اب ہمارا امتحان شروع ہو تا ہے

Follow Shabnaama via email
مسعود اشعر

لیجیے اب ہمارا امتحان شروع ہو گیا۔ عدالت عظمیٰ نے حکم دے دیا ہے کہ اردو کو سرکاری زبان بنا دیا جائے۔ اور حکومت نے بھی عدالت کو یقین دہانی کرا دی ہے کہ تین مہینے میں تمام محکمے اردو میں کام شروع کر دیں گے۔ عام آدمی کے روزمرہ کاموں سے متعلق جتنے بھی ادارے ہیں ان کے فارم اردو میں چھاپ دیئے جا ئیں گے۔ عدالت نے تو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وزیر اعظم سے لے کر تمام وزرا اور سرکاری اکابرین تک ملک کے اندر اور باہر اردو میں تقریر کریں گے۔ محکموں کے بورڈ بھی اردو میں لکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب جہاں تک انکم ٹیکس اور دوسرے محکموں کے فارم اردو میں چھاپنے کا تعلق ہے یہ کام تو فوراً ہونا چاہیے۔ یہ فارم تو ایسے ہیں کہ ان کی زبان اور ان کی اصطلاحات بہت سے پڑھے لکھوں کی سمجھ میں بھی نہیں آتیں۔ انگریز اپنے زمانے میں جو زبان اور جو اصطلاحات مقرر کر گئے ہیں ہم آنکھ بند کر کے انہیں استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں۔ انہیں یقیناً تبدیل کرنا چاہیے تاکہ عام آدمی بھی سمجھ سکے کہ وہ جس فارم پر دستخط کر رہا ہے اس میں لکھا کیا ہے۔ عدالتوں سے لے کر دوسرے تمام محکموں اور اداروں کا کام بھی اردو میں ہونا چاہیے۔

لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس طرح اردو سرکاری زبان بن گئی۔ اس کے لئے ہمیں پورا کلچر تبدیل کرنا ہو گا۔ سرکاری محکموں سے لے کر تعلیمی اداروں تک۔ اور یہی ہمارا امتحان ہو گا۔ اور پھر اردو کو سرکاری زبان بنانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہو گا کہ ہم انگریزی کو بالکل ہی دیس نکالا دے دیں۔ انگریزی ایک عالمی زبان ہی نہیں ہے بلکہ باقی دنیا سے رابطہ رکھنے کے لئے وہ ہماری ضرورت اور ہماری مجبوری بھی ہے۔ اب عدالت کے حکم کے مطابق ہمارے وزیر اعظم اور دوسرے وزرا اور اکابرین بیرون ملک جا کر کتنی ہی اردو میں تقریریں کریں انہیں بہرحال انگریزی کی ضرورت پڑ ہی جائے گی۔ اس کا تجربہ مجھے انڈونیشیا میں ہوا۔ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لئے وہاں گیا تھا۔ کانفرنس میں انڈونیشیا کے جتنے بھی مقرر تھے وہ سب اپنی زبان میں ہی تقریریں کر رہے تھے۔ اتنی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی تھی کہ دوسرے ملکوں کے مندوبین کے لئے انگریزی میں ان کا ترجمہ ہی کرا دیں۔ میری تو خوش قسمتی تھی کہ میرے ساتھ تھائی لینڈ کی ایک خاتون بیٹھی تھی جو مجھے انگریزی میں سمجھاتی جا رہی تھی کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ میں بہت خوش تھا کہ اس ملک میں اتنی قومی غیرت ہے کہ یہاں سب اپنی زبان میں تقریریں کر رہے ہیں۔ لیکن جلسے کے بعد ہمارے میزبان نے بڑے افسوس کے ساتھ کہا کہ یہ ہماری کمزوری ہے کہ ہم اس روانی سے باقی دنیا تک اپنی بات نہیں پہنچا سکتے جیسے انگریزی جاننے والے ملک پہنچاتے ہیں۔

