کتابوں کا معاشرے سے مکالمہ

Follow Shabnaama via email
غازی صلاح الدین

ایک ناول جس کا مسودہ تقریباً 60 سال سے کہیں پڑا رہ گیا ہو، اپنی اشاعت سے پہلے ہی کتنا اودھم مچاسکتا ہے۔ اس کی ایک مثال امریکہ کی ناول نگار ’’ہار پرلی‘‘ کا وہ ناول ہے جو جولائی کے وسط میں یعنی یہی کوئی دس دن پہلے پڑھنے والوں کو دستیاب ہوا، لیکن اس سے جو داستان اور جذبات منسلک ہیں وہ صرف 60 سال ہی نہیں امریکہ کے پورے تاریخی تجربے پر محیط ہیں۔ اس نئے ناول نے ادب کی دنیا میں جو ہلچل مچائی ہے اس سے ہر ملک کے پڑھے لکھے باذوق افراد، عالمی میڈیا کے توسط سے کسی نہ کسی حد تک ضرور واقف ہوں گے۔ میں ان دنوں کیونکہ امریکہ میں ہوں اس لئے میں نے اس معاملے کو قریب سے دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس پرانے نئے ناول کی اشاعت اور اس پر کی جانے والی بحث کا ایک خاص پس منظر ہے۔ بنیادی طور پر اس کا تعلق ایک شاہکار ناول سے ہے جو 1960ء میں منظر عام پر آیا۔ اس کا نام ’’ٹوکل اے ماکنگ برڈ‘‘ ہے۔ 1962ء میں ہالی وڈ نے اس پر جو فلم بنائی وہ پوری دنیا میں مقبول ہوئی۔ میری عمر کے لوگوں کی نوجوانی کا ایک بڑا اداکارر گریگوری پیک اس کا ہیرو تھا۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ امریکہ کی ایک جنوبی ریاست میں نسلی امتیاز کے تاریک دور میں، ایک سفید فام وکیل نے کیسے ایک سیاہ فام لڑکے کا مقدمہ لڑا کہ جس پر ایک سفید فام خاتون کے ’’ریپ‘‘ کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا۔ وکیل کا نام ایٹیکس فنچ تھا اور گریگوری پیک نے یہ کردار اس طرح نبھایا تھا کہ وہ ایک مثال بن گیا۔ خاص طور پر روشن خیال اور سیاہ فام افراد کے لئے وہ نسلی انصاف اور اعلیٰ انسانی اقدار کی علامت بن گیا۔ والدین نے اپنے بیٹوں کا یہی نام رکھا اور وکالت کی تعلیم سے نوجوانوں کی رغبت میں اضافہ ہوا۔ اب یہ دیکھئے کہ یہ ناول ایک 35سالہ خاتون کی پہلی کاوش تھی۔ اس طرح ہار پرلی ادب کے افق پر ایک چمکتا ہوا ستارہ بن کر طلوع ہوئیں اور ملک کی ایک اہم شخصیت بن گئیں۔

