عبداللہ حسین کو ’’تیسری قوت‘‘ کی ضرورت نہیں

Follow Shabnaama via email
عطاء الحق قاسمی

میں عبداللہ حسین کے بارے میں بہت کچھ لکھنا چاہتا تھا، ان کی تحریروں کے حوالے سے نہیں ان متعدد ملاقاتوں کے حوالے سے جو الحمراء آرٹس کونسل میں میرے دفتر میں ان سے ہوتی رہیں ،اپنے اس اعزاز کا ذکر کرنا چاہتا تھا کہ الحمراء کی ادبی اور ثقافتی کانفرنسوں کے انتظامات اور انعقاد میں ان کی بھرپور شمولیت کے طفیل خاص و عام کو اس کم آمیز ادیب سے ملاقات کا اور تبادلہ خیال کا موقع ملا۔اس حوالے سے میرے پاس ان کی ایک یادگار تصویر محفوظ ہے جس میں ایک کانفرنس کے موقع پر وہ میرے دفتر کے سامنے کی سیڑھیوں میں اپنے مداحوں کے ساتھ بیٹھے ہیں اس کے علاوہ ایسی بہت سی آڈیو اور وڈیو سی ڈیز میرے دل کے نہاں خانہ میں محفوظ ہیں۔جن میں یہ دراز قد بلکہ انتہائی دراز قد، گوری رنگت اور فرنچ کٹ داڑھی والا شخص بہت وقفے ڈال ڈال کر بہت مشکل باتیں بہت آسانی سے کر رہا ہے خصوصاً الحمراء کی گزشتہ کانفرنس ’’بیتے ہوئے دن یاد آتے ہیں ‘‘ میں ان کی وہ آپ بیتی جو انہوں نے بہت شرماتے ہوئے اور محتاط لفظوں کے تخلیقی استعمال کے ساتھ سنائی جس کا تعلق ایک بڑے سیاست دان سے تھا، اس آپ بیتی میں بہت ’’نازک مقامات ‘‘آتے تھے جن سے یہ خلاق ادیب آسانی سے گزر گیا اور سامعین کے چہروں پر مسکراہٹ پھیلتی چلی گئی !
’’اور میں وہ سب کچھ بھی بیان نہیں کروں گا جو میں عبداللہ حسین کے ناولوں اور افسانوں کے حوالے سے آج بیان کرنا چاہتا تھا اور اس کی وجہ خود عبداللہ حسین ہیں ۔ انہوں نے سنگ میل پبلشرز کے نیاز احمد (سبحان اللہ مرحوم کیسے اعلیٰ قسم کے ادب دوست اور ادیب دوست شخصیت کے حامل تھے ) کے اصرار پر ’’نشیب‘‘ کا جو پیش لفظ لکھا، اگر آپ میری بات سمجھنا چاہتے ہیں کہ میں ان کے فن پر کیوں بات نہیں کر رہا تو ذیل میں ان کی یہ تحریر پڑھ لیں!

