عبداللہ حسین کی اداس نسلیں

Follow Shabnaama via email
حسن مجتبیٰ

دو کتابوں نے ذوالفقار علی بھٹو کا’’دماغ تبدیل ‘‘ کیا ۔ یہ کتابیں انہیں ان کی اکیسویں سالگرہ پر تحفے میں ملی تھیں ایک تھا نپولین بونا پارٹ کی سوانح عمری کا پورا سیٹ اور دوسری کتاب بھی انہی پر ایک چھوٹا سا کتابچہ کارل مارکس کا لکھا ہوا ۔ جس کی آخری لائنیں بھٹو کو وڈیرے اور سر کا بیٹا ہوتے ہوئے بھی تب لڑ گئی تھیں۔ ’’دنیا کے مزدورو ایک ہوجائو تمہیں کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے پائوں کی زنجیروں کے اور پانے کے لئے تمام دنیا۔ ’’پھر خود بھٹو یہی بات اپنی کال کوٹھری سے لکھی ہوئی کتاب ‘‘اگر مجھے قتل کیا گيا ’’ میں لکھتے ہوئے کہتے ہیں فرانس کے لوگوں کی طرح ایک دن پاکستان کے لوگ بھی بونا پارٹ ازم سے نجات حاصل کرلیں گے، پھر وہ 1788 نہ سہی 1988 ہی سہی ۔ بھٹو نے یہ پیشگوئی والا جملہ شاید 1978 کی خزاں میں لکھا ہوگا لیکن 1988 میں پاکستان کے لوگوں نے واقعی آمر ضیاء الحق سے نجات پالی اور پھر گيارہ سال بعد جماعتی بنیاد پر انتخابات کے نتیجے میں ان کی دیسی یا ایشیائی بونا پارٹ ازم کے زیر عتاب پاکستان پیپلزپارٹی اقتدار میں بھی آگئی۔ بھٹو سے ہزاروں اختلافات لیکن ان کی دور رست نظر، تاریخی شعور اور حافظے کی دنیا معترف ہے۔

بھٹو اور بھٹو کے ساتھ اور ان کے بعد ان کے نام اور نعرے پر مرمٹنے والی سب نسلوں کو بھی میں اداس نسلیں ہی کہوں گا۔ پاکستان میں ہم سب اداس نسلیں ہیں پاکستان بننے سے پہلے اور پاکستان بننے کے بعد والی نسلیں۔ اُردو ادب کے اس تراسی سالہ سنیاسی بابے کے کوچ کرنے سے اداس نسلیں اور زیادہ اداس ہوگئيں۔ آئيں بقول اوشو سنیاسن کے موت کا جشن منائیں۔

Let us celebrate the death of Sanyasin.
اسی طرح مجھے اور میری نسل کے لوگوں کو دو کتابیں لڑ گئی تھیں ایک تھی قرۃ العین حیدر کا ناول ’’ آگ کا دریا‘‘ اور دوسری کتاب عبد اللہ حسین کا ناول ’’اداس نسلیں‘‘۔ میں آج تک وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ ان دو ناولوں میں کونسا سب سے بڑا ناول ہے۔ لیکن یہ دونوں برصغیر میں اُردو ادب کے صحیفے ہیں۔ آسمان سے اترے ہوئے نہیں۔ زمین سے پیدا کئے ہوئے۔ جس طرح پانچ ہزار سال قبل سندھو کے کنارے وید لکھے گئے تھے۔ قرۃ العین حیدر اور ان کے ناول کی بات پھر کبھی سہی کہ اسی اخبار کے کئی صفحات ان پر پاکستان کی سرزمین تنگ ہونے کی گواہی دیتے ہونگے۔ اسی طرح عبداللہ حسین کا ناول اداس نسلیں۔ اسی دھرتی سے پھوٹ کر نکلنے والا ایک ناول ہے۔ اداس نسلوں کا ناول۔ پھر اس میں وکٹوریا کراس پانے والا پنجاب کا پہلی جنگ عظیم میں لڑنے والا صوبیدار ہو کہ ساٹھ کی دہائی میں اپنی اپنی کراس اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے دوسرے ان کے کردار یا پڑھنے والے ۔ یہ کہنا میرے لئے مشکل ہے کہ واقعی عبداللہ حسین نے اداس نسلیں لکھی یا اداس نسلیں نے اس کو عبد اللہ حسین بنایا۔بقول میرے بابن دوست شرجیل بلوچ کے کہ بابا اپناکام کر گيا۔

