اردو میڈیا کا مزاج بدل رہا ہے!

Follow Shabnaama via email
غلام جیلانی خان

اردو پریس میڈیا کی رسائی دنیا کے ان حصوں تک محدود ہے جن میں اردو زبان سمجھی ،پڑھی یا بولی جاتی ہے۔ چونکہ اردو اقوامِ متحدہ کی اُن زبانوں کی فہرست میں بھی شامل نہیں جو بین الاقوامی زبانیں کہلاتی ہیں، اس لئے اردو کی گلوبل Reach اور اہمیت بھی محدود سمجھنی چاہیے۔

انگریزی زبان آج تمام دنیا کے ممالک میں لنگوا فرانکا سمجھی جاتی ہے۔ جب دو مختلف ممالک کے باشندے جن کی مادری یا قومی زبانیں مختلف ہوتی ہیں ، کہیں از راہِ اتفاق مل جاتے ہیں تو ایک دوسرے کی بات سمجھنے کے لئے انگریزی ہی ان کا واحد وسیلہ ء اظہار رہ جاتا ہے۔(بشرطیکہ دونوں انگریزی سے شُد بُد رکھتے ہوں) ’بادشاہوں کی زبان‘ زبانوں کی بادشاہ ہوتی ہے،ایک پرانی ضرب المثل ہے۔ اس تناظر میں اگر آپ اس حقیقت پر غور کریں کہ جزائر برطانیہ (انگلینڈ، آئر لینڈ، سکاٹ لینڈ) کا رقبہ اور اس کا محلِ وقوع اتنا عظیم یا وسیع و عریض نہیں تھاکہ اس میں بسنے والی ایک چھوٹی سی قوم اپنی سرحدوں سے یوں باہر نکل جاتی کہ ساری دنیا پر چھا جاتی اور پھر صدیوں تک چھائی رہتی۔ یادش بخیر،یہ چانس عربوں کے حصے میں بھی آیا تھا۔ لیکن باوجود اس کے کہ ایران اور مغربی ہندوستان صدیوں تلک عربوں کے زیرنگیں رہے، ان کی عربی زبان ،ایران و ہند کی قومی زبان نہ بن سکی۔ اس کے برعکس انگریز جہاں بھی گئے اپنی انگریزی (جیسی بھی تھی) ساتھ لے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ براعظم امریکہ اور آسٹریلیا تو سارے کا سارا انگریزی زدہ ہو گیا، ان کے علاوہ دوسرے براعظموں کے درجنوں ممالک بھی اس امر پر مجبور ہوئے کہ اپنی قومی زبان کے علاوہ جس ثانوی زبان کا مطالعہ کریں، وہ انگریزی ہو۔ میں سمجھتا ہوں، اس پس منظر میں پاکستان ایک خوش قسمت ملک ہے کہ اس میں انگریزی زبان کی رسائی اور اس کی اہمیت ، مرورِ ایام کے ساتھ ساتھ زیادہ پھلتی پھولتی رہی۔

حکومتِ پاکستان نے اگرچہ حال ہی میں اردو کو سرکاری اور قومی سطح پر رائج کرنے کے احکامات صادر کر دیئے ہیں، لیکن اگر آج اردو بفرضِ محال پاکستان کی (تمام سطحوں پر) سرکاری اور قومی زبان بن بھی جاتی ہے تو ہم پاکستانیوں کو انگریزی سے پیمانِ وفا توڑنا نہیں چاہیے۔ اسے ثانوی زبان کے طور پر مروج رہنا چاہیے تاکہ دنیا کے وہ ترقی یافتہ ممالک جن کی سرکاری زبان انگریزی ہے، ہم ان کی ایجادات و اختراعات، علوم و فنون، صنعت و حرفت ، معاشیات و اقتصادیات اور عسکریات و حربیات وغیرہ سے مستفید اور مستفیض ہو سکیں۔

اگر آپ آج سے پندرہ بیس سال پہلے کا اردو پریس کا کوئی حصہ نکال کر آج کے پریس میڈیا سے اس کا موازنہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان دو عشروں میں ہم نے نہ صرف یہ کہ اردو لغت میں بے شمار انگریزی اصطلاحات و الفاظ و ترکیبات شامل کر لی ہیں، بلکہ جدید سائنسی، صحافتی ، سیاسی اور دیگر بہت سی جدید اصطلاحات کو بھی اپنا لیا ہے۔ یہ بڑی خوش آئند بات ہے اور ہمیں اس پراسس کو جاری رکھنا چاہیے۔ لیکن راقم السطور نے آج جس خصوصی موضوع پر بات کرنے کا ارادہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ ہمیں تحصیلِ انگریزی کی اس روبہ زوال روش کو روکنا چاہیے جو آہستہ آہستہ سوشل میڈیا پر رومن اردو کو فروغ دے رہی ہے۔پڑھے لکھے لوگ بھی انگریزی حروفِ تہجی میں اردو لکھ رہے ہیں۔

