گھومتا پہیہ (سفر و ادب) مصنف: ش۔فرخ

Follow Shabnaama via email
اقبال خورشید

رات کے 8 بجے ہیں۔ نیویارک سے شکاگو جانے والی بس کا انتظار کرنے والوں میں میرے علاوہ وہ بڑھیا بھی ہے، جو تھوڑی دیر پہلے ایک لمبی سفید گاڑی میں آئی تھی۔ بس کے آنے میں دیر ہو رہی ہے۔‘‘

زیر تبصرہ کتاب ہے تو سفر نامہ، مگر فکشن کا عنصر اُس میں گتھا ہے، جن شہروں سے سیاح گزرا، ان کی تاریخ اور تمدن کا تذکرہ اختصار کے باوجود اس عمدگی سے کیا گیا ہے کہ مطالعے کا مزہ دو بالا ہوجاتا ہے۔ پختہ نثر، رواں زبان، متاثر کن مشاہدہ، کہیں نثری نظم میں اظہار؛ یوں یہ کتاب تشکیل پاتی ہے، جسے ’’ناول نما‘‘ بھی کہا جاسکتا ہے۔ اور ذیلی عنوان بھی تو یہی ہے: سفر و ادب!

ایسا سفرنامہ، جو ادبی چاشنی کا حامل ہو، وقت کا بہترین مصرف ہے۔ یہ کتاب ش۔ فرخ کے قلم سے نکلی ہے، جن کا شمار سنیئر قلم کاروں میں ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی ’’زرخیز پتھر‘‘ کے عنوان سے ان کا سفرنامہ منظر عام پر آیا تھا، جس کا خاصا چرچا ہوا۔ آپ بیتی بھی شایع ہوچکی ہے۔

نشر و اشاعت کے معیار پر پوری اترنے والی اس کتاب پر کسی کی رائے درج نہیں۔ ہاں، مختصر سا فلیپ موجود ہے، جو اسے مشاہدے اور تحقیق کا امتزاج، سفر اور کہانی کا کولاژ قرار دیتا ہے۔ ’’کولاژ‘‘، ہاں اس کتاب کو بیان کرنے کے لیے یہی لفظ مناسب ہے۔

کہانی کے قاری کو اپنی اور کھینچتی اس کتاب کے ایک ٹکڑے کے ساتھ یہ اطلاعاتی تبصرہ تمام کرتے ہیں:

’’کیفے میں ایک لڑکی داخل ہوئی اور کھڑکی کے قریب بیٹھ گئی۔ وہ بہت خوب صورت تھی، جیسے ٹکسال سے نکلا ہوا نیا سکہ۔ اس کا چہرہ اسی طرح ترو تازہ تھا۔ اس کے بال کوے کے پروں جیسے سیاہ تھے، اور اس کے رخسار پر ترچھے گرے ہوئے تھے۔ میں نے اس کی طرف دیکھا، تو بہت مضطرب ہوگیا تھا۔ اس نے مجھے مشتعل کر دیا تھا۔ کاش میں اسے اپنی کہانی میں شامل کرسکتا۔۔۔‘‘
لیاری کی ادھوری کہانی (یادداشتیں)
مصنف: رمضان بلوچ، صفحات: 209، قیمت: درج نہیں، ناشر: ARM Child and Youth Welfare

آرٹ پیپر پر، خوب صورت سرورق، نفیس جلد اور پرانی تصاویر کے ساتھ شایع ہونے والی یہ کتاب رمضان بلوچ کے قلم سے نکلی ہے، جن کا شمار لیاری کے دانش وَر طبقے میں ہوتا ہے۔ مختلف سرکاری اداروں میں فرائض انجام دینے والے یہ صاحب اس علاقے کی تاریخ اور مسائل پر تواتر سے لکھتے رہے ہیں۔ آج کل ’’صدائے لیاری‘‘ نامی پرچے کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ یہ کتاب اسی رسالے میں ’’ماضی کے لیاری کے شب و روز‘‘ کے زیرعنوان، قسط وار شایع ہونے والے مضامین کا مجموعہ ہے۔

کتاب کا آغاز 4 اگست 1944 سے ہوتا ہے، جب مصنف کی پیدایش ہوئی۔ آگے ’’مارشل لا کے خوف سے بے نیاز‘‘، ’’بس ڈرائیور بننے کی خواہش‘‘ اور ’’من بھر کا سر اور چھٹانک بھر کی زبان‘‘ جیسے دل چسپ عنوانات ملتے ہیں۔ پرانوں محلے کی تصاویر، صاف ستھری زبان میں ان کا بیان، مزے دار یادیں، دل چسپ لوگ؛ یہ عوامل کتاب پڑھنے پر اکساتے ہیں۔ ماضی ویسے بھی انسان کو حسین لگتا ہے، اور کراچی کے معاملے میں حال، کچھ بدحال ہے، سو بیتے ہوئے دنوں کا تذکرہ ہی بہتر۔

مصنف اپنے پیش لفظ میں لکھتے ہیں: ’’ماضی میں میرے اور لیاری کے وہ پرسکون اور آسودہ حالات، ناقابل فراموش۔۔۔ اور ذہنوں میں ابھی تک نقش ہیں۔ ان تمام یادوں کو سمیٹ کر تحریری شکل دینے کی ایک کوشش ہے۔‘‘ یہ کوشش کام یاب ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس زرخیز علاقے سے متعلق مزید لکھا جائے۔

Citation
Iqbal Khurshid, Farhan Fani, Rafiullah Mian “بُک شیلف,” in Express Urdu, July 12, 2015. Accessed on July 14, 2015, at: http://www.express.pk/story/374969/

Disclaimer
The item above written by Iqbal Khurshid and published in Express Urdu on July 12, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 14, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Iqbal Khurshid:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s