فردو سیِ پاکستان: حمید کوثر۔۔۔(1)

Follow Shabnaama via email
حافظ شفیق الرحمن

عربی کی ایک کہاوت ہے کہ ’’شعراء رب رحمن کے شاگرد ہوتے ہیں‘‘۔ اگر یہ کہاوت درست ہے تو میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ عالم ارواح میں جب 20 صدی کے نصف وسط کے اُردو شعراء کی جماعت ترتیب پائی تو پروفیسر حمید کوثرؒ کو اُن کی فکری و فنی استعداد اور خلاقانہ جودتِ طبع کے باعث اس جماعت کا بالاتفاق مانیٹر بنایا گیا ہو گا۔۔۔ علامہ مشرقی نے کہا تھا کہ شاعری انسان کے تخیل کو اُڑان اور پرِ پرواز تو دیتی ہے لیکن اس کے پاؤں سے جرأتِ رفتار اور دست و بازو سے استعدادِ کار چھین لیتی ہے۔ اسی پس منظر میں کتاب حکمت کی 26 ویں سورۃ الشعراء کی آیت نمبر 224سے 227کے وسط تک بتایا گیا :

’’اور شاعروں کی راہ تو بے راہ لوگ چلا کرتے ہیں، اے مخاطبؐ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ وہ (شاعر) لوگ (خیالی مضامین کے) ہر میدان میں حیران پھرا کرتے ہیں اور زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں، ہاں! مگر جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اچھے کام کیے اور انہوں نے (اپنے اشعار میں) کثرت سے اللہ کا ذکر کیا‘‘۔

حقیقت یہ ہے کہ شعراء کی اکثریت کا وتیرہ یہی ہے کہ وہ نثر یا نظم کے پیرائے میں اکثر ایسے افکار و نظریات پیش کرتے ہیں جن کا حقیقت سے دور کا تعلق بھی نہیں ہوتا اور ان کی شاعری محض توہمات اور خیالی مضامین کا ایک ملغوبہ ہوتی ہے۔ البتہ قرآن ان شعراء کا استثنیٰ کرتا ہے جو ایمان اور اعمال صالح کی طرف دعوت دینے والے موضوعات کو اپنے کلام کا منبع اور سرچشمہ بناتے ہیں۔ میں وجدانی سطح پر پورے ایمان، عرفان اور ایکان کے ساتھ بلا خوف لومۃ و لائم یہ کہنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتا کہ اس استادِ ذی احتشام جناب حمید کوثرصاحب مرحوم کی شاعری اول تا آخر مثبت اقدارو روایات کی آئینہ دار ہے۔ ان کی پوری شاعری میں ایک بھی مصرع ایسا نہیں، جسے حشو و زوائد کے زمرے میں شامل کیا جا سکے۔ دینی اقدار و روایات کے حوالے سے ان کی حساسیت کا عالم یہ تھا کہ وہ ایک ایک لفظ حزم و احتیاط کے ترازو میں تولنے کے بعد حوالۂ قلم کرتے۔ وہ اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کرتے کہ اُردو شعراء کی غالب اکثریت اپنے کلام میں اسلامی معاشرے کی ان تمام پیشوا شخصیات جو دینی اقدار و شعائر کا استعارہ اور اسلامی تعلیمات کی پیامبر تھیں۔۔۔ کو تمسخر اور تضحیک کا نشانہ بناتی اور اپنے کلام کا سنگھار رکاکت اور ابتذال کے غازے سے کرتی۔ مثلاً میر تقی میر سے فیض تک ہر شاعر نے غزل کے اجزائے ترکیبی میں زاہد، واعظ، ناصح، فقیہ، محتسب، شیخ اور پیر کا خاکہ اڑاتے ہوئے اُنہیں کانٹوں پر گھسیٹنا اپنا فرض منصبی جانا اور یوں کج فکر ناقدین سے تحسین اور گم کردہ راہ سامعین سے داد پا کر جامے میں پھولے نہ سماتے۔

یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہو گا کہ استادِ محترم کے استادِ گرامی ابو الاثر حفیظ جالندھری نے شاہنامہ اسلام لکھا اور فردوسئ اسلام کا لازوال خطاب پایا۔ شاہنامہ اسلام اُردو شاعری میں ایک لاثانی اور منفرد تخلیق کا درجہ رکھتا ہے۔ انہوں نے ملوک و سلاطین کا قصیدہ لکھنے کے بجائے حضور اکرمؐ کی حیات طیبہ کو انتہائی دلنشیں اور دلپذیر پیرائے میں نظم کے پیراہن میں لکھا۔ فردوسئ اسلام ابو الاثر حفیظ جالندھری اور فردوسئ ایران میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ فردوسی ایران نے ایران کے سفاک، جابر، مستبد، ظالم، متکبر، ہوس پرست، زر پرست، نشاط پرست ایرانی بادشاہوں کے حضور ’’گلہائے عقیدت‘‘ پیش کر کے انہیں بڑی شخصیات کے روپ میں پورٹرے کیا۔ اس امر کا ذکر خالی از دلچسپی نہ ہو گا کہ فردوسی نے جب اپنا شاہنامہ غازئ اسلام اور سومنات شکن محمود غزنوی ؒ کے بیٹے مسعود غزنوی جو صاحب کشف المحجوب حضرت علی ہجویریؒ کے مرید خاص تھے، کے سامنے پیش کیا تو اس نے فردوسی کو دربار سے نکل جانے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ فردوسی نے سیدنا عمر فاروقؓ کے زمانے میں صحابہ کبار و اطہارؓ کے ہاتھوں ایرانی کسریٰ کی موروثی حاکمیت کے خاتمے اور ایران کی فتح کے واقعات کو منظوم کرتے ہوئے انتہائی ناپسندیدہ زبان استعمال کی۔ فردوسی کے شاہنامے میں عرب و عجم کی آویزش کو اجاگر کرتے ہوئے عجمی تہذیب پر محمد عربیﷺ کی پیش کردہ آفاقی عالمی تہذیب پر مختلف اشعار میں اظہارِ ناپسندیدگی کیا۔ حوالے کے لیے اس کا یہ ایک مصرع ہی کافی ہے جس میں عربوں کے ہاتھوں ایرانیوں کی عبرت ناک شکست پر اس نے اپنی عجمی عصبیت اور داخلی کرب کا اظہار یوں کیا:

