ادیبوں کی حیران کر دینے والی عجیب و غریب عادات

Follow Shabnaama via email
ناصر زیدی

ادیبوں کی حیران کر دینے والی عجیب و غریب عادات کا اُن کے ساتھ بہت گہرا رشتہ ہے۔ ہر دور کا ادیب اپنے عہد کا آئینہ ہوتا ہے۔ کامیاب ادیب اُسی کو کہا جاتا ہے، جو اپنی تحریروں میں اپنے اِردگرد رونما ہونے والے واقعات، معاشرتی رویوں اور بدلتے رجحانات کی تہذیبی اقدار اور پھر زندگی میں ہونے والی تبدیلیوں کی بھرپور عکاسی کر سکے۔ شاید اِسی لئے ادیب کو اپنے عہد کا حقیقی عکاس سمجھا جاتا ہے۔ادیب اور قاری کا رشتہ اِسی صورت میں مستحکم ہو سکتا ہے، جب پڑھنے والے کو اس کی تحریروں میں اپنی زندگی کی تصویر نظر آئے اور وہ ان تحریروں کو اپنے دِل کی آواز سمجھے۔ وہ لوگ جو ادب سے لگاؤ رکھتے ہیں اور مطالعے سے جن کو خاص شغف ہے وہ یقیناًمشہور و معروف ادیبوں کی کتابوں کے بارے میں کچھ نہ کچھ جانتے ہیں، لیکن لکھتے وقت یہ بڑے ادیب جو عجیب و غریب طریقے اختیار کرتے ہیں ان سے بہت کم لوگ واقف ہیں، حالانکہ وہ نہایت دلچسپ ہیں۔ یہ ادیب لکھتے وقت نہایت منفرد اور دلچسپ انداز اختیار کرتے ہیں اور عام قاری بھی یقیناًجاننا چاہتا ہے کہ اس کا پسندیدہ ادیب کیسے اتنی منفرد شاہکار تحریریں تخلیق کر ڈالتا ہے۔ اِس مضمون میں ہم چند مشہور ادیبوں کے متعلق جاننے کی کوشش کریں گے، جو بڑ ے انوکھے انداز سے اپنے ادبی شہ پارے تخلیق کرتے تھے۔۔۔!

اُردو کے مشہور اور منفرد افسانہ نگار سعادت حسن منٹو لکھتے وقت صوفے پر بیٹھ کر دونوں گھٹنے سمیٹ لیتے اور ایک چھوٹی سی پنسل سے لکھتے۔ افسانہ شروع کرنے سے پہلے 786 ضرور لکھتے تھے، جو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے، جبکہ حضرتِ جوش ملیح آبادی بجائے بسم اللہ کے اپنی تخلیق کے سر نامے پر ’’بنامِ قوت و حیات‘‘ لکھتے تھے، جبکہ دَم رخصت اس قوت و حیات نے ساتھ نہ دیا۔ اُردو کے مشہور افسانہ نگار اور ناول نگار کرشن چندر تنہائی میں کمرہ بند کر کے لکھتے تھے۔ ایک بار اُن کی بیگم نے چپکے سے کمرے میں جھانک کر دیکھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ کرشن چندر اِردگرد سے بے خبر اپنے لکھنے کے پیڈ پر جھکے ہوئے تھے۔ اس لمحے اُن کا چہرہ بہت گمبھیر بھیانک اور اجنبی سا لگا۔ تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں، ہونٹ بھنچے ہوئے تھے اور اُن کے ہاتھ میں قلم خنجر کی طرح نظر آ رہا تھا، کچھ دیر بعد کرشن چندر کمرے سے نکلے اور سیدھے کھانے کی میز کی طرف آئے اس وقت اُن کا چہرہ پُرسکون، تازہ اور بہت معصوم تھا۔فرانسیسی ناول نگار وکٹر ہیوگو کی یہ عادت تھی کہ وہ لکھتے وقت سیدھے کھڑے ہو جاتے اور لکھنے کے لئے اپنے کندھے جتنی اونچی میز (ڈیسک) استعمال کرتے۔ ونسٹن چرچل بھی ابتدا میں لکھتے وقت اِسی قسم کا انداز اپنایا کرتے تھے۔

