طبقاتی سماج میں ادب کا کردار

Follow Shabnaama via email
ظہیر اختر بیدری

کہا جاتا ہے کہ ادب اور شاعری میں نظریات کا دخل ہوتا ہے تو پھر ایسا ادب ایسی شاعری ادب اور شاعری نہیں رہتی بلکہ پروپیگنڈہ بن جاتی ہے، اس فلسفے کے پیروکار یہ بھول جاتے ہیں کہ ادب اور شاعری کی پوری تاریخ نظریاتی ہی رہی ہے، مثال کے طور پر تاریخی ادب کو لے لیں، دو دو کلو کے تاریخی ناول خالص نظریاتی رہے ہیں جن میں ایک مسلمان شہزادہ یا جنگجو کسی ہندو راجکماری کے عشق میں مبتلا رہتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے کشتوں پشتے لگاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

بات صرف اتنی ہے کہ جب 1995 میں سجاد ظہیر اور اس کے ساتھیوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین قائم کرکے ادب برائے ادب کے رواج کو ادب برائے زندگی میں بدل دیا اور ادب برائے زندگی کو طبقاتی استحصال کے خلاف ایک مورچہ بنایا تو ادب برائے ادب کے پرستاروں کے پیٹ میں مروڑ شروع ہوگیا اور اسے نظریاتی ادب کا نام دے کر اس کی مخالفت شروع کردی۔ ادب برائے زندگی سمیت وہ ساری سرگرمیاں جو پسماندگی اور ذہنی افلاس کے خلاف تھیں ترقی پسندی کہلائیں اور رجعت پسندوں نے ترقی پسندی کے خلاف ایک محاذ بنالیا جہاں سے ترقی پسندی کے خلاف ایک بے سروپا پروپیگنڈہ شروع کردیا، جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے اور بڑے بڑے جغادری ادیب اپنی تحریروں اپنے کالموں میں بڑے بھدے انداز میں ترقی پسندی کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں۔ پروپیگنڈہ ادب وہ کہلاتا ہے جو غیر معیاری ہوتا ہے ورنہ اعلیٰ ادب ترقی پسند ہونے کے باوجود پروپیگنڈہ نہیں ہوتا، اعلیٰ ادب ہوتا ہے، اعلیٰ شاعری ہوتا ہے۔

فیض احمد فیض کو ترقی پسندی کے دشمن بھی بڑا شاعر اور فیض کی شاعری کو اعلیٰ درجے کی شاعری تسلیم کرتے ہیں، کسی رجعت پسند میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ فیض کو اور فیض کی شاعری کو پروپیگنڈہ کہہ سکے۔ فیض کی طرح برصغیر میں بے شمار شاعر اور ادیب گزرے ہیں جو ادب برائے زندگی کے فلسفے کو اپنی شاعری اور ادب کا محور بناتے رہے ہیں ۔ ہم صدیوں سے جس معاشی و معاشرتی نظام میں جی رہے ہیں اسے سرمایہ دارانہ نظام کہا جاتا ہے، اس نام ہی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ نظام صرف سرمایہ داروں کے مفادات کا محافظ ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے انسانوں کو طبقات میں بانٹ دیا ہے، ایک طرف 90 فیصد کے لگ بھگ وہ لوگ ہیں جو دو وقت کی روٹی سے محتاج ہیں دوسری طرف وہ مٹھی بھر طبقہ ہے جو 80 فیصد قومی دولت پر قابض ہے۔

اس معاشی ناانصافی کے خلاف جو ادب لکھا جاتا ہے جو شاعری کی جاتی ہے وہ دراصل اس طبقاتی استحصال کے خلاف احتجاج بھی ہے اور عوام میں اس معاشی ظلم کے خلاف بیداری پیدا کرنے کا ایک موثر ذریعہ بھی ہے۔ آج کی دنیا طبقاتی استحصال کی دنیا ہے، اس دنیا میں 90 فیصد ایسے لوگ ہیں جو دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کی آبادی کا لگ بھگ 53 فیصد حصہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور دو فیصد اشرافیہ عوام کی کمائی ہوئی 80 فیصد دولت پر قبضہ جمائے بیٹھی ہے۔ کیا اس بدترین معاشی ناانصافی کا اپنی شاعری اور ادب کا موضوع بنانا غیر منطقی غیر ادبی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب دینا اس لیے بے معنی ہے کہ دنیا کے 90 فیصد غریب عوام بذات خود اس سوال کا جواب بنے ہوئے ہیں۔

