بڑے لوگ اور پرانا ٹی ہاؤس

Follow Shabnaama via email
گل نوخیز اختر

اے جی جوش مرحوم لاہو رکی ادبی فضا کا ایک خوشگوار کردار تھے۔ غصے اور محبت میں بے مثال اور شاعروں ادیبوں کے لیے وسیع القلب۔ میں نے جہاں سب کے خاکے لکھے‘ ان کا بھی لکھا۔ وہ غصہ کرگئے ‘ ٹی ہاؤس میں ملے تو مجھے اشارے سے پاس بلایا‘ چائے منگوائی اور کہنے لگے’’تمہیں بہت جلد قانونی نوٹس موصول ہوجائے گا۔‘‘

میں نے چائے کا ایک گھونٹ بھرا اور آہستہ سے کہا’’اس کے بعد کیا ہوگا؟‘‘
جوش صاحب جوش سے بولے’’پھر تمہیں سمن موصول ہوگا‘‘۔
میں نے ایک گہری سانس لی ’’عالی جاہ! میرے کمرے میں تو پہلے ہی اتنے سمن جمع ہوچکے ہیں کہ اب وہ سمن آباد لگنے لگا ہے۔‘‘
یہ سنتے ہی جوش صاحب مزید غصہ کھاگئے اور بلند آواز بولے’’میں نے بیس لاکھ ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے اور میں پیچھے نہیں ہٹوں گا‘‘۔

میں نے چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور جوش صاحب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا’’مرشد! ایک بات تو طے ہے کہ میں بیس لاکھ نہیں دے سکوں گا اور ظاہری بات ہے جب بیس لاکھ نہیں دوں گا تو مجھے سزا ہوجائے گی‘ سزا ہوگی تو جیل جاؤ ں گا‘ لیکن جیل چلا گیا تووہاں بیٹھ کر آرام سے روزانہ آپ کا ایک خاکہ لکھا کروں گا‘‘۔ میری بات سن کر جوش صاحب نے گھور کر میری طرف دیکھا اور پھر ان کا زوردار قہقہہ نکل گیا۔ اے جی جوش جیسے بڑے دل والے بندے اب نہیں رہے۔اب تو لو گ خود خاکے کی فرمائش کرتے ہیں اور اگر کچھ لکھ دوں تو ہرجانے کی دھمکیاں آنے لگتی ہیں۔۔۔کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟

پرانے ٹی ہاؤس میں ہر اتوار کو ایسی ایسی جملے بازی دیکھنے کو ملتی تھی کہ بندہ پورے ہفتے کے لیے فریش ہوجاتاتھا۔ قتیل شفائی مرحوم بہت کم ٹی ہاؤس آیا کرتے تھے لیکن جب جب آتے رونقیں لگاجاتے ۔ایک دفعہ ایک معروف شاعر نے اپنی نئی کتاب قتیل شفائی صاحب کو پیش کی اور فرمایا’’قتیل صاحب! یہ کتاب انتہائی توجہ سے پڑھئے گا کیونکہ میں نے اتنی محنت سے لکھی ہے کہ میں پاگل ہوتے ہوتے بچا ہوں۔۔۔قتیل شفائی صاحب بے اختیار بولے’’یہ تمہارا وہم ہے‘‘۔

اسرارزیدی مرحوم بالکل سامنے والے صوفے پر خاموشی سے بیٹھے رہتے تھے ‘ انہیں خاموشی اتنی پسند تھی کہ کوئی بات بھی کرتا تو عموماً خاموش ہی رہتے البتہ چائے نہایت شوق سے پیا کرتے تھے ۔ایک دفعہ کسی نے کہا کہ زیدی صاحب چائے پئیں گے؟؟؟ زیدی صاحب نے اثبات میں سرہلا دیا۔ چائے آگئی اور چائے پلانے والے صاحب بھی زیدی صاحب کے پاس براجمان ہوگئے۔ زیدی صاحب نے اطمینان سے چائے کی چسکیاں لینی شروع کیں ‘ اس دوران دوسرے صاحب مسلسل گفتگو کرتے رہے تاہم زیدی صاحب نے نہ انہیں ڈسٹرب کیا نہ خود ہوئے اور چائے ختم ہوتے ہی اطمینان سے اٹھ کر چلے گئے۔

انتظار حسین صاحب کی مخصوص ٹیبل ٹی ہاؤس کے درمیان میں ستون کے ساتھ ہوتی تھی جہاں صرف علمی بحث کی اجازت تھی لہذا ہم جیسے نوجوان اُس ٹیبل سے دور ہی رہے۔ٹی ہاؤس کے دروازے کے ساتھ ہی دائیں طرف یونس جاوید صاحب کی منڈلی جمتی تھی۔ یونس جاوید صاحب نہایت معتبر ڈرامہ نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کے کریڈٹ پر بہت سے لازوال ڈرامے ہیں لیکن ان کا خاص حوالہ’’اندھیرا اجالا ‘‘ ہے جس نے کھڑکی توڑ رش لیا تھا۔ ٹی ہاؤس کے درو دیوار میں یونس جاوید صاحب کی گفتگو کے موتی آج بھی بکھرے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔نہایت خوش لباس تھے اور ہیں‘ محبت ان کے وجود سے پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ‘ اتنے ملائم لہجے میں بات کرتے ہیں کہ اختلاف بھی کریں تو اعتراف کا گمان ہوتاہے۔

