زبانیں اور ہماری زبان

Follow Shabnaama via email
شاہد گل

اردو زبان کو لشکر کہتے ہیں، اگر ہم اس زاویے میں دیکھیں تو اس میں فرد نہیں، معاشرہ اور تہذیب آتاہے۔ یہ بات بھی ایک حقیقت ہے ۔ اُردو محض کسی زبان کا نام نہیں، یہ کوئی بھاشا یا لینگوئج نہیں، یہ معاشرتی زندگی کے ڈھنگ ایک اسلوب، بول چال، رکھ دکھاؤ اور روزمرہ کے اوقات کو بسر کرنے کے قرینے کا دوسرا نام ہے اور اس کے علاوہ ہمارے اجتماعی رویے کا نام بھی ہے۔ یہی اردو ترکوں کے علاوہ منگولوں کی زبان بھی تھی۔

قارئین! ہم اردو زبان کے علاوہ دیگر زبانوں کا حال دیکھتے ہیں جو دنیا بھر میں بولی، سمجھی اور جانی جاتی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے ماضی بعید میں زبانوں کے بارے میں نئی تحقیق شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آج تقریباً 70 ہزار زبانیں کرۂ ارض کے مختلف حصوں میں بولی جاتی ہیں۔ صرف براعظم ایشیا میں دو ہزار تین سو ایک زبان بولنے والے بستے ہیں۔ یورپ میں 286زبانیں جبکہ براعظم افریقہ آبادی کے تناسب سے سب سے چھوٹا براعظم ہے مگر یہاں پر بھی بولی جانے والی زبانوں کی تعداد 2 ہزار سے زیادہ ہے۔ اسی لحاظ سے جنوبی اور شمالی امریکہ میں ایک ہزار سے زیادہ زبانیں اپنا وجود رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ بحر الکاہل کے ممالک میں 1300 کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں۔

اگر ہم ملکوں کی بڑی زبانوں کی بات کریں تو چین میں 236، جاپان میں 15، روس میں 105، بھارت میں 428، بنگلہ دیش میں 39 ترکی میں 36 افغانستان میں 47، سری لنکا میں 7، سعودی عرب میں 5 اور ہمارے ملک میں تقریباً72 زبانیں زود عام ہیں ان میں کچھ زبانیں ایسی بھی ہیں جو ختم ہو رہی ہیں یا ہو چکی ہیں۔
اس وقت ہم پوری دنیا کی آبادی کو دیکھیں تو 7ارب 20 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ سب سے زیادہ لوگ چینی زبان بولتے ہیں، جن کے بولنے والوں کی تعداد ایک ارب، انتالیس کروڑ ہے۔ واشنگٹن رپورٹ کے مطابق دوسرے نمبر پر بولی جانے والی زبان ہندی/ اردو کو شمار کیا گیا ہے۔ اردو/ ہندی زبان کو بولنے والوں کی تعداد 58 کروڑ 80 لاکھ بتائی گئی ہے۔ چینی، ہندی/ اردو کے بعد تیسری بڑی زبان انگریزی ہے جو 52 کروڑ 70 لاکھ افراد بولتے اور سمجھتے ہیں اور چوتھے نمبر پر عربی زبان آتی ہے جس میں 46 کروڑ 70 لاکھ لوگ گفتگو کرتے ہیں۔ اسی طرح ہسپانوی زبان کو 38 کروڑ 90لاکھ اور بنگالی بولنے والوں کی تعداد 25 کروڑ ہے اور اس کے علاوہ 6 درسی، فرانسیسی، جاپانی، اطالوی، پرتگیزی اور جرمن زبانیں شامل ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں جو سب سے زیادہ زبان بولی جاتی ہے وہ انگریزی ہے۔ انگریزی دنیا کے تقریباً 101 ممالک میں بولی اور جانی جاتی ہے۔ اسی طرح عربی زبان دنیا کے تقریباً 60 ملکوں میں بولی جاتی ہے۔ نمبر تین پر فرانسیسی زبان آتی ہے جو 51 ممالک میں، چوتھے نمبر پر چینی جو 33 ملکوں، پانچویں نمبر پر ہسپانوی 31 ملکوں اور اسی طرح چھٹے نمبر پر فارسی زبان آتی ہے جو 29 ملکوں میں بولی جاتی ہے۔

