جمال ہمنشیں درمن اثر کرد

Follow Shabnaama via email
سعد اللہ شاہ

ڈاکٹر اظہر وحید واصف علی واصف کے شاگردِ خاص ہیں، ان کا ایک SMS آیا جس میں ایک سطر یہ تھی ”شاہ صاحب! اگر آپ نثر نہ لکھتے تو ظلم کرتے“۔ انہیں کیا معلوم کہ جو ظلم ہم نے شاعری میں کیا ساری عمر نوجوانوں کو گمراہ کرتے رہے اور بے نام وادیوں میں بھٹکتے رہے۔ وہی جو آصف بھلی نے کہا کہ میں جو کچھ مرضی کر گزروں پہلا اور آخری حوالہ شاعری ہی ہے۔ ”چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی“، مجھے معاً حسن نثار کا خیال آیا کہ ایک دن اُن کے ساتھ پانچ چھ گھنٹے کی نشست رہی جس میں اُن کی شوخی گفتار تھی، کیوں نہ ہوتی ”رکھ دے کوئی پیمانہ وصہبا میرے آگے“۔ انہوں نے اپنے کالم میں بھی محبت سے میرا ذکر کیا کہ ”سعداللہ شاہ آیا تو مشاعرہ برپا ہوگیا“۔ اصل میں میں نے انہیں گمنام معروف شعرا کے ایسے ایسے شعر سُنائے کہ کہنے لگے ”یار! ان کی یاد میں جو بھی تقریب کرو، سارا خرچہ میں کروں گا“۔ پھر مجھے سیڑھیوں تک چھوڑنے آئے تو کہنے لگے ”We are soul mates except alchohal“۔ میں نے کہا ”تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا“۔ میرے بہت سینئر مہربان کالم نگار کہنے لگے ”یار! حسن مغلظات لکھتا ہے“۔ میں نے بے ساختہ کہا ”وہ پھر بھی اچھے لگتے ہیں“ اتنا ہی برجستہ وہ کہنے لگے ”کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب۔ گالیاں کھا کے بدمزہ نہ ہوا“۔ ہم دونوں نے اکٹھے قہقہہ لگایا۔ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ میں تو حسن صاحب کی اس بات پر غور کرتا رہا کہ وہ محویت کے عالم میں بھی سمجھ رہے تھے کہ روحانی تعلق میں الکحل اضافی ہے۔

بات میں کررہا تھا ڈاکٹر اظہر وحید کی کہ جن سے 1987ءمیں تعارف ہوا۔ وہ تعمیر انسانیت پر سعیداللہ صدیق کے پاس آئے تھے۔ تب دونوں بلکہ تینوں آتش جوان تھے۔ اب بھی کچھ زیادہ بوڑھے نہیں ہوئے مگر کیا کریں:

بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں
میں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا

ڈاکٹر اظہر وحید کی تو گزری بھی تفکر میں ہے۔ تب اُن کے تخلیقی رشمات پر مشتمل پہلا مجموعہ ”پہلی کرن“ شائع ہوا تھا۔ اُن کی باتوں کی طرح اُن کے فقرے میں بھی بلا کی تراش خراش تھی۔ سلیقہ وقرینہ اور رکھ رکھاﺅ تھا۔ وہ اُستاد کے ادب کا پہلا قرینہ بھی جان گئے تھے، تبھی فیض یاب ہوئے۔ انہوں نے نہایت محبت سے ”پہلی کرن“ کا نیا ایڈیشن اور نیا مجموعہ ”دل ہر قطرہ“ بھیجا۔ مجموعہ میں اس لےے لکھ رہا ہوں کہ یہ تحریر کم از شاعری نہیں ہے۔ اگر یقین نہ آئے تو آپ درج ذیل دوچار ان کے اقوال پڑھ لیں:

٭راہِ توحید کے راہ روکو رسالت کی گلی سے گزرنا پڑتا ہے۔

٭یہ کائنات ایک حادثہ نہیں ہے۔ حادثے میں اس قدر حسن نہیں ہوسکتا کیونکہ حسن حسنِ ترتیب کا نام ہے اور حادثہ کسی ترتیب کے بکھر جانے کا نام۔

٭خدا جس کو زمین پر عاجز کرنا چاہتا ہے، اس سے عاجزی چھین لیتا ہے۔

٭غرور اپنے سے بلند مقام سے بے خبری کا نام ہے۔

٭بدتر وہ ہوتا ہے جسے اپنے سے بہتر کوئی نظر نہ آئے۔

٭جنت عطیہ¿ خداوندی ہے، پُرسکون بیٹھے رہیں تو مل جاتی ہے۔

ایسے سینکڑوں نہیں ہزاروں نگینے ان دو کتابوں کے اوراق پر جگمگا رہے ہیں۔ ویسے اُوپر کے اقوال میں قول ثانی یعنی دوسرے قول سے میں اختلاف کرتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے وہ حادثہ دیکھا ہی نہیں جو خوبصورت ہوتا ہے جو آنکھوں میں رنگ اور دل میں خوشبو بھر دیتا ہے۔ بہرکیف ڈاکٹر صاحب بہت شریف آدمی ہیں اور معصوم بھی اور معصومیت تخلیق کی پہلی شرط ہے۔ اس کے بعد خلوص اور نیک نیتی، پھر جو سوچو بن مانگے عطا ہونے لگتا ہے۔ چلےے ڈاکٹر صاحب کی برکت سے ایک قول میرے ذہن میں آگیا، سمجھو عطا ہوگیا۔ ”ہمیشہ لوگوں کے روشن پہلو دیکھتے رہو، آخرکار خود بھی روشن ہو جاﺅ گے“۔ میرا خیال اپنے تاریک پہلو چھپانے کا یہ واحد طریقہ ہے۔