تفو! بر تو اے چرخ گرداں تفو

خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ آپ کو یہ جان کر یقیناًحیرت ہو گی کہ میرے فکری و معنوی مرشد جناب حمید کوثر ابو الاثر حفیظ جالندھری کے متبنیٰ تھے۔ انہیں پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری مرحوم نے اُن کی بے پایاں ارادت مندی، بے کراں سعادت مندی، فراواں فرمانبرداری اور نمایاں خدمت گزاری کے باعث یہ رتبۂ بلند اور اعزازِ لازوال عطا کیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ابوالاثر جناب حفیظ جالندی کی نرینہ اولاد نہ تھی۔ اُن کا انتقال 21 دسمبر 1982ء کو ہوا اور انہیں ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں امانتاً دفن کیا گیا۔ اُن کی خواہش تھی کہ اُن کی تدفین علامہ اقبالؒ کے مزار کے قرب و جوار میں کی جائے لیکن بوجوہ اُن کی اس خواہش کا احترام نہیں کیا جا سکا۔ تاہم جناب حمید کوثر نے اپنی کوششیں اور کاوشیں جاری رکھیں۔ یہ کریڈٹ یقیناًوزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کو جاتا ہے کہ اُن کے دوسرے عہد حکومت میں پاکستان کے قومی ترانے کے خالق کی میت کو مینار پاکستان کے وسیع و عریض سبزہ زار کے ایک گوشے میں دفن کیا گیا۔ وہ تحریک پاکستان کے رہنما کی حیثیت سے پہلی شخصیت ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ میاں شہباز شریف کی حکومت پنجاب نے مینار پاکستان میں اُن کا خوبصورت مقبرہ تعمیر کیا۔ مجھے یہ کہنے دیجیے کہ ماڈل ٹاؤن کے قبرستان سے مینار پاکستان کے زیر سایہ سبزہ زار میں ابو الاثر حفیظ جالندی کی تدفین کے لیے بنیادی اور کلیدی کوشش اُن کے منہ بولے بیٹے ہی نے کی۔ انہوں نے حفیظ جالندھری کے متبنیٰ ہونے کا حق ادا کیا۔ اس ضمن میں اُن کی کوششوں اور مساعی کو دیکھتے ہوئے یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ اگر ابو الاثر کا حقیقی بیٹا بھی ہوتا تو وہ یہ کارنامہ ادا نہ کر پاتا۔ سچ کہا تھا شاعر نے ’یہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا‘۔

پروفیسر حمید کوثر صاحب کے معنوی و روحانی والد نے شاہنامہ اسلام سپرد قرطاس کیا تو بعد ازاں ان کے معنوی و روحانی بیٹے نے شاہنامہ پاکستان کے عنوان سے تحریک قیام پاکستان کو منظوم کرنے کی عظیم کاوش کا آغاز کیا۔ وہ حقیقتاً اپنے روحانی والد کے مشن کے پرچم بردار تھے۔ اُن کا وجود سر تا پا پاکستان تھا۔ شاہنامہ پاکستان ایسا شہ پارہ کہاں تک منظوم ہوا اس بارے اُن کے صاحبزادے جناب مجید غنی ہی بتا سکتے ہیں۔ یہ کیسا حسن اتفاق ہے کہ پروفیسر صاحب کے روحانی والد جناب حفیظ جالندھری اگر فردوسئ اسلام تھے تو اُن کے فکری و معنوی فرزند استاذی المکرم حمید کوثر صاحب مرحوم فردوسئ پاکستان ہیں۔

Citation
Hafiz Shafiq Rehman, “فردو سیِ پاکستان: حمید کوثر۔۔۔(1),” in Daily Nai Baat, July 11, 2015. Accessed on July 15, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D8%B3%DB%8C%D9%90-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%AD%D9%85%DB%8C%D8%AF-%DA%A9%D9%88%D8%AB%D8%B1%DB%94%DB%94%DB%941

Disclaimer
The item above written by Hafiz Shafiq Rehman and published in Daily Nai Baat on July 11, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 15, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Hafiz Shafiq Rehman:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s