خواجہ محمد زکریا کا آشوب

Follow Shabnaama via email
پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد طاہر

خواجہ محمد زکریا اُردو ادب میں معروف نام ہے۔ آپ طویل عرصہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور میں شعبہ ادبیات اُردو سے وابستہ رہے۔ اَن گنت طلبہ نے آپ سے کسب فیض کیا اور اُردو ادب کی خدمت پر مامور ہوئے اس طرح آپ استادِ اساتذہ ہیں۔ آپ صاحب التصنیف نہیں،بلکہ صاحب التصانیف ہیں۔ ڈاکٹر خواجہ زکریا کی ایک کتاب تقریباً سال بھر قبل ’’آشوب‘‘ کے نام سے شائع ہوئی تھی، جس کی باز گشت در باز گشت علمی حلقوں اور ان کے شاگردوں کے دائروں میں خوب خوب سُنی گئی۔ جب یہ کتاب’’ آشوب‘‘ شائع ہوئی تو اس پر اہلِ علم نے مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے ناقدانہ نظر ڈالی اور اظہارِ خیال بھی کیا، اور مختلف تحریریں طبع ہوئیں۔ اِسی سلسلے کی ایک کڑی کتاب ’’ڈاکٹر خواجہ زکریا کی شاعری نقد و نظر‘‘ کے عنوان سے ہے، جو حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب شگفتہ زکریا کی شگفتہ قلمی کاوش ہے۔ موصوفہ ان کی شاگرد بھی رہی ہیں۔ دونوں میں ادب کا تعلق قدر مشترک تھا، جو دونوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کیا گیا، اس طرح محترمہ نے ڈاکٹر زکریا صاحب کو بحیثیت شوہر اور بحیثیت استاد دونوں طرح دیکھا اور پرکھا۔ اس طرح وہ خواجہ صاحب کی جلوت و خلوت کی ساتھی رہیں، اس طرح آپ کتاب سے لے کر فراش تک ہر گرم و سرد نشیب و فراز اور باریک سے باریک امور سے خوب واقف ہیں، اور جملہ راز ہائے درون خانہ کی امین ہیں۔

خواجہ صاحب کے بارے میں دعوے سے کہہ سکتی ہیں ’’ہمیں یاد ہے سب ذرا ذرا‘‘ موصوفہ خود بھی اُردو زبان و ادب کی فاضلہ ہیں۔ اُردو زبان میں انہوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی۔ ان تمام نسبتوں کی وجہ سے ان کے دِل میں جنبش پیدا ہوئی، قلم اُٹھایا۔ آشوب پر اپنا مافی الضمیر قرطاس پر منتقل کر دیا۔ اس طرح اہلیہ اور شاگرد ہونے کا حق ادا کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ اگر تعلق شاگردی کے ساتھ نکاح کا بھی ہو اور اس تعلق میں حب تام کی شیرینی اور حلاوت بھی شامل ہو تو انسان اظہارِ رائے کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا۔

اس بات کا اظہارِ موصوفہ نے خود بھی خوبصورت انداز میں کیا ہے۔انہوں نے اپنی کتاب کے آغاز میں دیباچہ لکھا ہے، جس کا عنوان دردمدح تو باندھا۔ لکھتی ہیں میرا دیباچہ در مدح تو لکھنے کا مقصد ان کی شاعری کی توصیف یا تنقید کرنا نہیں، بلکہ یہ ایک بیوی کی طرف سے شوہر کے لئے محبت اور سپاس۔۔۔ اس گزاری کے اظہار کے سوا کچھ نہیں۔ موصوفہ اس بات پر بھی مزید سراپا سپاس ہیں کہ ان کے شوہر نے غیر رومانی ہونے کا جو حصار اپنے گرد کھینچ رکھا ہے۔ بیوی ہونے کے ناتے ان کے لئے بے حد فائدہ مند رہا۔ کہ لڑکیوں کی اکثریت والے کالج میں نصف صدی گزارنے کے بعد بھی سوائے پسند کی شادی کے ان کا کوئی سکینڈل منظر عام پر تو کیا پس منظر میں بھی نہیں آیا۔کتاب کی مصنفہ کو شائد یہ ادراک نہیں کہ سکینڈل اگر منظر عام پر آ جائے تو سکینڈل نہیں رہتا، بلکہ ’’سیکنڈ وِل‘‘ بن جاتا ہے، اور پس منظر ہمیشہ پس منظر ہی میں رہتا۔ کبھی پیش منظر نہیں بنتا۔ ہماری نپی تلی رائے ہے کہ موصوفہ کی طرف سے آشوب پر اور نقد و نظر کتابی شکل میں خوبصورت، بلکہ انتہائی خوبصورت اظہارِ محبت ہے۔

