فکر اقبال کی بنیاداور ڈاکٹر حداد عادل کی تجویز

Follow Shabnaama via email
زاہد منیر عامر

ڈاکٹر ساکت ہر مقرر کے بعد مہرسکوت کو برطرف کرتے ہوئے کئی منٹ تک اس موضوع پر تقریرکرتے کہ مقررین اپنی گفتگو کو مختصر کرلیں لیکن مقررین اس ہدایت پر ’ سکوتِ سخن شناس‘ کا مظاہرہ کرتے رہے یہاں تک کہ ڈاکٹرمحمد بقائی ماکان کی باری آگئی۔ ڈاکٹر محمد بقائی ماکان(۱۹۴۴ء)فارسی زبان وادب میں ایم اے ہیں، امریکی ریاست فلوریڈا کی نووایونیورسٹی سے انگریزی زبان و ادب کی تحصیل بھی کرچکے ہیں اور اقبال پرپچیس سے زیادہ کتب شائع کرچکے ہیں جن میں تصانیف اقبال اور اقبال پر لکھی جانے والی خلیفہ عبدالحکیم، عشرت حسن انور،غلام السیدین ،ڈاکٹر محمد معروف اور ڈاکٹر نذیرقیصر کی اقبالیاتی کتب کے فارسی تراجم بھی شامل ہیں۔ انہوں نے فکر اقبال کی شرح و وضاحت پر بھی آٹھ کتب تحریر کی ہیں اور اقبال پر لکھے جانے والے ایرانی و پاکستانی مقالہ نگاروں کی تحریریں جمع کی ہیں۔ انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے2005ء میں تمغۂ پاکستان عطاکیاجاچکاہے۔وہ اقبال کے افکار کے حوالے سے ایک خاص زاویۂ نظر رکھتے ہیں اور اقبال کے اجداد کویعنی اقبال کو ایرانی النسل قراردیتے ہیں۔ یہاں بھی ان کے لب کشا ہوتے ہی ۔۔۔ ’’ایں گل دیگر شگفت‘‘ کی کیفیت پیداہوگئی جب انہوں نے فرمایاکہ ’ اقبال فہمی میں اسلامی عقائد کی گنجائش نہیں۔ اقبال اس مفہوم میں اسلامی دانش ور نہیں تھے جیسا کہ انہیں سمجھاجاتاہے ، توکانفرنس میں مباحثے کی سی صورت حال پیدا ہوگئی۔۔تہران یونیورسٹی شعبہ اردو کے صدر ڈاکٹر علی بیات نے ببانگ دہل اختلاف کرتے ہوئے کہاکہ اقبال فہمی میں اسلام کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا مشن اسلام کی تبیین تھا،ڈاکٹر علی بیات ’’دیوان حافظ ‘‘کے اردوتراجم و شروح پر مقالہ لکھ کر ہمارے ہاں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرچکے ہیں وہ اردواور اقبالیات کے ایک ہوش مند طالب علم ہیں ،ان کے اس اختلاف کو حاضرین کی بڑی تعداد کی جانب سے تائید حاصل ہوئی اور کیوں نہ ہوتی ڈاکٹربقائی ماکان کی یہ بات اتنی ہی درست تھی جس قدر ان کی یہ’ معلومات ‘کہ علامہ اقبال کی کتابیں’’ بانگ درا‘‘ا ور ’’بال جبریل‘‘ مثنویاں ہیںیاسرسید اور شیخ احمدسرہندی ایک ہی شخصیت ہیںیا علی گڑھ یونیورسٹی پاکستان میں واقع ہے۔۔۔

ایک ایسے شاعر کے بارے میں جس کے افکارکی اساسی جہت اسلام ہواور جس نے اپنے کلام کو سراسر قرآن کی ترجمانی کہاہواوراعلان کیاہو کہ اگر میرے حروف میں قرآن کے سوا کچھ مضمرہوتو مجھے روزِ محشرخوار اوررسواکردیاجائے،مذکورہ دعویٰ انصاف سے بعید نہیں تو اورکیاہے۔البتہ ماکان صاحب کی یہ بات پسند آئی کہ انہوں نے اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں پر برہمی کا اظہارکرنے کی بجائے اس اختلاف کو تحمل سے گوارا کیااور اطمینان سے اپنی بات کی ۔

