ابرار حامدکی شاعری

Follow Shabnaama via email
نعمان منظور

پاکستانی اردوادب کی ایک پہچان یہ ہے کہ’ہربیسواں پاکستانی شاعر ہے ‘۔اب یہ ایک طویل بحث ہے کہ ’ہر بیسویں شاعر میں سے اصل شاعر کون ہے؟‘۔ہماری ذاتی رائے ہے کہ شاعری دراصل،کھیل کا ایک میدان ہے جہاں ہر شاعر دوڑنے میں مصروف نظرآتا ہے لیکن جیت کسی ایک کے مقدر میں ہوتی ہے ۔یہاں یہ بات بھی ضروری ہے کہ ’شاعری کی یہ دوڑ چالیس یاپچاس برس میں ایک مرتبہ ہی منعقد ہوتی ہے اور یہ دوڑ جیتنے والاکبھی ’غالب‘اور کبھی ’اقبال‘کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے۔اس فہرست میں اور بھی بے شمار ایسے شعراء موجود ہیں جن کا نام،اردو ادب میں ’سند‘کے طورپہ لیا جاتا ہے لیکن آج کی محفل کے موضوع کی جانب آتے ہوئے ،ہم بات جناب ابرار حامد سے شروع کرتے ہیں۔ غزل اردو ادب کا بے حد قیمتی سرمایا ہے۔ زندگی کے نت نئے تجربے اور مشاہدے ہی نہیں ،زندگی کی تمام تر نزاکتیں اور رعنایاں اس میں موجود ہیں۔انسانی جذبے اور جدوجہد، اس کی کامیابی اور ناکامی،حوصلہ و ولولے، زندگی سے عبارت ہیں۔ان ساری باتوں کا برملا اظہار ، مختصرسے مختصر انداز میں ایک شعر میں سمویا جا سکتا ہے۔دراصل ہم زندگی کی روداد،اس کے امکانات،اپنے مخصوص نظریوں کے ساتھ جب بیان کرتے ہیں تو ساری کاوشیں ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔یہ برملا اظہار کی صورت ہوتی ہے۔یہ انسان کے اپنے نظریے اور رویے ہوتے ہیں جو ایک بھر پورزندگی کی نمایندگی کرتے ہیں۔جناب ابرار حامد کے یہ تجربے ہی تو ہیں۔

خیال رکھنا کہ منزل ہے جلد آ سکتی
کہ زندگی تو ہر اک شخص کی سفر میں ہے
آجکل گو جھوٹ کا سکہ بہت ہے چل رہا
جھوٹ تو ہے جھوٹ اس کو معتبر کیسے کریں
ہم پرائے ہی سہی بہرِ مروت کچھ تو ہو
ہجر کی ہی خوشی کو وصل کا امکاں کریں

قیاس کیا جاتا ہے کہ جناب ابرار حامد اس وقت بلاشبہ، پاکستان کے ان شعراء میں شمارہوتے ہیں جو’مقدار‘پہ یقین رکھتے ہیں۔اسی لیے 2000ء سے اب تک ان کے 26مجموعہ کلام شائع ہو چکے ہیں۔ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ ’جناب ابرار حامد، جناب احمد فراز کے شاگر د ہیں‘۔ اس کے باوجود جناب ابرار حامد کے اسلوب میں اپنے استاد کی کہیں بھی جھلک نہیں ملتی۔اس کی وجہ ان کا اپنا انوکھا اور اچھوتا اسلوب ہے اور اس اسلوب میں محنت،لگن اورجذبہ کارفرما ہے۔یہ لمحۂ فکریہ ہے۔یہ کوئی ایسا حادثہ نہیں ہے جو ایک لمحہ میں وجود میں آگیا ہو۔تہذیب و تمدن کے نام پر،مغربی تہذیب کی تقلید میں ،ذہنی غلامی کے شدید نشے کی حالت میں ،ہم نے اپنا چہرہ مسخ کر لیا ہے۔جناب ابرار حامد نے جو کچھ لکھا ہے وہ تاریخ کا نوحہ ہے۔غیرت کی نیلامی کا اظہار ہے،اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔

