اردو اور سرکاری زبان

Follow Shabnaama via email
ڈاکٹر غافر شہزاد

آج کل پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر اس بات کا خوب چرچا ہے کہ بالآخر سپریم کورٹ کے پلیٹ فارم پرکم از کم وفاقی حکومت تو اس بات پر رضامند ہو گئی کہ آئندہ صدر اور وزیر اعظم کی تقاریر کے ساتھ ساتھ تمام وفاقی اداروں میں اردو رائج ہو گی۔ادارہ فروغ قومی زبان کو اس موضوع پر مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔اخبارات میں اس فیصلے کی خوب تحسین کی گئی ہے اور یہ دلیل بھی دی گئی ہے کہ کوئی بھی انگریزی زبان کا چینل پاکستان میں کامیاب نہیں ہوا اور تمام انگریزی بولنے والے اور انگریزی میں لکھنے والے صحافیوں کو آخر کار اردو کو ہی اپنانا پڑا۔میرا ان ہی دانشوروں سے یہ سوال ہے کہ ایک دہائی پہلے جب پنجابی زبان کے اخبارات نکالے گئے تو اس کاروبار میں کچھ زیادہ کامیابی نصیب نہیں ہوئی تو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ عوام نے پنجابی زبان کو مسترد کر دیا ہے؟کیا ہم آج اپنے گھروں اور دوستوں کی بے تکلف محفلوں میں پنجابی بولنے سے باز آ گئے ہیں؟اصل بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے حقیقی مطالبے اور حق کے دفاع میں دلیل دینا بھی نہیں آتا اس لیے کہ ہماری علمی و دانشورانہ یہی سطح بنتی ہے۔

27 سال کے بعد آئینِ پاکستان میں شامل ایک شق کو جزوی طور پر ایک انتظامی حکم نامہ کے تحت تھوڑے عرصہ کے لیے لاگو کروانے میں ہمیں جو عارضی خوشی ہوئی ہے ،کچھ احباب اس کا خوب ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں اور کچھ لوگ اس کامیابی پر شادیانے بجا رہے ہیں، حالاں کہ ہمیں اس بات پر بغلیں بجانا چاہئیں۔ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ پاکستانی شہریوں کو کس بات پرخوش اورسپریم کورٹ کو اس انقلابی فیصلے پر کیوں مبارک باد پیش کرنا چاہیے۔جس بات کی اب منظوری دی گئی ہے وہ تو ستائیس سال پہلے منظور ہونے والے آئین میں پہلے سے ہی درج ہے توکیا یہ کامیابی اس بات پر ہے کہ اس متفقہ طور پر منظورشدہ فیصلے کولاگو کروانے کا ایک اور وعدہ قوم کو دے دیا گیا ہے؟

قصور بااختیاراداروں کا نہیں ، قصور تو ان لوگوں کا ہے جو اپنا مقدمہ ہی غلط طور پر عدالت میں لے کرگئے تھے۔مقدمے میں تو ان اداروں کو پارٹی بنایا جانا چاہئیے تھا کہ جو وفاقی حکومت نے اردو کو سرکاری زبان بنانے کے لیے تشکیل دے رکھے ہیں اور اب چار دہائیاں گزرنے کے بعد ان اداروں کاوجود تو برقرار ہے، اس لیے کہ ان کی پر کشش سیٹوں پر اردو سے محبت کرنے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے ، جو مستفید ہوتی رہی ہے، مگر کسی نے آج تک ان سے ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں استفسار نہیں کیا کہ جناب اتنی سہولتیں اور یہ تنخواہیں اتنے برس آپ نے وصول کیں، ادارے کو جس مقصد کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، آپ نے اس میں اپنا کتنا حصہ ڈالا ہے؟ مقتدرہ قومی زبان کا وفاقی ادارہ چار دہائیوں تک کیا کرتا رہا ہے؟ اردو سائنس بورڈ کہ جس کا ڈائریکٹر جنرل ہونا بہت اعزاز کی بات سمجھی جاتی ہے اور جہاں تنخواہوں کے ساتھ کئی الاؤنس بھی دیے جاتے ہیں، گزری چار دہائیوں میں اس ادارے میں موجود لوگوں نے اپنی کیا ذمہ داریاں پوری کی ہیں؟پنجاب گورنمنٹ کا ایک ادارہ نفاذ اردو کے لیے قایم کیا گیا تھا اور اس ادارے سے ایک ماہانہ رسالے ’’اردو نامہ‘‘ کا اجرا بھی کیا گیا، کیا کوئی اس بات پر استفسار کرے گا کہ ’’اردو نامہ‘‘ کا آخری شمارہ کب شایع ہوا تھا؟ اور ’’اردو نامہ‘‘ کا مقصد کیا تھا اور اس میں کیا کیا شایع ہوتا رہا؟ پنجاب گورنمنٹ کے ایک اور ادارے ’’مجلسِ ترقی اردو‘‘ کے قیام کا کیا مقصد تھا؟ اس ادارے نے اردو کی ترقی میں کیا فعال کردار ادا کیا ہے؟اکادمی ادبیات پاکستان، کیا اس کے قیام کا مقصد چند لوگوں کے لیے اسلام آباد میں پر کشش روزگار کی فراہمی تھا؟یا یہ ادیبوں شاعروں کو دی جانے والی ایک سیاسی رشوت تھی؟ کبھی کسی پلیٹ فارم پر ان اداروں کے سربراہوں کہ جن کے بڑے بڑے نام ہیں، کسی نے ازراہِ تفنن ہی پوچھا ہو کہ جناب آپ کا ادب سے کیا تعلق ہے اور آپ نے کیا اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں؟ اور ہم اُس بات کا جشن منا رہے ہیں جو 27 برس پہلے آئین پاکستان کا حصہ ہے، اور ہم اس کو لاگو کروانے کے لیے با اختیار اداروں سے ایک کاغذی وعدہ اور وہ بھی سپریم کورٹ کے توسط سے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