ہوا یہ کہ ہارپرلی، اپنے شاہکار کی طرح منفرد نکلیں۔ ایک تو انہوں نے میڈیا میں اور منظر عام پر آنے سے پرہیز کیا۔ پھر یہ ہوا کہ سال گزرتے گئے اور ان کی کوئی تحریر سامنے نہیں آئی۔ اس کا صرف یہ جواز پیش کیا جاتا رہا کہ اتنے بڑے ناول کے بعد کہ جس نے اتنی دھوم مچائی، ایسا ہی دوسرا ناول لکھنا آسان نہ تھا۔ پھر یہ ہوا کہ گزشتہ سال یہ انکشاف ہوا کہ ہارپرلی کا ایک اور ناول موجود ہے اور اس کا مسودہ ایک پبلشنگ ادارے نے حاصل کر لیا ہے۔ یہ کتنی بڑی خبر تھی اس کا سمجھنا ہمارے جیسے معاشروں کے لئے بہت مشکل ہے۔ ہارپرلی ابھی حیات ہیں اور اگلے سال وہ 90 سال کی ہوجائیں گی۔ اس طرح وہ اب بھی پردے کے پیچھے ہیں۔ البتہ ان کے ناول کے مسودے کی دریافت کے بعد وہ دوبارہ میڈیا اور ادبی حلقوں کے لئے اہم ہوگئیں۔ بہت سالوں سے پہلے ان سے کی جانے والی ملاقاتوں کا ذکر کیا گیا۔ ’’ٹوکل اے ماکنگ برڈ‘‘ میں نئی دلچسپی پیدا ہوگئی۔ یہ بحث شروع ہوگئی کہ یہ نیا ناول، جس کا نام ’’گو سیٹ اے واچ مین‘‘ ہے آخر کیسا ہوگا اور یہ بھی کہ یہ آخر آ کہاں سے گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان سوالات کے جوابات سامنے آتے گئے اور توقع کی جاتی ہے کہ اس سارے عمل کے بارے میں کتابیں بھی لکھی جائیں گی۔ سب سے زیادہ حیرت انگیز یہ انکشاف تھا کہ جسے ہم ہارپرلی کا دوسرا ناول کہہ رہے ہیں یہ دراصل ان کا پہلا ناول تھا جب انہوںنے 1957ء کے موسم گرما میں یہ ناول ایک اشاعت گھر کو دیا تو اس کی ایک خاتون ایڈیٹر نے ہارپرلی کو مشورہ دیا کہ وہ اس مسودے کو علیحدہ رکھ دیں اور اس کی کہانی کو نئے انداز سے بیان کریں۔ اس طرح ہارپرلی نے وہ ناول لکھا کہ جو امریکی بلکہ جدید انگریزی ادب کا ایک شاہکار بن گیا۔ پہلے ناول کی کہانی (وہی جو اب دوسرا ناول ہے) 1950ء کی دہائی کی تھی کہ جس میں 1930ء کی دہائی کے واقعات شامل تھے۔ امریکی کی نسلی امتیاز کی کہانی میں یہ دو، کسی حد تک مختلف زمانے ہیں۔ امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں کہ جہاں غلاموں کو آزاد کرنے کی جنگ لڑی گئی یہ حوالے اہمیت کے حامل ہیں۔ بہرحال وہ پہلا مسودہ ڈھونڈ لیا گیا اور اس کی اشاعت کا انتظام شروع ہوا۔ 14 جولائی کو اس کی فروخت کا آغاز ہوا لیکن تبصرہ کرنے والوں کو یہ ناول کئی دن پہلے مل گیا۔ اس طرح ناول پر تبصرے اس کی باقاعدہ اشاعت سے چند دن پہلے شروع ہوگئے اور گویا ایک طوفان کھڑا ہوگیا۔

تو آخر اس نئے (پرانے) ناول میں کیا تھا جو اتنا شور مچا، ہوا یہ کہ ’’ٹوکل اے ماکنگ برڈ‘‘ کے مرکزی کردار کے بڑھاپے کی کہانی ہے اور غضب یہ ہوا کہ اب وہ بھی ایک حد تک نسل پرست بن گیا۔ سیاہ فام لوگوں کے بارے میں اب کی رائے مختلف ہے، یوں ایک چاہے جانے والے ہیرو کی شخصیت داغدار ہوگئی۔ آپ کہیں گے کہ یہ کوئی خاص بات تو نہ ہوئی کہ ایک ناول کے کردار کا روپ ذرا بدل گیا۔ آخر ایک فرضی کہانی کے فرضی کردار کی عام لوگوں کی زندگی میں کیا اہمیت ہے، لیکن یہی بات تو میں کہنے کی کوشش کررہا ہوں۔ اعلیٰ اور اچھے ادب کے کردار ایک مہذب معاشرے میں کس طرح کی علامت بن جاتے ہیں۔ اس کی یہ ایک واضح مثال ہے۔ ویسے بھی، ایک عظیم مصنف کے نئے ناول سے دلچسپی کسی بھی معاشرے کی تخلیقی صلاحیت کا پیمانہ سمجھی جاسکتی ہے۔ اب یہ دیکھئے کہ ناول کی اشاعت سے تین دن پہلے نیویارک ٹائمز کے پہلے صفحے پر یہ طویل تبصرہ شائع ہوا کہ ارے، ایٹیکس فنچ تو خود نسل پرست نکلا۔ اس کے بعد اس موضوع پر گفتگو کا آغاز ہوگیا۔ کئی ناقدین نے یہ بھی تجزیہ کیا کہ لوگوں کی شخصیت اور رائے میں تبدیلی ایک فطری عمل ہے اور جس ناول کو 55 سالوں سے پڑھا جارہا ہے اور جو اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل ہے اس میں اس آئیڈیل ازم کا اظہار ہے جو شاید حقیقی نہیں ہے۔ سوچنے والے ذہنوں میں شکوک بھی پیدا ہوتے ہیں۔ نقطہ نظر میں تبدیلی بھی ہوتی ہے۔ ہاں حیرت اور مایوسی کے اس تاثر سے نئے ناول کی مقبولیت پر زیادہ اثر نہیں پڑا۔ میں ناول کے چھپنے کے ایک دن بعد کتابوں کی ایک بڑی دکان پر گیا تو کچھ ایسا ہی منظر تھا کہ جو نئی فلم کی ریلیز پر سینما کا ہوتا ہے۔ ہر طرف وہی ناول تھا، اس سے پہلے، ایک دکان پر میں نے ایک چھوٹی اسکرین پر گریگوری پیک کی فلم بے آواز چلتی ہوئی دیکھی۔ ظاہر ہے کہ یہ ناول 1960ء میں شائع ہونے والے ناول کی برابری نہیں کرسکتا کہ جس کی اب تک دنیا بھر میں چار کروڑ، جی ہاں چار کروڑ جلدیں فروخت ہوچکی ہیں۔

