اردو زندہ باد

Follow Shabnaama via email
ڈاکٹر عارفہ صبح خان

دو منٹ کی سنجیدگی کے بعد وزیراعظم پاکستان نے مسکرا کر نریندر مودی سے اوفا کانگریس ہال میں فرمایا کہ آپ نے اچھا لباس پہن رکھا ہے، 53منٹ کی ملاقات کے بعد جو اعلامیہ جاری ہوا، اس میں تمام فرمائشیں اور احکامات نریندر مودی کے تھے۔ وزیراعظم پاکستان تو ایک شرط بھی منوا کر نہ اٹھ سکے۔ اب ظاہر ہے جو صحافی اور اینکر نازو نعم اور لین دین کے ساتھ وزیراعظم کیساتھ پورے پروٹوکول کے ہمراہ اس دورے کی سیاحت کا لطف اٹھا رہے تھے اور روسی چینی بھارتی صدور سے ملاقات انکے کیئریئر کا سب سے شاندار وزٹ تھا سو وہ اس دورے کو بے فیض یا بے جا کیسے لکھ دیتے۔ کچھ حق وفاداری ، کچھ مہمانداری اور کچھ رواداری کے بھی تو تقاضے ہوتے ہیں، اس لئے یہ فیصلہ کرنا خاصا مشکل ہے کہ واقعی یہ دورہ کامیاب تھا۔ خاص طور پر نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کے نتائج تک نریندر مودی اگر آئندہ سال پاکستان آجاتے ہیں تو سوائے اسکے کہ قومی خزانے پر ناقابل معافی بوجھ پڑیگا، بے وجہ کی امیدیں باندھی جائینگی، غیر ضروری تبصرے ، تجزیے اور مباحث ہونگے مگر نتیجہ وہی زیرو ، وزیراعظم نے اس سے قبل ناروے میں یہ کہہ کر ہمیں ایک مرتبہ پھر آزردہ کردیا کہ جی پاکستان میں ’’تعلیم‘‘ ایک اہم موضوع ہے جس پر بات ہوتی رہتی ہے، یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ پاکستان میں تعلیم واقعی ایک اہم موضوع ہے مگر صرف ہمارے جیسے طبقے کیلئے … وگرنہ یہاں امرائ، زمینداروں، وڈیروں ، جاگیرداروں، سیاستدانوں اور حکمرانوں کیلئے تو تعلیم ایک مہمل اور بورنگ موضوع ہے، البتہ ان سب کے پاس کوئی نہ کوئی ڈگری ہے بقول اسلم رئیسانی کے کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے، جعلی ہو یا اصلی ہو۔ پاکستان میں اگر تعلیمی موضوع کے حقائق بیان کئے جائیں تو لوگ پڑھنا چھوڑ دیں، ڈگری لینا چھوڑ دیں کیونکہ جتنی اہانت یہاں ’’تعلیم ‘‘ کی ہے شاید کسی اور دوسرے شعبے کی نہ ہو، حال ہی میں وزیراعظم کے چہیتے اور اکلوتے بھائی نے یہ کہہ کر مزید دکھی کردیا کہ ’’پڑھو پنجاب، بڑھو پنجاب‘‘ پروگرام کے تحت معیاری تعلیم کے اہداف کا تعین کیا گیا ہے، کاش یہ سچ ہوتا۔ دانش سکولوں سے لیکر یونیورسٹیوں کی سطح تک جو کچھ ہو رہا ہے… کیا یہ معیاری تعلیم کے اہداف ہیں؟ صورتحال یہ ہے کہ جب سے موجودہ حکومت آئی ہے… اس ملک سے ’’اردو زبان‘‘ کی زبان بندی کردی گئی ہے، نہ سکولوں میں قومی زبان کا وجود رہا ہے نہ کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر اردو زبان کو زندہ رہنے دیا گیا ہے، مقام حیرت ہے کہ اردو اپنے ہی دیس میں اجنبی بن کر رہ گئی ہے۔ ایسے مضامین تو پڑھائے جا رہے ہیں جن کی عام زندگی میں پاکستانیوں یا عام انسانوں کا اتنی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی لیکن اردو جو قومی زبان ہے، ہماری شناخت اور گفتگو کا وسیلہ ہے۔ اس کی تو گردن ہی مار دی گئی ہے۔ قائداعظم نے واضح الفاظ میں فرمایا تھا کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہوگی مگر پاکستان میں اردو غیروں کی طرح جی رہی ہے، اپنی زبان سے بے اعتنائی، اپنی زبان پر احساس کمتری اور زبان کی بے حرمتی ہم سب کیلئے شرمناک ہے۔ اگر انگریز بننے کا اتنا ہی شوق ہے تو پھر انکی طرح اپنی چمڑی گوری، قد لمبا، جسم تراشیدہ اور نقوش تیکھے کرنے کے ساتھ انکی طرح مہذب، محب وطن، زیرک اور قواعد وضوابط کے پابند بھی تو بن کر دکھائیں۔ دنیا کی 98 یونیورسٹیوں میں آج اردو پڑھائی جا رہی ہے، اردو کو دنیا کی تیسری بڑی اور شیریں زبان کہا جاتا ہے لیکن پاکستان میں اردو کو دفنانے کے مربوط انتظامات کررکھے ہیں۔ اس سے پہلے کہ سپریم کو داد وتحسین پیش کروں اور جسٹس جواد ایس خواجہ کے تاریخ ساز فیصلے پر سلیوٹ کروں۔ بہتر ہوگا کہ حکومت اور عوام الناس کی آنکھیں کھولنے کیلئے مختصراً اردو کیساتھ سوتیلوں سے بدتر سلوک کو بیان کردوں تاکہ آپ اندازہ کر سکیں ہماری قومی زبان کو مٹانے اور اسکی تحقیر کے کیا سامان کئے گئے ہیں، صورتحال یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے اردو کے ساتھ اس قدر حقارت آمیز رویہ رکھا گیا ہے کہ ان دس سالوں میں بچے اردو سے بیزار ہو گئے ہیں، وہ اردو کو ایک حقیر، کمتر، گھٹیا اور بے معنی بے فیض مضمون اور زبان سمجھتے ہیں آج کالجوں یونیورسٹیاں میں ہسٹری، اسلامیات، فلسفہ، ایجوکیشن، فارسی، عربی، پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، کشمیری، بروہوی، سرائیکی تو پڑھائی جا رہی ہے لیکن اردو کو یکسر ختم کردیا گیا ہے آپ اخبار اٹھا کر دیکھ لیں کوئی اشتہار بینر دیکھ لیں۔ پمفلٹ یا بروشر یا پراسپیکٹس دیکھ لیں، ہر مضمون ہوگا۔ صرف اردو مضمون نہیں ہوگا۔ اس وقت اگر گورنمنٹ اور پرائیویٹ سطح پر ڈیڑھ سو کالج یونیورسٹیاں ہیں تو بمشکل آٹھ دس میں اردو مضمون ایم اے، بی اے کی سطح پر پڑھایا جا رہا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں لے دیکر ایک نسبتاً بہتر ڈیپارٹمنٹ ہے جو آج بھی اردو کے حوالے سے تعلیم دے رہا ہے مگر یہ بھی اپنی مدد آپ کے تحت ہی چل رہا ہے یہاں بھی اردو کے اساتذہ اور طلبہ کے حوالے سے کوئی اہم پیشرفت نہیں ہونے دی جاتی نجانے کی کس کی سفارشیں چلتی ہیں وگرنہ آج بھی یہاں ڈاکٹر کامران، ڈاکٹر فخرالحق، ڈاکٹر ناصر عباس اور دیگر اچھے اساتذہ موجود ہیں ۔ حال ہی عزیز ظفر آزادب، قمر فاطمہ اور ہمارے دیگر ساتھیوں کی کوششیں رنگ لائیں اور معاملہ عدالت تک جا پہنچا چنانچہ جسٹس جواد ایس خواجہ کے استفسار پر سیکرٹری اطلاعات نے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جسکے مطابق وزیراعظم نے 6جولائی کو منظوری دی تھی کہ سرکاری اداروں میں اردو رائج کی جائیگی، صدراور وزیراعظم بیرون ملک قومی زبان میں تقریر کرینگے، تمام وفاقی سرکاری، نیم سرکاری ادارے قوانین پالیسیوں کا تین ماہ میں اردہ ترجمہ کرینگے۔ یوٹیلٹی بلز، سرکاری ویب سائٹس، ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ پر بھی انگریزی کے ساتھ اردو میں تمام تر اندراج ہوگا۔ اگر وزیراعظم نے یہ کام واقعتاً دل سے کیا ہے تو ان کا نام صرف وزیراعظم کے طور پر نہیں، اردو زبان کے ’’محسن اعظم‘‘ کے طور پر ہمیشہ کیلئے انمٹ ہو جائیگا۔

Citation
Arifa Sobh Khan, ” اردو زندہ باد ,” in Nawaiwaqt, July 14, 2015. Accessed on July 14, 2015, at: http://www.nawaiwaqt.com.pk/mazamine/14-Jul-2015/400632

Disclaimer
The item above written by Arifa Sobh Khan and published in Nawaiwaqt on July 14, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 14, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Arifa Sobh Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s