یہ وہ ٹی ہاؤس تھا جہاں حلقہ ارباب ذوق کے اجلاسوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔ حلقے کا اصول تھا کہ وہی شخص حلقے کا ممبر بن سکتا تھاجس کی کم ازکم دو تخلیقات تنقید کے لیے پیش ہوچکی ہوں لہذا نوجوانوں کی شدید خواہش ہوتی تھی کہ کسی نہ کسی طر ح ان کی دو تخلیقات تنقید کے لیے منظور ہوجائیں۔ یہاں تنقید کا چونکہ اپنا ہی ایک طریقہ ہے لہذا جو بھی غزل یانثر پیش ہوتی وہ یا آسمان کو چھو لیتی یا اس کی دھجیاں بکھر جاتیں۔اکثر یہ ہوتا تھا کہ جس تخلیق کار کی بھی تحریر تنقید کے لیے پیش ہوتی وہ اپنے حواریوں کو لے کر آجاتا اور یہ حواری اپنے دوست کی تحریر کو بچانے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیتے۔ ایک دفعہ تو یہ بھی ہوا کہ حلقہ کے اجلاس میں تخلیق کار کا نام ہی خفیہ رکھاجانے لگا تاکہ دوران تنقید کسی کو پتا نہ چل سکے کہ یہ تحریر کس کی ہے۔ لیکن یار دوستوں نے اس کا بھی حل نکال لیا‘ وہ پہلے سے ہی اپنے دوستوں کو بتا دیتے کہ آج میرا افسانہ ہوگا۔پرانا ٹی ہاؤس غربت کی منہ بولتی تصویر تھا‘جالوں سے اٹا ایگزاسٹ فین‘ بلا مقصد گھومتے ہوئے پنکھے‘ بے رنگ دیواریں‘ صدیوں پرانی کرسیاں اور خالی جیب والے شاعروں ادیبوں کا شور۔ لیکن یہاں سکون بہت تھا‘ تمام تر لڑائیوں کے باوجود بہت شاعر ادیب اس کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔پھر ٹی ہاؤس کے مالک زاہد کو یہ سب برا لگنے لگا‘ ٹی ہاؤس خالی ہونے کی باتیں ہونے لگیں اور وہ وقت مجھے کبھی نہیں بھول سکتا جب میں نے ٹی ہاؤس کا بورڈ پاس کی ٹائروں والی دوکان کے پاس بے توقیر پڑا دیکھا۔ مجھے یاد ہے میں نے اس وقت اِس بورڈ کی ایک تصویر لی تھی اور شائع بھی کی تھی۔

یہ تصویر آج بھی میرے پاس موجود ہے۔لیکن آج ٹی ہاؤس بہت بدل چکا ہے۔ اب اس کے اندر داخل ہوں تو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا احساس دلاتا ہے کہ اے سی چل رہا ہے۔ درو دیوار پر خوبصورت فریم میں جڑی سینئرز کی تصاویر آویزاں ہیں‘ سارا فرنیچر تبدیل ہوچکا ہے۔ چائے کے کپ بہت خوبصورت ہوگئے ہیں۔باتھ روم بھی جدید ہوچکا ہے‘ اوپر والے ہال کا ’’حال‘‘ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتاہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ٹی ہاؤس ایک چھوٹے سے فائیو سٹار ہوٹل کا روپ دھا ر چکا ہے۔ سب کچھ بدل گیا ہے ۔ اب ٹی ہاؤس میں شاعر ادیب کم اور فاسٹ فوڈ کے شوقین زیادہ نظر آتے ہیں۔ اردگرد کی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبا ء و طالبات یہاں آتے ہیں اور ماضی کی یادگار سمجھتے ہوئے تصاویر بنواتے ہیں ‘ کچھ کھاتے پیتے ہیں‘ قہقہے لگاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ امجد طفیل اور علی نواز شاہ دن رات ان تھک کوشش کرکے حلقہ اربا ب ذوق کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور پوری ایمانداری کے ساتھ ادب اور زندگی کے ٹوٹتے ہوئے رشتے کو برقرار رکھنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ٹی ہاؤس کی رونقیں بڑھانے والے بیشتر سینئرز اب اس جہان فانی میں نہیں رہے‘ اور جو سلامت ہیں وہ صرف پرانے ٹی ہاؤس کو جانتے ہیں۔نئے ٹی ہاؤس آکر انہیں لگتا ہے کہ شائد وہ رستہ بھول گئے ہیں۔۔۔کاش ٹی ہاؤس کی وہ رونقیں بحال ہو سکیں۔۔۔کاش۔۔۔!!!

Citation
Gul-e-nokhaiz, “بڑے لوگ اور پرانا ٹی ہاؤس,” in Daily Nai Baat, July 18, 2015. Accessed on July 21, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A8%DA%91%DB%92-%D9%84%D9%88%DA%AF-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%BE%D8%B1%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D9%B9%DB%8C-%DB%81%D8%A7%D8%A4%D8%B3

Disclaimer
The item above written by Gul-e-nokhaiz and published in Daily Nai Baat on July 18, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 21, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Gul-e-nokhaiz:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s