ایک باکمال استاد:پروفیسر حمید کوثر ؒ

Follow Shabnaama via email
حافظ شفیق الرحمن

استاد محترم جناب پروفیسر حمید کوثر ایک مثالی ، مشفق استاد تھے بلکہ یہ کہنا شاید زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ ناصح مشفق تھے۔ وہ اپنے ہر شاگرد سے پدرانہ شفقت سے پیش آتے۔ اُن کی سرزنش میں بھی شفقت، خیر خواہی اور نصیحت کا پہلو نمایاں ہوتا۔ جونہی گھنٹا بجتا طالب علم کشاں کشاں اُن کے کمرۂ جماعت میں پہنچنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے اور جس کو جہاں جگہ ملتی مثال نقش قدم بیٹھ جاتا۔ کمرۂ جماعت اول تا آخر کھچا کھچ بھرا ہوتا۔ حاضری رجسٹری اُن کے ہاتھ میں ہوتا لیکن وہ کمرۂ جماعت پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر کہتے کہ حاضری لگانے کی کیا ضرورت ہے کہ شمع علم کے تمام پروانے موجود ہیں پھر حلقے پھلکے انداز میں کہتے کہ ’’بچو ! آپ نے پرائمری سکول میں علامہ اقبالؒ کی دعا کا جو یہ مصرع پڑھا تھا کہ ’علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب‘ شکر ادا کریں کہ حکیم الامتؒ کی دعا آپ کے لیے قبول ہو چکی ہے۔ اُن کی جماعت میں وہ طالب علم بھی کھنچے چلے آتے جو شاید کوئی دوسرا پیریڈ اٹینڈ نہیں کرتے تھے اور کالج کو محض ایک پکنک پوائنٹ تصور کرتے تھے۔مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ جونہی وہ کمرۂ جماعت میں داخل ہوتے تو احترام، عقیدت اور محبت کا ایک دیدنی منظر دیکھنے میں آتا۔ شاگرد انہی جذبات سے سرشار ہو کر کھڑے ہو جاتے اور اُن کے چہرے بشرے سے ظاہر ہوتا کہ وہ اپنے موسٹ فیورٹ استاد کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ پروفیسر حمید کوثر اُنہیں تشکر آمیز الفاظ میں نشستوں پر بیٹھنے کا کہتے۔ وہ طلباء سے اجتماعی طور پر اُن کا حال چال دریافت کرتے۔ جب وہ کمرۂ جماعت میں موجود طلبہ سے پرسش احوال کرتے تو طلباء بیک آواز جواب دیتے کہ ’’سر آپ کی دعائیں ہیں‘‘۔ وہ یہ جملہ سنتے اور دعا کرتے کہ ’’خدائے رحیم وکریم آپ کو، آپ کے گھر والوں اور آپ کے حقیقی گھر پاکستان کو دور تک اور دیر تک اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہمارے اس حقیقی گھر پاکستان کے تمام شہریوں کو دین و دنیا کی نعمتوں سے مالا مال فرمائے‘‘۔۔۔ اس ابتدائیے کے بعد وہ تمام طالب علموں کو کتاب کھولنے کا کہتے۔ وہ کسی بھی مضمون، کہانی، نظم یا غزل کے الفاظ، معانی،مفاہیم اور تشریح طلباء کے سامنے اس طرح رکھتے کہ انہیں اپنے ذہنوں کے آنگن میں دودھیاچاندنی نکھرتی اور بکھرتی محسوس ہوتی۔ وہ صرف پڑھاتے نہیں بلکہ اپنے شاگردوں کے بنیادی عقائد ،نظریات اور تصورات کی بھی اصلاح کرتے ۔ وہ بیک وقت معلم،مصلح اور رہبر کا کردار ادا کرتے یقین جانیے یوں محسوس ہوتا کہ اُن کے لفظ لفظ سے شفقت کا شہد اور محبت کا رس سماعتوں کے راستے دلوں کے آبگینوں میں اتر رہا ہے۔۔۔میں جب بھی ان کی گفتگو سنتا ، بے ساختہ میر کی یاد آتی:

باتیں ہماری یاد رہیں ،پھر ایسی باتیں نہ سنئیے گا
کرتے کسی کو سنئیے گا،تو دیر تلک سر دُھنئیے گا
لیکچر سنتا تو چالیس منٹ کا پیریڈ آنکھ کی جھپکی میں گزر جاتا۔۔۔وہ اپنے شاگردوں کے محبوب استاد تھے۔ محبوب کی محفل میں طویل صدیاں بھی بسر ہوجائیں تو چاہنے والوں کے ہونٹوں پر شکوۂ اختصار رہتا ہے:
وصل کی شب اور اتنی مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لئے

اُن کا مزاج درویشانہ ۔۔۔ روش فقیرانہ۔۔۔ چلن شریفانہ۔۔۔ طبع منکسرانہ۔۔۔ وضع قطع دلبرانہ۔۔۔ کردار صالحانہ۔۔۔ افکار فلسفیانہ ۔۔۔ گفتار ساحرانہ۔۔۔ اطوار شجاعانہ ۔۔۔ انداز بے باکانہ۔۔۔ استدلال حکیمانہ۔۔۔ خو بو قلندرانہ۔۔۔ بھرم بھاؤ سکندرانہ۔۔۔ رکھ رکھاؤ نجیبانہ۔۔۔ طرز زیست صوفیانہ۔۔۔ دل و دماغ مومنانہ۔۔۔ جبلت شاعرانہ۔۔۔ سرشت ادیبانہ۔۔۔ طبیعت خلاقانہ۔۔۔ مسلک موحدانہ۔۔۔ مشرب مصلحانہ۔۔۔ شاگردوں سے برتاؤ مشفقانہ۔۔۔ کمزوروں سے ہمدردانہ۔۔۔ مفلسوں سے مربیانہ۔۔۔ خردوں سے سرپرستانہ۔۔۔ معاصروں سے دوستانہ۔۔۔ دوستوں سے مخلصانہ ۔۔۔ محبان وطن سے شفیقانہ اور دشمنان ملک و قوم سے کلیمانہ تھا۔ گویا اُن کی ذات خوبیوں کی ایک ایسی کہکشاں تھی،جس میں ہزاروں ستارے جگمگا رہے تھے۔