ناول کیسے زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اس کی تشریح میں لائبریری آف کانگریس کی ایک نمائش کی یاد دلا کر کرنا چاہتا ہوں۔ لائبریری آف کانگریس دنیا بھر میں علم اور معلومات کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ اس نے 2012ء میں امریکہ میں لکھی جانے والی ایسی 88 کتابوں کی نمائش کی جن کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے امریکہ کی تشکیل کی۔ یہ وضاحت کی گئی کہ یہ سب سے اچھی کتابوں کی فہرست نہیں ہے۔ اہمیت اس بات کو دی گئی ہے کہ کن کتابوں نے امریکہ کی ذہنی تربیت کی اور اس کی سماجی تبدیلی کے عمل میں حصہ لیا۔ظاہر ہے کہ ’’ٹوکل اے ماکنگ برڈ‘‘ ان 88 کتابوں میں شامل ہے۔ ان میں سیاست، تاریخ، ادب اورسائنس کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی کتابیں بھی ہیں۔ نمائش کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ امریکی معاشرے کی کتابوں سے مسلسل جاری گفتگو کو آگے بڑھایا جائے اور جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط کیا جائے۔ جی تو بہت چاہتا ہے کہ اس نمائش کا اور اس میں شامل کتابوں کا ذرا تفصیل سے ذکر ہو لیکن اس کی یہاں گنجائش نہیں۔ اس بات کا بھی مجھے اندازہ نہیں کہ اس اخبار کے عام پڑھنے والوں کو یہ باتیں اپنی طرف کس حد تک متوجہ کرسکتی ہیں۔ چلتے چلتے بس یہ بتا دوں کہ 88 کتابوں کی یہ فہرست بہت دلچسپ ہے۔ مثال کے طور پر اس میں کھانا پکانے کی ترکیبوں والی وہ کتابیں شامل ہیں، جنہوں نے امریکی ذائقے کی تربیت کی۔ بچوں کی کہانیوں کی ایک بہت مقبول کتاب ’’گڈ نائٹ مون‘‘ یعنی شب بخیر چندا ماما‘‘ بھی یہاں موجود ہے۔ ننھے بچوں کو کیسے پالا جائے، اس موضوع پر ایک کتاب بھی فہرست میں شامل ہے اور کئی ناول کہ جنہوں نے عام لوگوں کو سوچنا، محسوس کرنا اور خواب دیکھنا سکھایا۔ یہاں اہم بات صرف یہ ہے کہ کتابیں کتنے لوگ پڑھتے ہیں اور ان کتابوں کا ان کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے۔

Citation
Ghazi Salahuddin, “کتابوں کا معاشرے سے مکالمہ,” in Jang, July 25, 2015. Accessed on July 26, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%D8%B1%DB%92-%D8%B3%DB%92-%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%81-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9/

Disclaimer
The item above written by Ghazi Salahuddin and published in Jang on July 25, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 26, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ghazi Salahuddin:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s