پاکستان میں نفاذِ اردو

Follow Shabnaama via email
لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

68برس کے بعد ہی سہی، آئینِ پاکستان کی اس شق پر بھی عملدرآمد کرنے کے دروازے کھل گئے کہ ’’ہر سطح پر‘‘ اردو ملک کی قومی زبان ہوگی۔ اس کا کریڈٹ وزیراعظم محمد نوازشریف کو سزاوار ہے کہ انہوں نے (6جولائی 2015ء کو) ایک حکم نامے پر دستخط کرکے اس کو باقاعدہ ایک قانون بنا دیا۔۔۔ جہاں تک ’’ہر سطح پر‘‘ کا تعلق ہے کہ اس کی وضاحت بعد میں کروں گا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس جواد۔ ایس خواجہ کی سربراہی میں نفاذِ اردو کے بارے میں ایک رٹ زیر سماعت تھی جس کے دوران فاضل عدالت کو بتایا گیا کہ نہ صرف یہ کہ ملک کے اربابِ اختیار ملک کے اندر اور ملک کے باہر صرف اور صرف ارد ومیں خطاب کیا کریں گے، بلکہ آئندہ تین ماہ میں ایسے اقدامات بھی کئے جائیں گے کہ حکومت کے تمام محکمے اپنی ساری انگریزی دستاویزات کا اردو میں ترجمہ کرکے اسے شائع کرنے کے پابند ہوں گے۔یہ اگرچہ ایک مستحسن اقدام ہے، لیکن تین ماہ کی یہ مدت اس اقدام کی تکمیل کے لئے ہرگز کافی نہیں۔6اکتوبر 2015ء کو آ پ دیکھ لینا کہ حکومت کو اس مدت میں توسیع کرنا پڑے گی۔اگر تین تین ماہ کی تین بار توسیع بھی کر دی جائے تو ایک سال کے اندر اندر اس عظیم کام کی تکمیل ایک مژدۂ جانفزاء سے کم نہیں ہوگی۔ حکومت کے تمام محکموں اور اداروں کی جملہ خط و کتابت اور دستاویزات کا ترجمہ کرنے کے علاوہ بھی دفاتر میں اردو زبان کے کمپوزروں کی تعیناتی، ان کے مشاہرے کا سکیل اور ملازمت کی دوسری شرائط کا طے کرنا وغیرہ ایک وقت طلب مسئلہ ہوگا۔ سیکرٹری انفرمیشن، کیبنٹ سیکرٹری اور چیف سیکرٹری کو اگر واقعی 90دنوں کے اندر یہ کام کرنا ہے تو ان کو اپنے عملے سمیت دن رات ایک کرنا پڑیں گے۔ خود اعلیٰ عدالتوں میں نفاذِ اردو کا اطلاق کرنے کے لئے بھی قانون کی درجنوں کتابوں کو مشرف بہ زبانِ اردو کرنا پڑے گا۔ عام پاکستانی شہری کو ابھی اندازہ نہیں کہ یہ کارِ دشوار ایورسٹ سر کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن اگرایورسٹ کی تسخیر1953ء میں شروع ہوگئی تھی اور پھرہر برس اس کی تسخیر کرنے والوں اور والیوں میں اضافہ ہوتا رہا تو ہمیں 1953ء اور سرایڈمنڈہلیری دونوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ نفاذ اردو کی ایورسٹ سر کرنے کے لئے سال 2015ء اور محمد نوازشریف کا نام آنے والی پاکستانی نسلوں کے لئے فاتحِ ایورسٹ کی طرح یادگار رہے گا۔۔۔ مجھے یہ کہنے میں بھی کچھ باک نہیں کہ 6جولائی کا دن ’’یومِ نفاذِ اردو‘‘ کے طور پر ہر سال منایا جائے۔ تعطیل تو نہ کی جائے،لیکن اس کی بجائے میڈیا پر مختلف سرکاری محکمہ جات کی ان دستاویزات کی ضرور تفصیل شائع کی جائے جو اس سلسلے میں ایک سال میں ترجمہ کی گئیں۔ نفاذِ اردو کا باقاعدہ ایک سیکرٹریٹ قائم کیا جائے، جس کا سربراہ ایک وفاقی سیکرٹری ہو اور ان کے ماتحت وہ سارا لاؤ لشکر بھی ہو جو دوسرے محکموں کے لئے منظورشدہ ہوتا ہے۔ اس کا باقاعدہ ایک بجٹ بنایا جائے، ایسے افسروں اور ماتحت اہلکاروں کا انتخاب کیا جائے جو اس ٹاسک کے لئے موزوں اور کوالیفائیڈ ہوں۔