بس اتنا کچھ ہی چاہو جو کاندھا اٹھا سکے
وعدہ وہی کرو کہ جو دل بھی نبھا سکے

یہ تجربے اور شعور و آگہی کی باتیں ہیں۔جن راستوں سے زندگی گزر رہی ہے اور آدمی نے ترقی کے نام پر جو جہالتیں اپنی زندگی میں شامل کر لی ہیں۔بظاہر تو یہ عام سی باتیں معلوم ہوتی ہیں لیکن یہ سب تجربے کی دین ہے اور حقائق کے نتائج ہیں۔جناب ابرار حامد کی شاعری کا ایک بڑا ہنر ان کی اپنی نقادانہ صلاحیت ہے۔یہ جس چیز کو دیکھتے ہیں اسے یہ اپنی شاعری کا موضوع بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کا سیاسی شعور ان کی رہبری کرتا ہے۔یہ اہم واقعات کو اس کے پس منظر اورپیش منظر میں دیکھتے ہیں۔ان چیزوں کا سماجی اور اخلاقی پہلو ان کی نظر میں ہوتا ہے۔یہ نتائج کو بھی ذہن میں رکھتے ہیں اور یہیں سے ان کی تنقیدی نظر ان کے خیالات کی ترجمان بن جاتی ہے۔جناب ابرار حامدکا سیاسی اور سماجی شعور ایک فلسفیانہ پہلو بھی لیے ہوئے ہے۔ان کا انداز اور کردار ،ایک باشعور اورمسلسل جدوجہد کرنے والے لوگوں میں سے ہے۔یہ انسان کے کردار کی پستی اور ترقی اور روشن خیالی کے نام پر معکوس ترقی پر آئینہ دکھاتے ہیں۔اسی لیے تو جناب ابرار حامد فرماتے ہیں

ہمیشہ کے لیے جا کر یہ کیوں خوابوں میں آتے ہیں
بہت مشکل جو سویا ہو اسے کیا یوں جگاتے ہیں
ہوس کو دیکھ کر انسان کی حامد یہ لگتا ہے
کہ جنت تک میں بھی جھگڑے گا یہ جاگیر کے خاطر

حالات و واقعات جناب ابرار حامد کو بھی متاثر کرتے ہیں لیکن یہ ایک باہمت انسان ہیں۔انہوں نے زندگی کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہے۔جناب ابرار حامد ہمارے دور کے ایک سچے اور حساس شاعر ہیں۔گزشتہ دنوں میں،ہم نے ان کے 6 مجموعے تفصیلاً پڑھے ہیں اورمتاثر بھی ہوئے ہیں۔یہ ایک مخلص،نیک اور بہت سادہ مزاج شخص ہیں۔ہم نے جناب ابرار حامد کی شاعری سے اندازہ لگایا ہے کہ یہ زیادہ سنجیدگی سے برائیوں کی موجودگی کے بارے میں سوچتے ہیں اور جب زیادہ افراتفری اور ابتری دیکھتے ہیں تو اور بھی زیادہ سخت ہوجاتے ہیں۔ان حالات میں ان کی شاعری زیادہ بامقصد نظر آتی ہے۔

جناب ابرار حامد اپنی شاعری کی داد کے زیادہ خواہاں نظر نہیں آتے۔ان کے ہاں مقصد اور روشنی کے نام ہونے کی نوید ہے۔جناب ابرار حامد یہ بھی جانتے ہیں کہ جہاں شاعری ابلاغ کا مسئلہ بن جائے ان کے لیے شعر کی حیثیت ثانوی رہ جاتی ہے۔شاعر بھی چونکہ ہمارے معاشرے کا عام فرد ہے اور ایک عام قاری بھی ہوتا ہے اور سماج میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کی گتھیوں کو سلجھا کر اپنے ذوق اور مزاج کی تسکین کرتا ہے۔جناب ابرار حامد کی شاعری میں ایک دو بار نہیں بارہا مقام ایسے آئے ہیں جہاں یہ قلبی واردات کا ذکر کرتے کرتے عام معاشرے کی بھی عکاسی کرنے لگتے ہیں۔تاریخ کے اوراق الٹ کے آئینہ خود بھی دیکھتے ہیں اور ہمیں بھی دکھاتے ہیں۔یہ اپنے محبوب کی جفاکاریوں کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ ،انسان کی فطرت پر جس طرح اور جس انداز سے بھرپور اثر ڈالتا ہے وہ ان کا موضوع بن جاتا ہے۔دو شعر اور ملاحظہ فرمائیے۔

چراغوں پر مصیبت کی گھڑی ہے
ہوا ان کو بجھانے پر اڑی ہے
کہانی یہ عجب سوجھی کسی کو
کہ اس شہ کو غریبی کی پڑی ہے

جناب ابرار حامد ،آپ کی شاعری میں مثل وطن پرستی ہے۔آپ کا والہانہ جوش و جذبہ ہے،آپ کا بے دار شعور و ضمیر ہے۔یہ اخلاقیات کی وہ مثالیں ہیں جن پر ہزارہا تاریخیں قربان کی جاسکتی ہیں۔ہم صرف اللہ تعالیٰ سے آپ کی صحت و سلامتی کی دعا کر سکتے ہیں اور یہ کرتے رہیں گے۔

Citation
Nauman Manzoor, “ابرار حامدکی شاعری,” in Daily Nai Baat, July 27, 2015. Accessed on July 27, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%B1-%D8%AD%D8%A7%D9%85%D8%AF%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C

Disclaimer
The item above written by Nauman Manzoor and published in Daily Nai Baat on July 27, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 27, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Nauman Manzoor:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s