یہ کتاب لکھ کر انہوں نے حق شاگردی اور حق زوجگی دونوں ادا کر دینے کی کوشش کی ہے۔ شروع میں چند صفحات پر مشتمل ان کا اپنا مضمون ہے، جس میں انہوں نے خواجہ صاحب کی شعری اور نثری تحریروں کے حسن و قبح پر رائے زنی کی ہے،جس میں حسن کا پلڑا جھکتا محسوس ہوتا ہے۔ کتاب کے بقیہ حصے میں انہوں نے وہ تمام اظہاریے اکٹھے کر دیے ہیں، جو دیگر حضرات نے ڈاکٹر خواجہ کی ’’آشوب‘‘ پر مختلف اوقات میں لکھے اور ان قلبی و قلمی تجزیوں کو کتابی شکل دے کر شائع کر دیا ہے۔ خواجہ صاحب نے آشوب میں لکھا ہے کہ فطرت نے انہیں شاعر پیدا کیا تھا،مگر حالات نے انہیں تنقید و تحقیق کی طرف دھکیل دیا۔ ممکن ہے ان کی بات درست ہو، لیکن ان کے ساتھی اہل ِ قلم خواجہ زکریا کی شاعرانہ صلاحیتوں کو تائیدی سند نہیں دیتے۔ ہم اس معاملے میں فیصل نہیں،ہر شخص کا میدان اپنا ہے۔ پرواز خیال پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ ڈاکٹر شگفتہ کی کتاب میں نقد و نظر کے حوالے سے انیس نامور اہلِ قلم کے قلمی احساسات شامل ہیں۔ ہماری نظر میں ہر مضمون اپنی جگہ انمول موتی ہے۔ تاہم ان تمام مضامین میں ڈاکٹر انور سدید، ڈاکٹر انور محمود خالد، اقبال فیروز، ڈاکٹر غافر شہزاد کے مضامین بڑے دقیع اور قابلِ قدر ہیں۔ ڈاکٹر شگفتہ کی کتاب کا موضوع خالصتاً اُردو ادب سے تعلق رکھتا ہے۔

انہوں نے ایک دو مقامات پر کچھ فلسفیانہ باتیں بھی لکھی ہیں، جو ان کے زیرک میلان طبع کا پتہ دیتی ہیں۔ موت وحیات ایک فلسفہ ہے جو خود کو منواتا ہے۔ انسان اسیر نظر ہے، جو دیکھتا ہے اسی کو صحیح سمجھتا ہے۔ اصل حقیقت کی نشاندہی خالق کائنات نے انبیاء کے ذریعے کی۔ کوئی عقل کے پیچھے لگے اور مانے نہ مانے، لیکن حقیقت منتظر لازماً منکشف ہو گی۔ لوگ مرنے والے پر کیوں روتے ہیں۔ مرنے والے کو روتے ہیں یا مرنے والے سے وابستہ مفادات کے مفقود ہونے کو روتے ہیں۔ شگفتہ زکریا نے اصل بات کہی ہے۔ دُکھ انسان کے مرنے کا نہیں، بلکہ اپنائیت، خلوص اور محبت کے اس تعلق کے ٹوٹنے کا ہوتا ہے، جو اس شخص کی ذات سے وابستہ ہوتا ہے۔ ان مضامین کے علاوہ پانچ مضامین تاثراتی ہیں، جن سے کتاب کی عام حلقوں میں پذیرائی اور قبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہی تاثراتی مضامین میں ایک مضمون راقم کا بھی شامل کر کے انہوں نے مجھے سرفراز کیا ہے۔ مَیں ان کا احسان مند ہوں۔ کتاب کے مطالعے سے یہ بات عیاں ہے کہ مذکورہ کتاب اُردو ادب میں اچھا اضافہ ہے۔ آخر میں معذرت کے ساتھ ایک عرض۔۔۔ ہم نہ شاعر نہ ادیب۔ اُردو ادب میں مجھ جیسے مبتدی کا قلم چلانا نہیں، بلکہ قلم گھسیٹنا ایک جسارت سے کم نہیں۔ آشوب پر کتاب کا نام ’’خواجہ محمد زکریا کی شاعری نقد و نظر‘‘ کی بجائے آشوب پُرآشوب ہوتا تو شاید اس میں ادب کی چاشنی دو چند محسوس ہوتی۔

Citation
Qari Muhammad Tahir, ” خواجہ محمد زکریا کا آشوب ,” in Express Urdu, July 14, 2015. Accessed on July 14, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/14-Jul-2015/245416

Disclaimer
The item above written by Qari Muhammad Tahir and published in Express Urdu on July 14, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 14, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Qari Muhammad Tahir:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s