کہنے کا مقصد تو یہ ہے کہ ہمارا نصاب تعلیم ایسا ہونا چاہیے کہ اردو کے ساتھ انگریزی زبان پر بھی ہمیں پوری قدرت حاصل ہو جائے ۔ آپ انگریزوں کا زمانہ ہی لے لیجیے۔ اعلیٰ درجوں میں تمام مضامین انگریزی میں ہی پڑھائے جاتے تھے اور طالب علم انہیں اچھی طرح سمجھتے بھی تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی اردو کی استعداد بھی کم نہیں ہوتی تھی۔ دونوں زبانیں نہایت سہولت کے ساتھ استعمال کی جاتی تھیں۔ اور یہ حالت قیام پاکستان کے بعد بھی جاری رہی۔ لیکن وقت کے ساتھ وہ اعلیٰ معیار باقی نہیں رہا جو پہلے تھا۔ یوں تو اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اردو میڈیم اسکولوں میں پڑھے ہیں اس کے باوجود ان کی اردو اور انگریزی دونوں ہی بہت اچھی ہیں۔ لیکن یہ استثنیٰ ہے۔ عام حالت یہ ہے کہ سائنس کے طالب علم انگریزی میں پروفیسروں کے لیکچر نہیں سمجھ سکتے۔ اس لئے انہیں اردو میں سمجھانا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی فزکس یعنی طبیعات کے استاد ہیں۔ وہ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد اور لاہور کی لمز یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے ہیں۔ آج کل وہ ایف سی کالج یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عام طلبہ انگریزی میں ان کا لیکچر نہیں سمجھتے اس لئے انہیں اردو میں سمجھانا پڑتا ہے۔ لمز میں ہی پولیٹیکل سائنس کے نوجوان استاد تیمور رحمٰن ہیں۔ انہوں نے طلبہ کی علمی استعداد دیکھتے ہوئے فلسفۂ سیاسیات کی تاریخ پر اردو میں آن لائن نصاب تیار کئے ہیں۔ یہ کورسز یا نصاب وہ انٹرنیٹ پر ڈال رہے ہیں۔ یقیناً یہ ایسے کام ہیں جن کا خیرمقدم کیا جانا چا ہیے۔ اس سے اردو میں سائنسی اور معاشرتی علوم رائج ہو رہے ہیں۔ لیکن اس سے تعلیم کے معیار کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ اگر اردو میں تعلیم کا معیار بلند کرنا ہے تو یہ کام اجتماعی سطح پر کیا جانا چاہئے۔ اور اجتماعی سطح پر یہ کام ایسا نصاب تعلیم بنانے سے ہی ہو سکتا ہے جس میں اردو اور انگریزی کو برابر کی سطح پر رکھا جائے۔ کوئی طالب علم جب فارغ التحصیل ہو کر نکلے تو اپنے مضمون کے علاوہ اسے دونوں زبانوں پر بھی قدرت حا صل ہو۔ اب رہا مختلف مضامین میں اردو زبان کی معیار بندی کا کام تو اس کی ذمہ داری مقتدرہ قومی زبان (جس کا اب کوئی فضول سا نام رکھ دیا گیا ہے) جیسے ادارے ہی لے سکتے ہیں۔ حکومت اردو کو سرکاری زبان کی سطح پر لانے کے لئے جو کمیٹی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے وہ کام مقتدرہ کو کرنا چاہیے۔ آخر مقتدرہ ہے کس کام کے لئے۔ لیکن مقتدرہ کا حال تو یہ ہے کہ کئی سال سے اس کا کوئی سربراہ ہی نہیں ہے۔ کسی اور محکمے کے ایک سرکاری افسر وہاں ڈیپوٹیشن پر کام کر رہے ہیں۔ انہیں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے اردو زبان کی ترقی یا اسے سرکاری زبان بنانے سے۔ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ مختلف مضامین کی اصطلاحات کی معیار بندی کے لئے ایک کمیٹی بنائی جائے تاکہ انگریزی اصطلاحوں کے ترجمے میں موجود وہ خلفشار اور انتشار ختم ہو جائے جو اس وقت ہمیں نظر آتا ہے۔ میں نے اس کمیٹی کے لئے چند نام بھی تجویز کئے تھے۔ یہ وہ عالم فاضل حضرات ہیں جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں کے ماہر ہیں۔ اصطلاحات اور تراکیب کی ایسی معیار بندی ہونا چاہیے کہ خیبر پختونخوا سے کراچی اور کوئٹہ تک ایک ہی اصطلاح استعمال کی جائے۔ اب چونکہ مجبوراً ہی سہی اردو کو سرکاری زبان بنانا ہی پڑے گا ۔ اس کیلئے یہ بنیادی کام کرنا ضروری ہے۔ اب رہیں پاکستان کی دوسری زبانیں تو وہ بھی قومی زبانیں ہی ہیں۔ اردو کے سرکاری زبان بن جانے کے بعد ان زبانوں کو بھی ترقی کرنے کا موقع ملے گا۔ ہندوستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں ہندی اور انگریزی سرکاری زبان ہیں۔ ہندی یا اردو ہندوستان کے کونے کونے میں سمجھی جاتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی پنجابی، بنگالی، اڑیہ، تمل،کنڑی، ملیالم، مراٹھی اور گجراتی جیسی علاقائی زبانیں بھی خوب ترقی کر رہی ہیں۔ ان زبانوں کے ادب کو ہی لے لیجیے۔ کسی طرح بھی وہ عالمی معیار سے کم نہیں ہے۔ اور ہاں، اگر واقعی اردو کو سرکاری زبان بنانا ہے تو تین مہینے میں اس کی معیار بندی کا کام مکمل نہیں ہو سکتا۔ تین مہینے میں انکم ٹیکس جیسے محکموں کے فارموں کا تو اردو میں تر جمہ ہو سکتا ہے لیکن تمام علوم کو اردو میں ڈھالنے کا کام اتنی جلدی نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک طویل عمل ہے۔ اس کے لئے ہمیں ایران سے سیکھنا ہو گا۔ اور یہ سب کام کیسے کیا جائے گا؟ اس سوال کا جواب اس کمیٹی پر چھوڑ دیجیے جو سرکاری افسروں پر نہیں بلکہ اپنے اپنے مضمون کے ماہروں پر مشتمل ہونا چاہیے۔ اب ہمارا امتحان یہی ہے کہ یہ کمیٹی کیسے بنائی جائے۔ اور یہ کام کیسے کرے ۔

Citation
Masood Ashar, “اب ہمارا امتحان شروع ہو تا ہے,” in Jang, July 15, 2015. Accessed on July 15, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%D8%A7%D8%A8-%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7-%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D8%B1%D9%88%D8%B9-%DB%81%D9%88-%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%A7%D9%93%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81/

Disclaimer
The item above written by Masood Ashar and published in Jang on July 15, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 15, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Masood Ashar:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s