جواب آں غزل

Follow Shabnaama via email
حسین احمد پراچہ

یونیورسٹی آف سرگودھا کا انتظامی وتعلیمی کلچر یہ رہا ہے کہ ہم ہمیشہ تعمیری تنقید کو خوش آمدید کہتے ہیں تاہم آپ کے مؤقر جریدے کی 21جولائی 2015ء کی اشاعت میں سرگودھا یونیورسٹی کے بارے میں جو کالم شائع ہوا ہے یہ اردو صحافت کا انوکھا شاہکار ہے جس میں ’’ایلس ان ونڈرلینڈ‘‘ کی طرز پرایک سکول کی طالبہ یونیورسٹی کے اندر داخل ہوتی ہے اور گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کے اس وزٹ کے بعد وہ یونیورسٹی کی انتظامی ،تعلیمی ،تدریسی اور تحقیقی سرگرمیوں کے بارے میں ’’ماہرانہ ‘‘بلکہ معاندانہ تجزیہ پیش کر دیتی ہے۔بغیر کسی رجسٹریشن کے وہ جہاں چاہتی ہے وہاں جا پہنچتی ہے اوراسے کسی روک ٹوک کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔چند منٹوں میں اس طالبہ کو معلوم ہو جاتاہے کہ یونیورسٹی کی عمارتوں کا فن تعمیر کیسا ہے،پروفیسر وں کا معیارِ تدریس کیسا ہے ،کیمبرج اور ہارورڈ سے تعلیم یافتہ اساتذہ کا accentولایتی نہیں دیسی ہے۔ جناب ایڈیٹرہی فیصلہ فرمائیں کہ کیا یونیورسٹی کے خلاف تعصب اور عناد پر مبنی ایسی تحریر کسی سکول کی طالبہ کی ہو سکتی ہے اور کیا کسی صحافتی معیار کے مطابق ایسی تحریر شاملِ اشاعت کی جا سکتی ہے۔ چونکہ ’’نئی بات‘‘ کے باشعور قارئین کو اس ڈس انفارمیشن سے گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے لہٰذا اس بحث میں پڑے بغیر کہ ’’سدرۃ المنتہیٰ‘‘ کے پردے میں کون بول رہا ہے۔ ہم حقائق ’’نئی بات‘‘ کے ذریعے قارئین کی خدمت میں نمبر وارپیش کر رہے ہیں۔
2013ء میں یونیورسٹی آف سرگودھا کا آغازسابقہ گورنمنٹ کالج سرگودھاکے انتہائی کشادہ کیمپس میں ہوا ۔کالج کی عمارت آج سے کم ازکم پچاس پچپن برس قبل 1960ء کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی۔ اپنے زمانے میں یہ عمارت فن تعمیر کا شاہکار تھی اور آج بھی نہایت دیدہ زیب ہے کیونکہ ہر دو سال کے بعد اس کی تزئین وآرئش کی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ کم از کم 40نئی عمارتیں اس کیمپس میں تعمیر ہوئی ہیں جو جدید اورقدیم اسلامی فن تعمیر کا نہایت اعلیٰ نمونہ ہیں۔ البتہ ’’سدرۃ المنتہیٰ ‘‘ نے تعصب کی جو عینک لگارکھی ہے اس کے رنگین شیشوں سے اسے ان عمارتوں کی قدامت اور جدّت کا حسن نظر نہیں آ سکتا تھا۔

جامعہ سرگودھا میں یورپ،امریکہ اور پاکستان کی اعلیٰ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل پروفیسر خواتین وحضرات جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے لیکچر دیتے ہیں۔ بعض اوقات ان پروفیسروں کے لیکچر وڈیولنک پر دنیا کی اعلیٰ ترین جامعات میں بھی دیکھے اور سنے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی یونیورسٹیوں کی انتظامیہ تحقیق وتدریس کے ماہر سینئراساتذہ کی منت سماجت کرکے انہیں اپنے سٹاف میں شامل کرتی ہے کیونکہ جامعات میں سینئر اساتذہ کی موجودگی وجۂ افتخار واعزازسمجھی جاتی ہے۔

فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور پنجاب پبلک سروس کمیشن اور دیگر وفاقی و صوبائی اداروں کے اعدادو شمار کے مطابق تحریری ٹیسٹ اور انٹرویوز میں یونیورسٹی آف سرگودھا کے طلباء وطالبات کی کامیابی کا تناسب دوسرے سب اداروں سے زیادہ ہے۔ اس کامیابی کا راز ہے طلبہ کو پاور پوائنٹ پر (Presentation) کے جدید اسالیب کی لازمی ٹریننگ جہاں تک نظم و ضبط کا تعلق ہے تو یونیورسٹی آف سرگودھا کے ڈسپلن کو وزیر اعلیٰ پنجاب نے بارہا سراہا ہے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر عبدالقدیرخان،گورنر پنجاب اور کئی دیگر شخصیات یونیورسٹی آف سرگودھا کو وطن عزیز کا ایک مثالی ادارہ قرار دے چکے ہیں۔

