ریت کا بیٹا، عبدالقادر جونیجو

Follow Shabnaama via email
مستنصر حسین تارڑ

چنانچہ اس یونیورسٹی کی جانب سے عبدالقادر جونیجو کے ناول ’’دے ڈیڈ رِور‘‘ یا ’’مُردہ ہو چکا دریا‘‘ کی افتتاحی تقریب ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے ایک بے رُوح ہال میں منعقد ہو رہی تھی اور وہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ جونیجو کے ناول کے علاوہ ایک جاسوسی ناول ’’کوگن پلین‘‘ جو مرزا صاحب کا تصنیف کردہ ہے اُس کی رونمائی بھی مشترکہ طور پر ہو رہی تھی۔۔۔ یعنی ایک محفل یا ایک تیر سے دو ناول شکار کئے جا رہے تھے۔ اگرچہ ان دونوں کے درمیان انگریزی زبان کے سوا اور کچھ مشترک نہ تھا۔۔۔ صاحب صدر نے جونیجو کا ناول تو پڑھ رکھا تھا لیکن مرزا صاحب کے ناول کو اُن طویل اور بورنگ تقریروں کے درمیان انہوں نے، یعنی میں نے کہیں کہیں سے چکھ لیا تاکہ صدارتی تقریر میں، میں ناول کے بارے میں اپنے علم و فضل کی دھاک بٹھا دوں۔۔۔اگرچہ وہ نہ بیٹھی۔۔۔ تقریب کے کمپیئر ایک معزز مولانا تھے جنہوں نے بہ زبان انگریزی اپنی قادرالکلامی سے حاضرین کے چھکّے چھڑا دیئے۔۔۔ اُن کے چھکّے مارنے کا ریکارڈ ویسٹ انڈیز کا کرس گیل بھی نہیں توڑ سکتا۔۔۔ البتہ مقررین کی فہرست بے حد متاثرکن تھی، سلمان شاہد، امجد اسلام امجد، اصغر ندیم سید، یہاں تک کہ سلیمیٰ ہاشمی بھی جو بار بار مجھ سے پوچھتی تھیں کہ یہ ناول کون سی زبان میں لکھا گیا ہے، کہیں انگریزی میں تو نہیں۔۔۔ اور ہاں مجھے خبر نہ تھی کہ میری بے خبری کے عالم میں سندھ کے ڈاکٹر بگھیو، اکادمی ادبیات کے چیئرمین تعینات ہو چکے ہیں۔ بگھیو صاحب، جونیجو کے عزیز ترین دوستوں میں سے ہیں اور اتنے بھولے نہیں جتنے شکل سے لگتے ہیں۔۔۔ ایک سندھی متانت بہرطور اُن میں موجود ہے۔

تقریب کے تقریباً سبھی مقررین نے جونیجو کے ناول کے بارے میں بات کرتے ہوئے نہایت تفصیل سے میرے ناول ’’بہاؤ‘‘ کا تذکرہ کیا، اس لئے بھی کہ ’’بہاؤ‘‘ میں بھی ایک داستانوی دریا سرسوتی کا تذکرہ ہے جو خشک ہو جاتا ہے اور آج چولستان میں دریائے ہاکڑہ جو خشک ہو چکا پاٹ ہے وہ اُسی سرسوتی کا تسلسل ہے۔ جونیجو نے بھی ہاکڑہ دریا کے گمشدہ ہو جانے کی داستان تحریر کی ہے۔۔۔ لیکن ’’بہاؤ‘‘ اور جونیجو کے ناول میں ایک فرق ہے۔۔۔ میں نے سرسوتی یا ہاکڑہ کے خشک ہو جانے کے المیے کو بیان کیا ہے جب کہ جونیجو نے اُس کے سوکھ جانے کے بعد کی داستان بیان کی ہے۔۔۔ اور اس میں مرکزی کردار صحرائے تھر کا ہے، جونیجو عمر کوٹ کے قریب تھر کے صحرا میں پیدا ہوا اور وہ کسی بھی پاکستانی ادیب کی نسبت اس صحرا کو زیادہ جانتا ہے۔ وہ مٹّی کا نہیں ریت کا بیٹا ہے۔ ’’دے ڈیڈ رِور‘‘ صحرائے تھر اور سندھی ثقافت کا ایک انسائیکلوپیڈیا ہے۔۔۔ اس صحرا کی رسمیں، زبانیں، موسم، یاریاں اور چوریاں، اس کے سانپ اور مست اونٹ، کھوجی، دبنگ عورتیں اور اُن کی جنسی زندگی کی شدت۔۔۔ اس کے اندر بھٹکتے بالناتھ کے جوگی۔۔۔ کن پھٹے جوگی۔۔۔ جو ٹلّہ جوگیاں سے اتر کر پورے برصغیر میں گھومتے تھے اور یاد رہے کہ رانجھا بھی ٹلّہ جوگیاں گیا تھا اور بالناتھ کا چیلا ہو کر، اپنے کان پھڑوا کر جوگی ہو گیا تھا۔

کنّیں مُندراں پا کے، متھّے تلک لگا کے
نیں میں جاناں جوگی دے نال۔۔۔
کوئی کسے دے نال، میں جوگی دے نال۔۔۔

