اُردو کیس :سرکاری سطح پر ترویج کیلئے سپریم کورٹ کو خود بھی قومی زبان اپنانا چاہیے

Follow Shabnaama via email
سعید چودھری

اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں آج22جولائی کو ایک مرتبہ پھر سماعت ہورہی ہے ۔گزشتہ تاریخ سماعت پر اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کے حوالے سے وفاقی حکومت کی طرف سے قلیل المدتی اقدامات کی رپورٹ پیش کی گئی اور عدالت کو بتایا گیا کہ تمام سرکاری اداروں کو ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں اور قواعد و ضوابط کا3ماہ کے اندر اردو زبان میں ترجمہ کریں اور یہ کہ سرکاری اور نیم سرکاری ادارے قوم کو انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی اطلاعات فراہم کریں گے ۔علاوہ ازیں سرکاری تقریبات میں وزیراعظم اور صدر مملکت خطاب بھی اردو زبان میں فرمائیں گے ۔

آئین کے آرٹیکل 251میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو کو 15سال کے اندر اندر سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کے لئے انتظامات کئے جائیں گے ۔پاکستان کا دستور 1973سے نافذالعمل ہے ۔اس بات کو 4سے زیادہ دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن اردو کو سرکاری زبان کا درجہ نہیں مل سکا حتی ٰ کہ آئین کے آرٹیکل255پر بھی اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا جارہا ،اس آرٹیکل کے تحت کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت اگر کسی سے حلف لینا درکار ہو تو وہ ترجیحاً اردو زبان میں لیا جائے گا اس آرٹیکل میں یہ ترمیم 1985میں کی گئی تھی لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ انگریزی زبان میں حلف اٹھانے کی روایت پوری شدومد کے ساتھ موجود ہے ۔جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں عدلیہ کو اپنی کارروائی اردو زبان میں چلانے اور فیصلے جاری کرنے کی اجازت بھی دی گئی ۔وفاقی شرعی عدالت سمیت اعلیٰ عدالتوں نے گنتی کے چند فیصلے اردو زبان میں جاری بھی کئے ،تاہم یہ راویت پنپ نہ سکی ۔اردو زبان کو رائج کرنے کے مقدمہ کی سماعت کرنے والا بنچ مذکورہ آئینی آرٹیکل کی بنیاد پراردو زبان کے حق میں متعدد ریمارکس دے چکا ہے اس کے باوجود اردو زبان میں عدالتی فیصلے نہیں لکھے جارہے ۔سپریم کورٹ نے چند ایک فیصلے اردو ماہیت کے ساتھ جاری کئے ہیں تاہم ان کی عبارت سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ فیصلے اردو زبان میں نہیں لکھے گئے بلکہ پہلے انگریزی زبان میں تحریر کروائے گئے پھر ان کا اردو میں ترجمہ کیا گیا ،یہی وجہ ہے کہ ان فیصلوں کے تراجم اغلاط سے بھرپور ہیں اور ان میں عدالتی حکم کی نوعیت ہی تبدیل کردی گئی ہے ،امرلازم کو امراختیاری میں تبدیل کردیا گیا ہے اور ترجمہ میں حکم کی روح کو مسخ کیا گیا ہے ،خدشہ ہے کہ حکومت کی طرف سے 3ماہ کے دوران سرکاری حکمت عملی اور قواعد وضوابط کے جو تراجم شائع ہونے جارہے ہیں ان میں بھی ایسی ہی غلطیاں ہوں گی اور عوام اصل مفہوم جاننے کے لئے انگریزی دستاویزات سے رجوع کرنے پرمجبور ہوں گے ۔