’’سدرۃ المنتہیٰ‘‘ نے گرلز ہاسٹلوں پر بھی تنقید کی ہے جس کا حقیقت حال سے دور تک کوئی تعلق نہیں۔ یونیورسٹی آف سرگودھا میں زیر تعلیم 25000 سٹوڈنٹس میں طالبات کا تناسب 70فیصد ہے جن کے لیے تیزرفتاری سے تعمیر کیے گئے 7 ہاسٹل بھی ناکافی ہیں۔ والدین اپنی بچیوں کو کسی صورت بھی پرائیویٹ ہاسٹلوں میں بھیجنے پر رضامند نہیں ہوتے اور وہ انتظامیہ سے درخواست کرتے ہیں کہ بچیوں کو کامن رومز وغیرہ جہاں بھی ممکن ہو جگہ دیں۔جب والدین پرائیویٹ ہاسٹلوں میں طالبہ کو بھیجنے سے انکار کردیتے ہیں اور اس کاسلسلہ تعلیم منقطع کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں تو پھر انتظامیہ مجبوراًان بچیوں کو بھی ہاسٹل میں داخل کر لیتی ہے۔یونیورسٹی آف سرگودھا نے ریسرچ کے میدان میں بے مثال کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں اور اس کی کئی ایجادات امریکہ سے Patent کا درجہ حاصل کر چکی ہیں۔

سکول کی طالبہ ’’بیچاری سدرۃ المنتہیٰ ‘‘نے لائبریری پر ایک نظر ڈالی اور اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ لائبریری بس گزارہ ہے۔’’ سدرۃ المنتہیٰ‘‘ کی آڑ میں بدترین قسم کی علمی بدیانتی اور لاعلمی کا شکار جو کوئی بھی ہے ، اسے یقیناًمعلوم ہو گا کہ یونیورسٹی آف سرگودھا کی لائبریری پاکستانی یونیورسٹیوں میں، دوسرے تیسرے نمبر کی لائبریری سمجھی جاتی ہے جس کا رابطہ امریکہ اور یورپ کی متعدد یونیورسٹیوں کے ساتھ قائم ہے۔ ہمیں حیریت ہے کہ ’’سدرۃ المنتہیٰ‘‘ نے مخالفت کی انتہا کرتے ہوئے یونیورسٹی میں ایک سال سے کام کرنے والے جدید ترین اور نہایت وسیع سٹوڈنٹس ٹیچر سنٹر کا ذکر نہیں کیا جس کا افتتاح وزیر تعلیم پنجاب جناب رانا مشہود صاحب نے کیا تھا۔