حال ہی میں اوفا (روس) میں جو کانفرنسیں/ ملاقاتیں ہوئیں، ان میں بھارتی وزیراعظم نے اپنی قومی زبان (ہندی) میں خطاب کیا۔ وہ پہلے بھی بین الاقوامی فورموں میں اپنی زبان ہی میں تقریر کرتے رہے ہیں۔ اس میں پاکستان اور بھارت کے مقررین کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ کسی کانفرنس میں لکھی ہوئی تقریر سے ہٹ کر بھی ایسی باتیں کہہ سکتے ہیں جو وقت اور موضوع کی مناسبت سے اچانک ان کے دماغ میں آتی ہیں۔ پاکستانی مقررین کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کوپہلے سوچنا اپنی مادری زبان میں پڑتا ہے، پھر انگریزی میں اس سوچ کا ترجمہ کرنا پڑتا ہے اور پھر انگریزی زبان کا سکہ بند لب و لہجہ اور تلفظ بھی اختیار کرنا پڑتا ہے۔یہ تینوں عمل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نہیں، بلکہ مختلف ہیں اور مختلف بھی ایسے کہ ایک کی ابجد، دوسرے کی ابجد سے سراسر 180ڈگری معکوس ہے۔ چنانچہ زبانِ غیر میں شرحِ آرزو کرتے کرتے خیال کی وہ اورجنلٹی (Originality) شدید متاثرہوتی ہے جو مقرر کے دل کی آواز ہوتی ہے۔

ہر سطح سے میری مراد، ان سطوح سے ہے جو وطن کی رکھوالی سے بھی متعلق ہیں۔ وزیراعظم کو اس موضوع پر افواج سے بریفنگ لینی چاہیے کہ ان کا نقطہ ء نظر کیا ہے۔ اگر افواج (میری مرادملٹری سے ہے، جس میں تینوں دفاعی سروسیں شامل ہیں) میں قیادت کی ہر سطح پر اردو رائج نہ کی گئی تو اس تفریق/ امتیاز کا براہِ راست اثر فوج کے مجموعی مورال پر پڑے گا۔(جو آج بھی پڑ رہا ہے) اگر محمد نوازشریف نے اپنے تمام وزراء اور ’’امراء‘‘ کو بیرون ملک جا کر اردو میں بات چیت کی ہدائت کی ہے تو وہ سپریم کمانڈر سے یہ ہدائت نامہ (Directive)بھی جاری کروائیں کہ افواجِ پاکستان میں بھی تمام سطح پر اردو رائج کی جائے۔ میرا خیال ہے فوج کی اعلیٰ لیڈرشپ کے پاس ایسا کوئی عذر نہیں جو نفاذِ اردو کی راہ میں حائل ہو۔ اگر وزیراعظم نے یہ بت توڑا ہے تو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کو بھی ہدایت کی جائے کہ وہ سویلین لیڈرشپ کے شانہ بشانہ چلیں۔ اس کے لئے مدت کی کمی بیشی کا تعین البتہ کیا جا سکتا ہے۔

