قومی زبان ۔ وزیر اعظم کا حکم سمت نما

Follow Shabnaama via email
عزیز ظفر آزاد

10جولائی 2015عدالت عظمیٰ اسلام آباد میں نفاذ اردو کی درخواست پر سماعت کا حوصلہ افزا دن تھا ۔قومی زبان تحریک کے وفد نے کارروائی میں شرکت کی ۔تین ججوں پر مشتمل بنچ جس کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ ان کے ہمراہ جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس علی باقر شامل تھے نفاذ اردو کی سماعت سے قبل اٹک سے تعلق رکھنے والے ایک استاد پروفیسر عشرت رشید کیس کی سماعت دیکھی گئی جس میں محترمہ پروفیسر پر پانی کی موٹر چوری کرنے کا الزام تھا ۔اینٹی کرپشن کے عملہ نے بتایا کہ خاتون ایک کیس کی ڈیڑھ سال سے تفتیش ہورہی ہے ۔ یاد رہے کہ یہ مقدمہ بدنام زمانہ عادی مقدمے باز طاہر جاوید اعوان نے درج کرایا ہے جسے غلط ایف آئی آر درج کرانے کے جرم میں پہلی بھی سزا ہو چکی ہے ۔دوران سماعت فاضل عدالت نے محترمہ پروفیسر کے ساتھ بڑے احترام و اکرام کا رویہ اختیار کرکے استاد کا مقام دیا ۔ اینٹی کرپشن کے ڈائریکٹر انسپکٹر سے سخت سوال کرتے ہوئے دونوں کو معطل کرنے کا حکم صادر فرمایا ۔ راقم کو عدالتوں میں پیش ہونے کا کئی بار موقع ملا مگر عدالت عظمیٰ کے محترمہ عشرت رشید کی بے گناہی اور اینٹی کرپشن کی سفاکانہ زیادتی پر سخت رویہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ہمارے عدالتی نظام میں کیسے حوصلہ مند خداترس منصف حضرات ہیں ۔ بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ کو بلاشبہ قرون اولیٰ کے قاضی القضاۃ محسوس ہوتے ہیں ۔ ان کے سامنے ایک عام بدو اور خلیفہ کی حیثیت یکساں معلوم ہوتی ہے ۔خدا ہماری عدلیہ کو ان عظیم حضرات کی پیروی اور تقلید کی توفیق عطا فرمائے ۔ یقین کیجئے کہ ایمان تازہ ہوگیا ۔ جس مقصد کے لئے ہم عدالت عظمیٰ گئے تھے اس سلسلے میں بغیر کسی بحث و تمحیص کے افواج پاکستان کے نمائندے نے وزیر اعظم کی جانب سے وفاقی محکمہ جات کو بسلسلہ نفاذ اردو 6جولائی کاایک انتظامی حکم نامہ عدالت کے حضور پیش کیا جس پر عدالت نے آئندہ تاریخ22جولائی مقرر کی ۔

