عہد جدید کے ڈبل شاہ

Follow Shabnaama via email
مستنصر حسین تارڑ

یہ اُن زمانوں کا قصہ ہے جب میں گوالمنڈی چوک کے پار چیمبرلین روڈ پر واقع اپنی بیجوں کی دکان ’’کسان اینڈ کمپنی‘‘ میں تجارت کی کوشش کیا کرتا تھا۔ چونکہ ہم غیرممالک سے بیج درآمد کرنے والی واحد سیڈ کمپنی تھے تو دنیا بھر سے ہمارے ہاں بہت سے سائنسی اور زراعتی میگزین آیا کرتے تھے اور یہ وہی زمانے تھے جب یکدم یورپ اور امریکہ سے نہایت دبیز اور شاندار خط آنے لگے۔۔۔ اور میں کچھ روز ناداں رہا اور یقین کرتا رہا کہ یہ سب نامے تو میرے نام آتے ہیں تو یہ سب دانائی اور سچ کے صحیفے ہیں جو مجھ پر اترتے ہیں۔

’’کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے دنیا بھر کے سو بڑے مفکرین اور دانشوروں کی ایک فہرست ترتیب دی گئی ہے اور اُس میں پہلا نام فلسفی برٹرینڈ رَسل کا ہے اور آٹھویں نمبر پر آپ ہیں۔ ہم دنیا بھر کے ان دانشوروں اور ادیبوں کے حالات زندگی اور تصویریں شائع کر رہے ہیں، براہ کرم اپنی تصویر اور زندگی کے حالات لکھ بھیجئے۔۔۔ یاد رہے کہ اس فہرست میں پابلو نرودا، سارتر اور گارسیا مارکیز بھی شامل نہیں ہو سکے۔۔۔ آپ شامل ہیں۔ اس عظیم صحیفے کو حاصل کرنے کے لئے صرف چار سو ڈالر ارسال کیجئے۔۔۔ ستائشی سرٹیفکیٹ، ایک گولڈن فریم میں جڑا۔۔۔ محض دو سو ڈالر میں حاصل کیجئے۔

’’آپ کو فلاں یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز میں شامل کیا گیا ہے۔ محض پانچ سو ڈالر‘‘
’’دنیا کے سو بہترین ادیب۔۔۔ صرف تین سو ڈالر‘‘

’’فلاں امریکی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کیجئے۔۔۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ کی علمی اور ادبی خدمات اس قدر ہیں کہ ڈاکٹریٹ آپ کا حق بنتا ہے۔۔۔ محض سات سو ڈالر‘‘
میں گواہ ہوں کہ اُردو کے ایک اہم شاعر جن کی شاعری میں اردو کم اور لاطینی، عربی، فارسی اور بابل اور نینوا کی زبانیں زیادہ ہوتی تھیں، وہ بہت پُرفخر ہوئے کہ میں دنیا بھر کے سو بڑے شاعروں میں شامل کیا گیا ہوں۔۔۔

ملتان کی ایک شاعرہ ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں دعوے کر رہی ہیں کہ دیکھئے امریکہ میں شائع ہونے والی ان دستاویز میں مجھے دنیا کی سب سے اہم ترین شاعرہ قرار دیا گیا ہے۔ میری تصویر بھی چھپی ہے۔

اور کہیں اپنے قدیم ٹیلی ویژن پروڈیوسر قاسم جلالی اتراتے پھرتے ہیں کہ مجھے دنیا کے دس بڑے پروڈیوسرز میں شمار کیا گیا ہے۔۔۔ اور ہر کوئی میٹرک فیل یا میری طرح بمشکل پاس شخص بھی ڈاکٹر ہوا جاتا تھا۔دور تک کیا جانا میرے ایک قریبی عزیز کے بارے میں یکدم دھوم مچ گئی کہ بھائی جان کو ایک امریکی یونیورسٹی نے گھر بیٹھے ڈاکٹریٹ کی ڈگری پیش کر دی ہے۔ ظاہر ہے ہم تو بہت نازاں اور پُرفخر ہوئے اور اُن سے پوچھا کہ بھائی جان۔۔۔ آپ کو کس موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی گئی ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ آپ ڈاکٹریٹ کا یہ مقالہ مجھے عطا کریں تاکہ میں بھی فیض یاب ہو سکوں تو۔۔۔ بھائی جان غائب۔۔۔ رہے سہے تعلقات بھی غائب۔