اس سے پہلے میں تقریر کرکے سٹیج سے اترا تو ہر جانب سے دادِ تحسین کا سلسلہ شروع ہوگیاسب سے پہلے ہندوستان سے آئے ہوئے فارسی کے استاذ الاساتذہ ڈاکٹر شریف حسین قاسمی صاحب اپنی نشست چھوڑ کر تشریف لائے اور انہوں نے ستائشی کلمات سے نوازااورازرہِ تحسین اپنی ایک کتاب ’’ہندوستان میں فارسی ادب‘‘ راقم کو عنایت کی ،اسی طرح تہران یونیورسٹی کے پروفیسر اور’’ سفرنامہ پاکستان ‘‘کے مصنف ڈاکٹر قاسم صافی آئے اور اپنا ایک تازہ مقالہ عنایت کیا اور راقم کی گفتگو پر غیرمعمولی اظہارِ مسرت کیا ۔یوں ان سے پرانی ملاقاتوں کی یاد بھی تازہ ہوگئی۔ اسی طرح بعض دوسرے ایرانی سکالرز بھی ملے۔ ایک ایسے ایرانی بھی ملے جوراقم کے زمانہ طالب علمی میں لاہور میں تھے۔ وہ اب کہن سال ہوچکے تھے لیکن جس اپنائیت سے وہ ملے اس سے بہت خوشی ہوئی ، افسوس کہ ان کا نام پوچھا نہ جاسکا۔اسی طرح سکالراورمترجم خانم آناحمیدی سے ملاقات ہوئی جنہوں نے میری شاعری کو فارسی میں منتقل کیا ہے ،انہوں نے یہ کام محض اپنے شوق اور میرے کلام سے شغف کے باعث انجام دیاجب کہ راقم سے ذاتی طور پر تو ان کا تعارف بھی نہیں تھا۔آج ان سے پہلی بار ملاقات ہوئی جب کہ ان کے کیے ہوئے ترجمے پر دس بارہ برس بیت چکے ہیں۔ ایک غیر ایرانی کی فارسی سن کر ڈاکٹر معصومہ غلامی کی حیرت تو ختم ہونے کانام ہی نہیں لے رہی تھی۔ ادھر مختلف ایرانی ٹیلی ویژن چینلز کے نمائندے اپنے اپنے کیمرے’ تیز ‘کیے کھڑے تھے۔ فاضل مقررین کی داد کے عین بیچ میں انہوں نے اپنے مائیک گھسیڑ دیے اور مجھے پکڑ کر کیمروں کے سامنے لاکھڑا کیا۔۔۔ لیجیے اب فی البدیہہ انٹرویو دیجیے ،’’یہ شبکہ سحر‘‘ ہے اس سے فارغ ہوئے تو ’’شبکہ فجر ‘‘نے پکڑ لیا ان کی تیز رفتاریوں سے میں نے اندازہ لگایا کہ اگر قوتِ ارادی سے کام نہ لیاتو’’ فجر‘‘ سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ عشا تک جاپہنچے گا چنانچہ’ فجر‘ اور’سحر ‘ہی پر اکتفا کیا اور کانفرنس کی طرف لوٹ آیاجو اب دوپہر میں داخل ہورہی تھی اور کھانے کا وقت ہوچلاتھا’’ ایکو ‘‘کے دفتر کے قریب ہی ایک احاطے میں کھانے کا انتظام تھا۔

کھانے پر خوب باتیں اور ملاقاتیں ہوئیں اس کے بعد ہمیں بہ حفاظت ہوٹل واپس بھیج دیاگیا لیکن جلد ہی دوبارہ کوچ نقارے کی ’ بشارت‘ کے ساتھ ۔۔۔سہ پہر میں ہم ایک بار پھر کانفرنس ہال میں تھے لیکن اب جس ہال میں ہمیں لایاگیا اس کا تو عالم ہی اور تھا۔ ایک وسیع وعریض آڈیٹوریم، ہلکی ہلکی موسیقی کی لہریں، نہایت خوب صورتی سے سجاہواسٹیج جس پر خوش ذوقی کے ساتھ بنائے گئے دائرے اوردوسرے ماڈل لٹکے ہوئے جن پر اقبال لاہوری کی بزرگداشت کے لیے منعقد ہونے والی اس انٹر نیشنل کانفرنس کا شعار اور علامہ کی تصویر جگمگارہے تھے سٹیج کے بالائی حصے میں کھلتابند ہوتانہایت بزرگ تاپلو یعنی فلیکس جس پر سٹیج پر پڑھی جانے والی عبارتوں کی تصویری شکل جھلملاتی تھی ۔۔۔رونق ایسی کہ ہال کا عالم کانفرنس سے کچھ بڑھ کردکھائی دے رہاتھا۔ سٹیج سیکرٹری کا لہجہ اور تلفظ نہایت عمدہ ،نیم روشن ہال، آواز کی خوابناکی اس پر مستزاد۔۔۔ہم ہال میں پہنچے تو تمہیدی کلمات ادا کیے جارہے تھے’’ با نام و یاد خداوندِ بزرگ، ہمایش بین المللیِ تکریم و بزرگداشتِ علامہ فرید، اقبالِ لاہوری راآغاز می کنیم و بہترین سلامہا و صمیمانہ ترین خوشامد ہا و تہیا ت بہ مہمانانِ ارجمند واستادانِ بزرگوار،دانشجویان عزیز، خانمہا و آقایان و ہمہ کسانیکہ امروز بہ اتفاق آنہا برسرسفرۂ محمد اقبال نشستہ اید۔۔۔‘‘یہ مجری برنامہ عبدالحمید ضیائی کی آواز تھی جنہوں نے متاثر کن لہجے میں علامہ کی غزل پڑھی ؂