وہ ایک انتہائی نفیس و نستعلیق، وجیہہ و شکیل اور وضیع و سجیل شخصیت کے مالک تھے۔مبدأ فیاض نے اُنہیں بے شمار محاسن و محامد اور خصا ئل و شمائل ارزاں کئے تھے۔ وہ ایک جامع الصفات اور جامع الحسنات شخصیت تھے۔ رشد و ہدایت، شعرو ادب، فکر و نظر،تعلیم و تعلم اور علم و عمل کی دنیا میں اُنہیں ایک ممتاز اور منفرد مقام حاصل تھا۔ اپنے عظیم ورثہ اور ترکہ میں وہ6 تصانیف چھوڑ گئے ۔یہ تصانیف قرن ہا قرن اُن کے حسین تصورات، جمیل نظریات، رعنائی افکار اور زیبائی کردارسے متلاشیانِ حق کی رہنمائی اور پیشوائی کا فریضہ بدرجہ اتم ادا کرتی رہیں گی۔

وہ وعجز و انکسار کو ایک صاحب صدق و صفا کا حقیقی اثاثہ تصور کرتے تھے۔ اُن کی دولت اور سرمایہ صرف اور صرف فقرِ غیور تھا۔ وہ فقرِ غیور جس کی جلالت و ہیبت کے سامنے طغرل و سنجر و دارا و سکندر بھی لرزاں و ترساں دکھائی دیتے تھے۔ اُن کی خودداری ضرب المثل تھی۔ صاحبانِ اقتدار و اختیار کی معیت و رفاقت کو وہ قرون اولیٰ کے صوفیاء کی طرح پرکاہ اتنی اہمیت بھی نہ دیتے ۔ انہیں چشمِ فلک نے کبھی کسی حکمران کے قصر وایوان کی جانب جاتے نہیں دیکھا۔یہ اسی فقرِ غیور کا نتیجہ تھا کہ خود صاحبانِ اقتدار و اختیار اُن کی قربت و صحبت کے خواہاں دکھائی دیئے۔ سربراہانِ حکومت جب بھی اُن کے آستانے کی دہلیز پر حاضر ہوئے تو دستارِ اقتدار و اختیار کو گھر کی طاق پر رکھ کر آئے۔ اولاً تو وہ طبعاً اربابِ حکومت سے میل ملاپ کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے البتہ جب کوئی چل کر اُن کے پاس آ جاتا تو وہ اُسے مخلوقِ خدا کی بے لوث خدمت کی تلقین و موعظت ضرورکرتے۔ وہ اُنہیں یاد دلاتے کہ اقتدار و اختیار اور وزارت و امارت ایک ذمہ داری ہے اور اس کی ادائی میں اگر انہوں نے لمحہ بھر کیلئے بھی تغافل و تساہل کی روش کو اپنایا تو بروز حشر اُنہیں داورِ محشر کے سامنے جوابدہ ہونا ہو گا۔

زمانے مجھ کو پکارتے ہیں
انہیں خبر کیا؟
کہ میں زمانے سے ماورا ہوں
یہ ہجرتوں کے امین موتی
جہاں کی مالا چلانے والے
عدم کے جھولوں میں جھولتے ہیں
زمیں کو جُھولا جُھلانے والے
انہیں خبر کیا؟
کہ رات دن کی چتا سے باہر
بڑا منوہر دیا جلا تھا
جو خود کلامی و خود نگاہی کی
قاب قوسین میں سجا تھا
ملائے اعلیٰ پہ جھومتا تھا
ازل سے پہلے چمک رہا تھا
انہیں خبر کیا؟ یہ ہاؤ ہُو کی سروپ رچنا
کہ جس کی تفسیر کی چھنا چھن
کلی کے گھنگرو میں بولتی ہے
جو اپنی کِن من کی ناز نینی
دھنک اُجالوں میں گھولتی ہے
گزک پھواروں کی لا جونتی
کھرج ٹکوروں میں ڈولتی ہے
انہیں خبر کیا؟
کہ خود شناسی
جمال مطلق کی ہمدمی ہے
عجیب ہے ھکم باریابی
غریب طرز ہما ہمی ہے
نگر نگر سے وفا گرفتہ
بحالِ مسکین آ رہے ہیں
نہ کوئی تہذیب کا تصادم
نہ کچھ لسانی مناقشے ہیں
میں جسم کی قیدسے سے نکل کر
کھلی فضاؤں میں آ گیا ہوں
صفا کے میدانِ حشر میں ہوں
ازل کی تانیں اڑا رہا ہوں

Citation
Hafiz Shafiq Rehman, “ایک باکمال استاد:پروفیسر حمید کوثر ؒ,” in Daily Nai Baat, July 13, 2015. Accessed on July 15, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A8%D8%A7%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AF%D9%BE%D8%B1%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%B3%D8%B1-%D8%AD%D9%85%DB%8C%D8%AF-%DA%A9%D9%88%D8%AB%D8%B1-%D8%92

Disclaimer
The item above written by Hafiz Shafiq Rehman and published in Daily Nai Baat on July 13, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 15, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Hafiz Shafiq Rehman:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s