومتے رہتے ہیں۔ یہ وہ شاعری ہیں جن کی اکثریت لالوکھیت میں رہتی ہے۔ ایک مثل مشہور ہے کہ لالوکھیت میں جو پتھر اٹھاؤ، اس کے نیچے سے چار پانچ شاعر نکل آتے ہیں۔ ایسے شاعر شہرت، عزت اور دولت کے لیے شاعری کرتے ہیں۔ اخبارات کے ادبی کالم نویسوں سے ان کی اٹی شٹی ہوتی ہے۔ اس لیے ان کا نام نامی اخبارات کی زینت بنتا رہتا ہے۔ اپنا نیا مجموعۂ کلام شایع کرانے کے بعد (اپنی جیب خاص سے تیس چالیس ہزار روپے خرچ کرنے کے بعد) وہ ہر اخبار میں اس کی دو جلدیں تبصرہ نگار کو دے کر آتے ہیں اور تاکید کرتے ہیں کہ ۔۔۔

A new language policy

July 27, 2015

Asif Ezdi — On July 10, the government informed the Supreme Court that it had issued an executive order for the replacement of English with Urdu as the country’s official language in stages. The decision had been taken, the court was told, in fulfilment of the government’s obligation under Article 251 of the constitution, which makes it mandatory that arrangements should be made for the use of Urdu for official and other purposes within fifteen years from ۔۔۔