ز مقام من چہ پرسی بہ طلسم دل اسیران
نہ نشیب من نشیبی نہ فراز من فرازی

ہم ایران کے فنون لطیفہ کے بزرگ ترین ادارے’’ حوزۂ ہنری‘‘ کے ہال میں تھے، پاکستان اور ایران کے ترانے بجائے گئے اور حوزۂ ہنری کے سربراہ ڈاکٹر محسن مومنی نے شعراقبال کے پیرائے میں کسی آنے والے زمانے کا خواب دیکھنا شروع کیا :’’ تہران ہوگر عالم مشرق کا جنیوا 228شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے‘‘اس کے بعد سفیر پاکستان جناب نورمحمد جادمانی اسٹیج پر آئے اور صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے پیغامات پڑھ کر سنائے جو خاص اس کانفرنس کے لیے بھیجے گئے تھے جناب نورمحمد جادمانی، علامہ اقبال کا اپنی زندگی کے آخری سال (۱۹۳۸ء) میں لاہور ریڈیو سے دیاہوا سال نو کا پیغام سنارہے تھے اور یوں لگ رہاتھا جیسے اقبال زندہ ہیں اور آج کی دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ان کے اس پیغام کے لفظ لفظ سے ان کی انسان دوستی،بصیرت اور پیش بینی کا اندازہ کیاجاسکتاہے ۔جناب سفیر نے اگلے سال اس سے بھی زیادہ پرجوش طریقے سے یوم اقبال منانے کے عزم کا اظہار کیا، رئیس موسسہ فرنگی ایکو جناب افتخار حسین عارف نے استقبالیہ کلمات کہے اور آقای رحیم پور نے اپنے سفر پاکستان کی خوش گوار یادیں تازہ کیں جب وہ رہبر انقلاب جناب آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ پاکستان آئے تھے اورانھوں نے لاہور میں علامہ کے مزار پر حاضری دی تھی ۔ اتنی عمدہ گفتگووں کے بعد ’’جاویدمنزل‘‘ پر بنائی گئی ایک نہایت کمزور ڈاکومنٹری دکھائی گئی جس سے طبیعت بدمزہ ہوئی اور اپنے لوگوں کے تساہل پر افسوس ہوا ۔ فرہنگستان کے رئیس اور ایران کے معتبر ترین دانش ور جناب آقای ڈاکٹر غلام علی حداد عادل اسٹیج پر رونق افروز ہوئے، ان کے خطاب میں عجیب اثر تھا، خطاب کیا تھا ’’احوال دل گداختہ‘‘ کا بیان تھا جو ایک گداز دل شخص کی زبان سے انجام پارہاتھا۔انھوں نے تجویز پیش کی کہ ایران میں اقبال کی یاد میں ایک انجمن قائم کی جائے جو مسلسل فکر اقبال کی تجدیدکاسامان کرتی رہے، ان کی اس تجویز کو حاضرین کی جانب سے پذیرائی ملی۔ امید ہے جناب افتخار حسین عارف ضرور اس سلسلے میں کوئی عملی اقدام کریں گے ۔’’احوال دل گداختہ ‘‘جناب حداد عادل کی ایک کتاب کا نام بھی ہے جو انھوں نے حال ہی میں ’’بہ حضور محترم جناب آقای دکتر زاہدمنیر عامر تقدیم می شود‘‘کے کلمات لکھ کر راقم کو ارسال فرمائی ہے،جناب حداد عادل کے کلام نے غالب کی یاد تازہ کردی جس نے اسدتخلص کے زمانے میں کہاتھا ؂

حسن فروغ شمع سخن دور ہے اسد
پہلے دل گداختہ پیداکرے کوئی

Citation
Zahid Munir Amir, “فکر اقبال کی بنیاداور ڈاکٹر حداد عادل کی تجویز,” in Daily Nai Baat, July 15, 2015. Accessed on July 15, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D9%81%DA%A9%D8%B1-%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DA%88%D8%A7%DA%A9%D9%B9%D8%B1-%D8%AD%D8%AF%D8%A7%D8%AF-%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D9%84-%DA%A9

Disclaimer
The item above written by Zahid Munir Amir and published in Daily Nai Baat on July 15, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 15, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Zahid Munir Amir:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s