پاکستانی نثری ادب میں طبقاتی کشمکش کا بیانیہ

Follow Shabnaama via email
حفیظ خان

پاکستانی زبانوں کے نثری ادب میں طبقاتی کشمکش کے بیان سے قبل یہ دیکھنا کہیں زیادہ ضروری ہے کہ ہمارے خطے ، خاص طور پر وادئ سندھ میں اب تک ترقی پسندی کِن معروف معنوں میں لی جاتی رہی ہے۔ میرے نزدیک کسی بھی معاشرے کے سیاسی ، ادبی اور مذہبی ایوانوں میں جمود اور تغیر کے درجات کا تعین کرنے کے لئے بنیادی طور پر ایک ہی قوت کار فرما ہوتی ہے اوروہ ہے سیاسی بالا دستی کی خواہش جو معاشی گراف کی بلندی اور پستی سے نمو حاصل کرتی ہے۔باقی کی شعبدہ بازیاں اور موضوعاتِ بحث ، جنہیں ہم ترقی پسندی سے کھلواڑ کے نام پر اپنے اطراف میں سجائے رکھتے ہیں، وہ کبھی یک رنگ یا یک شاخہ نہیں ہوتے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے ہاں کی زبانوں میں بھی ہمہ قسم طبقاتی منافرت اور مزاحمت کا نام ، بِلا تخصیص نوعیت ترقی پسندی رکھا جا چکا ہے ۔ حالانکہ مزاحمت کبھی بھی صرف تغیر کے جلو میں نہیں چلتی۔جس طرح عمل سے ردِ عمل وجود میں آتا ہے اور اِرتکازِ قوت کے مقابل، مرکز سے گریز کی قوتیں پروان چڑھتی ہیں ، اُسی طرح مزاحمت بھی ہمیشہ صرف تغیر ، تبدیلی یا تحریک کے واسطے نہیں ہوتی ، بلکہ جمود کی طاقتیں بھی اپنی بقا کے لئے اُسی بھرپور مقدار کی قوت سے مگر مخالف سمت میں مزاحمت کو اپنائے رکھتی ہیں۔

جمود کی قوتوں کی مزاحمت، تغیر کے خلاف اور غاصبیت کے تحفظ کے لئے ہوتی ہے جب کہ تغیر یا تحریک، غاصبیت سے نجات اور محرومیوں کو حصول میں بدلنے کی جدوجہد سے عبارت ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی کشمکش ہے کہ جو اگر زبان وادب میں در آئے تو اُس زبان کی لسانی حیثیت اور ادب کے اجتماعی ابلاغ کی جہتوں کا تعین بھی کرتی ہے۔ ادب اور لسانیات کے علماء بخوبی جانتے ہیں کہ مختلف معروضی حالات اور ادوار میں، ہر زبان میں دو طرح کا ادب تخلیق ہوتا رہا ہے۔ایک خواص کے لئے ، جو اُنہیں دستیاب وسائل کے تحفظ کے واسطے جمود کی راہ دکھاتا ہے ۔ اور دوسرا عوام کے لئے ، جو اُنہیں اپنی موجودہ حالت کے بدلنے اور بنیادی وسائل سے محرومی سے نجات دلانے کی خواہش سے آشنا کرتا ہے۔ترقی پسندی کی تعریف میں ادب کا چاہے برائے زندگی ہو نا ہو یا اُسے جیسے تیسے گھسیٹ کر مارکسی فلسفۂ معیشت کے دائرے میں لے آنا، اِس کے تشکیلی عناصر میں مقصدیت ، انسان دوستی ، حب الوطنی ، آزادی کا بنیادی حق ، معاشرے کے کچلے ہوئے طبقات یعنی عورت، مزدور اور کسان کے مفادات کا تحفظ ، انسانوں کے inter action میں کھردری حقیقتوں کا واشگاف اظہار اور سماجی ضابطوں کو توڑنے کی خواہش سبھی کچھ موجود رہے ہیں۔یہی وہ عناصر ہیں کہ جن سے جمود کی قوتیں لرزاں رہتی ہیں۔ ’’سب اچھا ہے ‘‘ کی صدا کا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔اگر دیکھا جائے تو اُردو زبان و ادب کے تخلیق کاروں کو جن حالات کا سامنا دو عظیم جنگوں کے درمیانی عرصے میں کرنا پڑا ، اُس سے کہیں زیادہ حبس، جمود ، سکوت ، غاصبیت اور جبر کا سامنا اِس خطے کے تخلیق کاروں کو گزشتہ کئی صدیوں میں رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اِس خطے کا قدیم سے قدیم لوک ادب بھی ترقی پسندی کی مروجہ اقدار سے محروم نہیں رہا کہ جسے کچھ ناقدین نے ’’ماتم کی جمالیات ‘‘کا نام بھی دیا۔بجا کہا ، کیونکہ قہقہے کی نسبت آنسو ،زندگی کی مقصدیت سے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور تغیر سے پہلے کی تحریک اور تحریک سے پہلے کے رحجان کو جنم دیتے ہیں۔میرے نزدیک جب بھی زندگی کی بقا ، خطرات سے دو چار ہوتی ہے، محرک ، متحرک ہو جاتا ہے اور ایسے میں ’’ادب برائے زندگی ‘‘ کا نظریہ اُسے تحریک بنانے کے عمل میں عمل انگیز کا کردار ادا کرتا ہے۔

