کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے

Follow Shabnaama via email
وجاہت مسعود

تین مارچ 1971 کی شام صدر جنرل یحییٰ خان نے نو منتخب قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا۔ مشرقی پاکستان کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خان نے اسی شام استعفیٰ دے دیا۔ میجر صدیق سالک اپنی کتاب ’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘ میں لکھتے ہیں کہ اگلی صبح مجھے اپنے دفتر میں کسی قدر دل گرفتہ کیفیت میں دیکھ کر صاحبزادہ یعقوب علی خان نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور داغ کا شعر پڑھا ۔

نہیں کھیل، اے داغ، یارو سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے

رام پور کے نوابزادہ یعقوب علی خان کی ذہانت دیکھئے ، چھوٹی بحر کے دو مصرعوں میں اردو بنگالی زبان کی کشمکش بھی سمو دی، قوم کی تعمیر میں اجتماعی ناکامی کا مرثیہ بھی پڑھ دیا اور ریاست کے وجود کو درپیش سیاسی بحران میںفوجی قیادت کی کوتاہ نظری بھی بیان کر دی۔ داغ کے شعر کا یہ مفہوم اسے کیسے پہنچے گا جس نے لغت کی مدد سے اردو زبان سیکھی ہو۔ زبان ابلاغ کا ذریعہ ہی نہیں، تہذیب کی تاریخ بھی ہوتی ہے۔ شعر ہو، موسیقی ہو، مصوری ہو، فن کی تعریف یہ ہے کہ ظاہر سے پرے نکل جائے۔ شعر کا معنی لغت میں نہیں ملتا۔ موسیقی دفتری خط و کتابت نہیں جس کا متعین مفہوم ہو، تصویر شناخت کا نقش نہیں جسے ہاتھ میں لے کر کوئی گم شدہ کی تلاش میں نکلے۔ ۔ فن تو ہنر کا کمپا لگا کر کیفیت کی تتلی کو قابو میں لانے کی نامکمل کوشش ہے۔ یہ آہوئے ختن ہر بار ہاتھ بھر کے فاصلے سے نکل جاتا ہے۔ فنکار اپنے فن کے محض نصف کی حد پا لے تو یہی بہت ہے۔ باقی کا نصف سفر تو پڑھنے، سننے اور دیکھنے والے کی ہمت سے تعلق رکھتا ہے ۔ خبر یہ ہے کہ وفاقی سیکرٹری اطلاعات نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کو وفاقی حکومت کی طرف سے اردو زبان کے فروغ کے لئے ایک لائحہ عمل پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر، وزیر اعظم اوردوسرے اعلیٰ حکام اندرون ملک اور بیرون ملک اردو میں تقریر فرمائیں گے۔ وفاقی اعلانات، قوانین اور پالیسیاں انگریزی کے علاوہ اردو میں بھی شائع کی جائیں گی۔ سرکاری عمارتوں میں ہدایت نامے اور دوسری رہنما تختیاں انگریزی کے علاوہ اردو زبان میں بھی آویزاں کی جائیں گی۔ اس سے ہمارا قومی تشخص قائم ہو گا ، اردو کا بول بالا ہو گا ۔ خاطر جمع رکھئے، ایسا کچھ نہیں ہو گا ۔ زبان کا معاملہ ایسا سادہ نہیں ہے اور پاکستان میں تو قطعاً نہیں ہے جہاں اردو بلاشبہ رابطے کی زبان ہے لیکن ملک کے کسی خطے کی مادری زبان نہیں ہے۔ ہم نے سرکاری زبان، رابطے کی زبان ، روز مرہ میل جول کی زبان ، کاروباری زبان، تہذیبی زبان ، مذہبی زبان، حکمرانی کی زبان، اردو زبان پر اتنے بوجھ ڈال دئیے ہیں اور اصل بات سے گریزاں ہیں۔ زبان قوم کی تخلیقی اور پیداوار ی صلاحیت سے براہ راست تعلق رکھتی ہے۔ قوم کی پیداوار ی اور معاشی صلاحیت اتنی ہی زیادہ ہو گی جتنا حصہ اس قوم کی زبان ہم عصر علوم کی پیداوار میں ڈالے گی۔ ہمارا علمی معیار ہم عصر معلومات ، خیالات اور مہارتوں سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ مغل حکمران اکبر کا شمار انسانی تاریخ کے بہترین حکمرانوں میں ہوتا ہے۔ سولہویں صدی کا نصف آخر اکبر کا زمانہ حکومت ہے۔ اور یورپ میں چھاپہ خانے کی آمد اسی زمانے میں ہوئی۔ چھاپہ خانہ قدیم دنیا کو جدید دنیا سے الگ کرنے والاخط تنصیف ہے۔ چھاپہ خانے نے عام آدمی پر علم کے حصول اور علم کی پیداوار میں شرکت کے دروازے وا کئے۔ علم کا تصور ہی بدل گیا ، علم ایک جامد مظہر سے متحرک مکالمے میں تبدیل ہو گیا ۔ مہارتیں بدل گئیں، اقدار تبدیل ہوئیں اور نئے علوم نے نئے اداروں کی بنیاد رکھی۔ آج کا یورپ اور یورپ کی معاشی ترقی چھاپہ خانے کے مرہون منت ہیں۔ مشرق میں سلطنت عثمانیہ اور سلطنت مغلیہ نے چھاپہ خانے کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ آج کی دنیا میں مشرق اور مغرب کی خلیج اسی سے متعین ہوتی ہے۔ قومی آزادیوں کے بعد کی دنیا میں بیٹھ کر نوآبادیاتی نظام پر تنقید کرنا آسان ہے۔ حملہ آوروں کی تاریخ یورپی قبضہ گیری سے تو شروع نہیں ہوتی۔ نشاۃ ثانیہ نے اجنبی حکمرانی میں صرف اتنی تبدیلی پیدا کی کہ فاصلہ جاتی استحصال کو متعارف کرا دیا ۔ تین سو برس کی ہزیمت کا اصل سبب یہ تھا کہ ہم نے بدلتی ہوئی دنیا کے خدوخال مرتب کرنے میں شرکت نہیںکی، ہم اس کے ثمرات سے بھی محروم ہو گئے۔ اس خلیج کو پاٹنے کا ایک ڈھب یہ تھا کہ جدید دنیا سے ایسا ہی تخلیقی رابطہ پیدا کیا جائے جیسا عربوں نے یونانیوں سے اور پھر اہل یورپ نے عربوں سے کیا تھا ۔ ایک دوسرا ڈھب مخاصمت اور لاتعلقی کا تھا۔ مشکل یہ ہے وسیع تر دنیا میں لاتعلقی ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی۔ بلکہ اس سے پسماندگی اور محتاجی جنم لیتی ہے۔ ہماری آزادی کے رہنما جدید دنیا کے مقابلے میں احساس کمتری کا شکار نہیں تھے۔ اپنی صلاحیت کے بل پر دنیا سے اپنا جائز حصہ مانگتے تھے۔ نصب العین یہ تھا کہ ہمیں اپنی قوم کو ترقی دینا ہے اور اسے معیشت، علوم اور سیاسی حقوق میں دوسروں کے برابر لانا ہے۔ ہم میں سے بہت سوں نے ’مردہ پروردن‘ اور ’کھوئے ہوئوں کی جستجو‘ کا راستہ اختیار کیا کہ آسان ہے، باہم انا کی تسکین بہتر ہوتی ہے اور یہ کہ حتمی تجزیے میں مزید پسماندگی ، مزید غربت اور مزید استحصال کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اس میں موجودہ مفادات کی میعاد طویل تر ہونے کا امکان بھی پایا جاتا ہے۔ نئے استحصالی مفادات بھی استوار کئے جا سکتے ہیں۔ ذرا معلوم کر لیجئے گا کہ آزادی کے بعد سے جاگیرداری طبقے میں کون سے نئے فریق شامل ہوئے اور جاگیر داروںکے خلاف سب سے زیادہ نعرے بازی کس نے کی؟ گزشتہ صدی میں ہم نے اردو ہندی کی لڑائی سرکاری ملازمتوں کے لئے کی تھی۔ اس بحث میں ہم نے زبان کو جغرافیائی تعلق سے کاٹ ڈالا اور ایک مذہبی شناخت بھی عطا کر دی۔ زبان نامیاتی طور پر جنم لیتی ہے اور فروغ پاتی ہے۔ آنے والی معیشت میں سرکاری ملازمت بیس کروڑ لوگوں کے لئے روز گار کی ضمانت نہیں دے سکے گی ۔ نجی شعبے میں مہارت اور اہلیت کی بنیاد پر مسابقت ہو گی اور نجی شعبے کو بین الاقوامی منڈی میں مسابقت کرنا ہو گی ۔ وہاں بنیادی انسانی صلاحیت کے باوجود جدید علوم تک براہ راست رسائی نہ ہونے کے باعث ہمارے بچوں کی ذہنی اہلیت اور مہارتوں میں کمی واقع ہو گی۔ ہم عوام کو مقامی زبانوں تک محدود کرنے سے کچھ مدت کے لئے سیاسی اور سماجی قدامت پسندی تو قائم رکھ سکیں گے لیکن ناگزیر طور پر جنم لینے والی معاشی پسماندگی سے بالآخر سارا نظام انتشار کا شکار ہو جائے گا۔ آپ اشرافیہ سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں؟ اشرافیہ تو اپنے بچوں کو اندرون ملک اور بیرون ملک تعلیم دلا کے بدستور حکمران درجے تک لے آئے گی، گلی کوچوں میں بسنے والی مخلوق کیا کرے گی؟ اسٹیشن ماسٹر کا بیٹا چیف جسٹس کیسے بنے گا؟ ہمارا مسئلہ اردو زبان اور دوسری مقامی زبانوں کے ثقافتی تشخص سے تعلق نہیں رکھتا ، ہمارا حقیقی مسئلہ آج کے طرز احساس، علوم اور مہارتوں تک رسائی کا ہے۔ ہمارا مسئلہ جدید سیاسی اداروں کے استحکام کا ہے ۔ یوں ہم چاہیں تو اردو کی بنیاد پر اپنی شرح خواندگی بڑھا چڑھا کر بیان کر سکتے ہیں جیسے 2002ء میں مذہبی مدرسوں کی اسناد کو ہم نے گریجویشن کے برابر قرار دے دیا تھا۔ لیکن اس میں اصل خطرہ یہ ہے کہ قومی اسمبلی کو مجلس شوریٰ قرار دے دیا جائے گا۔ آپ پاکستان کے طول و عرض میں کس کس کو بتائیں گے کہ سیکولر ازم کا مطلب لادینیت نہیں ہوتا۔ ہم نے ذوق پارسائی میں 1977ء میں کچھ قانونی اور سماجی پابندیاں لگائی تھیں، بس رسائی کو ذرا محدود کر لیا، اسلام آباد اور کراچی میں حسب دستور سب اچھا ہے، غیر معیاری رسد سے اموات اوکاڑہ اور حیدر آباد میں ہوتی ہیں۔

