اُردو پریس پر نظرثانی کی ضرورت

Follow Shabnaama via email
غلام جیلانی خان

اخبار نویسی گویا دکانداری اور اخبار بینی گاہکی کے زمرے میں آتی ہے۔ اخبار نویسی کی دکان میں کام کرنے والوں میں بہت سے ’’قبیلوں‘‘ کے لوگ شامل ہوتے ہیں،مثلاً خبریں اکٹھا کرنے والے، خبریں وصول کرنے والے، انگریزی خبروں کو اُردو میں ترجمہ کرنے والے،خبروں کی چھان پھٹک کرنے والے، ان کے مندرجات کی تصحیح کرنے والے، سیاسی اور مذہبی خبروں کو شدت پسندی کے عنصر سے پاک کرنے والے ،کمپوز کرنے والے، پروف ریڈنگ کرنے والے، خبروں کو ترتیب دینے والے، سرخیاں لگانے والے، شہ سرخیاں(سپر لیڈ اور لیڈ وغیرہ) بنانے/نکالنے والے، یہ فیصلہ کرنیوالے کہ کون سی خبر کتنے کالم میں ہو اور اخبار کے کس صفحے پر لگائی جائے، اخبار کو مصور کرنے والے، صفحہ اول اور صفحہ آخر بنانے والے، اشتہارات لانے والے، حکومتی اشتہاروں کو حاصل کرنے اور پھر ان کی ادائیگی کے لئے تگ و دو کرنے والے، مختلف ایڈیشن مرتب کرنے والے، ادارتی صفحہ/ صفحات ترتیب دینے والے، پریس کاپی تیار کرنے اور چھاپنے والے اور بروقت مارکیٹ تک پہنچانے والے۔۔۔ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ اس میں سینکڑوں افراد شامل ہوتے ہیں۔ سینکڑوں ہزاروں کا روزگار اخبار سے وابستہ ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہزاروں خاندان شعبہء صحافت کے بل پر پل بڑھ رہے ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک کاروبار بھی ہے اور عبادت بھی۔ مبارک ہیں وہ اخبار مالکان جو کاروبار اور عبادت میں توازن قائم رکھتے ہیں۔ قارئین کو عموماً معلوم نہیں ہوتا کہ اخبار مالکان کی مجبویاں کیا ہیں۔ صحافتی چکا چوند اور میڈیا کی گرم بازاری میں اخبار مالکان کو اخبار نویسوں کی ٹیم کے ساتھ انٹرایکشن کرنے کا فن جاننا یا سیکھنا بھی ایک مشکل لیکن ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے۔ اخبار بین جب اخبار پڑھنے کے لئے کوئی اخبار خریدتا ہے، تو اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس پر چھپی ہوئی قیمت کا نصف، ان لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے، جو چھپے چھپائے اخبار کو اُٹھا کر ہم اخبار بینوں میں تقسیم کرتے ہیں!

ادارتی صفحات، اخبار کا وہ حصہ ہے جو خبروں کے اول و آخر صفحات کو دیکھ کر، فوراً بعد دیکھا جاتا ہے۔ خبروں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اداریہ/ شذرات اور کالم ،اخبار کے وہ حصے ہیں جو Most Read کی ذیل میں آتے ہیں۔ اداریہ انگریزی زبان کے اخبار کا ہو یا اُردو زبان کا، اس کا موضوع، اس کی زبان اور اس کا اسلوب نگارش ہمیشہ ثقہ اور معیاری تصور کیا جاتا ہے۔

