اربابِ معنی اور اصحابِ اُسلوب

Follow Shabnaama via email
جمیل احمد عدیل

یہ سچ ہے مانی ہوئی باتوں کو منوانے کے کوئی معانی نہیں ہوا کرتے یعنی لٹریچر سمجھے سمجھائے اصولوں اور زندگی کی طے شدہ حقیقتوں ہی کو پیش کر دینے کانام نہیں بلکہ ان صداقتوں کی نفی کیے بغیر انہیں ایک نئے زاویے سے بھی دیکھا اور دکھایا جا سکتا ہے۔مجید امجد نے کہا تھا:

کنجِ دوراں کو نئے اِک زاویے سے دیکھیے
جن خلاؤں میں نرالے چاند گھومیں،گھومیے

موجودات کی عملی تقلیب سماجی تشتت و انتشار پر منتج ہو سکتی ہے لیکن متصورہ منظر نامے کو ادب اگر تاز ہ کاری کے ساتھ پیش کر دے تو کہیں فسادات نہیں پھوٹ پڑیں گے۔ویسے زیست کیا Staticہے؟یا Dynamic؟صدائے کن فیکون کا عمل کیا اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تھم گیا ہے؟فکری انجماد افراد کو روبوٹس میں تو تبدیل نہیں کر رہا ؟باطن کی پیچیدگیوں کی متعدد دنیائیں کیا ہنوز نا معلوم نہیں ہیں؟لایخل عقدے(Gordian Knots)دعوتِ افکار دینے سے کیا باز آ گئے ہیں؟۔۔۔؟ ایسے ہی ان گنت سوالات کے ککرمتے دماغ میں پھوٹتے نہیں رہتے؟ یہی پیہم تفحص علمی ادبی موضوعات میں ڈھلتا ہے۔بعض اوقات نتائج فکر اس درجہ مختلف صورت میں مرتب ہو جاتے ہیں کہ انہیں سن/پڑھ کرروایتی پیشوا گمرہی!گمرہی! پکار اٹھے۔۔۔ممکن ہے اپنے ذہنی احوال کے حوالے سے اپنے تئیں وہ نعرہ زنی میں حق بجانب ہی ہو کہ اس نوعیت کے جملہ حقوق اس کے پاس قرنوں سے محفوظ چلے آ رہے ہیں۔لیکن اس سچ کی نفی بہت مشکل ہے کہ تخلیق کے لمحے میں ایک Liberatedذہن زیادہ متحرک ہو جاتا ہے۔حقیقت چوں کہ یک رخی اور جہتِ واحد پر مشتمل نہیں ہوتی اس لیے دوسرے چولے تک آتے آتے بعض اوقات وہ اپنا اینگل بدل لیتی ہے اور کبھی کبھی تو یکسر معکوس ہو جاتی ہے۔ان مِل،بے جوڑ اور Repugnantاجزا کو جب اکائیوں میں پرو دیا جاتا ہے تو ایسے نقوش مرتب ہو جاتے ہیں جو نامانوس تو ہوتے ہیں لیکن نئی ا طراف اور نئی ابعاد کی نسبتوں سے نئے در وا ہو جاتے ہیں۔
صاحبو! یہاں تک تو قصہ ہوا فکر و نظر کا،ہمارا Conservativeاگر لکیر کی فقیری چھوڑ دے گا تو یہ مانا وہ دلی میں رہ لے گا پر کھائے گا کیا؟چناں چہ پیش پا افتادگی سے وابستگی سے اس کا رزق جڑا ہوا ہے۔ ادھر تو اسلوب میں تغیر بھی برداشت نہیں کیا جاتا۔ہر پُر شوکت ترکیب کے استعمال پر پابندی ہے۔ہر شان دار لفظ ممنوع قرار پا گیا ہے۔ویسے جب مفاہیم کی گہرائی جرم سمجھی جائے گی،خیال کی نزاکت گناہ سے بریکٹ ہو گی،تفکرو تدبر حرام ڈکلیئر ہو جائیں گے،تخلیقی عمل کی تہہ داریاں اور علامتی اکناف کے رموز ناقابل معافی کی حدود میں شامل ہو جائیں گے تو زبان کی نئی ساخت اپنے آپ مسترد ہونے لگے گی۔آپ دیکھتے ہیں نا! جہاں Modeبدل جاتا ہے وہاں آناً فاناً ہمارا moodبھی بدل جاتا ہے۔عدم ابلاغ کا الزام ہی تو عدم دماغ کے طعن سے بچاتا ہے۔اب کیا Shareکیا جائے ابہام کی جمال آفرینیوں سے لطف اندوزی کی استعداد کیا مزیدار چیز ہے! دراصل سرمستیوں کے اپنے نظام اور اپنے تقاضے ہوا کرتے ہیں۔عہد موجود میں بیان کی رعنائی بیانیے سے منہا ہو گئی ہے۔اب جملہ لذتوں سے معمور نہیں رہا۔مسائل چاہے الہٰیات کے جہان سے تعلق رکھتے ہوں،معاملات کا واسطہ چاہے سیاسیات اور معاشیات سے منسلک ہو،صاحبِ اُسلوب ہی تحریر میں جان ڈالتا ہے۔اگر اجازت دی جائے تو یہ سچ بھی زبان پر لایا جا سکتا ہے کہ آئیڈیالوجی اپنی ذات میں ایک ’میٹریل‘ ہے۔ اس سے استفادہ ایک خالص اکتسابی عمل ہے۔ Speculation سے اخذ کے جادے ہموار ہونے لگتے ہیں۔ایسے ایسے مجذوب فرہنگی ہوئے ہیں کہ انہوں نے لغات کی مدد سے معلوم کر لیا متامِ کبریا کیا ہے(معاذ اللہ)! کیسے؟ کسی بھی نظریے پر مشتمل متن غور کرنے والے کے دامن میں کچھ نہ کچھ ضرور ڈال دیتا ہے۔آپ جائزہ لیجیے! ہمارے گردو پیش میں ان گنت شارحین فعال ہیں،الہامی کتب سے لے کر،کلاسیکی شعراء کے دوا وین کی تفسیریں،شرحیں ضخیم جلدوں میں لکھ ڈالیں۔لیکن مغز سے گریزاں رہے،قشِرکی پوجا کرتے رہے۔اب سکرین کی سلطنت کے وہ سلطان ہیں۔اپنے فرمودات کو حر فِ آخر گردانتے نہیں تھکتے۔