وزیر اعظم کی جانب سے دس نکاتی جاری شدہ حکم نامہ کے مطابق لائحہ عمل فوری قلیل مدتی اقدامات پر مشتمل ہے(۱) وفاق کے زیر انتظام کام کرنے والے تمام ادارے( سرکاری نیم سرکاری )اپنی پالیسیوں کا تین ماہ کے اندر اردوترجمہ شائع کریں گے ۔(۲) تمام قوانین کا اردو ترجمہ تین ماہ میں شائع کریں گے ۔ (۳) ہر طرح کے فارم تین ماہ میں انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی فراہم کریں گے ۔(۴) تمام عوامی اہمیت کی جگہوں مثلا عدالتوں ، تھانوں ، ہسپتالوں ، پارکوں ، تعلیمی اداروں ، بینکوں وغیرہ میں رہنمائی کے لئے انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی بورڈ تین ماہ کے اندر آویزاں کئے جائیں گے ۔ (۵) پاسپورٹ آفس ، محکمہ انکم ٹیکس ، اے جی پی آر ، آڈیٹر جنرل آف پاکستان ، واپڈا ، سوئی گیس ،الیکشن کمیشن آف پاکستان ، ڈرائیونگ لائسنس ، یوٹیلٹی بلوں سمیت تمام دستاویزات تین ماہ میں اردو میں فراہم کریں ۔پاسپورٹ کے تمام اندراجات انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی منتقل کریں ۔(۶) تمام وفاقی ادارے اپنی ویب سائٹس تین ماہ کے اندر اندر اردو میں منتقل کریں ۔(۷) پورے ملک میں چھوٹی بڑی شاہراہوں کے کناروں پر رہنمائی کی غرض سے نصب سائن بورڈ تین ماہ کے اندر انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی نصب کریں ۔ (۸) تمام سرکاری تقریبات استقبالیوں کی کاروائی مرحلہ وار تین ماہ کے اندر اردو میں شروع کی جائیں ۔(۹) صدر مملکت ، وزیر اعظم اور تمام وفاقی وزراء سرکاری نمائندے اور افسران ملک کے اندر اور باہر اردو میں تقاریر کریں اور اس کام کا مرحلہ وار تین ماہ کے اندر آغاز کر دیا جائے ۔(۱۰) اردو کے نفاذ اور ترویج کے سلسلے میں ادارہ فروغ قومی زبان کو مرکزی حیثیت دی جائے تاکہ اس قومی مقصد کی بجا آوری کے راستے کی تمام رکاوٹوں کو موثر طریقے سے جلد سے جلد دور کیا جاسکے ۔ عدالت کی کاروائی سننے کے بعد باہر آکر موبائل آن کئے تو دیکھ کر حیرت ہوئی کہ بے شمار پیغامات اور فون کالز آنے لگیں ۔ ملک بھر سے مبارک سلامت کے پیغامات موصول ہوئے ۔ ہم حیران تھے کہ عدالت میں کیمرے تھے نہ کارروائی کو نوٹ کرتے کسی کو پایا پھر عوام تک یہ خبر یں کیسے پہنچیں ؟ اگلے روز تمام قومی اخبارات نے اپنے اداریے میں بڑا مثبت ردعمل شائع کیا ۔صرف نوائے وقت اور دی نیشن کی رائے مختلف تھی۔ سربراہان مملکت کی بیرون ملک دوروں کے دوران اردو میں خطاب لازم ہونے پر اعتراض تھا جو کہ نوائے وقت کے قارئین کے لئے خاصا حیرت انگیزتھا جس کا اظہار مختلف طرزپر کیا گیا کیونکہ نوائے وقت قومی وقار اور تشخص کا ترجمان ہی نہیں بلکہ سابقہ ستر سال سے پاسبان اورپرچم بردار بھی رہا ہے ۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی جتنی حفاظت فکر نظامی اور درس نظامی نے کی ہے کسی اور نے نہیں کی۔نوائے وقت میں اپنے موقف سے اعتراض کرنے والوں کیلئے اخبار میں جگہ مخصوص کرکے اپنی عظیم روایات کو قائم رکھا ۔10جولائی کے بعد سے آج تک ہر روز دو چارکالم نفاذ اردو کی حمایت میںچھپ رہے ہیں۔ ہر محفل میں لوگ اٹھ کر مبارکباد دیتے ہیں ۔ عوام الناس کی خوشی دیدنی ہے ۔ وزیر اعظم کے موجودہ اقدامات سے نفاذ اردو کا مسئلہ حل نہیں ہوا مگرملک میں مجوزہ اقدامات ایک سمت نما کی حیثیت ضروررکھتے ہیں ۔اب 22جولائی کو عدالت عظمیٰ کے ردعمل پر انحصار ہے کہ وہ ان ناکافی اقدامات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ۔قومی زبان تحریک کا نفاذ اردو کا مطالبہ دراصل بحالی آئین کا مطالبہ ہے ۔ خدارا صاحب اختیار اور صاحب اقتدار آئین پاکستان کی شق 251پر عمل درآمد کرنے کیلئے میدان عمل میں آئیں تاکہ روز قیامت اپنے خدا اور بانیان پاکستان کے سامنے سرخرو ہو سکیں ۔ اگر ہم نے ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ ایک باوقار قوم کی حیثیت سے کھڑا ہونا ہے تو ہم کو اپنے قومی تشخص اور زبان کو عزت و تکریم دینی ہوگی رب کعبہ سے دعا ہے ۔ اے رب جلیل جسٹس جواد ایس خواجہ اور ان جیسے صاحب اختیار قومی فکر سے سرشار فرزندان ملت کو عمر خضر کے ساتھ قوت عصائے موسوی عطا فرما ۔آمین

Citation
Aziz Zafar Azad, “قومی زبان ۔ وزیر اعظم کا حکم سمت نما,” in Nawaiwaqt, July 22, 2015. Accessed on July 22, 2015, at: http://www.nawaiwaqt.com.pk/mazamine/22-Jul-2015/402002

Disclaimer
The item above written by Aziz Zafar Azad and published in Nawaiwaqt on July 22, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 22, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Aziz Zafar Azad:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s