کہانی روٹھ گئی ہے۔۔۔!!!

Follow Shabnaama via email
گل نوخیز اختر

میں نے 1986 ء میں لکھنا شروع کیا تو مجھے کہانیاں بہت پسند تھیں‘ میرا آغاز کہانیوں سے ہوا اور افسانوں سے میری محبت بڑھتی گئی۔ اُس دور میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب افسانوی مجموعہ یا ناول ہوتا تھا۔ تب شاعری کا اتنا رواج نہیں پڑا تھا۔ لیکن پھر اچانک ہی سب کچھ مختصر ہوتا چلا گیا‘ ناول سے لے کر افسانے تک چند ایک مصنفین کو چھوڑ کر‘ہر کتاب فٹ پاتھ پر آتی چلی گئی۔ یہی نہیں ہر چیز مختصر ہونے لگی‘ شاعری چھوٹی بہروں میں رواج پاگئی‘ جو لوگ افسانے لکھتے تھے انہوں نے بھی اس کی ’’نصابی طوالت‘‘ کو کم کرنا شروع کر دیا۔ رہ گئے ناول نگار تو انہوں نے صوفیانہ ناول نگاری کی شکل میں کمرشل ازم کا حصہ بننے میں ہی عافیت جانی۔اردو اکیڈمی ملتان کے اجلاسوں میں بھی کبھی اتنی بے رونقی نہیں تھی۔ لاہور آیا تو پاک ٹی ہاؤس نے جکڑ لیا اور حلقہ اربا ب ذوق کا کوئی اجلاس قضا نہ ہونے دیا۔مجھے منٹو‘ کرشن چندر‘ بیدی‘ قرۃ العین حیدر‘ غلام عباس‘ انتظار حسین‘ احمد ندیم قاسمی‘ منشا یاد سمیت نئے افسانہ نگاروں کو بھی پڑھنے کا جنون تھا‘ کہانی میری کمزوری تھی اور مجھے لگتا تھا کہ میں جو کہانی پڑھتاہوں اسی کا ایک کردار بن جاتاہوں۔ منشا یاد کے افسانوں نے ہمیشہ مجھے نئے سحر میں مبتلا کیا‘ ان سے جتنی دفعہ بھی ملاقات ہوئی مجھے وہ کوئی طلسماتی شخصیت نظر آئے۔ رشید امجد کے علامتی افسانے میرے لیے ہمیشہ سوچ کے نئے در وا کرتے رہے۔ آج سے بیس سال پہلے لاہور میں بھی نوجوان افسانہ نگاروں کا ایک جم غفیر تھا لیکن پتا نہیں اکثریت کہاں کھو گئی ہے۔ نئی بات کے کالم نگار جمیل احمد عدیل انتہائی اعلیٰ پائے کے افسانہ نگار ہیں لیکن مجھے نہیں یاد پڑتا انہیں تازہ افسانہ لکھے یا مجھے ان کا افسانہ پڑھے کتنے سال بیت گئے ہیں۔علی نواز شاہ ناول تو لکھ رہے ہیں لیکن ان کا افسانہ پڑھنے کو روح ترس گئی ہے۔علمدار حسین بہت اچھے افسانے لکھتے تھے لیکن شائد غم روزگار نے انہیں بھی مصروف کر دیا ہے۔ اعظم خاں بھی ناول نگاری میں ہی زیادہ مصروف ہوگئے ہیں۔ اب شاعری زیادہ نظر آتی ہے کیونکہ نثر سننے کا کسی کے پاس وقت نہیں۔ نثر اب صرف گفتگو یا کالموں تک محیط ہوکر رہ گئی ہے۔