ڈاکٹر اظہر وحید لکھتے ہیں:

”محبت ایک معجزے کی طرح ہوتی ہے۔ اس کی توجیہہ نہیں ہوتی“۔
مجھے اس کی تائید کرنی چاہےے کہ یہ واقعتا خودساختہ اور بے قابو سا عمل ہے جو بندے کو بے بس کر دیتا ہے۔ ایک اینکر نے میرا انٹرویو کرتے ہوئے پوچھا ”آپ نے کبھی محبت کی؟“ میں نے کہا جس نے نہیں کی مجھے اس سے ہمدردی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی خوب کہا ہے:

٭تباہ ہو جاتی ہے وہ قوم …. جس قوم میں
….پیسہ ایک تہذیب بن جائے
….امارت ایک نسبت بن جائے
…. اور غربت ایک گالی بن جائے
٭خاموش احسان، بولتی ہوئی روحانیت ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی کہی ہوئی بات اکیسویں صدی پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ لکھتے ہیں ”بیسویں صدی، مشین کو انسان نہیں بناسکی، اس لےے اس نے انسان کو مشین بنا دیا۔ ویسے سائنس دانوں نے کوشش ضرور کی تھی۔ روبوٹ اس کی مثال ہے۔ ویسے روبوٹ جیسے کئی سرکاری ملازم اور سیاستدان تو ہم نے بھی دیکھے ہیں۔ بہرحال جو بات ڈاکٹر صاحب کہنا چاہتے ہیں اس کا رونا اقبال نے بھی رویا تھا:

ہے دل کے لےے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

ڈاکٹر صاحب خیال پر یقین رکھتے ہیں اور واقعی خیال بھی آدمی دیکھ کر اُترتے ہیں۔ ایسے ہی جیسے اچھی کتابیں اچھے لوگوں پر منکشف ہو جاتی ہیں۔ ویسے بھی غالب کا کہنا کتنا درست ہے ”آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں“ گویا خیال کے ساتھ مضامین بھی تو بہت اہم ہیں، مگر خیالات کو اوّلیت حاصل ہے اور بعد میں تجربہ، مشاہدہ اور علم راستہ بناتا ہے کہ مضامین اُترسکیں۔ ڈاکٹر صاحب کی دُنیا روحانیت کی دُنیا ہے۔ میں کیا کروں کہ ایک خیال میرے ذہن میں رہ رہ کر آتا ہے، جس میں میں رہنمائی چاہتا ہوں۔ ہمیں حدیث شریف کا مفہوم بتایا گیا کہ ”جو شخص باشرح نہیں وہ اگر ہوا میں اُڑ کر بھی دکھا دے وہ جھوٹ ہے“۔ میرے اس سوال کا ماشاءاللہ ڈاکٹر صاحب سے کوئی واسطہ نہیں، اُن سے ضرور ہے جو شرح کے تقاضے پورے نہیں کرتے مگر قطب، ولی اور پتہ نہیں کیا کیا وہ خود کو پینٹ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب میری بات سمجھ گئے ہوں گے۔ روحانیت کا دعویٰ غلط ہے۔ میں سمجھتا ہوں جو وقت میں نے ڈاکٹر صاحب کی کتب کے ساتھ گزارا وہ قیمتی ہو گیا۔ کوئی نہ کوئی بات مجھ ریت صفت شخص پر اثر کرے گی۔ ”پہلی کرن“ کے آغاز میں انہوں نے سعدی کا شعر نقل کیا ہے:

جمالِ ہمنشیں در من اثر کرد
وگرنہ من ہمیں خاکم کہ ہستم

اصل میں یہ ان کے ایک بند کے آخری دو مصرعے ہیں، جس میں کوئی مٹی سے پوچھتا ہے کہ تم میں سے خوشبو آرہی ہے۔ مٹی کہتی ہے میں کچھ دن پھولوں کی صحبت میں رہی تھی، تو یہ اس مٹی کی صحبت کا فیض ہے وگرنہ میں تو وہی مٹی ہوں جو تھی۔

Citation
Saadullah Shah, “جمال ہمنشیں درمن اثر کرد,” in Daily Nai Baat, July 9, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%AC%D9%85%D8%A7%D9%84-%DB%81%D9%85%D9%86%D8%B4%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%D8%B1%D9%85%D9%86-%D8%A7%D8%AB%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D8%AF

Disclaimer
The item above written by Saadullah Shah and published in Daily Nai Baat on July 9, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Saadullah Shah:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s