راقم السطور کو اردو زبان میں دفاعی امور پر لکھتے لکھاتے تین عشرے گزر چکے ہیں۔ پہلا ڈیڑھ عشرہ وردی میں گزارا اور نفاذِ اردو کے سلسلے میں جو کچھ کیا وہ ایک آرٹیکل نہیں، ایک ’’خودستائشی‘‘ مقالے کا موضوع ہے۔ پاک آرمی میں اس باب میں بہت سا کام ہو چکا ہے، آرمی چیف، جنرل راحیل شریف کو اس سلسلے میں اگرچہ خود بھی کافی واقفیت ہوگی لیکن وہ اگر اپنے انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ اولیوایشن (IGT&E) سے ایک تفصیلی بریفنگ لے کر اس کا سلسلہ وہیں سے شروع کریں کہ جہاں سے جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں ٹوٹا تھا تو یہ کام چنداں مشکل نہیں ہوگا۔ اگر فوج کے ریٹائرڈ جرنیل، ائر مارشل اور ایڈمرل میڈیا پر آکر بڑی فصیح و بلیغ اردو میں سٹرٹیجک اور غیرسٹرٹیجک (ٹیکٹیکل) لیول کے موضوعات پر روزانہ ٹاک شوز میں بول رہے ہوتے ہیں تو ان کی ساری ٹریننگ تو انگریزی زبان میں ہوئی ہوتی ہے۔ وہ اگر انگریزی آموختہ کو اردو میں تبدیل کرنے میں کوئی مشکل نہیں دیکھتے تو خالص (ہارڈکور) دفاعی موضوعات پر اس لسانی فصاحت و بلاغت اور طلاقت کا مظاہرہ کیوں نہیں کر سکتے؟ جہاں تک انگریزی کی پروفیشنل اصطلاحات کا تعلق ہے تو ان کو ’’اردوانے‘‘ کی ضرورت نہیں۔ان کو ویسے کا ویسے انگریزی زبان میں رہنے دیا جائے تو مسلح افواج کی لیڈرشپ میں بعض عناصر کا یہ اعتراض دور کیا جا سکتا ہے کہ انگریزی زبان کی پروفیشنل اصطلاحات و تراکیب کو اردو میں ڈھال کر تفہیمِ مقصد کی توقع ممکن نہی68برس کے بعد ہی سہی، آئینِ پاکستان کی اس شق پر بھی عملدرآمد کرنے کے دروازے کھل گئے کہ ’’ہر سطح پر‘‘ اردو ملک کی قومی زبان ہوگی۔ اس کا کریڈٹ وزیراعظم محمد نوازشریف کو سزاوار ہے کہ انہوں نے (6جولائی 2015ء کو) ایک حکم نامے پر دستخط کرکے اس کو باقاعدہ ایک قانون بنا دیا۔۔۔ جہاں تک ’’ہر سطح پر‘‘ کا تعلق ہے کہ اس کی وضاحت بعد میں کروں گا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس جواد۔ ایس خواجہ کی سربراہی میں نفاذِ اردو کے بارے میں ایک رٹ زیر سماعت تھی جس کے دوران فاضل عدالت کو بتایا گیا کہ نہ صرف یہ کہ ملک کے اربابِ اختیار ملک کے اندر اور ملک کے باہر صرف اور صرف ارد ومیں خطاب کیا کریں گے، بلکہ آئندہ تین ماہ میں ایسے اقدامات بھی کئے جائیں گے کہ حکومت کے تمام محکمے اپنی ساری انگریزی دستاویزات کا اردو میں ترجمہ کرکے اسے شائع کرنے کے پابند ہوں گے۔یہ اگرچہ ایک مستحسن اقدام ہے، لیکن تین ماہ کی یہ مدت اس اقدام کی تکمیل کے لئے ہرگز کافی نہیں۔6اکتوبر 2015ء کو آ پ دیکھ لینا کہ حکومت کو اس مدت میں توسیع کرنا پڑے گی۔اگر تین تین ماہ کی تین بار توسیع بھی کر دی جائے تو ایک سال کے اندر اندر اس عظیم کام کی تکمیل ایک مژدۂ جانفزاء سے کم نہیں ہوگی۔ حکومت کے تمام محکموں اور اداروں کی جملہ خط و کتابت اور دستاویزات کا ترجمہ کرنے کے علاوہ بھی دفاتر میں اردو زبان کے کمپوزروں کی تعیناتی، ان کے مشاہرے کا سکیل اور ملازمت کی دوسری شرائط کا طے کرنا وغیرہ ایک وقت طلب مسئلہ ہوگا۔ سیکرٹری انفرمیشن، کیبنٹ سیکرٹری اور چیف سیکرٹری کو اگر واقعی 90دنوں کے اندر یہ کام کرنا ہے تو ان کو اپنے عملے سمیت دن رات ایک کرنا پڑیں گے۔ خود اعلیٰ عدالتوں میں نفاذِ اردو کا اطلاق کرنے کے لئے بھی قانون کی درجنوں کتابوں کو مشرف بہ زبانِ اردو کرنا پڑے گا۔ عام پاکستانی شہری کو ابھی اندازہ نہیں کہ یہ کارِ دشوار ایورسٹ سر کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن اگرایورسٹ کی تسخیر1953ء میں شروع ہوگئی تھی اور پھرہر برس اس کی تسخیر کرنے والوں اور والیوں میں اضافہ ہوتا رہا تو ہمیں 1953ء اور سرایڈمنڈہلیری دونوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ نفاذ اردو کی ایورسٹ سر کرنے کے لئے سال 2015ء اور محمد نوازشریف کا نام آنے والی پاکستانی نسلوں کے لئے فاتحِ ایورسٹ کی طرح یادگار رہے گا۔۔۔ مجھے یہ کہنے میں بھی کچھ باک نہیں کہ 6جولائی کا دن ’’یومِ نفاذِ اردو‘‘ کے طور پر ہر سال منایا جائے۔ تعطیل تو نہ کی جائے،لیکن اس کی بجائے میڈیا پر مختلف سرکاری محکمہ جات کی ان دستاویزات کی ضرور تفصیل شائع کی جائے جو اس سلسلے میں ایک سال میں ترجمہ کی گئیں۔ نفاذِ اردو کا باقاعدہ ایک سیکرٹریٹ قائم کیا جائے، جس کا سربراہ ایک وفاقی سیکرٹری ہو اور ان کے ماتحت وہ سارا لاؤ لشکر بھی ہو جو دوسرے محکموں کے لئے منظورشدہ ہوتا ہے۔ اس کا باقاعدہ ایک بجٹ بنایا جائے، ایسے افسروں اور ماتحت اہلکاروں کا انتخاب کیا جائے جو اس ٹاسک کے لئے موزوں اور کوالیفائیڈ ہوں۔