کہانی ہماری روایت تھی‘ اب بھی ہے لیکن ہم اس میں حقیقت کا زہر اپنی شرح سے تجاوز کرچکا ہے۔ اب لوگ کہانی سنتے نہیں دیکھتے ہیں۔جب سے سکرین پر کردار جیتے جاگتے نظر آنے شروع ہوئے ہیں ‘ پڑھنے کی طلب ختم ہوگئی ہے۔ یہ کردار جب صفحات کے اندر ہوتے تھے تو ہر کوئی ان کی اپنی اپنی شکل بنا لیا کرتا تھا۔ مثلاً میری عمر کے اکثر دوستوں نے بچپن میں ابن صفی کی عمران سیریز بہت پڑھی ہوگی۔ اس کا مزا اس لیے بھی تھا کیونکہ عمران کا کردار سب نے اپنی اپنی مرضی کا تشکیل دیا ہوا تھا۔ جوزف‘ جوانا‘ جولیا‘ تنویر‘ صفدر ‘ سلیمان اور بلیک زیرو کی شکلیں بھی ہر کسی کے مزاج کے مطابق تھیں۔یہ چونکہ خیالی کردار تھے لہذا ہر کوئی جیسا چاہتا ویسا تصور بنا لیتا۔ بہت سے ٹی وی چینلز پر عمران سیریز شروع کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پراجیکٹ مکمل کرنے کی ہمت کسی کی نہیں ہوئی۔ یہ کام جو چینل بھی کرے گا نقصان اٹھائے گا کیونکہ اِس سیریز کے کرداروں کے اتنے ہی چہرے ہیں جتنے اس کے پڑھنے والے ہیں۔اس کے برعکس آج کا ٹی وی ڈرامہ پورے کا پورا کردار زندہ شکل میں سامنے لے آیا ہے۔

تحریر کا لمس ہم سے دور ہوتا جارہا ہے۔میں ہزاروں ٹی وی سکرپٹس لکھ چکا ہوں اور دعوے سے کہہ رہا ہوں کہ بے شمار ایسی چیزیں ہیں جو صرف احاطہ تحریر میں ہی لائی جاسکتی ہیں۔ ان کا مزا انہیں پڑھنے میں ہے ‘ دیکھنے میں نہیں۔لیکن پڑھنے کا وقت کس کے پاس ہے؟ کتاب کون خریدے؟ اور کیوں خریدے؟ ؟؟ ڈبل روٹی سستی اور کتاب مہنگی ہوگی تو ایسا ہی ہوگا۔ مجھے یاد ہے غالباً 1995ء تھا‘ میں مالی طور پر اس قابل نہیں تھا کہ کتاب خرید کر پڑھ سکوں لہذا مال روڈ لاہور پر موجود ایک بڑے بک سنٹر پر چلا جاتا تھا‘ وہاں کوئی ایک کتاب منتخب کرتا اور کھڑے کھڑے دس پندرہ صفحات پڑھ لیتا۔ اگلے دن دوبارہ آتا اور یہ سلسلہ وہیں سے جڑتا جہاں سے ٹوٹتا تھا۔ بے شمار کتابیں میں نے یونہی کھڑے کھڑے پڑھیں اور مجال ہے جو کبھی تھکن کا احساس ہوا ہو۔اُس وقت وہاں کی انتظامیہ بھی دوکان میں کتاب پڑھنے کو برا نہیں سمجھتی تھی ‘ آج کل تو ہر بک سنٹر پر نمایاں طور پر لکھا ہوتاہے’’سٹال پر کھڑے ہوکر کتاب پڑھنا منع ہے‘‘۔