میں انگلش میڈیم سکولوں اور کالجوں کی مدح و ذم کی بات نہیں کرنا چاہتا کہ یہ ایک فرسودہ موضوع ہے۔ نئی نسل کو بے شک انگریزی میں طاق ہونے کی ضرورت ہے لیکن دوسری طرف اس کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی انگریزی کے ساتھ ہم درس، ہم سخن اور ہم پایہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

انگریزی اخبارات کی اشاعت محدود ہے، اس کا حلقہ ء قارئین محدود ہے، اس کے رسائل و جرائد کی تعداد بھی گنی چنی ہے۔سوائے ایک آدھ نیوز چینل کے کوئی ایسا چینل نہیں جس میں انگریزی ، وسیلہ ء اظہار ہو۔ اگر کسی ایک آدھ چینل میں انگریزی پروگرام آن ائر ہوتے بھی ہیں تو شرکائے مباحثہ کی کوشش ہوتی ہے کہ انگریزی زبان کے اس اسلوبِ گفتار، لب و لہجہ اور تلفظ کی ادائیگی کی ایسی ہو بہو نقالی کی جائے جو انگریزوں اور امریکیوں سے قریب تر ہو۔ ہمارے ہمسائے بھارت میں اگرچہ وہاں کے اینکر بڑی ’’شدھ انگلش‘‘ میں بات چیت کرتے ہیں اور ان کے شرکائے مباحثہ بھی ہم پاکستانیوں کی طرح خالص انگریزی لب و لہجے کے قریب قریب جانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب کبھی کسی پروگرام میں عام پبلک کو اظہارِ خیال کا موقع دیا جاتا ہے تو ان کا تلفظ اور لب و لہجہ دیہی/ بھارتی ہوتا ہے، برطانوی یا امریکی نہیں۔ میرے خیال میں پاکستان میں کم از کم ایک نجی ٹی وی چینل ایسا بھی ہونا چاہیے جس میں اُس انگریزی دان اور انگریزی خواں طبقے کو شامل کیا جا جو بے شک رک رک کر بولے، بے شک تلفظ مادری زبان میں ’’لپٹا‘‘ہوا ہو اور بے شک انتخابِ الفاظ میں گرامر اور لغت کی درستی کو اولیت نہ دی گئی ہو لیکن ’’من کی بات‘‘ کہنے پر قدرت ضرور ہونی چاہیے۔

آج لاتعداد پاکستانیوں کے پاس سمارٹ فون کی سہولت موجود ہے اور ساتھ ہی انٹرنیٹ (وائی فائی) کی سہولت بھی میسر ہے لیکن اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے مواقع بہت ہی کم لوگوں کو حاصل ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ کا سارا مواد انگریزی میں آ رہا ہے۔ اس مواد اور اس سرمائے میں ہر موضوع پر ہر طرح کی اَن گنت اور لاتعداد تحریریں ملتی ہیں۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ انگریزی خبروں کی تفصیل تو رہی ایک طرف ان پر تبصرے، جائزے اور تجزیئے اتنے چند درچند اور اتنے گوناگوں ہوتے ہیں کہ ان کو پڑھنے اور ان کا مطلب جاننے کے لئے انگریزی زبان سے محض شناسائی کافی نہیں۔ہمیں اس کیفیت سے آگے نکلنا چاہیے۔ شناسائی سے آشنائی، آشنائی سے محبت اور محبت سے آگے عشق کی منزلیں آتی ہیں۔ اس طرف بھی قارئین کو جانا چاہیے۔ سمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی سہولت کا اگر یہ فائدہ نہ اٹھایا گیا تو ہماری آبادی کا وہ طبقہ جس کے ہاں یہ سہولیات فراہم ہیں، جدید علم و فنون اور جدید معلومات و اطلاعات سے محض بیگانہ رہے گا۔

آج، جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا پاکستان کے کروڑوں لوگوں کے پاس سمارٹ موبائل فون موجود ہیں۔ ان میں سے بیشتر حضرات و خواتین کی رسائی اردو پریس میڈیا تک تو ہے لیکن انگریزی پریس میڈیا تک رسائی کے دعویداروں کی تعداد نہایت محدود ہے۔ اس کو فروغ ملنا چاہیے۔ حصول علم کے لئے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں۔ جو لوگ انگریزی زبان سے بالکل ہی ناواقف اور نابلد ہیں، ان کو چھوڑ دیں۔لیکن جن کے پاس میٹرک، ایف اے، بی اے اور ایم اے کے سرٹیفکیٹ اور ڈگریاں ہیں، ان کے لئے بھی اپنے سمارٹ موبائل فونوں سے کماحقہ استفادہ کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔۔۔نجانے کیوں؟۔۔۔ اس بات کو سمجھیں کہ انٹرنیٹ کا جو مواد آپ کی دسترس میں ہے، اس سے استفادے کا سکوپ آپ کی انگریزی زبان سے آشنائی کے سکوپ کے ساتھ براہِ راست منسلک ہے۔ جن دوستوں کی عمر ،سروس، کاروبار یا مصروفیات ، سکول اور کالج میں سیکھی ہوئی انگریزی زبان کا آموختہ تازہ کرنے کی اجازت نہیں دیتی ان کے اردگرد اپنے بچے بچیاں، عزیز و اقارب اور دوست احباب تو ہوں گے، ان سے مدد لینے میں کیا برائی اور کیا ہچکچاہٹ ہے؟۔۔۔ کسی پیاسے کے سامنے پانی کا نلکا موجود ہو تو اگروہ اس کو چلا کر اس لئے پیاس نہ بجھائے کہ کون اٹھے، نلکے تک جائے، اس کی ہتھی کو پکڑے اور اس کو ’’گیڑ‘‘ کر پانی نکالے تو اس سے زیادہ بدقسمت پیاسا اور کون ہوگا؟