1935 کے بعد کا ادب اسی ظلم و استحصال کے خلاف احتجاج ہے، برصغیر کی جدید ادبی تاریخ میں ادیبوں اور شاعروں کی جو کہکشاں سجی نظر آتی ہے اس کہکشاں کے ستارے ادب کے آسمان پر جگمگاتے رہے، سارے غیر منظم ہندوستان میں ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں کو بے پناہ عوامی پذیرائی حاصل ہوئی، کیبن لائبریریوں کی الماریاں اس ترقی پسند ادب سے بھری رہتی تھیں اور عوام ان محلہ لائبریریوں سے مستفید ہوتے رہتے تھے۔ اس ادب کا یہ اعجاز تھا کہ معاشرے جرائم سے پاک تھے، لوگ آدھی آدھی رات کو بے خوف و خطر سڑکوں پر گھومتے پھرتے تھے، اس کل کا موازنہ اگر آج سے کیا جائے تو وہ بھیانک تصویر ہمارے سامنے آجاتی ہے جس کا سامنا ہم کر رہے ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عوام ادب سے دور ہوگئے ہیں۔
اس مایوس کن صورت حال میں جو اہل قلم امید کے چراغ جلانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان میں سے ایک ڈاکٹر جمال نقوی ہیں۔ جمال نقوی ادبی حوالے سے ایک انتہائی متحرک شخصیت کے حامل شخص ہیں۔ ادبی سرگرمیوں میں جمال نقوی ہمیشہ پیش پیش نظر آتے ہیں۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے حوالے سے جمال نقوی جہاں فعال کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں وہیں وہ ارتقاء کے پروگراموں میں بھی فعال دکھائی دیتے ہیں کراچی اور کراچی سے باہر جہاں بھی ادبی تقریبات کا اہتمام ہوتا ہے اس میں جمال نقوی شامل ہوتے ہیں۔

جمال نقوی بنیادی طور پر شاعر ہیں اور اب تک ان کی شاعری کے کئی مجموعے شایع ہوچکے ہیں۔ شاعری کے تازہ مجموعے کا نام انھوں نے ’’نئے دن کی بشارت‘‘ رکھا ہے، ظاہر ہے نام ہی سے ان کی شاعری کی نوعیت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ اس مجموعے میں 88 نظمیں ہیں اس کے علاوہ غزلیات اور ہائیکو بھی اس کتاب کا حصہ ہیں۔ چونکہ جمال نقوی ترقی پسند قافلے کا حصہ ہیں لہٰذا ان کی شاعری کی بنیاد بھی ترقی پسندی ہی ہے، ہم یہاں ان کی شاعری کی جھلکیاں پیش کر رہے ہیں:

غلامی کرکے ڈالر کی
حمیت بیچ ڈالی ہے
امیرِ شہر نے
اپنی حکومت بیچ ڈالی ہے

٭٭

محرومیوں کو اپنا مقدر نہیں بنا
لڑنا ہے تجھ کو
گردش حالات سے سدا
ہر ہر قدم پہ
ٹھوکریں ملتی رہیں‘ مگر
منزل کی جستجو میں
قدم آگے ہی بڑھا

٭٭

ایک انقلاب آئے گا
مٹے گی ظلمت شب
چاہے تھوڑی دیر لگے
طلوع مہر سے
عالم یہ جگمگائے گا

٭٭

ہلال عید، خوش بھی ہے رنج و ملال
خوشی ہے ان کی، ملا جن کو حرام کا مال
یہ قوم و ملک کو لوٹتے ہیں، یہ ہے ان کا کمال

Citation
Zaheer Akhter Beedri, “طبقاتی سماج میں ادب کا کردار,” in Express Urdu, July 27, 2015. Accessed on July 27, 2015, at: http://www.express.pk/story/378588/

Disclaimer
The item above written by Zaheer Akhter Beedri and published in Express Urdu on July 27, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 27, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Zaheer Akhter Beedri:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s