دوڑاک

Follow Shabnaama via email
گل نوخیز اختر

دو سال پہلے کی بات ہے‘ میں کسی میٹنگ کے سلسلے میں پی ٹی وی لاہور گیا‘ میٹنگ سے فارغ ہوکر حسب معمول افتخار مجاز صاحب سے گپ شپ لگانے شعبہ کرنٹ افیر کی طرف آ نکلا۔ مجاز صاحب کے کمرے میں داخل ہوا تو ایک عجیب منظر دیکھا‘ ایک صاحب ڈنڈ بیٹھکیں لگا رہے تھے۔پہلے تو مجھے لگا کہ شائد مجاز صاحب نے اپنے کسی ماتحت کو سزا دی ہوئی ہے‘ بعد میں پتا چلا کہ جوانوں کی طرح ورزش کرنے والے ان صاحب کا نام کلیم اللہ فاروقی ہے اوراپنے کسرتی جسم کی بدولت یہ 65سال کی عمر میں بھی جوانوں والی پھرتی رکھتے ہیں۔ فاروقی صاحب پاکستان نیوی‘ کراچی پولیس‘ ریلوے ‘ او رمختلف سکول اور کالجز کے اتھلیٹ سٹوڈنٹس کے علاوہ بیرون ملک بھی اتھلیٹس کو تربیت دے چکے ہیں۔انہوں نے ’’سپورٹس سائیکالوجی‘‘ کے نام سے عجیب و غریب چیز نکالی ہے جو لگ بھگ ہپنا ٹزم سے ملتی جلتی ہے۔ کلیم فاروقی صاحب کا کہنا ہے کہ دوڑنا ہی جسم کی تمام بیماریوں کا حل ہے‘ میراتھن ریس کے تو وہ شیدائی ہیں۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ ’’میراتھن ریس‘‘کی اردو کیا ہوسکتی ہے‘ کلیم اللہ فاروقی نے یہ مشکل بھی آسان کردی‘ انہوں نے ’’دوڑاک‘‘ کے نام سے ایک نیا لفظ نہ صرف ایجاد کیا بلکہ اسی عنوان سے ایک ضخیم کتاب بھی لکھ ڈالی ہے۔