58’’سدرۃ المنتہیٰ ‘‘نے یونیورسٹی کے لانوں اور سبزہ زاروں کو بھی نہیں بخشا۔ یہ حقیقت آن ریکارڈ موجودہے کہ گزشتہ برس محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان یونیورسٹی آف سرگودھا سہ روز قیام کے بعد جب واپس اسلام آباد تشریف لے جانے لگے تو انہوں نے فرمایا کہ یہاں کی تدریسی وتحقیقی سرگرمیوں سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ یونیورسٹی آف سرگودھا جیسے خوبصورت سبزہ زار ،کھیل کے میدان اور سربفلک اشجار مجھے کسی اوریونیورسٹی میں دکھائی نہیں دئیے۔ ’’سدرۃ المنتہیٰ ‘‘کے تصرفات کی انتہا دیکھئے کہ اس نے اس فقیر کے برسوں پرانے ٹائیٹل ’’حکم اذاں ‘‘ پر بھی ہاتھ صاف کر لیا اور اسے اپنے کالم کا نام قرار دے ڈالا۔فروری 2007ء میں پروفیسرڈاکٹر محمد اکرم چودھری کے وائس چانسلر بننے کے بعد یونیورسٹی میں خود انحصاری کی پالیسی کو اختیار کیا گیا اور ایک وژن کے تحت ایسے انتظامی امور انجام دیے گئے جن کے سبب آنے والے چند ہی برسوں میں یونیورسٹی اپنے قدموں پر پوری طرح کھڑی ہونے کے قابل ہوگئی۔ اکیسویں صدی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مبنی برمعاش تحقیقی وتدریسی سرگرمیوں کو فروغ دیا گیا۔پاکستان کونسل آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے یونیورسٹی آف سرگودھا کو پاکستان کی اوّلین دس جامعات میں نویں پر قرار دیا ہے۔ یونیورسٹی آف سرگودھانے ترقی کا یہ معیار اور کمال وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد اکرم چودھری کے وژن اورانتظامی صلاحیتوں کے سبب حاصل کیا ہے ۔یونیورسٹی میں اس وقت بشمول میانوالی اور بھکرکیمپس 40,000 طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں۔ 2007ء میں صرف 42 پروگراموں میں تعلیم دی جارہی تھی اور اب 2014ء میںیہ تعداد 207 کے لگ بھگ ہے، جن میں کم وبیش 70 پروگرام ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لئے مخصوص ہیں۔
تحقیقی سرگرمیوں سے حاصل کردہ نتائج کی روشنی میں دریافتوں کا ایک جہاں کھل گیاہے۔سرگودھایونیورسٹی کے ڈاکٹر شاہد اقبال نے جدید تحقیق سے خوردنی تیل کی مدت استعمال کو بہت بڑھا دیا ہے اور patentاُن کے نام سے رجسٹر ہو گیا ہے۔مضر صحت نقصانات سے پاک پیراسیٹامول کی تیاری بھی سرگودھا یونیورسٹی کے ایک سائنس دان کی اہم کامیابی ہے۔ ڈاکٹر محمد امین کی یہ اہم تحقیق امریکہ سےpatentکی سند حاصل کرچکی ہے۔ یونیورسٹی آف سرگودھا کے ڈاکٹر عبدالرحمن نے بوائی اور کٹائی کے لئے ایک کثیر الجہات زرعی مشین نہایت کم قیمت پر تیار کی ہے۔

زرعی سائنس کے حوالے سے سرگودھایونیورسٹی کا انتہائی حیرت انگیز کارنامہ، ایک نوجوان سائنس دان ڈاکٹر عامرعلی نے انجام دیا ہے۔ انہوں نے گنے کی ایسی ورائٹی متعارف کروائی ہے جو 8سے 12سال تک بیمار نہیں ہو گی ۔اس ورائٹی کے سو من گنے سے 14من چینی حاصل ہوتی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ یونیورسٹی کے اسی سائنس دان نے ایک پودے سٹیویا کے ذریعے عام چینی سے 300گنا زیادہ میٹھی لیکن زیروکیلوری والی شکر تیار کر لی ہے۔

ڈاکٹر اشرف نیازی کی ایجاد کردہ فیسٹولاٹیوب امریکی پیٹنٹ اینڈ مارک آفس میں رجسٹریشن کے لیے جمع کروائی جا چکی ہے۔ سرگودھا یونیورسٹی نے اس وقت اپنے وسائل سے بین الاقوامی معیار کا میڈیکل وتشخیصی سنٹر قائم کیا ہے جہاں آغا خان اور شوکت خانم کے معیار کے مطابق اُن سے نصف نرخوں پر ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 100بیڈز پر مشتمل ٹراما سنٹر بھی تعمیر کے آخری مراحل میں ہے نیزایک جدید اور معیاری فارمیسی بھی قائم کی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ’’خوش آب‘‘ کے نام سے منرل واٹر تیار کیا گیا ہے، پاکستان کوالٹی کنٹرول نے پاکستان کا بہترین منرل واٹر قرار دیا ہے۔ ’’خوش آب‘‘ مِنرل واٹر ایک لاکھ لٹرز روزانہ تیار کر کے انتہائی معقول قیمت پر صارفین کو مہیا کیا جارہا ہے۔اس طرح کی درجنوں اور ایجادات ہیں جن کا طوالت کے خوف سے یہاں ذکر نہیں کیا جا رہا۔ہم نے ’’نئی بات‘‘ کے باشعور قارئین کے لئے نہایت دیانت داری کے ساتھ یونیورسٹی آف سرگودھا کی کامیابیوں کی تحقیقی ودستاویزی ثبوتوں کے ساتھ ایک جھلک پیش کر دی ہے تاکہ اُن کی حقیقت تک اُن کی رسائی ہو سکے۔

Citation
Husain Ahmed Paracha, “جواب آں غزل,” in Daily Nai Baat, July 26, 2015. Accessed on July 26, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8-%D8%A2%DA%BA-%D8%BA%D8%B2%D9%84

Disclaimer
The item above written by Husain Ahmed Paracha and published in Daily Nai Baat on July 26, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 26, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Husain Ahmed Paracha:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s