طالب علمی کے زمانے میں بھی ہمیں والد مرحوم ’’پاکستان ٹائمز‘‘ اور ’’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ کے اداریئے پڑھنے کی تلقین کیا کرتے تھے، جو ایک طرح سے ہمارے لئے سوہانِ روح ہوتی تھی۔ تاہم ڈکشنری کنسلٹ کرنے کی جو عادت اُس دور میں پڑی، اس نے بعد میں ہمیں بہت فائدہ پہنچایا۔ والد مرحوم سبقاً سبقاً ہمیں اداریہ سُنا کر اس کا ترجمہ بھی بتایا کرتے تھے۔ اور جب وہ بین الاقوامی امور کی کوئی تفصیل سناتے تو ہم پھٹی پھٹی آنکھوں سے فضاؤں میں گھورتے رہتے تھے۔ تاہم آہستہ آہستہ جب اگلی کلاسوں میں پہنچے تو ہمیں کچھ کچھ سمجھ آنے لگی کہ یہ ایکسر سائز رائیگاں نہیں گئی۔ سب سے بڑا فائدہ ہمارے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ تھا اور دوسرا بڑا فائدہSpellings کی فیلڈ میں آسانیاں تھیں۔ موسم گرما کی چھٹیاں ہوتیں تو والد کے ساتھ یہ ’’اخباری نشستیں‘‘ طویل تر ہو جاتیں۔ میرا چھوٹا بھائی ذرا سا مُنہ پھٹ تھا۔ ایک دن بولا:’’ابا جی! چھٹیوں کا ہوم ورک ابھی ختم نہیں ہوتا کہ آپ پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ خدا کے لئے اس روزانہ مشق کو ہفتہ واری مشق میں تبدیل کر دیں وگرنہ ہوم ورک کی تکمیل کا ذمہ آپ لے لیں۔‘‘۔۔۔ اس ’’تجویز‘‘ کا فائدہ یہ ہوا کہ ’’اداریہ خوانی‘‘ کا پیریڈ ہفتے میں دو بار کر دیا گیا۔

ایک عرصے سے مجھے بہت سے طلبا و طالبات کو انٹرویو کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔اخبار بینی کے بارے میں ان کی آراء کا مختصر خلاصہ ذیل میں درج کرتا ہوں:

(1) اخباروں میں کوئی نئی خبر نہیں ہوتی، جو کچھ ہم کل رات ٹی وی پر دیکھ اور سُن چکے ہوتے ہیں، وہی کچھ صبح، خبروں میں سامنے آ جاتا ہے۔۔۔ یہ باسی خبریں کون پڑھے گا؟

(2) اداریہ تو بالکل سمجھ نہیں آتا۔ اس کی زبان اور موضوع دونوں ثقیل ہوتے ہیں۔

(3) کالم بھی زیادہ تر سیاسی موضوعات پر ہوتے ہیں۔ میڈیا کو خیال کرنا چاہیے کہ دوسرے غیر سیاسی موضوعات کو بھی جگہ دے اور ان پر کالم لکھوائے۔

(4) کالموں کی زبان زیادہ تر مشکل اُردو میں ہوتی ہے۔ یہ کالمی اُردو نجانے کس دور کی اُردو ہے۔ روزمرہ کی بول چال میں تو ہم ہر فقرے میں آدھے الفاظ انگریزی میں بولتے اور سنتے ہیں۔ لیکن کالموں میں وہ الفاظ کہیں دیکھنے میں نہیں آتے اور ہمیں ان کے معانی بتانے والا بھی گھر میں کوئی نہیں ہوتا۔ پھر اُردو اور فارسی کے شعر بیچ میں ٹھونسے ہوتے ہیں۔ ان کا مطلب کون نکالے؟

(5)اخبار والوں کو چاہیے کہ ادارتی صفحات کی زبان اور سٹائل کا جائزہ لیں اور وہی زبان اور اسٹائل Followکریں جو باقی اخبار کی خبروں کا ہوتا ہے۔

(6) ہمارے سکولوں اور کالجوں کے اُردو ٹیچر جس زبان میں ہمیں پڑھاتے ہیں، وہ ادارتی صفحات کی زبان سے مختلف ہوتی ہے۔یہ موضوعات کہ جو ان صفحات میں Discussکئے جاتے ہیں، ہمارے نصاب کا بالکل حصہ نہیں ہوتے، جبکہ میڈیا (پریس اور الیکٹرانک) صبح و شام انہی موضوعات کو ہمارے کانوں میں ٹھونستا اور آنکھوں میں گھسیڑتا رہتا ہے!

