ایک عرب جب اردو بولے

Follow Shabnaama via email
سعد اللہ شاہ

ڈاکٹر زبیر فاروق ایک عرب شاعر ہیں۔ ابھی کل کی بات لگتی ہے کہ غالباً1986ءمیں ان کے ساتھ لاہور میں ایک تقریب ہوئی تھی جس کی صدارت احمد ندیم قاسمی نے فرمائی تھی۔ مجھے اور تو کچھ یاد نہیں رہا مگر ایک شعر ضرور یاد داشت کا حصہ بن گیا:

دشمن دلیر ہوتا تو آتا مزہ مجھے
فاروق ڈر رہا ہوں کہ دشمن کی زد میں ہوں

خالد احمد اور میں ابو ظہبی گئے تو ڈاکٹر زبیر فاروق کے استاد شفیق سلیمی ہی کے پاس ٹھہرے۔ اس وقت وہ اپنے شاگرد مکرم یعنی ڈاکٹر زبیر فاروق کی غزلیں بنانے میں ہمہ تن مصروف تھے۔ غزل بنانا کوئی غلط بات نہیں کہ یہ غالب نے لکھا تھا کہ وہ آج کل بہادر شاہ ظفر کی غزلیں بنا رہے ہیں۔ ہم ڈاکٹر صاحب سے ملنے دبئی بھی گئے۔ وہ اپنے ڈینٹل کلینک پر موجود تھے وہ ہمیں بہت تپاک سے ملے۔ آج کل وہ لاہور آئے ہوئے ہیں۔ اُن کے پبلشر معروف شاعر اسلام عزمی نے ایک ڈنر ان کے اعزاز میں رکھا تو ہم بھی اس میں مدعو تھے۔ میں ہال میں پہنچا تو وہاں رونق لگی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کی نئی دلہن نوشین بھی ان کے پہلو میں بیٹھی تھی۔ اب میں اگر یہ لکھ دوں کہ ڈاکٹر صاحب64 کے ہوگئے ہیں تو آپ مجھے حسد کا طعنہ دیں گے مگر یہ اعلان وہاں کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی چوتھی بیوی کو چھوڑ کر پاکستان میں نوشین سے شادی کی اور چار کے ہندسے سے تجاوز نہیں کیا۔ ڈاکٹر صاحب کو اپنی ہونہار بیوی سے کچھ زیادہ ہی پیار ہے اور انہوں نے اپنے بچوں اور بیوی کی تصاویر بھی اپنی کتب کے فلیپ پر شائع کر رکھی ہیں۔

کثیر الازدواج ہونا عرب میں عام ہے۔ جس طرح ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ میاں بیوی گاڑی کے دو پہیے ہیں اور یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ کونسی گاڑی ہوتی ہے جس کے دو پہیے ہوتے ہیں۔ گاڑی کے چار پہیے ہوتے ہیں اس لئے عرب میں تو محاورے کے اعتبار سے پانچ پہیے بنتے ہیں۔ پانچواں پہیہ سٹپنی بھی تو ہوتا ہے۔ بہرحال ڈاکٹر صاحب بہت فخریہ انداز میں اپنی بیگم کے ساتھ بیٹھے بار بار اُس کے کان میں سرگوشیاں کررہے تھے۔ خالد شریف میرے ساتھ بیٹھے مجھے کہہ رہے تھے ”یار سعد! ہم نے ہندوو¿ں سے بری بات ہی لی ہے وگرنہ ہماری اصل ثقافت تو عربوںکے ساتھ منسلک ہونی چاہئے تھی۔ کبھی دوسری شادی کا خیال بھی آجائے تو سب سے پہلے اولاد سامنے آن کھڑی ہوتی ہے۔ میں اُن کی اذیت کو سمجھ رہا تھا تاہم میں نے اُن کی تائید کی کہ بات اُن کی ٹھیک تھی۔ خیر یہ بات برسبیل تذکرہ آگئی۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو حج کے دوران چوٹ آگئی تھی اور وہ لنگڑا کر چلنے لگے تھے مگر انہوں نے چار کا ہندسہ پورا رکھا۔ ڈاکٹر صاحب کا45واں شعری ”مجموعہ کرچیاں“ چھپا ہے۔ اصل میں ڈاکٹر صاحب کی شاعری کی اشاعت کے لئے باقاعدہ کمیٹی بیٹھتی ہے‘ شاعری کی درستی کے لئے شفیق سلیمی ہیں‘ دیباچے اسلام عزمی لکھتے ہیں اور پھر یہ اشاعتی ہاتھوں میں چلی جاتی ہے۔

ڈاکٹر صاحب کا تعلق عرب دنیا کے متمول خاندان سے ہے۔ سنا ہے سب سے پہلی کار انہی کے خاندان میں سے کسی نے خریدی تھی۔ ان کے خاندان کا عمل دخل حکومت میں بھی رہا۔ سنا ہے بھارت میں ان کی پذیرائی بہت ہوتی ہے۔ وہ انگریزی‘ عربی اور اُردو میں شاعری کرتے ہیں۔ انہوں نے انگریزی زبان میں بھی اشعار سنائے اور چونکہ یہ میرا سبجیکٹ ہے تو میں نے اُن کی معصومیت کا لطف اٹھایا۔ انہیں سب سے زیادہ داد انگریزی شاعری پر ملی کہ وہاں سب اردو دان بیٹھے ہوئے تھے۔ میں کہا کرتا ہوں کہ انگریزی زبان کے اُستاد کو یہ ایج حاصل ہے کہ وہ جو مرضی پڑھا جائے۔ ڈاکٹر صاحب گلوکار بھی ہیں اور انہوں نے درباری راگ انگریزی میں بھی استعمال کرکے دکھایا اور کچھ ہو نہ ہو ان میں اعتماد بلا کا ہے۔ اگرڈاکٹر صاحب شفیق سلیمی کی طرح میوزک میں بھی کوئی استاد رکھ لیتے تو بہت ہی اچھا ہوتا اور اسلام عزمی سا کوئی پروپرائیٹر بھی۔

