نفاذ اردو کی تیاری۔۔۔ اور ہماری قومی ذمہ داری

Follow Shabnaama via email
تاثیر مصظفیٰ

سپریم کورٹ میں نفاز اردو اور لاہور ہائی کورٹ میں انگریزی کوسرکاری سکولوں میں ذریعہ تعلیم بنانے کے حکومتی فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اکثر و بیشتر حضرات اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ’’اردو کا دامن تنگ ہے اور یہ تعلیمی دفتری اور عدالتی نیز دیگر میدانوں میں انگریزی کی جگہ نہیں لے سکتی یا اس کے قابل نہیں ہے ‘‘۔ان سطورمیں انہی غلط فہمیوں کے ازالہ کے لئے کچھ ٹھوس حقائق پیش کئے جارہے ہیں ۔

جب کسی زبان میں دائرۂ معا رف ( انسائیکلوپیڈیا) طبع ہونے لگے تو اسے ایک بین الا قوامی زبان گردانا جاتا ہے ۔ اس وقت 28 سے زیادہ اردو انسائیکلوپیڈیا موجود ہیں ۔ جن کی ضخامت 15 سے 23 جلدوں تک ہے ۔ دوسری جانب لغات کا معاملہ بھی چشم کشاہے ۔کئی سال قبل 669 لغات طبع ہوکر مارکیٹ میں آچکی تھیں ۔قومی انگریزی ۔اردو لغت دولاکھ الفاظ پرمشتمل ہے ۔جو کسی بھی موضو ع پر انگریزی کے اردو مترادفات فراہم کرتی ہے اور دوسوسے زیادہ سائنسی علوم و فنون کا احاطہ کرتی ہے ۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق اگرکسی زبا ن میں تین سے چار لاکھ تک اصطلاحات کا ذخیرہ موجود ہوتو بڑے اعتماد کے ساتھ اسے تمام علوم وفنون کا ذریعہ تعلیم بنایا جاسکتا ہے ۔ جبکہ اردو ایسی ساڑھے تین لاکھ اصطلاحات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے ۔

حکومت نے اردو کے فروغ کے لیے جوادارے قائم کئے ان میں ایک نہایت نمایا ں نام مقتد رہ قومی زبان کا ہے ۔ اب اس اتھارٹی ( بااختیارادارہ )کو حکومتی اردو کُش اقدامات کے تحت ادارہ ’’ فروغ قومی زبان ‘‘ بنادیا گیا ہے اور اسے قومی ورثہ کی وزارت کے سپرد کیا گیا ہے ۔گویا اردواب حکومت کی نظرمیں عجائب گھر کی چیز ہے ۔ یہ ادارہ اب تک 663 متبادل کتابیں اور پمفلٹ شائع کرچکا ہے جو 55 مختلف عنوانات کا احاطہ کرتے ہیں ۔ ان میں دفتری اردو کی کتابوں کے پانچ سیٹ اور قانون و عدلیہ سے متعلق اصطلاحات کے تین سیٹ شامل ہیں ۔ اسی طرح معاشیات اور انتظامیات کے تربیتی امورسے متعلق کتب بھی تیار کی گئی ہیں ۔ مجلس زبان دفتری کی نظرثانی شدہ ایک لاکھ پینتیس ہزار اصطلاحات پر مشتمل لغت بھی شائع ہوچکی ہے ۔ اسی طرح ایک ہزار موضوعات سے متعلق اہم معانی والفاظ کا احاطہ کرنے والا ایک نایاب اور شاندار’’ اردو تھیسارس‘‘بھی شائع ہوچکا ہے ۔ قومی اردو۔ انگریزی لغت کی چالیس ہزار کاپیوں کو سرکا ری دفاتر میں تقسیم کیا جاچکا ہے ۔ یہ اس ادارے کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہے ۔
جہاں تک تراجم کا تعلق ہے تو اب تک 75 ہزار سرکاری دستاویزات کا ترجمہ کیا جاچکا ہے جن میں حکومتی قوانین وضوابط نہایت نمایاں حیثیت کے حامل ہیں ۔ مثلاً’’ ایسٹا کوڈ‘‘، ’’ ڈی ۔ڈی او ہینڈ بک ‘‘ اور ’’رولز آف بزنس‘‘اہم ترین اور قابل ذکر ہیں ۔ جہاں تک اردو بطور ذریعہ تعلیم کا معاملہ ہے تو درج بالا ادارہ سماجی علوم تعلیم اور نیچرل سائنسز (فزکس، کیمسٹری،بیالوجی وغیرہ) کے موضوعات پر 140 کے قریب کتب اردو میں تصنیف کر کے شائع کر چکا ہے۔ عدالتی نظام پر 28 کتب طبع ہو کر اردو کے دامن میں وسعت پیدا کرچکی ہیں ۔ اس ادارے کا ایک اور سنہری کارنامہ قانونی ڈکشنری کا اردو ترجمہ ہے جسے قانون دان طبقہ نے نہایت پسند کیا ہے ۔اردو سائنس بورڈ کا کام بھی نہایت قابل قدر ہے جس کی تفصیل بیان کرنے کا یہ کالم متحمل نہیں ہے ۔یہا ں پر نفاذ اردو کی تیاری سے متعلق اتنا ہی بیان کردینا کافی ہے کہ 15 اگست 1988ء کو(جس روز آئین کے مطابق اردو کو مکمل طور پر نافذ ہوجانا تھا ) مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشین ڈاکٹر جمیل جالبی نے اعلان کیا تھا کہ حکومت ایک انتظامی حکم جاری کرے اور اردو کو نافذ کردے ہماری تیاری مکمل ہے۔ لیکن پنجابی کے مشہور شاعر انور مسعود کے بقول یہ محض حکمرانوں کی نیت کا فتور ہے کہ وہ اردو کو ہر شعبۂ زندگی میں نافذ نہیں کررہے ۔موصوف نے راقم سے خود کہا کہ پاکستان کی حقیقی ترقی کا آغاز تب ہو گا جب ہمارے طلباء اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنے لگیں گے۔