بد قسمتی یا خوش قسمتی سے پاکستان کی مقامی زبانیں کبھی بھی عوام مخالف اشرافیہ یا غاصبوں کی درباری زبانیں نہیں رہیں ۔’’رگ وید ‘‘ کے زمانے سے بھی پہلے ، وادئ سندھ اپنے سرسبز کھیتوں ، صحت مند مال مویشی اور بہتے دریاؤں کے سبب حملہ آوروں کا دستر خوان بنی رہی ۔ حملہ آور شمال کے ہوں یا جنوب کے ، مغرب کے ہوں یا مشرق کے، پشتو، سرائیکی، پنجابی، بلوچی اور سندھی بولنے پر فخر کرنے والے حکمرانوں کو تو اِتنا موقع بھی نہیں ملا کہ جتنا ہمارے ہاں جمہوریت کو ملتا رہا ہے۔لہذا اِن زبانوں کو محلات کی غلام گردشوں ، درباروں میں رو ارکھی جانے والی کورنش آلود
سازشوں ، ہٹو بچو کی لغت اور ماحول سے کبھی واسطہ نہیں پڑا۔عوامی زبان ہونے کی پاداش میں مقامی زبانوں کو main stream کی زبانیں ہوتے ہوئے بھی paralel زبانوں کا درجہ دیا جاتا رہا ہے۔ایسی paralel زبان کہ جس کی لغت میں حکمرانوں کی خواب گاہوں کے راز و نیاز ، مسہریوں کے ریشمی غلافوں کی سرسراہٹ اور معطر معمبر ہواؤں کا گزر تک نہ تھا۔ہاں اِس کے نصیب میں اگر کچھ تھا تو صوفیوں کے حجرے ، تکیے اور خانقاہیں اور مرشد والے دھوئیں کی کالی لکیریں اُگاتی کالک ۔ ہماری یہ زبانیں تو کبھی گاؤ تکیے کی زبانیں ہی نہیں رہیں ۔لہذاہماری پاکستانی زبانوں میں ’’ادب برائے ادب‘‘کا تخلیق کیا جانا کارِ دارد ہی رہا۔کیونکہ ’’ ادب برائے ادب‘‘ تو رَج کھانے کی بد ہضمی کے بعد ہاجمولا کھانے سے پہلے کے عرصے میں ہی تخلیق کیا جاسکتاہے۔ بھوکے پیٹ نہیں۔’’ادب برائے ادب‘‘ توتسکین روح کے لئے نہیں بلکہ تسکینِ دل وجاں کے لئے پئے جانے والے مشروب کے بعدکامسئلہ ہے کہ آج کے کھانوں کا انتخاب کیا ہو۔یا پھر حرم سراؤں میں مہا رانیوں سے لے کر کنیزوں تک کی اناٹومی کے، اٹاپسی کی حد تک تذکرے اور نسوانی ابدان کے معیار کے از سرِ نو تعین کے بکھیڑے۔