ان سہل انگاروں اور بدنصیبوں کی ایک کلاس اور بھی ہے۔۔۔ میں کئی ایسے دوستوں اور عزیزوں کو جانتا ہوں جو اکیڈیمک تعلیم سے آراستہ و پیراستہ ہوتے ہیں۔ یعنی گریجوایشن کی ہوتی ہے، کئی احباب کے پاس تو پوسٹ گریجویٹ ڈگریاں بھی ہوتی ہیں۔ لیکن ان کا کاروبار یا روزگار ایسے محکموں اور شعبوں میں ہوتا ہے جن میں انگریزی زبان کے استعمال کی چنداں ضرورت نہیں پڑتی۔ میری مراد بول چال سے نہیں، لکھنے پڑھنے سے بھی ہے۔ اگر کوئی ایم اے انگلش، کسی تعمیراتی فرم کا ٹھیکیدار بن جاتا ہے تو اس کا روزمرہ واسطہ تو مزدوروں ،مستریوں، ریت بجری کا کام کرنے والوں، رنگ و روغن کرنے والوں، آہن فروشوں اور سینٹری وغیرہ کا سامان بیچنے والے دکانداروں سے ہوگا۔ معاشرے کے یہ طبقات ایسے ہیں جن کو انگریزی پڑھنے اور جاننے کی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی۔وہ ایم اے انگلش ٹھیکیدار اپنے کاروبار میں دن رات مستغرق/ ملوث رہنے کی وجہ سے اپنی جیب تو بھاری کر لیتا ہے لیکن اس کی انگریزی زبان سے متعلق معلومات کی بھاری جیب آہستہ آہستہ ہلکی ہوتی جاتی ہے اور پھر ایک وقت وہ آتا ہے کہ تقریباً خالی ہو جاتی ہے۔

اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ اگر آپ نے ڈرائیونگ کے اسباق و اصول ازبر کرکے ڈرائیونگ ٹیسٹ کی تھیوری کلیئر کرلی ہے تو جب تک ڈرائیونگ کی مشق نہیں کریں گے، سٹیئرنگ پر نہیں بیٹھیں گے اور ایک خاص مدت تک پریکٹس نہیں کریں گے، ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس نہیں کر سکیں گے۔۔۔ اور دوسری طرف یہ ٹیسٹ پاس کرلینے کے بعد بھی اگر ڈرائیونگ چھوڑ دیں گے تو چار چھ سال بعد سٹیئرنگ پر بیٹھتے ہوئے ہچکچائیں گے۔ اس کے لئے آپ کو از سر نومشق و ریاضت کی ضرورت ہوگی۔۔۔ بالکل یہی حال اس ایم اے انگلش پاس نوجوان کا ہے جو انگریزی بولنے اور پڑھنے سننے کی عادت ترک کردیتا ہے اور تعمیراتی ٹھیکے دار وغیرہ بن جاتا ہے تو دوچاربرسوں کے بعد اس کی اکیڈیمک تعلیم ایم اے انگلش سے گر کر پہلے بی اے انگلش ہو جائے گی، پھر ایف اے انگلش اور پھر دس پندرہ برسوں میں وہ ایسی ایسی تحریری اور بول چال کی غلطیاں کرے گا کہ اس کے مخاطب کو یقین نہیں آئے گا کہ یہ شخص کبھی ایم اے انگلش بھی تھا۔

جن حضرات و خواتین کے پاس سمارٹ موبائل کی سہولت اور انٹرنیٹ موجود ہے، وہ اگر روزانہ تھوڑا سا وقت نکال کر انگلش پریس میڈیا کا مشاہدہ اور مطالعہ بھی کر لیا کریں تو ان کو معلوم ہوگا کہ ان کا مبلغِ علم کہاں سے کہاں جا پہنچا ہے۔

اردو پریس میڈیا میں بھی اب آہستہ آہستہ تبدیلی آ رہی ہے۔ اس کا مزاج پہلے بلغمی تھا، اب سودائی ہوتا جا رہا ہے اور جو نبض پہلے مدھم چلا کرتی تھی، اب تیز تیز چلنے لگی ہے۔۔۔ اس موضوع پر ایک اور کالم کی ضرورت ہے!

Citation
Ghulam Gilani Khan, “اردو میڈیا کا مزاج بدل رہا ہے!,” in Daily Pakistan, July 29, 2015. Accessed on July 30, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/29-Jul-2015/249941

Disclaimer
The item above written by Ghulam Gilani Khan and published in Daily Pakistan on July 29, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 30, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ghulam Gilani Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s