فلسفیانہ فکر و دانش کے ایران کا مطالعہ

Follow Shabnaama via email
محی الدین بن احمد الدین

آج کی نشست میں چند کتابوں کا ذکر جن کی رفاقت میں ہم چند ماہ رہتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ماضی بعید کا ہو یا آج کا یہ ہم تک اپنا فکری و سیاسی ماضی بعید اکثر پیش کرتا رہتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اہم خطہ ایران اور خراساں کا بھی رہا ہے۔ بیت المقدس‘ یروشلم اور فلسطین ویمن بھی بہت دلچسپی تاریخی مدوجز کا ماضی رکھتے ہیں۔ موجودہ ایران ایک بار پھر دنیا میں زیر بحث ہے جس طرح 1979ءمیں انقلاب کے بعد ارتعاش پیدا کرتا دکھائی دیتا تھا۔ ایران اور اسکی عظمت کی اصل کہانی کیا ہے؟ اس بات کو مختلف کتب اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ مثلاً نوید احمد ربانی کی تالیف ”حیات ذوالقرنین اور یاجوج ماجوج“ 490 صفحات کی یہ کتاب عظمت ایران کی بانی سائرس‘ کیقباد اور دارا کو بھی زیر بحث لاتی ہے کیا سائرس ہی وہ صالح حکمران ہے جس نے بخت نصر کے غلام بنائے گئے یہودیوں کو آزادی دی اور یروشلم کو آباد کیا اور ہیکل سلیمان کی تعمیر بھی کی؟ حضرت خضرؑ انکے وزیر تھے جبکہ کیقباد کے وزیر دانیالؑ نبی تھے۔ کتاب میں بحث ہے کہ کیا ذوالقرنین جو سورة الکہف میں اہم ترین موضوع ہے اور جس نے دو پہاڑوں کے درمیان لوہے اور تانبے کی دیوار تعمیر کرکے یاجوج ماجوج کی یلغار‘ قتل و غارت گری کا راستہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا تھا سائرس ہی ہے؟ قدیم اور جدید مورخین‘ مفسرین اور دانشوروں کی آراءاس کتاب میں جمع ہیں۔ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ زرتشت جو توحیدی دین تھا اس کا سرپرست سائرس ہی تھا اور پھر مجوس جو عملاً زرتشت کے مخالف فکر کا نام ہے کس طرح زرتشت کو مجوسی غیر توحیدی نظریات کا لباس پہنانے میں کامیاب ہوئے۔ یہ عہد حضرت عیسیٰؑ سے کئی صدیاں پہلے کا ہے۔ اس عہد میں ایرانی سلطنت کی حدود بحرخزر (کیسپین سمندر) سے بحر اسود‘ خراسان‘ سندھ‘ عراق‘ شام‘ مصر‘ یمن تک وسیع تھیں۔ سائرس اس عظمت کا بانی‘ کیقباد فروغ دیتا اور دارا اس کو پرشکوہ بناتا ہے جبکہ یہی عظمت ایران رومی عظمت کے سامنے بھی سینہ تانے کھڑی ہے۔ یہ ہے وہ عظمت ایران جس کے خمار میں ایرانی شعراءادباءاور قصہ گو بدمست رہتے ہیں۔ رضا شاہ پہلوی ہو یا موجودہ شیعہ علماءکا انقلابی وجود یہ سب اسی ماضی بعید کے عظمت غرور کا مظہر ہیں۔ اسی ایران میں بعدازاں زوال بھی آیا اور پھر یہی ایران مختصر ہوا اور حضرت عمرؓ کے عہد میں مسلمان ریاست مدینہ کے ہاتھوں مفتوح ہیں۔ بظاہر سرزمین مفتوح ہوئی مگر شناخت نے اپنی روایات و اقدار کو فلسفیانہ افکار نے مذہبی افکار کے ساتھ ملا دیا اور یہ دو آتشہ ایرانی شناخت کو باقی رکھنے میں کامیاب رہا۔ ایران کی فکری و نظریاتی کشمکش انتہائی دلچسپ سامان مطالعہ ہے۔ اس میں زرتشست‘ متروک جسے بن خلدون ضحاک بتاتے ہیں اور تثلیث کس طرح یکجا ہوئی؟