سپریم کورٹ نے ایئر مارشل (ر) محمد اصغر خان کیس میں اپنے مختصر فیصلے کا اردو ترجمہ بھی جاری کیا تھا ،اردو ترجمے میں امر لازم کو کس طرح امر اختیاری میں تبدیل کیا گیا اس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں ۔عدالت کی طرف سے قرار دیئے گئے نکتہ نمبر12کے اردو ماہیت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ “ایوان صدر میں یا آئی ایس آئی میں یا ملٹری انٹیلی جنس میں یا ان کے ماتحت قائم کردہ انتخابی سیل کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔نکتہ نمبر 13میں کہا گیا کہ “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا باوجود یکہ کہ ان میں سے بعض افراد اب ملازمت سے ریٹائرہوچکے ہیں ،وفاقی حکومت کو ان کے خلاف قانون اور آئین کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے “۔اسی طرح نکتہ نمبر14کے ترجمہ میں کہا گیا کہ “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر خاطر خواہ شواہد مہیا ہوں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ بھی چلایا جائے ۔یونس حبیب کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہونا چاہیے “۔نکتہ نمبر15کے اردو ترجمہ کے مطابق ،”اوپر بیان کئے گئے افرادکے خلاف وصول کردہ رقم کی واپسی کے لئے قانون کے مطابق دیوانی کارروائی بھی کی جانی چاہیے “۔فیصلے کے آخری نکتہ کا ترجمہ اس طرح جاری کیا گیا ہے ،”ملٹری انٹیلی جنس کے اکاؤنٹ نمبر313بنام سروے اینڈ کنسٹرکشن گروپ کراچی میںآٹھ کروڑ روپے کی رقم مبینہ طور پر جمع کروائی گئی تھی ۔اگر ابھی تک حبیب بینک لمیٹیڈ کو یہ رقم واپس نہیں ہوئی تو یہ رقم منافع کے ساتھ حبیب بینک لمیٹیڈ کو واپس کی جانی چاہیے ۔بصور ت دیگر حکومت پاکستان کے خزانے میں جمع کی جانی چاہیے “۔سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کئے گئے اس فیصلے کے اردو ترجمہ میں “چاہیے”کا لفظ Shall beکے متبادل کے طور پراستعمال کیا گیا ہے جو کہ درست نہیں ۔”چاہیے”کا لفظ تجویز ،مشورہ یا پھر ایسی تکریمی نصیحت میں استعمال ہوتا ہے جس کا مقصد مخاطب فرد کو پابند بنانا نہیں ہوتاجبکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ایسا حکم ہوتا ہے جس پر عمل درآمد کرنا لازمی ہے اور انگریزی زبان میں جاری عدالتی فیصلے میں یہی حکمیہ زبان استعمال کی گئی ہے ۔اصغر خان کیس کے انگریزی زبان میں جاری کئے گئے عدالتی فیصلے کے مذکورہ نکات میں
Any election cell / political cell in presidency………………shall be abolished.Government shall take necessary steps. They shall be sent up to face the trial, according to law.
جیسے احکامات صادر کئے گئے ہیں ۔جس جگہ Shall beکے الفاظ استعمال کئے جائیں اس کا مطلب ہے کہ وہ امر لازم ہے جس کا اردو ترجمہ “چاہیے”کسی طور بھی درست نہیں بلکہ اردو ترجمہ کرتے وقت ان جملوں کو حکم کے انداز میں لیا جانا چاہیے جیسا کہ حکومت کو ضروری اقدامات کرنا ہوں گے ،انہیں بھی قانون کے مطابق مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا وغیرہ وغیرہ ۔اردو ترجمہ میں Shall beکے متبادل کے طور پر حکمیہ انداز میں “کریں “یا “کئے جائیں “کے الفاظ بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سپریم کورٹ خود بھی اردو زبان پر دست شفقت رکھے اور فیصلوں کے تراجم کی بجائے انہیں اردو زبان میں تحریر کروایا جائے تو وہ زیادہ موثر اوربہترابلاغ کے حامل ہوں گے ۔

Citation
Saeed Chaudhry, “اُردو کیس :سرکاری سطح پر ترویج کیلئے سپریم کورٹ کو خود بھی قومی زبان اپنانا چاہیے,” in Daily Pakistan, July 22, 2015. Accessed on July 22, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/tajziya/22-Jul-2015/247609

Disclaimer
The item above written by Saeed Chaudhry and published in Daily Pakistan on July 22, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 22, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Saeed Chaudhry:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s