حال ہی میں اوفا (روس) میں جو کانفرنسیں/ ملاقاتیں ہوئیں، ان میں بھارتی وزیراعظم نے اپنی قومی زبان (ہندی) میں خطاب کیا۔ وہ پہلے بھی بین الاقوامی فورموں میں اپنی زبان ہی میں تقریر کرتے رہے ہیں۔ اس میں پاکستان اور بھارت کے مقررین کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ کسی کانفرنس میں لکھی ہوئی تقریر سے ہٹ کر بھی ایسی باتیں کہہ سکتے ہیں جو وقت اور موضوع کی مناسبت سے اچانک ان کے دماغ میں آتی ہیں۔ پاکستانی مقررین کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کوپہلے سوچنا اپنی مادری زبان میں پڑتا ہے، پھر انگریزی میں اس سوچ کا ترجمہ کرنا پڑتا ہے اور پھر انگریزی زبان کا سکہ بند لب و لہجہ اور تلفظ بھی اختیار کرنا پڑتا ہے۔یہ تینوں عمل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نہیں، بلکہ مختلف ہیں اور مختلف بھی ایسے کہ ایک کی ابجد، دوسرے کی ابجد سے سراسر 180ڈگری معکوس ہے۔ چنانچہ زبانِ غیر میں شرحِ آرزو کرتے کرتے خیال کی وہ اورجنلٹی (Originality) شدید متاثرہوتی ہے جو مقرر کے دل کی آواز ہوتی ہے۔

ہر سطح سے میری مراد، ان سطوح سے ہے جو وطن کی رکھوالی سے بھی متعلق ہیں۔ وزیراعظم کو اس موضوع پر افواج سے بریفنگ لینی چاہیے کہ ان کا نقطہ ء نظر کیا ہے۔ اگر افواج (میری مرادملٹری سے ہے، جس میں تینوں دفاعی سروسیں شامل ہیں) میں قیادت کی ہر سطح پر اردو رائج نہ کی گئی تو اس تفریق/ امتیاز کا براہِ راست اثر فوج کے مجموعی مورال پر پڑے گا۔(جو آج بھی پڑ رہا ہے) اگر محمد نوازشریف نے اپنے تمام وزراء اور ’’امراء‘‘ کو بیرون ملک جا کر اردو میں بات چیت کی ہدائت کی ہے تو وہ سپریم کمانڈر سے یہ ہدائت نامہ (Directive)بھی جاری کروائیں کہ افواجِ پاکستان میں بھی تمام سطح پر اردو رائج کی جائے۔ میرا خیال ہے فوج کی اعلیٰ لیڈرشپ کے پاس ایسا کوئی عذر نہیں جو نفاذِ اردو کی راہ میں حائل ہو۔ اگر وزیراعظم نے یہ بت توڑا ہے تو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کو بھی ہدایت کی جائے کہ وہ سویلین لیڈرشپ کے شانہ بشانہ چلیں۔ اس کے لئے مدت کی کمی بیشی کا تعین البتہ کیا جا سکتا ہے۔