جب ہم مختلف ممالک کے ترقی یافتہ ہونے کی تاریخ پڑھتے ہیں تو یہی بات عیاں ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی اپنی قومی زبان کو اس کا جائز مقام دیا۔ اس کو اپنے ملک کے باشندوں کے لیے مادری زبان بنا دیا۔ روز مرہ کی بول چال، خط و کتابت، دفتری معاملات اور سرکاری تقریبات کے علاوہ ملک کی تمام مروجہ تعلیم کو قومی زبان میں ڈھال دیا۔ پھر اسی شاہراہ پر چل کر ملک ترقی کی سیڑھیاں طے کرتے چلے گئے اور ہماری بدنصیبی کہ ہم اپنی زبان کو نظرانداز کرتے گئے۔ حالانکہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے 1948ء کو ڈھاکہ میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بڑے واشگاف الفاظ میں اعلان فرمایا تھا جو ہماری قومی تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے۔ قائدؒ نے فرمایا ’’میں آپ کو صاف طور پر بتا دوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان صرف اردو ہو گی اور دوسری کوئی زبان سرکاری نہیں ہو گی اور اس سلسلے میں جو کوئی بھی آپ کو غلط راستے پر ڈالے وہ درحقیقت پاکستان کا دشمن ہے، ایک سرکاری زبان کے بغیر نہ تو کوئی قوم مضبوط بنیادوں پر متحد رہ سکتی ہے اور نہ ہی بحیثیت قوم اپنا کردار ادا کر سکتی ہے‘‘۔ اس کے چند روز بعد ڈھاکہ یونیورسٹی کے کانوکیشن میں قائداعظمؒ نے اس بات کو دہرایا مگر صد افسوس دونوں مواقع پر ان کے خلاف نعرے لگتے رہے کہ ہم اردو کو واحد سرکاری زبان تسلیم نہیں کرتے پھر بعد میں بنگالی زبان کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ہم بحیثیت قوم کتنے عجیب یا فیاض اور سخی لوگ ہیں۔ ہم نے مشرقی پاکستان کی بنگالی زبان کو قومی درجہ نہ دیا لیکن ان بنگالیوں کو ایک پورا ملک دے دیا۔ ہم نے اردو کو بچاتے بچاتے آدھا ملک گنوا دیا اس سے بڑی قربانی اور کیا دیں اب ہمیں اس کو سنجیدگی سے لینا ہو گا جیسا کہ 1973ء کے آئین میں بالکل واضح الفاظ میں لکھا ہے اردو کو ملک کی سرکاری اور دفتری زبان قرار دیا جائے گا۔ ملک کے تمام سرکاری اور نیم سرکاری محکموں اور اداروں میں انگریزی کی جگہ بتدریج اردو کو نافذ کیا جائے گا۔ اس کو رائج کرنے کے لیے 1988ء تک کا وقت دیا گیا۔ یہ پندرہ سال کی طویل مدت دی گئی تا کہ انگریزی کی اصطلاحات اور قوائد و ضوابط کو قومی زبان میں ڈھالا جا سکے۔ آئین کی شق 251کے تحت 1988 ء تک اردو زبان کو سرکاری اور دفتری زبان کا درجہ دیئے جانا چاہیے تھا مگر اب تقریباً 42 سال گزرنے والے ہیں صاحبو! اس حکم پر کیوں عمل درآمد نہیں ہوا؟ بالآخر ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ اس بات کا نوٹس لیا ہے۔ نتیجہ کیا نکلے گا آپ بہتر جانتے ہیں؟

یہ ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ قائد کا فرمان اور 1973ء کے آئین میں درج ہونے کے باوجود وفاقی سطح پر قومی زبان اردو کا نفاذ یا عدم نفاذ ایک نظریاتی مسئلہ ہے جس کا تسلسل قیام پاکستان بلکہ تحریک پاکستان سے لے کر آج تک جاری ہے۔ یہ بیورو کریسی کا دوغلا پن، منافقت یا قوم کے ساتھ ستم ظریفی ہے زبان کو قومی سطح پر نافذ نہ کیاجانا اور نفاذ کا وعدہ بھی مسلسل برقرار رکھا جاتا ہے۔ اردو زبان کا مسئلہ تحریک پاکستان سے چلا تھا۔ اسی لیے بابائے اردو مولوی عبدالحق نے فرمایا: ’’زبان اگرچہ مخلوق ہے، یعنی انسان کے عمل و سعی کا نتیجہ ہے، لیکن اس کے ساتھ وہ خالق بھی ہے، یعنی وہ خیالات کے پیدا کرنے اور سمجھانے میں مدد دیتی ہے، جن کے پاس زبان نہیں ہے، ان کے خیالات بھی محدود ہیں، اگر ہمیں اپنے تمدن اور تہذیب کو بچانا اور مضبوط کرنا ہے تو ہمیں اپنی زبان کو بچانا اور مضبوط کرنا لازم ہے‘‘۔

قارئین!! آئندہ کالم میں جو ہماری مادری زبانیں مثلاً پنجاب، پشتو، ہند کو، سندھی وغیرہ کے بارے میں بات کریں گے۔

Citation
Shahid Gul, “زبانیں اور ہماری زبان,” in Daily Nai Baat, July 24, 2015. Accessed on July 24, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86

Disclaimer
The item above written by Shahid Gul and published in Daily Nai Baat on July 24, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 24, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Shahid Gul:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s