سرکاری اداروں میں کم از کم پچاس فیصد تک کام پہلے ہی اردو زبان میں ہو رہا ہے۔یقین نہیں آتا تو کسی ادارے کی فائل اٹھا کر دیکھ لیجیے۔جس شخص نے کسی بھی فائل پر ابتدائی نوٹ لکھنا ہوتا ہے، وہ اسسٹنٹ بمشکل میٹرک یا زیادہ سے زیادہ ایف اے پاس ہوتا ہے۔ ہمارے اداروں میں بی اے کرنے والے طالب علموں کو بھی جتنی انگریزی آتی ہے، کس سے ڈھکی چھپی بات ہے ۔یہ اسسٹنٹ جب کسی بھی ’’قرطاس زیر غور‘‘(پی یو سی) کو فائل میں لگا کر اپنے صاحب کو نوٹنگ شیٹ پر پیش کرتا ہے ، آپ کاکیا خیال ہے یہ نوٹ انگریزی میں ہوتا ہے؟ اس کے بعد سپرنٹنڈنٹ جب اس پر اپنی رائے دیتا ہے، وہ بھی اردو میں ہی ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہی اسسٹنٹ ترقی کر کے سپر نٹنڈنٹ بنتے ہیں۔سیکشن آفیسر ہو یا ایڈمن آفیسر، زیادہ تر ترقی پا کر اس عہدے تک پہنچے ہوتے ہیں، جن لوگوں کی براہ راست تعیناتی ہوتی ہے، اگر ان کو تھوڑی بہت انگریزی آتی بھی ہے تو وہ دفتری انگریزی نہیں ہوتی۔اس لیے ان کو بھی اپنے اسسٹنٹ اور سپرنٹنڈنٹ کا محتاج رہنا پڑتا ہے۔ہمارے ہاں دفتری نظام میں غیر فعالیت کی بڑی وجہ یہی نظام ہے، جس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔اس سطح پر انگریزی یا اردو زبان کا تو مسئلہ ہی نہیں ہے۔دفتر میں خط کتابت کے لیے جس انگریزی کی ضرورت پڑتی ہے، وہ بہت ہی عام سطح کی ہوتی ہے۔لوئر کورٹ میں فیصلے اردو میں ہوں گے، کچھ عرصپ پہلے یہ نوید بھی سنائی گئی تھی، حقیقت یہ ہے کہ ساٹھ سے ستر فیصد لوئر کورٹس میں پہلے ہی اردو زبان چل رہی ہے، اس لیے کہ اردو زبان میں عدالت میں درخواست دینے، جوابِ دعویٰ داخل کرنے یا جواب الجواب دینے پر کوئی پابندی نہیں ہے، یہ سائل اور وکیل کی اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ بحث کرنے اور جواب داخل کرنے میں کون سی زبان استعمال کرتا ہے۔عدالتی سمن پہلے ہی اردو میں جاری کیے جاتے ہیں۔البتہ سرکاری دفتروں میں استعمال ہونے والے مختلف فارم کچھ تو اردو زبان میں مل جاتے ہیں، کچھ ایسے ہیں جن کو ترجمہ کرنے کی ضرورت ہے۔اس حکم نامے سے اب وہ فارم بھی اردو میں دستیاب ہو جائیں گے۔مگر مسئلہ تو بالائی سطح پر اردو کے نفاذ کا ہے، اس سے زیریں سطح پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔کیا ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں تمام قوانین و ضوابط تین مہینے میں اردو میں منتقل کیے جا سکیں گے؟ابھی پچھلے ہفتے عدالتی احکامات کے ذریعے جج صاحبان کو پابند کیا گیا کہ عدالتی کاروائیاں مکمل ہونے کے بعد اتنے دنوں تک انہیں فیصلے جاری کر دینے چاہئیں۔المیہ یہ ہی نہیں کہ جج صاحبان فیصلہ سنانے یا مختصر فیصلہ سنانے کے بعد تفصیلی فیصلہ جاری کرنے میں تاخیر کرتے ہیں، اصل وقت تو عدالتی کاروائیوں کو مکمل کرنے میں صرف ہو جاتا ہے جب وکلاء صاحبان کیس خارج ہو جانے کے خوف کے پیش نظر پیشی ملتوی کرتے رہتے ہیں۔کیا اس کا کوئی تیر بہدف علاج ہماری عدالتی انتظامیہ کے پاس ہے؟قوانین و ضوابط تو ہر معاملے میں پہلے سے موجود ہیں ، اصل مسئلہ ان کو لاگو کرنے اور ان پر عمل درآمد کا ہے۔

Citation
Ghafar Shehzad, “ڈاکٹر غافر شہزاد,” in Daily Nai Baat, July 16, 2015. Accessed on July 16, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%DA%88%D8%A7%DA%A9%D9%B9%D8%B1-%D8%BA%D8%A7%D9%81%D8%B1-%D8%B4%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%AF

Disclaimer
The item above written by Ghafar Shehzad and published in Daily Nai Baat on July 16, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 16, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ghafar Shehzad:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s