(7) اُردو اخبارات کی کسی تنظیم کو چاہیے کہ وہ ایک ایسی ڈکشنری شائع کرے جس میں ان موضوعات کی مشکل اصطلاحات (Terms) اور اجنبی ترکیبات (Phrases) کے معانی اور تشریح درج ہو جو ان کالموں میں اختیار اور استعمال کی جاتی ہیں۔ جب تک ایسی کوئی کوشش نہیں کی جائے گی ہم طلبا و طالبات میں اردو پریس (یا انگریزی پریس) کے مطالعے کا شوق تو کیا رجحان بھی پیدا نہیں ہوگا۔

مَیں ان طلبا و طالبات کی باتیں/ اعتراضات سنتا ہوں اور ان کو ’’راہِ راست‘‘ پر لانے کی بہت کوشش کرتا ہوں، لیکن اندر سے سمجھ رہا ہوتا ہوں کہ ان کا استدلال کچھ ایسا نادرست نہیں اور ہم بھی کچھ ایسے کم غلط نہیں۔ مثلاً جب میں ان کو یہ کہتا ہوں کہ کالم اور مضمون میں جو فرق ہے، اس کو سامنے رکھ کر بات کریں تو وہ کہتے ہیں کہ میڈیانے نئی نسل کو حد درجہ Politicizeکر دیا ہوا ہے۔ سیاست، سیاست دانوں، سیاسی جھگڑوں، سیاسی بیانوں اور سیاسی کالموں نے زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے۔

ویسے میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ باقی اخبار تو طرح طرح کی تصویروں سے ’’مزین‘‘ ہوتا ہے لیکن ادارتی سیکشن میں چونکہ تصاویر نہیں ہوتیں اس لئے بھی شائد نئی نسل میں ان کے لئے زیادہ کشش نہیں ہوتی۔ نوجوانی یا جوانی کی عمر، کسی مخصوص سیاسی یا سماجی نظریئے سے چمٹنے کی عمر نہیں ہوتی، اکتسابِ معلوماتِ نو کی عمر ہوتی ہے اور معلوماتِ نو صرف ’’خبروں‘‘ کا نام نہیں۔

ایک طالبہ نے مجھے یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ ’’سر! پریس میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا والے اگر یہ ریفرنڈم کروائیں کہ گھریلو خواتین اور طلباء و طالبات اخبار کے کون سے صفحات زیادہ پڑھتے ہیں تو آپ کو حیرانی ہوگی کہ ان سب کا جواب ’’شوبز والے صفحات ‘‘ ہوگا‘‘۔
اور جب مَیں نے یہ سوال کیا کہ آپ کو اخبار کے کون سے صفحات کم پسند ہیں یا آپ ان کو بہت شاذ ہی پڑھتے ہیں تو کچھ تامل کے بعد جواب دیا: ’’مذہبی ایڈیشن‘‘

ایک پوسٹ گریجویٹ لڑکے نے کہا کہ کسی اخبار کی آج سے دس پندرہ برس پہلے کی فائل نکال کر دیکھ لیں۔ اگر اس میں اور آج کی فائل میں کوئی فرق ہوگا تو یہ ہوگا کہ ماضی کے اخبارات ہاتھ سے کتابت کئے جاتے تھے اور آج کے اخبار کمپیوٹر پر کمپوز ہوتے ہیں۔۔۔اور بس!!