وہ جو پلندے امریکہ اور برطانیہ سے میرے نام آتے تھے، جن میں مجھے نوید سنائی جاتی تھی کہ آپ۔۔۔دنیا بھر کے بہترین ادیبوں، دانشوروں اور اداکاروں میں سب سے اول نمبر۔۔۔ تو ان پلندوں میں ایک سوالنامہ بھی شامل ہوتا تھا، جس کے ساتھ ایک درخواست نتھی ہوتی تھی کہ اگر آپ اپنے دس قریب ترین دوستوں یا رشتے داروں یا محلے داروں کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ ہم اُنہیں دنیا بھر کے سب سے بڑے ادیبوں، مصوروں، صحافیوں میں شامل کر لیں تو اُن کے پتے لکھ دیں۔

میں نے اس سوالنامے کے فارم پر صرف۔۔۔ پچی پانفروش اور اللہ رکھا، خربوزے فروخت کرنے والے ریڑھی والے کے نام لکھ دیئے۔

تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد، پہلے تو پچی پان فروش، ہراساں اور پریشان میرے پاس آیا ’’باؤ جی۔۔۔ میرے نام کے امریکہ سے یہ پلندے آ گئے ہیں اور اپنے شیخ جی نے بتایا ہے کہ امریکہ والوں نے مجھے دنیا کے سو سب سے بڑے دانشوروں میں شامل کر لیا ہے۔۔۔ باؤ جی، یہ دانشور کیا ہوتے ہیں‘‘۔

دو چار روز کے بعد اللہ رکھا آ گیا اور اُس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑتی تھیں ’’صاحب جی۔۔۔ مجھے کسی امریکی یونیورسٹی کے۔۔۔ وہ جو گورنر کا بورڈ ہوتا ہے اُس میں شامل کر لیا گیا ہے تو میں کیا کروں، خربوزے فروخت کروں۔۔۔ کیا کروں۔۔۔‘‘

تو وارداتوں اور فریب کے سلسلے بہت پرانے ہیں۔۔۔ تب یہ ڈاک کے ذریعے اختیار کرتے تھے اور اب۔۔۔ زمانہ نہ صرف بدل چکا بلکہ بے اختیار ہو چکا۔۔۔ تو جتنی بھی عیاری ہوتی ہے، کمپیوٹر کی سکرین کے ذریعے ہوتی ہے اور اگر پچھلے بیس بائیس برس سے آن لائن ڈپلوموں او رڈگریوں کا سلسلہ جاری ہے تو کچھ تو پردہ داری اور پردے کے پیچھے کیا ہے۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ ہر عظیم کامیابی کے پیچھے ایک عظیم جرم ہوتا ہے تو کوئی تو ہے جو یہ نظامِ کرپشن چلا آ رہا ہے۔

آپ گھر بیٹھے ہوتے ہیں، یکدم آپ کو کوئی حسینہ ٹیلی فون پر نوید دیتی ہے کہ آپ نے کچھ ماہ پیشتر کہیں خریداری کرتے ہوئے ایک انعامی کوپن بھرا تھا تو مبارک ہو آپ کی کار نکل آئی ہے، براہ کرم ان نمبروں پر رابطہ کیجئے۔۔۔ اب آپ اُلجھن میں پڑ جاتے ہیں کہ شاید کہیں کوئی فارم بھرا ہو اور پھر آپ کو اطلاع کی جاتی ہے کہ کراچی سے لاہور تک کار بھیجنے کا کرایہ بیس ہزار، کاغذات کے لئے بیس ہزار روانہ کر دیجئے۔ اگر آپ اتنے احمق ہیں تو فوراً چالیس ہزار روپے ادا کر کے کار کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔۔۔ چنانچہ قصور کس کا ہوا؟ اسی کو تو احمقوں کی جنت کہتے ہیں۔۔۔ اور ہم اس جنت میں اپنی من مرضی سے لُٹتے رہتے ہیں اور پھر دُہائیاں دیتے ہیں کہ لوگو ہم لُٹ گئے۔۔۔ جیسے ایک حسینہ ناکافی کپڑوں میں ان ڈھکی نصف شب ویران سڑک پر چلی جاتی ہے اور بعدازاں دُہائی دیتی ہے کہ لوگو۔۔۔ میں تو لُوٹی گئی۔

Citation
Mustansar Husain Tarar, “عہد جدید کے ڈبل شاہ,” in Daily Nai Baat, July 15, 2015. Accessed on July 15, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%B9%DB%81%D8%AF-%D8%AC%D8%AF%DB%8C%D8%AF-%DA%A9%DB%92-%DA%88%D8%A8%D9%84-%D8%B4%D8%A7%DB%81

Disclaimer
The item above written by Mustansar Husain Tarar and published in Daily Nai Baat on July 15, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 15, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Mustansar Husain Tarar:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s