راقم السطور کو اردو زبان میں دفاعی امور پر لکھتے لکھاتے تین عشرے گزر چکے ہیں۔ پہلا ڈیڑھ عشرہ وردی میں گزارا اور نفاذِ اردو کے سلسلے میں جو کچھ کیا وہ ایک آرٹیکل نہیں، ایک ’’خودستائشی‘‘ مقالے کا موضوع ہے۔ پاک آرمی میں اس باب میں بہت سا کام ہو چکا ہے، آرمی چیف، جنرل راحیل شریف کو اس سلسلے میں اگرچہ خود بھی کافی واقفیت ہوگی لیکن وہ اگر اپنے انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ اولیوایشن (IGT&E) سے ایک تفصیلی بریفنگ لے کر اس کا سلسلہ وہیں سے شروع کریں کہ جہاں سے جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں ٹوٹا تھا تو یہ کام چنداں مشکل نہیں ہوگا۔ اگر فوج کے ریٹائرڈ جرنیل، ائر مارشل اور ایڈمرل میڈیا پر آکر بڑی فصیح و بلیغ اردو میں سٹرٹیجک اور غیرسٹرٹیجک (ٹیکٹیکل) لیول کے موضوعات پر روزانہ ٹاک شوز میں بول رہے ہوتے ہیں تو ان کی ساری ٹریننگ تو انگریزی زبان میں ہوئی ہوتی ہے۔ وہ اگر انگریزی آموختہ کو اردو میں تبدیل کرنے میں کوئی مشکل نہیں دیکھتے تو خالص (ہارڈکور) دفاعی موضوعات پر اس لسانی فصاحت و بلاغت اور طلاقت کا مظاہرہ کیوں نہیں کر سکتے؟ جہاں تک انگریزی کی پروفیشنل اصطلاحات کا تعلق ہے تو ان کو ’’اردوانے‘‘ کی ضرورت نہیں۔ان کو ویسے کا ویسے انگریزی زبان میں رہنے دیا جائے تو مسلح افواج کی لیڈرشپ میں بعض عناصر کا یہ اعتراض دور کیا جا سکتا ہے کہ انگریزی زبان کی پروفیشنل اصطلاحات و تراکیب کو اردو میں ڈھال کر تفہیمِ مقصد کی توقع ممکن نہیں۔

اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ ائر فورس، بحریہ اور آرمی کے بعض اسلحہ جات، ان کا سازوسامان اور ان کی ٹریننگ کے اداروں کے نصاب کی الٹ پلٹ کرنی پڑے گی۔ لیکن ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ آفیسرز لیول پر اردو زبان کو اس کا جائز حق نہ دینے سے ان پاکستانیوں کی کتنی حق تلفی ہو رہی ہے جو انگریزی زبان پر چنداں قدرت نہیں رکھتے۔ لیکن دلوں میں ملٹری جوائن کرنے کا شوق نہیں عشق ہے!

بھارت کے موجودہ وزیراعظم بھی انگریزی جانتے ہیں، لیکن ہندی میں اظہار مدعا کرتے ہیں۔ اگر وہ اپنی کسی تقریر کا ترجمہ انگریزی میں کرکے کسی تقریب میں سنائیں تو ان کا ’’انگلش زدہ‘‘ میڈیا بھی اسی طرح ان کا مضحکہ اڑائے گا، جس طرح سابقہ وزیراعظم من موہن جی کا اڑایا جاتا تھا۔ وہ جب انگریزی میں تقریر کرتے تھے تولگتا تھا ’’خالصتان زدہ‘‘ پنجابی بول رہے ہیں!اگر کوئی فوجی جرنیل/ائر مارشل/ ایڈمرل رواں اور فصیح اردو میں تقریر نہ کر سکے تو اس کا یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے پروفیشن کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ پروفیشن کے تقاضے اور ہیں اور دنیا کے دوسرے ترقی یافتہ ممالک جن کی قومی زبان انگریزی نہیں کیا ان کی سینئر لیڈرشپ بھی اسی احساسِ کمتری کا شکار ہے کہ جس کا شکار ہم ہیں۔۔۔