اردو دور جدید کے تمام تقاضوں پر پورا اترنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے ۔ دورِ حاضر کی طباعتی اور اشاعتی ایجاد کمپیوٹر سے استفا دہ کی استعداد اس کی جدت طرازی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔امریکی ماہر لسانیات رونالڈ بیکر نے ذاتی استعمال کے لیے خوشنویس کے نام سے ایک اردو سافٹ وئیر ایجاد کیا جس پر کئی کتب شائع ہوچکی ہیں ۔ اسی طرح کراچی میں نوری نستعلیق اور نظامی نستعلیق کے نام سے سافٹ وئیرایجاد کرلیے گئے ۔ یہ محض چند اشارات ہیں جن کے تحت اردو کے نفاذ کی صلاحیت اور تیاری کا تذکرہ مقصود تھا ۔قارئین کرام! حیدآباد دکن کی عثمانیہ یونیورسٹی میں تمام فنی اور تکنیکی علوم بشمو ل ڈاکٹری، انجنےئرنگ، فلسفہ اور قانون مکمل طور پر اردو میں پڑھائے جاتے رہے ہیں ۔ایک دفعہ جب یہاں سے ایم بی بی ایس کر کے ایف آر سی ایس کرنے کی غرض سے کچھ ڈاکٹر برطانیہ گئے او ر وہاں انکا داخلہ امتحان لیا گیا تو برٹش میڈیکل جنرل کونسل نے خوب جانچ پرکھ کے بعد ان کی صلاحیتوں کے بارے میں رائے دی :’اگر میڈ یکل کی تعلیم انگلستان ،فرانس ،جرمنی، اور ہالینڈ میں ان کی اپنی زبانوں میں دی جاسکتی ہے تو یہ بلاشبہ اردو میں بھی ممکن ہے ۔جیسا کہ اس یونیوررسٹی کے طلبہ ثابت کرچکے ہیں ‘۔حال ہی میں ہماری تحریک کے ایک کارکن نے بتا یا کہ ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں لاہور کے ایک اشاعتی ادارے نے ایم بی بی ایس کی بعض اردو کتب شائع کیں لیکن فروخت نہ ہونے کے سبب یہ سلسلہ بند کردیا گیا۔اسی طرح ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ ایک بار انہیں اناٹومی(علمِ ساخت الاعضاء ) سے متعلق ایم بی بی ایس کے کورس میں شامل ایک کتاب اردو میں فٹ پاتھ پر ملی، ان کی بیٹی جوایم بی بی ایس کی طالبہ تھی جب اس نے یہ کتاب دیکھی تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی کہنے لگی کم از کم یہ مضمو ن تو میرے لیے بہت آسان ہوگیا ہے ۔

میرا تمام پاکستانیوں سے سوال ہے کہ ہم کب تک انگریزی کی غلامی کا جُوا اپنے گلے میں ڈالے رکھیں گے ہماری خاموشی کے باعث یہ جُوا نئی نسل کے گلے میں منتقل ہورہاہے ۔ اس غلامی سے نجات اور گونا گوں خوبیاں رکھنے والی اورآئینی تحفظ کی حامل اردو زبان کے مکمل نفاذ کے لیے حکومت، عوام اور ادارے سب اپنا پنا کردار ادا کریں ۔اور پارلیمنٹ اگربیالیس سال بعد بھی اپنا قرض اتار دے تو2015ء کا یومِ آزادی حقیقی معنوں میں یومِ آزادی بن جائے۔

Citation
Tasir Mustafa, “نفاذ اردو کی تیاری۔۔۔ اور ہماری قومی ذمہ داری,” in Daily Nai Baat, July 30, 2015. Accessed on July 30, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D9%86%D9%81%D8%A7%D8%B0-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%B0%D9%85

Disclaimer
The item above written by Tasir Mustafa and published in Daily Nai Baat on July 30, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 30, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Tasir Mustafa:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s