وارث میر کی کہانی مرتب: عامر میر

Follow Shabnaama via email
اقبال خورشید

پروفیسر وارث میر پاکستانی صحافت کا ایک اہم کردار ہیں۔ وہ ایک دانشور صحافی تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت کے استاد اور صدارت کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ وہ اخباری مضامین کی صورت میں ملک کے سیاسی حالات کا تجزیہ بھی کرتے رہے۔ ضیاء الحق کے آمرانہ عہد میں ان کی جرأت مندانہ تحریروں نے کافی ہلچل مچائی۔ وارث میر نے 25برس صحافت پڑھائی اور محض 48برس کی عمر میں جولائی 1987ء میں اس جہانِ فانی سے گزر گئے۔ زیرنظر کتاب ان کے صحافی فرزند عامرمیر نے مرتب کی ہے۔

اس سے قبل ’’وارث میر کا فکری اثاثہ ‘‘ نامی مبسوط کتاب شائع ہوئی جس میں مرحوم کی تمام دست یاب تحریروں کو محفوظ کیا گیا۔ یہ کتاب مختلف مکاتب فکر سے وابستہ افراد کے وارث میر کی حیات و خدمات پر مبنی 51مضامین پر مشتمل ہے۔ منو بھائی، عطاء الحق قاسمی، مجیب الرحمان شامی، راجہ انور نے مرحوم سے وابستہ یادوں اور ملاقاتوں کو خوبی سے رقم کیا ہے۔ حیدر فاروق مودودی نے مرحوم کے چند اہم خطوط جب کہ صحافی مقصود بٹ نے دل چسپ اقتباسات ذکر کیے ہیں۔ قاضی جاوید نے بھی ان کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا خوب صورتی سے ذکر کیا ہے۔ خواتین میں عاصمہ جہانگیر، بشریٰ رحمنٰ کے علاوہ شازیہ ظفر کا فکر انگیز مضمون بھی شامل ہے۔

عباس اطہر مرحوم نے بھی اپنی تحریر میں مرحوم کی حیات وخدمات اور چند تلخ واقعات کا ذکر کیا ہے۔ کتاب کے آخر میں وارث میر کے تین مضامین ’’میں نے پاکستان دولخت ہوتے دیکھا‘‘،’’کیا ترقی پسندانہ فکر سیم وتھور ہے؟‘‘ اور ’’ایک خواب جو حقیقت بن گیا‘‘ شامل کیے گئے ہیں۔

یہ کتاب بجا طور پر مرحوم وارث میر کی زندگی کے کئی پوشیدہ گوشوں کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس عہد کی طلبا ء سیاست کے رجحانات اور میلانات کو سمجھنے میں بھی معاون ثابت ہو گی۔ کتاب میں وارث میر کی یادگار تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں۔ مختصر یہ کہ ’’وارث میر کی کہانی‘‘ کارزار صحافت میں سرگرم افراد کو دیانت، صداقت اور اصولوں کی خاطر کسی بھی حد سے گزر جانے کا درس دیتی ہے ۔279صفحات کی یہ کتاب ساگر پبلشرز لاہور نے خوب صورت سرورق ا ور عمدہ کاغذ کے ساتھ شائع کی ہے۔ البتہ ہمارے باذوق قاری کی قوت خرید کتاب پر درج قیمت سے بہت کم ہے۔

Citation
Iqbal Khurshid, Farhan Fani, Rafiullah Mian “وارث میر کی کہانی مرتب: عامر میر,” in Express Urdu, July 12, 2015. Accessed on July 14, 2015, at: http://www.express.pk/story/374969/

Disclaimer
The item above written by Iqbal Khurshid and published in Express Urdu on July 12, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 14, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Iqbal Khurshid:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s