یہ کہانی کار جتنا قدآور تھا اتنا اس کے لکھنے کا کینوس کائنات جتنا وسیع تھا جو اس کے ناول اداس نسلیں کی اوقات اور وارداتیں پہلی جنگ عظیم سے ہوتی ہوئی دوسری اور پھر برصغیر کی تقسیم سے ہوتی ہوئی کئی عشروں اور نسلوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ ایسے ناول واقعی ایک سو سالوں جیسی تنہائی میں لکھے جاتے ہیں جو انہیں دائود خیل کی سیمنٹ فیکٹری کی نوکری کے دوران ملی تھی۔ تنہائی کے اتنے بڑے خلا کو انہوں نے تاریخ کے کتنے بڑے میلوں سے بھرا!

یہ شاید 1950 ءکا آخر یا ساٹھ کی دہائی تھی جب انہوں نے بڑے بڑے رجسٹروں پر یہ ناول مکمل کیا ہوگا۔ نو مولود پاکستان (پاکستان ویسے آج تک نومولود ہی ہے کہ بلوغت تک کبھی نہیں پہنچتا) میں ایک بھونچال کی سی کیفیت تھی ۔ بھونچال کی کیفیات آج بھی ہیں۔ بلکہ پاکستان اب ایک کیفیت کا ہی نام ہے۔ لیکن اسی کیفیات میں سے کردار اور واقعات چھان کر جس طرح عبد اللہ حسین نے اداسیوں کو پکڑنے کی خوبصورت کوشش کی تھی کہ ان کا ناول اداسیوں کا میلہ بن گیا۔ شاید اُردو میں میلنکلی کا کوئی ترجمہ نہیں ہوسکتا ۔

Festival of melancholy
اداسیوں کے ایسے میلوں کو قلم سے مسلح کوئی عبداللہ حسین جیسا ہی سات فٹ کا پنجابی پکڑ سکتا تھا ۔ پوری پنجابی معاشرت کا مصور لکھاری۔ وہ ہمارے عہد کا لیو ٹالسٹائی تھا اور اس کی ’’اداس نسلیں ‘‘ ہمارے عہد کی ’’وار اینڈ پیس‘‘۔
مجھے میرے اور ان کے ایک پیارے دوست بتا رہے تھے ابھی ابھی ان کے گھر ایک ہی کمرے میں اسی جگہ ہمارے دوست مسعود عالم، سبین محمود اور عبد اللہ حسین انہی کرسیوں پر براجمان تھے اور اب ان میں سےکوئی بھی نہیں رہا۔

شیخ ایاز نے کہا تھا:
ہر روز ہزاروں میں بندے
گویا کہ قطاروں میں بندے
ہیں تاریک چوراہوں میں ملتے
اور موت کی راہوں میں ملتے

میں نے زنگی میں عبداللہ حسین کو صرف پہلی اور آخری دفعہ تب دیکھا تھا وہ بھی نومبر1995 ءمیں بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں منعقد ہونیوالی اسلام آباد انٹرنیشنل رائٹرز کانفرنس میں جس میں میرے پسندیدہ عظیم لکھاری رسول حمزہ توف بھی اپنی بیگم سمیت شریک تھے۔ جہاں بنگلہ دیش کی مصنفہ نے یہ قرارداد لانے کی بھی کوشش کی تھی کہ پاکستان کو انیس سو اکہتر میں بنگالیوں کی ہونے والی نسل کشی پر معافی طلب کرلینی چاہئے۔

اس کانفرنس کے شرکاء کو ٹیکسلا کی سیر کو بھی لایا گیا تھا۔ گلابی جاڑوں اور پت جھڑ والی اس صبح کسی دھوپ زدہ پرانی مونٹیسوری کے کھنڈر پر ایک یورپی مصنفہ نے عبد اللہ حسین سے کہا : میں نے آپ کا ناول اداس نسلیں پڑھا ہے۔ بوجھو تو بھلا مجھے کہاں سے ملی آپکی کتاب؟ ‘‘

کہاں سے بھلا؟ عبد اللہ حسین نے کہا
’’سوئیڈن میں بھارتی سفارتخانے سے‘‘یورپی مصنفہ نے کہا۔
عبد اللہ حسین نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا ’’ تو ہمارے دشمنوں کے پاس سے‘‘۔
کئی برس بیتے ۔ 1970ءکی دہائی میں میرا ایک دوست جو کہ اب سندھی ادیب و صحافی ہے تب سندھی قوم پرست طالب علم رہنما تھا جیل میں تھا ۔