ہمارے لئے سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ تھی کہ اُن کی وجہ سے اردو کی ترویج ہو رہی تھی کہ ایک عرب شاعر اردو میں گفتگو کر رہا تھا۔ ان کا لہجہ عربی تھا اور یہی ان کی اردو کی خوبصورتی تھی جیسے مصطفی قریشی کی پنجابی میں ان کے سندھی لہجہ کی خوبصورتی ہے۔ جب انہوں نے غزل پڑھی کہ:

ایک عرب جب اردو بولے
جنگل جھومیں صحرا مہکے

تو انہیں بہت داد ملی۔ میں نے سوچا یہاں عزیز ظفر آزاد اور قمر فاطمہ کو ہونا چاہئے تھا کہ وہ اردو کو لاگو کروانے میں سرگرم عمل ہیں۔ بعض چھوٹی بحروں کی غزلوں میں ڈاکٹر صاحب نے اچھے شعر نکالے ہیں۔ ایک شعر مجھے اچھا لگا:

ہم تو یوں بھی تیرے ہیں
ہم پہ جادو ٹونا کیا

جب سے انہوں نے پاکستان کی نوشین سے شادی کی ہے انہیں ہماری ثقافت کا بھی علم ہونے لگا ہے۔ مگر شادی میں تو جادو ڈاکٹر صاحب کا چلا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ڈاکٹر صاحب صرف سنجیدہ ہی نہیں ان کے ہاں مزاح کا رنگ بھی خوب ہے۔ اس حوالے سے ان کا ایک مزاحیہ شعر یاد آیا۔ ہو سکتا ہے شعر سنجیدہ کاوش ہو مگر بات چھپانے کے لئے اسے مزاحیہ کہہ دیا:

اس بار اک عجب سا لاحق ہے مسئلہ
ہر بار اس کا باپ اٹھاتا ہے ٹیلی فون

اس تقریب کی نظامت ظہیر بدر نے کی کہ وہ ڈاکٹر صاحب کے بے تکلف دوست ہیں۔ نجیب احمد‘ عمران منظور اور شاید شیدائی سٹیج پر تھے۔

خوشی کی بات ہے کہ ہماری اردو پھیل رہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کسی اور عربی شاعر کا بھی بتا رہے تھے کہ وہ بھی اردو اشعار کہتا ہے۔ ویسے ڈاکٹر صاحب کو عربی شاعری کے تراجم ضرور کرنے چاہئیں کہ اُن کی اپنی شاعری تو آنے والی نسلوں کے لئے بھی کافی ہے۔ وہ عربی کی نثر بھی اردو میں منتقل کر سکتے ہیں یقینا اِس حوالے سے اُن کا نام زندہ رہے گا مگر وہ اپنی بیوی کی سنگت میں میوزک کی طرف جھکاﺅ رکھتے ہیں۔ اپنی غزل کی دھن بھی خود بناتے ہیں کیونکہ یہ دھن کوئی اور بنا بھی نہیں سکتا۔ ڈاکٹر صاحب کی اس قدر بھرپور زندگی پر رشک آتا ہے۔ ڈاکٹر زبیر فاروق کے حوالے سے حسن عباسی‘ افتخار مجاز‘ سرفراز سید اور شفیق سلیمی نے بھی گفتگو کی۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ وہ جو کچھ بھی ہیں شفیق سلیمی کے باعث ہیں دوسری طرف اپنے روزگار کا سبب بھی ڈاکٹر صاحب ہی کو بتایا۔ نئی بات سے مقصود گوہر بھی تشریف فرما تھے زاہد مسعود پوری تقریب میں مسکراتے رہے اور اعجاز کنور راجا بھی رونق افروز تھے سب دوستوں کے نام لکھنا ممکن نہیں خواتین میں تین چار تھیں رخشندہ نوید اور عمرانہ مشتاق مانی۔ اصل بات یہ کہ پاکستانی ادیبوں نے اپنے عرب مہمان شاعر کی خوب پذیرائی کی۔ نجیب احمد کا خطبہ¿ صدارت بہت محدود تھا انہیں معلوم تھا کہ بوفے تیار ہے۔ بہت اچھا کھانا بہت وافر تھا۔ ڈاکٹر صاحب میرے کالم کو عربی میں منتقل کرکے عرب کے اخبار میں شائع کروا دیں تو ہماری بات ان کے ہم وطنوں تک بھی پہنچ جائے۔

Citation
Saadullah Shah, “ایک عرب جب اردو بولے,” in Daily Nai Baat, July 24, 2015. Accessed on July 24, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B9%D8%B1%D8%A8-%D8%AC%D8%A8-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%92

Disclaimer
The item above written by Saadullah Shah and published in Daily Nai Baat on July 24, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 24, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Saadullah Shah:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s