زبان ایک صوابدیدی معاملہ ہے، لوگ وہی زبان اپنائیں گے جس میں انہیں روزگار ملے گا، علوم تک رسائی ملے گی اور جس زبان میں انہیں وسیع تر میل جول کے مواقع میسر آئیں گے۔ زبان سرکاری حکم کے نتیجے میں ترقی نہیں کرتی۔ اردو زبان سے ہمیں محبت ہے ، محبت نہیں ہوتی تو اقبال، فیض ، راشد، منٹو ،بیدی، غلام رسول مہر اور صلاح الدین احمد اس زمین سے پیدا نہیں ہوتے۔ عرض صرف یہ ہے کہ سیاسی رہنما کی بیرون ملک اردو میں تقریر کا پامال مضمون اخبار کے کالموں کے لئے رکھ چھوڑئیے، کچھ ایسا کیجئے کہ جہاں ہمارا صدر اور وزیر اعظم پہنچے، جسٹس رستم خان کیانی کے لفظوںمیں صدا آئے ’اردو دیاں فوجاں آئیاں‘۔

Citation
Wajahat Masood, “کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے,” in Jang, July 14, 2015. Accessed on July 14, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%DA%A9%DB%81-%D8%A7%D9%93%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%DA%BA-%D8%A7%D9%93%D8%AA%DB%92-%D8%A7%D9%93%D8%AA%DB%92-%D8%AA%DB%8C%D8%B4%DB%81%D9%94-%D9%86/

Disclaimer
The item above written by Wajahat Masood and published in Jang on July 14, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 14, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Wajahat Masood:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s