یہ بات آپ کو ”فلسفہ عجم“ از علامہ اقبال ”عمر خیام“ از مولانا سلیمان ندوی ”سوانح حیات حضرت شمس تبریز“ میں بکھری ہوئی ملیں گی۔ یوں آپ فلسفیانہ کشمکش کی آبِ جو کا نظارہ کر سکتے ہیں جس میں کبھی ابن سینا و ابن مسکویہ جیسے حکماءفلسفہ اسمعیلیہ کے مبلغ بھی نظر آتے ہیں اور کبھی آپ کو سہروردیؒ کا صلاح الدین ایوبی کے بیٹے ملک الظفر کے حکم پر قتل نظر آتا ہے کیونکہ سہروردیؒ کے افکار فلسفہ و دین کا تماز سورج بن گئے جسے دمشق کے علماءنے گل کر دنیا ضروری خیال کیا۔ اقبال نے ”فلسفہ عجم“ میں ایرانی تصوف میں سیاسی بے چینی‘ سیاسی منصوبے مذہبی بھیس میں‘ ایرانی خاندانوں کامناقشہ‘ وحدت الوجود‘ عقلیت کا بشار بن برد‘ عیسائی راہبوں کے اثرات‘ ابن تیمیہؒ اور ایران‘ تصوف کی قوت کا راز‘ باطنی تعلیم و صوفیانہ نظریات‘ ایران کا تنویت کی طرف رجوع کیسے ہوا؟ فلسفہ اشراق‘ وجودیات‘ تجلیات و ملائکہ اور اس میں انحطاط ظلمت کا وجود یہ وہ سارے موضوع ہیں جس کو علامہ اقبال نے ”فلسفہ عجم“ میں لکھا ہے لیکن اسی سلسلے کو آپ بہت باریک بینی اور محققانہ دلچسپیوں سے مولانا سید سلیمان ندوی کی 424 صفحات پر مشتمل ”عمر خیام“ میں پڑھ سکیں گے۔ شاید ”عمر خیام آپکے سامنے بالکل نئے انداز میں جلوہ گر ہونگے…. عمر خیام کی اسمٰعیلیت (ابن سینا کی اسمٰعیلیت کو جہاں زیر بحث لایا گیا ہے وہاں حکما و شعرا اور ادباءکی شراب نوشی پر بھی گفتگو ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمر خیام جو اصلاً ایک حکیم ہے۔ دانا ہے‘ علم نجوم و طب و ہیئت و افلاک کا عالم ہے دنیا اسے صرف خمار آلود رباعیات کے شاعر کے طور پر پہچانتی ہے۔ ویسے تو ”چنگیز خاں“ پھرلڈولیم کی تصنیف کا ترجمہ سید ذی شان نظام اور امیر تیمور لنگ کی سوانح حیات کا مطالعہ بھی ایران فہمی و خراساں کے لئے بہت ضروری ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ کسی طرح ایک قاتل و سفاک تیمور ایرانی علمائ‘ شعرائ‘ علما اور تاجروں کا سرپرست تھا حتیٰ کہ مخالف دینی نظریات مثلاً اسمٰعیلی‘ اثناعشری‘ اخوان الصفاءکا مکمل مالی سرپرست کیوں کر بن گیا تھا؟ امیر تیمور کی سوانح سے اثنا عشری‘ اسمعیلی اور اخوان الصفاءکی آپس کی سخت چپقلش کا راز بھی طشت ازبام ہو جاتا ہے۔ رومی اور شمس تبریز میں کیا تعلق تھا؟ شمس تبریز کے باپ نے اسمعیلی نظریات سے کیونکر بغاوت کرکے حنفی بننا پسند کیا یہ کہانی عملاً غزالی جیسے ایرانی فلسفہ و تعقل کے رسیا کی بغاوت کی کہانی کو دوبارہ نئے انداز میں پیش کرتی ہے۔ حکمت رومی و تشبیہات رومی‘ فلسفہ رومی‘ خلیفہ عبدالحکیم کی بہت مفید کتب ہیں۔

ان سب کتب کو بک کارنر یک اسٹریٹ جہلم فون نمبرز 0554-614977/ 62953 نے بہت عمدگی سے شائع کیا ہے۔ ہم امر شاہد ڈائریکٹر بک کارنر سے استدعا کریں گے کہ وہ اپنی تمام کتب صحافیوں‘ دانشوروں‘ علمائ‘ اساتذہ اور طلبہ کو نصف قیمت پر فراہم کریں۔ ابن خلدون کا ”مقدمہ“ پڑھنے والوں کو الفیصل کا شائع کردہ ترجمہ پڑھنا چاہئے۔

Citation
Muhyuddin bin Ahmaduddin, “فلسفیانہ فکر و دانش کے ایران کا مطالعہ,” in Nawaiwaqt, July 21, 2015. Accessed on July 21, 2015, at: http://www.nawaiwaqt.com.pk/mazamine/21-Jul-2015/401758

Disclaimer
The item above written by Muhyuddin bin Ahmaduddin and published in Nawaiwaqt on July 21, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 21, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Muhyuddin bin Ahmaduddin:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s