نئی نسل (پڑھی لکھی نئی نسل) کا استدلال یہ بھی ہے کہ ہم ویسے تو ہر فیلڈ میں مغرب کی نقالی کرتے ہیں لیکن ہماری اخباری صنعت میں ایسا کیوں نہیں کیا جاتا؟۔۔۔ فحاشی اور عریانی اور چیز ہے اور لبرل ازم اور چیز ہے۔ ۔۔۔ کیا آپ کا آج کا معاشرہ 1947ء کے معاشرے کا عکس ہے؟۔۔۔ اگر نہیں تو اس میں کیا تبدیلی یا تبدیلیاں آئی ہیں؟۔۔۔ اگر آپ دور حاضر کی تبدیلیوں کا عکس اخباروں میں نہیں لائیں گے تو وہ اخبار قدامت پرستی کا اشتہار بن جائیں گے۔ انگریزی اخبار پھر بھی غنیمت ہیں لیکن اُردو پریس تو ہمیں بالکل ہی دقیا نوسی اور کسی مولویانہ دُنیا کی طرف لے کر جا رہا ہے۔

ان کا استدلال یہ بھی ہے کہ ادارتی صفحات پر جن چند ’’کہنہ مشق‘‘ صحافیوں اور کالم نویسوں کا قبضہ ہے۔ خدا جانے ان کے کالم کونسی نسل پڑھتی ہے، ہم تو نہیں پڑھتے۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ نوجوان کالم نویسوں کو بھی ادارتی صفحات میں حصہ دیا جائے؟ ان کے موضوعات اگر سیاسی نہ ہوں تو نہ سہی ان کی نمائندگی تو ہو جائے گی۔ ان کی تحریریں (Writings) بے شک لسانی، ادبی اور پروفیشنل کالم نگاری کی غلطیوں سے پر ہوں گی، لیکن ان کو اظہار خیال کا موقع تو دینا چاہئے۔ کیا ایڈیٹر ان کو ایڈٹ نہیں کر سکتا؟ ہر اخبار نے چند کالم نگاروں کو ’’ٹھیکہ‘‘ دے رکھا ہے کہ روز لکھتے رہو، اور سیاسیات پر لکھتے رہو، نئی نسل بے شک پڑھے نہ پڑھے اپنی ڈفلی بجاتے رہو، گزشتہ روز یا گزشتہ رات کی خبروں کی جگالی کرتے رہو اور لکھتے ہوئے اپنے دائرہ معلومات کو اتنا محدود رکھو کہ آپ کے قاری کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی تنگ دائرے میں گردش کرتے رہیں۔

قارئین محترم! اگر آپ کو بھی اپنے کسی عزیز کالجین سے انٹرویو کا موقعہ ملے تو اس سے یہی سوال پوچھیں جن کا ذکر میں نے سطور بالا میں کیا ہے۔

وقت آ رہا ہے کہ اردو ہر سطح پر سرکاری زبان کے طور پر رائج ہو جائے گی۔ اردو پریس کا کام اس سلسلے میں بہت اہم اور بہت مشکل بھی ہوگا۔ ہمارے اخبار نویسوں، صحافیوں،اداریہ نویسوں، کالم نگارروں، ایڈیشن انچارجوں، میگزین انچارجوں، گروپ ایڈیٹروں اور چیف ایڈیٹروں کو ابھی سے سٹاک ٹیکنگ کرنی پڑے گی۔۔۔۔ بے شک تبدیلیوں کو لانے میں تیز پائی کا مظاہرہ نہ کریں لیکن آہستہ گامی سے کام لینے پر بھی مصر نہ ہوں۔۔۔ پریس میڈیا کی بیرونی گسترش (Lay out) اور اندرونی مواد دونوں پر نظرثانی کے ضرورت ہے۔۔۔ اور جلد ضرورت ہے!۔

Citation
Ghulam Gilani Khan, “اُردو پریس پر نظرثانی کی ضرورت,” in Daily Pakistan, July 30, 2015. Accessed on July 30, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/30-Jul-2015/250295

Disclaimer
The item above written by Ghulam Gilani Khan and published in Daily Pakistan on July 30, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 30, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ghulam Gilani Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s