سعادت حسن منٹو میرا عشق تھا۔۔۔جوانی میں منٹو کی تحریر ویسے ہی پاگل کردیتی ہے لیکن مجھے اب بھی اس کی تحریر پڑھنے کی عادت ہے‘ اس کے کئی دفعہ پڑھے ہوئے افسانے بھی مجھے ہر دفعہ نیا لطف دیتے ہیں ۔جملے کا تیکھا پن منٹو کے قلم کا اعجاز ہے ‘ مجھے لگتا ہے کہ منٹوہم سب کے اندر رہتا ہے لیکن ظاہر کسی کسی پر ہوتاہے۔داستان گوئی کا فن تو عرصہ ہوا اٹھ چکا لیکن افسانوں نے کہانی کو اور کہانی نے افسانوں کو زندہ رکھا ہوا تھا۔یہ سلسلہ انجام کو پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ بھلا کہانی کے بغیر ہم کیسے زندہ رہ سکتے ہیں‘کیا آپ کی زندگی میں کوئی کہانی نہیں‘ کیا آپ کی زندگی خالی سلیٹ ہے؟ ناممکن ہے کہ کسی کے پاس کوئی کہانی نہ ہو‘ جس دن دنیا سے کہانی اٹھ گئی اس دن سمجھ لیں کہ ’’کہانی ختم‘‘۔کہانی گفتگو ہے‘ اظہار ہے‘ ابلاغ ہے‘ حیرت کدہ ہے‘ ارتکاز ہے‘انکشاف ہے۔۔۔لیکن قلم کی کہانی اب نہیں پڑھی جاتی۔ اب افسانوں کی کتابیں چھپتی ضرور ہیں‘ بکتی نہیں۔۔۔شاعری بھی اب کہاں فروخت ہوتی ہے‘ بک سنٹرز میں جاکر دیکھیں‘ سینکڑوں کی تعداد میں گودام شاعری کی کتابوں سے بھرے پڑے ہیں۔ انار کلی کے باہر ہر اتوار کو جو پرانی کتابوں کا میلہ لگتاہے اس میں ہر دانشور کی کتاب زمین پر رکھی مل جاتی ہے۔

میرا بڑا دل چاہتا ہے کہ میں سب کچھ چھوڑ کر صرف افسانے لکھوں‘ لیکن افسانوں سے میرا بجلی کا بل نہیں ادا ہوتا‘ میرے بچے کے سکول کی فیس‘ گھر کا کرایہ‘ کچن کا خرچہ‘ گاڑی کا پٹرول اور ملازموں کے پیسے نہیں ادا ہوتے۔ مجھے افسانوں سے دور رہنے کا معاوضہ ملتاہے‘ کئی ادھورے افسانے پڑے ہیں جن پر سالوں سے گرد جم چکی ہے۔۔۔ایک لائن تک لکھنے کی توفیق نہیں ہوتی البتہ ٹی وی سکرپٹس اور کالموں کے ڈھیرلکھتا ہوں اور اپنا گھر چلا تا ہوں۔ گھرچلاؤں یا افسانہ؟؟؟ کبھی کبھی ذہن میں کوئی کہانی کلبلاتی ہے تو دل مچل جاتاہے لیکن لکھتا افسانہ ہوں ‘ بن کالم جاتاہے۔ادبی محفلیں‘ ادبی دوست ایک عرصے سے دور ہوچکے‘ میڈیا نے کچھ اس انداز سے جکڑا ہے کہ میں کوشش کے باوجود نکل نہیں پارہا۔ جب میرے پاس پیسے نہیں تھے تو کہانیاں بارش کی طرح مجھ پر برسا کرتی تھیں‘ آج جب حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں تو کہانیاں خوفزدہ ہوکر کہیں چھپ گئی ہیں۔ مجھے یقین نہیں ہوتا کہ میں نے اپنے افسانوں کی پہلی کتاب’’چھار جی‘‘ ایل ڈی اے سمن آباد کے گراؤنڈ میں بیٹھ کر لکھی تھی۔ ایک افسانہ ختم ہوتا تو دوسرا ہاتھ باندھے آن موجود ہوتا۔ کہانیوں کی سرگوشیاں میرے کانوں میں گونجا کرتی تھیں۔۔۔لیکن اب نہیں۔۔۔کہانی کو بھی پتا چل گیا ہے کہ میں اب ’’میڈیا‘‘ کا ہوچکا ہوں‘ اسی لیے وہ چپ چاپ میرے ذہن سے اتر گئی ہے۔۔۔اب تو میرے پاس اسے منانے کا بھی وقت نہیں۔۔۔!!!

Citation
Gul-e-nokhaiz, “کہانی روٹھ گئی ہے۔۔۔!!!,” in Daily Nai Baat, July 14, 2015. Accessed on July 15, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%DA%A9%DB%81%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%B1%D9%88%D9%B9%DA%BE-%DA%AF%D8%A6%DB%8C-%DB%81%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94

Disclaimer
The item above written by Gul-e-nokhaiz and published in Daily Nai Baat on July 14, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 15, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Gul-e-nokhaiz:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s