لفظ ’’میراتھن‘‘ کے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ ’’ میراتھن یونان کے ایک گاؤں کا نام تھا جہاں 490 ق م میں اہل ایتھنز نے حملہ آور پرشیئن فوج کو زبردست شکست دی تھی‘کہا جاتاہے کہ اس فتح کی خوشخبری ایتھنز والوں کو سنانے کے لیے ایک سپاہی دوڑایا گیا جس کا نام ’فائڈی پیڈیز ‘ تھا۔یہ سپاہی ایتھنز پہنچا اور لوگوں کو شہر کی فتح کا مژدہ سنایاکہ’’جشن مناؤ‘ ہم جیت گئے‘‘۔ اتنا کہہ کر وہ زمین پر گرا اور مر گیا۔اسی سپاہی کی یاد میں ’میراتھن‘ دوڑ کو اولمپکس میں شامل کیا گیا لیکن مذکورہ بالا واقعہ کا تاریخ کی کتابوں میں کوئی ذکر نہیں۔‘‘ یہ کتاب بڑی دلچسپ ہے ‘ زبان سادہ اور عام فہم ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی چاشنی سے بھی لبریز ہے کیونکہ فاروقی صاحب خود بھی شعر کہتے ہیں۔اس کتاب میں نوجوانوں‘ بوڑھوں ‘ بچوں اور خواتین کے لیے ورزش کے ایسے ایسے منفرد اور آسان طریقے بتائے گئے ہیں جنہیں وہ عمر کے کسی بھی حصے میں کرسکتے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ فاروقی صاحب دوڑنے کے بہت زیادہ حق میں ہیں لہذا وہ ’’دوڑاک‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’دوڑنے سے جسمانی‘ ذہنی ‘ جذباتی اور روحانی فوائد حاصل ہوتے ہیں‘ یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔ایک ایسی لذت اور سکون ملتا ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔انسان اپنے آپ کو تندرست و توانا محسوس کرتاہے۔ کتنے ہی طویل فاصلوں کے اتھلیٹس سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اگر وہ دوڑنا چھوڑ دیں تو کیا ہوگا‘ ان میں سے اکثر کا جواب تھا کہ ’ہم مرجائیں گے‘۔فزیالوجسٹ کہتے ہیں کہ اگر لوگ نہ دوڑتے تو آج انسانی نبض کی رفتارفی منٹ200 یا اس سے اوپر نہ ہوتی اور انسانی جسم میں وریدیں317 کی بجائے بہت کم ہوتیں۔آپ ماضی کے بڑے اتھلیٹس کی خودنوشت پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کے دلوں میں کسی چیلنج‘ کسی رکاوٹ اور کسی جذبے نے دوڑنے کی تحریک پیدا کی۔‘‘ فاروقی صاحب کی کتاب پڑھ کر مجھے لگا جیسے وہ ہر شخص کو اتھلیٹ بنانا چاہتے ہیں مگر کیوں؟ اس کے ایک سو ایک جوابات ان کے پاس موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دوڑنے سے ہی انسان مختلف قسم کی ٹینشن سے نجات پاسکتا ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں’’مزمن تھکن کو دور کرنے کے لیے ہمیں اپنے اردگرد پھیلی پوری کائنات میں موجود توانائی سے استفادہ کرنا ہوگا جو ہماری زندگیوں پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہے جو ہمیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔جسمانی وجود سے بالا تر ہمارا جسم توانائی کا ایک متحرک اور دھڑکتا ہوا ہالہ ہے۔وہ ذرات جو مل کر ہمارا جسم بناتے ہیں وہ کائناتی حلقے کے اندر توانائی کی لہر کی مانند ہیں۔ہمارے مادی وجود کے اندر توانائی کا ایک بنیادی میکاناتی ذرہ ہے جو خالص توانائی‘ خالص عمل اور خالص ذہانت ہے چناچہ اسی ذرے کے اندر ہمارے جسمانی وجود کی مزمن تھکن کی وجہ تلاش کرنی ہوگی۔‘‘ کلیم فاروق صاحب سے میں نے بڑی لمبی نشست رکھی‘ وہ سراپا انکسار ہیں‘ ورزش کے طریقے بتاتے ہوئے خود بھی وہ طریقہ کرکے دکھانے لگتے ہیں ۔ ان کی خواہش ہے کہ ہم سب ورزش پر آمادہ ہوجائیں۔ انہوں نے مجھے بھی مشورہ دیا کہ آپ کوئی گیم کھیلا کریں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں باقاعدگی سے روزانہ دو گھنٹے گیم کھیلتاہوں۔ فاروق صاحب نے حیرت سے پوچھا’’ ماشاء اللہ ۔۔۔گراؤنڈ میں؟‘‘ ’’نہیں‘ موبائل میں‘‘۔میں نے اطمینان سے جواب دیا۔ کلیم اللہ فاروقی صاحب کی کتاب میں کچھ ایسی باتیں بھی ہیں جو آج سے پہلے کم ازکم میری سمجھ میں نہیں آتی تھیں لیکن فاروق صاحب نے بڑے آسان انداز میں گتھیاں کھول دی ہیں‘ مثلاً مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ جوگنگ یا واک کرنے سے چستی آنے کی بجائے تھکن کیوں محسوس ہوتی ہے۔ فاروق صاحب کا کہنا ہے کہ ہم ورزش سے پہلے تازہ دم ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی ورزش شروع کرتے ہیں تو ہمارے جسم میں موجود توانائی کا ذخیرہ خرچ ہونا شروع ہوجاتاہے اور جسم کے ایندھن یعنی ’’گلائیکوجن‘‘ کے خرچ ہونے اور عضلات میں ’’لیکٹک ایسڈ‘‘ جمع ہونے سے درد کا احساس بڑھ جاتاہے اور کارکردگی میں کمی آجاتی ہے۔ دوڑتے ہوئے ایک منٹ فی میل کے حساب سے زیادہ وقت خرچ ہوتاہے اور چونکہ ہمارے نمکیات ضائع ہورہے ہوتے ہیں اور لیکٹک ایسڈبڑھ رہا ہوتاہے اس لیے تھکن کا احساس ہوتاہے۔فاروق صاحب کہتے ہیں کہ مناسب غذا اورمناسب ورزش سے ہم اپنے جسم کے عضلات کو ’’گلائیکوجن‘‘ سے سیر کرسکتے ہیں جس سے ورزش کے دوران ہمیں تھکن نہیں ہوگی۔جسم میں موجود توانائی کے ذخیرے کو گلوکوز کے استعمال سے بھی بڑھایا جاسکتاہے کیونکہ ’’ڈیکسٹروز‘‘ کی شکل میں گلوکوزتیزی سے خون میں شامل ہوجاتاہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ طے کرنے میں مشکل ہوتی ہے کہ وہ صبح کے وقت دوڑنے کی ورزش کریں یا شام کو۔ فاروقی صاحب کے مطابق ساری رات لیٹنے کی وجہ سے جسم کے کچھ عضلات اور اعضاء پر کئی کئی گھنٹے تک بوجھ پڑنے کی وجہ سے دوران خون سست ہوجاتاہے لہذا صبح کی ورزش کے دوران عضلات کی لچک اور جوڑوں کا دائرہ حرکت متاثر ہوتاہے اس لیے صبح کی نسبت شام کے وقت دن بھر کے کام کاج کی وجہ سے دوران خون تیز ہوتاہے اور عضلات کے جوڑوں میں کھچاؤ بھی محسوس نہیں ہوتا لہٰذا بہتر یہی ہے کہ شام کے وقت ورزش کریں لیکن اگر صبح کے وقت ہی ورزش کرنا مقصود ہوتو بستر سے اٹھنے کے بعد کم ازکم ایک گھنٹہ تک دوڑنا شروع نہ کریں۔کلیم اللہ فاروقی کی یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے‘ اسے پڑھ کر نہ صرف بہت سی سنی سنائی باتوں کی حقیقت معلوم ہوتی ہے بلکہ صحت مند زندگی کے بہت سے راز بھی کھل جاتے ہیں۔

Citation
Gul-e-nokhaiz, “دوڑاک,” in Daily Nai Baat, July 26, 2015. Accessed on July 26, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%AF%D9%88%DA%91%D8%A7%DA%A9

Disclaimer
The item above written by Gul-e-nokhaiz and published in Daily Nai Baat on July 26, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 26, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Gul-e-nokhaiz:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s