جونیجو کا یہ ناول ایک سندھی طلسمِ ہوشربا ہے۔۔۔ کاش کہ یہ انگریزی کی بجائے سندھی میں لکھا جاتا اور پھر بے شک انگریزی میں منتقل ہو جاتا۔۔۔ کتنے لوگ جانتے ہیں کہ جب جونیجو ایک نوخیز لڑکا تھا، تھر میں رہتا تھا تو ایک تھری لڑکی کو دل دے بیٹھا تھا اور پھر ایک مدت کے بعد جب وہ ادھیڑ عمر ہو چکا ہے تو ایک تھری عورت اُس کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔۔۔ مجھے عبدالقادر سے ملنا ہے۔۔۔ تم ہو؟ مجھے پہچانا نہیں، ہمارے تھر میں قحط پڑ گیا ہے۔۔۔ میں بہت دنوں سے بھوکی ہوں، مجھے کچھ کھانے کو دو۔۔۔

میں زندگی میں پہلی بار اندرون سندھ گیا تو وہ مجھے جانا پہچانا لگا۔۔۔ مجھے محسوس ہوا جیسے میں جونیجو کے ڈراموں کی چھوٹی سی دنیا میں داخل ہو گیا ہوں، سب کے سب کردار میں نے دیکھے ہوئے تھے۔۔۔

بہت مدت پہلے مری میں ایک میڈیا سیمینار منعقد ہوا اور اُن دنوں میرے والدین بھی مری میں گرمیاں گزارنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔۔۔ وہ مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔۔۔ اور وہ کیسے زمانے تھے جب وہ زندہ تھے، اور اب تو نہ میرے ابّا جی کی نیلی آنکھیں اور گوری رنگت رہی اور نہ امّی جان کے ترشے ہوئے نقش اور سانولا پن۔۔۔ جب حسینہ معین اُن سے ملنے کے لئے آئیں تو امّی جان کہنے لگیں، یہ لڑکی تو اپنے ڈراموں جیسی خوبصورت ہے۔۔۔ واقعی حسینہ ہے لیکن جب عبدالقادر جونیجو نے جھک کر اُن کے گھٹنے چھوئے تو وہ کہنے لگیں، یہ بھی تمہارا دوست ہے۔۔۔ ڈرامے تو یہ لکھتا ہے۔۔۔ میرے ہاں اب تک ایک تصویر محفوظ ہے، مری کے سرد موسم ہیں، میرے ابّا جی ایک کریم کلر کے سفاری سوٹ میں ملبوس ہیں اور اُن کے برابر میری امّی جان کوئی مشروب پی رہی ہیں اور عبدالقادر جونیجو اور حسینہ معین اُن کے ساتھ مؤدب ہو کر کھڑے ہیں، پس منظر میں شعیب منصور مسکرا رہا ہے۔ جونیجو کمال کا داستان گو ہے۔۔۔ ایک بار کہنے لگا، تارڑ یہ ٹیلی ویژن کے لوگ اپنی ثقافت سے اتنے دور کیوں ہیں۔ میں نے اپنے ایک ڈرامے میں ایک بوڑھے سندھی کا کردار لکھا جس کے بال کندھوں تک آئے ہوئے ہیں اور اُس کا پسندیدہ مشغلہ بالوں میں کنگھی کرنا اور پھر اُس کے دندانوں میں پھنسی جُوئیں مارنا ہے۔۔۔ پروڈیوسر صاحب کہنے لگے، جونیجو صاحب کچھ تو خدا کا خوف کریں، ہم ٹیلی ویژن پر ایسے کردار کیسے پیش کر سکتے ہیں جو جُوئیں مارتے ہوں، گندا کام ہے سَر۔۔۔ اور پھر ایسے کردار کہاں ہوتے ہیں۔

جونیجو نے ہنس کر کہا تھا ’’تارڑ، یہ میرا رشتے کا ایک چچا تھا جو جُوئیں مارتا رہتا تھا۔۔۔ یہ لوگ حقیقت سے کیوں گریز کرتے ہیں‘‘۔

ایک بار اُس نے مجھے اپنی سندھی کہانیوں کی ایک کتاب بھیجی جو میں پڑھ نہ سکتا تھا۔ اگلی ملاقات پر کہنے لگا، تارڑ تم مجھے اپنی کتابیں کیوں نہیں بھیجتے۔۔۔ میری بیٹیاں تمہیں بہت شوق سے پڑھتی ہیں اور یقین نہیں کرتیں کہ تم میرے دوست ہو۔

عبدالقادر جونیجو، تھر کے صحرائی شہر ننگرپارکر کے پار جو رتیلا قصبہ کاسبو نام کا ہے اور وہاں جو قدیم رام مندر ہیں، اُن کے دھوپ بھرے صحنوں میں رقص کرتا، اپنا رنگیلا جھاڑ پھیلائے ناچتا ایک مور ہے۔۔۔ اور وہ آخری مور ہے۔۔۔

من مور ہوا متوالا رے۔۔۔
یہ کس نے جادو، ڈالا رے۔۔۔

Citation
Mustansar Husain Tarar, “ریت کا بیٹا، عبدالقادر جونیجو,” in Daily Nai Baat, July 29, 2015. Accessed on July 29, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%B1%DB%8C%D8%AA-%DA%A9%D8%A7-%D8%A8%DB%8C%D9%B9%D8%A7%D8%8C-%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%A7%D8%AF%D8%B1-%D8%AC%D9%88%D9%86%DB%8C%D8%AC%D9%88

Disclaimer
The item above written by Mustansar Husain Tarar and published in Daily Nai Baat on July 29, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 29, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Mustansar Husain Tarar:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s