انگریزی کے مشہور ادیب آسکر وائلڈ تو سب سے بازی لے گئے۔ انہوں نے اپنا سال پیدائش1854ء کے بجائے1856ء کر لیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ وہ لوگوں کے سامنے خود کو کم عمر ثابت کر سکیں۔ فرانسیسی ناول نویس الیگزینڈر ڈوما لکھتے وقت لیموں کے علاوہ کسی پھل کا مشروب نہیں پیتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ الیگزینڈر ڈوما رسالوں کے لئے مضامین لکھتے وقت گلابی کاغذ، شاعری کے لئے پیلے کاغذ اور ناول کے لئے نیلے رنگ کا کاغذ استعمال کرتے تھے۔ اُردو کے منفرد اور ممتاز مزاح نگار شفیق الرحمن ہمیشہ کھڑے ہو کر لکھا کرتے تھے۔ اِسی طرح انگریزی کی ادیب کیرولین ویج وڈکہتی تھیں کہ لکھتے ہوئے بعض اوقات ریڈیو سننے سے انہیں خیالات مجتمع کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ آئر لینڈ کے مشہور ناول نگار جیمز جوئس نے اپنی تمام تحریریں بستر پر اُلٹے لیٹ کر لکھیں۔ ان کا کہنا تھا ’’مَیں اس طریقے سے لکھتے ہوئے آرام محسوس کرتا ہوں‘‘۔ بچوں کے عظیم محسن حکیم محمد سعید شہید عام طور پر رف لکھتے وقت اشتہارات کے پچھلے حصے کا استعمال کرتے تھے۔ یہ اشتہارات مختلف اخبارات میں ہوتے تھے یا عموماً ایڈور ٹائزنگ کے لئے لوگ ان کا استعمال کرتے تھے۔حکیم صاحب کے بقول ’’یہ قوم ابھی اتنی امیر نہیں ہوئی کہ بہترین کاغذ کا استعمال کر سکے‘‘۔ حالانکہ حکیم صاحب کے پاس کسی چیز کی کمی نہ تھی، لیکن ان کی یہ بات قوم کو سادگی اور کفایت شعاری کا درس دیتی نظر آتی ہے۔

کئی ادیب و شاعر لکھتے وقت سگریٹ کا استعمال کرتے تھے، کیونکہ ان کے مطابق سگریٹ ان کے دماغ کو متحرک رکھتی ہے، حالانکہ اِسی سگریٹ نوشی کی وجہ سے وہ مہلک بیماریوں میں مبتلا رہے۔ مَیں ایک بُک اسٹال پر کھڑا تھا اِسی دوران ایک شخص سے مختلف ادیبوں کے حوالے سے بات چیت شروع ہو گئی۔جب اُسے پتہ چلا کہ مَیں لکھتا ہوں تو اُس نے سگریٹ سلگائی اور مجھے آفر کی۔ جب مَیں نے کہا کہ بھائی صاحب مَیں سگریٹ نہیں پیتا تو کہنے لگا: ’’حیرت ہے آپ لکھتے ہیں، مگر سگریٹ نہیں پیتے‘‘ اِسی طرح بعض ادیب لکھتے ہوئے چائے پینے کے عادی تھے۔ مشہور ادیب ایڈگر رائس اپنی دلچسپ اور چونکا دینے والی کہانیاں چائے کی بے شمار پیالیاں پی کر لکھتے تھے۔ فرانسیسی ادیب بالزاک چائے کے بجائے کافی پیتے تھے۔ وہ آدھی رات سے لے کر اگلے دن کی دوپہر تک لکھا کرتے تھے اس دوران وہ کافی کی لاتعداد پیالیاں پی جاتے۔ ایک بار انہوں نے مذاقاً کہا تھا ’’مَیں کافی کی دس ہزار پیالیاں پی کر مروں گا‘‘۔ معروف ادیب جے بی پریسلے صرف کسی تحریر کو درست کرنے یا دستخط کرنے کے لئے پنسل استعمال کرتے تھے۔