اُردوادب میں ترقی پسند تحریک قیام پاکستان سے بہت پہلے بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں ایک ایسے طبقے کے خلاف مزاحمت کے طور پر شروع ہو چکی تھی کہ جو اپنے غاصبانہ تسلط کو حسبِ خواہش دوام دینے کی قیمت پر پہلے سے کچل دیے گئے طبقے کی آخری حساسیت کو بھی زیرِ پا رکھنا چاہتا تھا۔یہی وہ طبقہ تھا کو جو پاکستان بننے کے بعد بھی حکمرانی کی کرسی کو اپنے ساتھ گھسیٹ لایا اور یہاں کے مقامی لوگوں کی زبانوں، ثقافت اور تہذیبی روایات کی نفی کرتے ہوئے اُنہیں اُن کی تاریخ تک سے بیگانہ کر دیا۔مقامی اکائیوں کے بنیادی انسانی، لسانی اور سیاسی حقوق کی نفی کے اِس عمل میں یوں باور کرایا گیا کہ جیسے پاکستان کے نام سے قائم ہوئے خطے میں قیادت و سیادت کہیں باہر سے لا کر مقامی جغرافیئے پر منطبق کر دی گئی ہیں۔حاکم طبقات کے ساتھ جاگیرداروں، تاجروں، صنعتکاروں اور ملائیت کے ادارے کے گٹھ جوڑ نے عوامی طبقات میں زندگی کی آخری رمق کو بھی منجمد کر دیا۔یہ وہ ماحول تھا کہ جس میں ترقی پسند تحریک نے پاکستانی ادب میں طبقاتی جدوجہد کو ایک بار پھر مہمیز کیا۔ ایسے میں اُردو زبان کو ذریعہ اظہار بنانے والے کہانی کاروں میں سعادت حسن منٹو، احمدندیم قاسمی، غلام عباس،اشفاق احمد،بانوقدسیہ، شوکت صدیقی اور منشا یاد نے طبقاتی کشمکش کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا۔کچلے ہوئے طبقات کو زبان عطا کرنے کی کوشش میں عبداللہ حسین کا ناول ’’نادار لوگ‘‘ اور مستنصر حسین تارڑ کا ’’راکھ‘‘ سامنے آئے جو کہ کم ذات مصلیوں اور بھٹہ مزدوروں کی اپنے آجروں کے خلاف مزاحمت سے عبارت ہے۔مرزا اطہر بیگ کے ناول ’’غلام باغ‘‘ نے سماج کے زیریں طبقات کی مزاحمت کوایک ایسے مزاج سے آشنا کیا جہاں عام لوکائی پر تھوپ دی گئی بے توقیری اورذلت آمیز کمتری ایک باعمل برتری میں منقلب ہو جایا کرتی ہے۔اگرچہ ہمارے ہاں اُردو تھیٹر نے طبقاتی مزاحمت کے سلسلے میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا مگر ریڈیو اور بعد ازاں ٹی وی ڈرامے نے بہت حد تک اِس کمی کو نہ صرف پورا کیا بلکہ ابلاغ کا بہتر وسیلہ ہونے کے ناتے عام لوگوں میں استحصالی طبقات کے خلاف شعوری بیداری کی بنیاد رکھی۔ڈراما چاہے منٹو کا لکھا ہوا ہو یا میرزا ادیب ، امجد اسلام امجد، اصغر ندیم سید، نورالہدی شاہ اور عبدالقادر جونیجو کا ،اِن سبھی دانشوروں نے اسٹیٹس کو کی قوتوں کو نہ صرف بے نقاب کیا بلکہ اُن کے خلاف نبرد آزما ہونے کا ہنر آشنا کیا۔

ہمارے سندھی دانشور اپنی لسانی اور ثقافتی اقدار کو لا حق حملہ آوری کے خلاف صدیوں سے بیدار چلے آتے ہیں۔اُنہوں نے اپنی تحریر وں سے صرف مُلا، قاضی اور حاکم اور اُن کے سہولت کاروں جیسے مقامی استحصالی طبقات کے خلاف ہی مزاحمت کو پروان نہیں چڑھایا بلکہ بیرونی حملہ آوری کے مضمرات کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اپنی لسانی اور ثقافتی اقدار کے احیا کے لئے راستوں کا تعین کیا۔سندھی نثری ادب میں دورِ جدید کی ترقی پسندی کا آغاز 1932ء میں امر لعل ہنگورانی کی کہانی ’’ اَدو عبدالرحمن ‘‘ سے ہوتا ہے جسے 1939ء کے لگ بھگ منصہ ادب پر طلوع ہونے والے کہانی کار سوبھو گیان چندانی نے اپنی تحریروں ’’کب بہار آئے گی‘‘ ’’خودکشی‘‘ اور انقلابی کی موت‘‘ سے نئی جہتوں سے آشنا کیا۔ (جاری ہے)

Citation
Hafeez Khan, “پاکستانی نثری ادب میں طبقاتی کشمکش کا بیانیہ,” in Daily Nai Baat, July 30, 2015. Accessed on July 30, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%86%D8%AB%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%D8%AF%D8%A8-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B7%D8%A8%D9%82%D8%A7%D8%AA%DB%8C-%DA%A9%D8%B4%D9%85%DA%A9%D8%B4-%DA%A9%D8%A7-%D8%A8

Disclaimer
The item above written by Hafeez Khan and published in Daily Nai Baat on July 30, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 30, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Hafeez Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s