ہاں انگریزی زبان کو بیک جنبشِ قلم دیس نکالا نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی دنیا چاہیے۔ اسے سیکنڈری لینگوئیج (Secondary Language)کے طور پر باقی رکھنا چاہیے ۔ اگر انگریز،68برس پہلے یہاں سے چلا گیا تھا تو اس کا لسانی ورثہ بھی چلا جانا چاہیے۔ اگر امریکہ کی زبان انگریزی نہ ہوتی تو آج آپ دیکھتے کہ برطانیہ کی دولتِ مشترکہ کی لسانی کیفیت کتنی نادار ، مفلس اور بے توقیر ہو چکی ہوتی ہے۔

حکومت کو وزیراعظم کے نفاذِ اردو کے ایجنڈے پر عملدرآمد کے لئے جس میک۔2رفتار پر دوڑنا پڑے گا، اس کا کوئی اشارہ اب تک تومجھے نظر نہیں آیا۔۔۔ ڈر ہے کہ اس کا حشر بھی کہیں ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ جیسا نہ ہو! *ں۔

اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ ائر فورس، بحریہ اور آرمی کے بعض اسلحہ جات، ان کا سازوسامان اور ان کی ٹریننگ کے اداروں کے نصاب کی الٹ پلٹ کرنی پڑے گی۔ لیکن ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ آفیسرز لیول پر اردو زبان کو اس کا جائز حق نہ دینے سے ان پاکستانیوں کی کتنی حق تلفی ہو رہی ہے جو انگریزی زبان پر چنداں قدرت نہیں رکھتے۔ لیکن دلوں میں ملٹری جوائن کرنے کا شوق نہیں عشق ہے!

بھارت کے موجودہ وزیراعظم بھی انگریزی جانتے ہیں، لیکن ہندی میں اظہار مدعا کرتے ہیں۔ اگر وہ اپنی کسی تقریر کا ترجمہ انگریزی میں کرکے کسی تقریب میں سنائیں تو ان کا ’’انگلش زدہ‘‘ میڈیا بھی اسی طرح ان کا مضحکہ اڑائے گا، جس طرح سابقہ وزیراعظم من موہن جی کا اڑایا جاتا تھا۔ وہ جب انگریزی میں تقریر کرتے تھے تولگتا تھا ’’خالصتان زدہ‘‘ پنجابی بول رہے ہیں!اگر کوئی فوجی جرنیل/ائر مارشل/ ایڈمرل رواں اور فصیح اردو میں تقریر نہ کر سکے تو اس کا یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے پروفیشن کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ پروفیشن کے تقاضے اور ہیں اور دنیا کے دوسرے ترقی یافتہ ممالک جن کی قومی زبان انگریزی نہیں کیا ان کی سینئر لیڈرشپ بھی اسی احساسِ کمتری کا شکار ہے کہ جس کا شکار ہم ہیں۔۔۔

ہاں انگریزی زبان کو بیک جنبشِ قلم دیس نکالا نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی دنیا چاہیے۔ اسے سیکنڈری لینگوئیج (Secondary Language)کے طور پر باقی رکھنا چاہیے ۔ اگر انگریز،68برس پہلے یہاں سے چلا گیا تھا تو اس کا لسانی ورثہ بھی چلا جانا چاہیے۔ اگر امریکہ کی زبان انگریزی نہ ہوتی تو آج آپ دیکھتے کہ برطانیہ کی دولتِ مشترکہ کی لسانی کیفیت کتنی نادار ، مفلس اور بے توقیر ہو چکی ہوتی ہے۔

حکومت کو وزیراعظم کے نفاذِ اردو کے ایجنڈے پر عملدرآمد کے لئے جس میک۔2رفتار پر دوڑنا پڑے گا، اس کا کوئی اشارہ اب تک تومجھے نظر نہیں آیا۔۔۔ ڈر ہے کہ اس کا حشر بھی کہیں ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ جیسا نہ ہو! *

Citation
Ghulam Gilani Khan, ” پاکستان میں نفاذِ اردو ,” in Daily Pakistan, July 14, 2015. Accessed on July 14, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/14-Jul-2015/245418

Disclaimer
The item above written by Ghulam Gilani Khan and published in Daily Pakistan on July 14, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 14, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ghulam Gilani Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s