چلیے یہ تو نقطہ نظر پر مصر ہونے/رہنے کا حق ہوا، سوال یہ ہے ان میں سے کتنے ہیں جو قادر الکلام ہیں؟کلام پر قدرت اگر سیکھنے والی شے ہوتی تو ممکن ہے وہ یہ چمتکار بھی دکھا ڈالتے۔ہمیں تو یوں محسوس ہوتاہے، اسلوب ایک وہبی ملکہ ہے۔کارلائل نے کہا تھا:

Man is only half himself, the other half is his expression
لباس وہی ہوتا ہے کسی پہ سج جاتا ہے، کسی پہ بھلا لگتا ہے۔ایک Mysteryسی ہے اُسلوب!کہیں ذہانت اور ذکاوت کے تال میل سے وجود پذیر ہونے والی غیر مرئی سٹیٹ سے اس کا اکھوا پھوٹتا ہے۔نتیجتاً ایسا شعر یا فقرہ ترتیب پا جاتا ہے کہ اس کے بطن میں وزڈم کا خزینہ ہی نہیں ہوتا، بیان کا ہوشر باطلسم بھی اپنا آپ منوا لیتا ہے۔ان نابغوں کے عقب میں ڈکشنری کی کمک ہی متحرک نہیں ہوتی تخلیقیت کی غیر معمولی جادو نگری بھی اپنا کرشمہ دکھا رہی ہوتی ہے۔

غیر الہامی کتابوں میں حضرت علیؓ کی ’لہنج البلاغہ‘ اس سلسلے کی سب سے خوب صورت مثال ہے۔مولانا رومؒ کی مثنوی کا سحر قیامت تک موجود رہے گا۔شیخ فریدالدین عطارؒ کی منطق الطیر، آج بھی مسحور کر کے رکھ دیتی ہے۔یہ ارباب معنی اپنی جگہ، آج سے جڑے دور کے نمائندگان میں مولانا محمد حسین آزادؒ اور ابو الکلام آزادؒ اعجاز سے کیا کم ہیں!علامہ عنایت اللہ مشرقیؒ کی ’تذکرہ‘ ،پڑھیے! نقش حیرت بن جائیں گے! وشو کو سینے یا پڑھیے ایک بار تو چکرا کے رکھ دیتا ہے۔خالد احمد کی ’’تشبیب‘‘ میں شکوہ انگیز شعریت بے نظیر ہے۔اختر حسین جعفری کی ’’آئینہ خانہ‘‘ مثال کے تعاقب میں دیوانہ کر دیتی ہے۔واصف علی واصفؒ ایسا معجز بیان نثار! یا خدا! کیا طلسمات تھا وہ شخص!!!

فیصل آباد میں مقیم علامہ ضیا حسین اپنے آپ میں منہک ایسی دلکش نثر لکھ رہے ہیں کہ قاری ششدر رہ جاتا ہے۔اور اپنے حافظ شفیق الرحمن! صحافت کے ریگ زار میں ایسے مزین نخلستان کی مانند ہیں کہ ان کی تحریر کا شاداب اُسلوب تعطر کے تجربے کو وجود میں ترازو کر دیتا ہے۔

Citation
Jamil Ahmad Adil, “اربابِ معنی اور اصحابِ اُسلوب,” in Daily Nai Baat, July 23, 2015. Accessed on July 23, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%A8%D9%90-%D9%85%D8%B9%D9%86%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B5%D8%AD%D8%A7%D8%A8%D9%90-%D8%A7%D9%8F%D8%B3%D9%84%D9%88%D8%A8

Disclaimer
The item above written by Jamil Ahmad Adil and published in Daily Nai Baat on July 23, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 23, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Jamil Ahmad Adil:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s