اس کے برعکس لارڈ ڈیوڈ سسلی نے اپنی طویل سوانح عمری پنسل سے لکھی تھی۔ اُردو کی مشہور افسانہ نگار، ڈرامہ نگار عصمت چغتائی اوندھے مُنہ لیٹ کر لکھتی تھیں اور لکھتے ہوئے عموماً برف کی ڈلیاں چباتی جاتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈلیاں چبانے سے میرے ذہن میں نت نئے خیالات آتے ہیں۔ میرزا ادیب نے اپنی عظیم و ضخیم معرکہ آرا آپ بیتی ’’مٹی کا دیا‘‘ گھر کی بیسمنٹ کے ایک گوشے میں تنہا بیٹھ کر لکھی۔ بُھنے ہوئے چنے چباتے جاتے جو اُنھیں توانائی بخشتے رہتے۔! مشہور انگریز ادیب جارج برنارڈ شا ابتدا میں اس قدر شرمیلا تھا کہ وہ اپنے دوستوں کو ملنے سے بھی گھبراتا تھا۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ اپنے دور کا بہترین مقرر بن گیا۔ انگریزی کے ایک ادیب ڈیکسٹر اپنی تحریر میں کامے، فل سٹاپ اور ڈیش وغیرہ نہیں لگاتے تھے۔ وہ اپنی تحریر میں انگریزی لکھائی کے اس قاعدے کا بھی لحاظ نہیں رکھتے تھے کہ ہر نیا جملہ حروفِ تہجی سے شروع ہو۔ اس وجہ سے ان کی تحریر ایک طویل ترین جملہ لگتی تھی۔ان کی کتاب کے ناشر نے ایک دفعہ پریشان ہو کر اُنہیں لکھا کہ اس میں نہ تو کاما ہے نہ فل سٹاپ، مَیں کیا کروں؟ ڈیکسٹر کو تاؤ آ گیا۔ اُس نے کچھ کاغذوں پر بے شمار کامے، ڈیش، فل سٹاپ وغیرہ لکھے اور انہیں ناشر کو اس نوٹ کے ساتھ روانہ کر دیا کہ جہاں جہاں ضرورت ہو وہ اس کاغذ سے کامے، ڈیش اور فل سٹاپ وغیرہ لے لے۔ برطانیہ کے معروف ادیب کومپٹن میگنزی لکھتے وقت پس منظر میں کلاسیکی موسیقی کی دھنیں سُنا کرتے تھے۔میگنزی کا کہنا تھا کہ ایسی موسیقی اس کے خیالات کو توانائی بخشتی ہے۔ اب تو کمپیوٹر کا دور آ گیا ہے، لیکن اگلے وقتوں میں تحریر صاف رکھنے کے لئے عموماً ٹائپ رائٹر استعمال کیا جاتا تھا۔ مشہور ادیب چارلس ڈکنز اس کا استعمال نہیں جانتے تھے اس لئے ڈکنز کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریریں پڑھنا بہت دشوار ہوتا تھا۔ ان کی تحریریں خاردار تاروں کی طرح اُلجھی ہوئی نظر آتیں۔ یقیناًڈکنز کی تحریروں نے ناشرین کو بڑا پریشان کیا ہو گا۔ سعادت حسن منٹو آخری دَور میں اُردو ٹائپ رائٹر پر افسانے لکھنے لگے تھے یہ یادگارِ زمانہ ٹائپ رائٹر ن م راشد نے گورنمنٹ کالج لاہور کو تحفتہً بھجوا دیا تھا۔!اُردو کے ممتاز نقاد، ماہر تعلیم،پروفیسر سید وقار عظیم ایک کُھری چار پائی پر بیٹھ کے اپنے تنقیدی شاہکار رقم کرتے تھے۔ اور اُستادِ گرامی جنابِ احسان دانش مرحوم اعزازی موصولہ رسائل و جرائد کے پتے والے ریپر الگ کر کے سنبھالتے رہتے اور پھر اُنھی کی پُشت پر اُنھوں نے پرچیوں کی صورت میں اپنی شاہکار آپ بیتی ’’جہانِ دانش‘‘ اور پھر بعد از مرگ شائع ہونے والی ’’جہانِ دیگر‘‘ رقم کی تھیں۔۔۔!

چارلس ڈکنز کے بارے میں یہ پڑھ کر آپ یقیناًحیران ہوں گے کہ اگر اس کے بستر کا رُخ شمال کے بجائے مشرق یا مغرب کی طرف کر دیا جاتا تو اسے نیند نہیں آتی تھی۔وہ تمام رات جاگ کر گزارا دیتا لیکن جب بستر کا رُخ شمال کی طرف کر دیا جاتا تو وہ گہری نیند سو جایا تھا۔ سب سے عجیب عادات و حرکات ان ادیبوں کی تھیں جو خاص قسم کے ماحول میں خاص قسم کا لباس پہن کر لکھتے تھے۔ مثلاً الیگزینڈر ڈوما لکھتے ہوئے ایک اونچی لمبی ٹوپی، پھول دار جاپانی چغے کے ساتھ پہنتے کہتے تھے:’’میرے آدھے خیالات اس ٹوپی کے اندر ہوتے ہیں اور آدھے اس چغے میں جو مَیں روحانی مناظر لکھتے وقت پہنتا ہوں‘‘۔ مختصر افسانے کے بانی مشہور مصنف ایڈ گرایلن پو کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ لکھتے وقت اکثر اپنی پالتو بلی کو کندھے پر بٹھا لیتے تھے۔’’ہم تم ہوں گے بادل ہو گا‘‘ والے اُردو سرائیکی کے مشہور شاعر فاروق روکھڑی فکرِ سخن بلکہ سخن طرازی کرتے ہوئے بھی بندر کاندھے پر بٹھائے رکھتے تھے!

Citation
Nasir Zaidi, ” ادیبوں کی حیران کر دینے والی عجیب و غریب عادات ,” in Daily Pakistan, July 25, 2015. Accessed on July 26, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/25-Jul-2015/248560

Disclaimer
The item above written by Nasir Zaidi and published in Daily Pakistan on July 25, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 26, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Nasir Zaidi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s