ایک دن کوئی شخص ان سے جیل پر ملاقات کے لئے آیا جن کا نام انہوں نے پہلے نہیں سنا تھا۔ میرے قیدی دوست سے ملاقات کو آنے والے اس اجنبی شخص کے ایک ہاتھ میں گلاب کے سرخ پھولوں کا گل دستہ اور دوسرے ہاتھ میں عبد اللہ حسین کی کتاب تھی ۔ میرا دوست بھی اداس نسل کا آدمی ہے تو یہ کتاب اسے بھی لڑ گئی۔ اس نے رہا ہونے پر آج تک اس مہربان اجنبی کو بڑا تلاش کیا لیکن وہ اسے پھر کہیں نہیں ملا۔ میں اس دوست سے مذاق کرتا کہیں وہ ملاقاتی خود عبداللہ حسین تو نہیں تھے؟ تو یورپی مصنفہ سےلے کر سندھی قوم پرست تک سب کے سب اس کے قاری تھے۔ سب کی سب اداس نسلیں۔ انیس سو اسی کی دہائی میں عبد اللہ حسین کی ’’اداس نسلیں‘‘ بائیں بازو کی سیاسی اور طالب علم تنظیموں کے اسٹڈی سرکل کے کورس میں رکھی ہوتی تھیں (کمیونسٹوں نے پچاس کے عشرے میں اپنے اسٹڈی سرکل میں قرۃ العین حیدر کے ناول ’’آگ کا دریا‘‘ سمیت اس کی تمام کتابیں پڑھنے پر بندش ڈالی تھی)۔ جب وہ جیل بھی چلے جاتے تو اداس نسلیں ان کے ساتھ ہوتی۔میرا دوست پروفیسر امداد چانڈیو جو کہ اپنے دور کے بائیں بازو کے مشہور طالب علم رہنما تھے جنہیں اپنے ساتھیوں شیر منگریو اور محمد خان سولنگی کے ساتھ ضیاء آمریت کے خلاف مضمون لکھنے پر سات سات برس اور دس دس سے زائد کوڑوں کی سزائیں ہوئی تھیں جب کسی دوست کے گھر گرفتار ہوا تو گرفتاری سے پہلے وہ چارپائی پر لیٹے عبداللہ حسین کی ’’اداس نسلیں‘‘ پڑھ رہا تھا۔

میں نے عبد اللہ حسین کا ناول حیدرآباد سندھ میں قومی کتاب گھر سے تب خریدا تھا جب اس کی قیمت بارہ روپے تھی۔ قومی کتاب گھر جہاں سہیل سانگی کا پتہ ملتا تھا۔ جہاں آئے دن چھاپے پڑتے تھے۔ ضیاء دور میں آخرروز روز کے چھاپوں سے تنگ آ کر قومی کتاب گھر کے ستار بھائی شاید ملک چھوڑ کر ہی چلے گئے۔
عبد اللہ حسین کی ’’ندی‘‘ ہو کہ ’’نشیب‘‘ یا کہ نادار لوگ، لیکن ان کے پڑھنے والے ہیں کہ اداس نسلیں کے سائے سے نکلتے ہی نہیں۔ حیرت ہے ’’:نادار لوگ‘‘ میں وہ ستر کی دہائی کے بلوچستان پر تشویش ظاہر کرنے والے نوجوانوں کے اٹھائے جانے کا منظر ابھارتے ہیں آج بھی وہی بلوچستان ہے ۔ وہی روز شب ہیں۔ نشیب کے شروع کے صفحے پر انکا ایک انگریزی کے شاید کسی گانے کی سطر کا دیا ہوا حوالہ بھلاتے بھی نہیں بھولا جاتا
’’میں یہاں ہوں کیونکہ تم اس دنیا کے معمولی لوگوں کے درمیان موجود ہو‘‘ تو ہم معمولی لوگوں کی اس دنیا سے یہ غیر معمولی ترین شخص چلا گیا۔ اس کی اداس تر نسلیں اور اداس ترین ہوگئیں۔

Citation
Hasan Mujtaba, ” عبداللہ حسین کی اداس نسلیں,” in Jang, July 9, 2015. Accessed on July 13, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B3-%D9%86%D8%B3%D9%84%DB%8C%DA%BA-2/

Disclaimer
The item above written by Hasan Mujtaba and published in Jang on July 9, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 13, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Hasan Mujtaba:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s