روس کی ایک مشہور رقاصہ نے ایک دفعہ کوئی ناچ پیش کیا تو کسی نے اس سے پوچھا ’’کیا آپ اس ناچ کا مطلب ہمیں بتا سکتی ہیں ؟‘‘ اس پر رقاصہ نے جواب دیا ’’اگر میں بتا سکتی تو ناچنے کی تکلیف کیوں کرتی ؟کسی نے کہا ہے کہ کہانیاں لکھنا دنیا کا ایک اہم کام ہے ۔ اس لئے کہ ان میں وہ باتیں تو ہوتی ہی ہیں جو بیان کی جا سکتی ہیں ، اس کے علاوہ وہ باتیں بھی ہوتی ہیں جو بیان نہیں کی جا سکتیں ۔اس کتاب (نشیب ) کے ناشر نے اصرار کیا ہے کہ میں مجموعے کے شروع میں ’’چند لفظ‘‘ لکھ دوں کیونکہ ’’اس سے ادیب اور قاری میں رابطہ قائم رہتا ہے ‘‘ سوال یہ ہے کیا کہانیاں لکھنے سے رابطہ قائم نہیں ہوتا ؟میرے خیال میں میرے کچھ کہنے یا نہ کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، دراصل کسی کے بھی کچھ کہنے نہ کہنے سے فرق نہیں پڑتا، اس لئے کہ اگر یہ کہانیاں اچھی ہیں تو دس بیس سال کے بعد بھی جب کہنے کہلانے والے رخصت ہو جائیں گے یہ پڑھی جاتی رہیں گی اور اگر اچھی نہیں تو کوئی کچھ بھی کہتا رہے۔ یہ دیکھتے دیکھتے نظر سے غائب ہو جائیں گی اور کوئی ان کا نام تک نہیں لے گا ۔ ان باتوں سے کسی اور کاروبار میں ہو سکتا ہے فرق پڑتا ہو، ادب کے معاملے میں نہیں پڑتا۔ اگر اسی بات کی سمجھ قارئین کو آ جائے تو میں سمجھوں گا کافی رابطہ ہو گیا۔باقی سب خیریت ہے ۔ خدا حافظ عبداللہ حسین ‘‘

’’وہاں تخلیقی ادب گو کہ ایک حد تک بہت ذاتی شے ہے مگر اس کا ایک مطلب ابلاغ کرنا بھی ہے اس بات پر میرا یقین اور حتیٰ الامکان اس پر کاربند رہنے کی کوشش کرتا ہوں‘‘
اور اگر آپ کو اس کے باوجود ادب اور قاری کے درمیان کسی ’’تیسری طاقت‘‘ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو بالواسطہ طور پر ادیب کی زندگی کے اوراق آپ کے کام آسکتے ہیں کہ کوئی فکشن ایسی نہیں جس میں اس کے لکھنے والے کی زندگی کا عکس نظر نہ آتا ہو۔ مسعود اشعر نے اپنے کالم میں فیس بک پر عبداللہ حسین کے جس آخری دکھ بھرے ٹویٹر کا ذکر کیا تھا ممکن ہے اس کی کچھ جھلک عبداللہ حسین کی آپ بیتی کے اس پہرے میں بھی کہیں دکھائی دیتی ہو، سو اس پہرے کو یہاں درج کرکے میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں ۔

میں 14؍اگست 1931ء کو شہر راولپنڈی میں پیدا ہوا، وہاں میرے والد ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے پانچ سال کی عمر میں اپنے آبائی شہر گجرات (پنجاب) آ گیا اور اکیس سال کی عمر تک وہیں رہا۔1952ء میں گجرات سے بی ایس سی کا امتحان پاس کیا اسی سال ضلع جہلم کی ایک سیمنٹ فیکٹری میں بطور کیمسٹ کے ملازم ہو گیا ۔1953ء میں وہاں سے چھوڑ کر دائود خیل (میانوالی ) کی ایک سیمنٹ فیکٹری میں بطور کیمیکل انجینئر آ گیا اور ابھی تک وہیں ہوں۔

1959ء میں کیمیکل انجینئرنگ کے کورس کے لئے کینیڈا گیا جہاں ایک سال تک رہا واپسی پر چند مہینے یورپ کا دورہ کیا ۔ لندن میں ٹی ایس ایلیٹ اور پیرس میں سارترے سے ملا ۔ کینز میں پکاسو کا پیچھا کیا اس سے پہلے مانٹریال (کینیڈا ) میں ایک دفعہ ہمیگوے سے دس منٹ کی ملاقات کر چکا تھا بس ان لوگوں سے ملنے کا شوق تھا ، چنانچہ محض بطور ایک ٹورسٹ کے ان سے ملا ۔ کوئی ادب یا آرٹ پر گفتگو مقصود نہ تھی اور نہ ہوئی۔

چھ ماہ کا تھا کہ والدہ فوت ہو گئیں والد نے بڑی محنت سے پالا آخر 1956ء میں ان کا بھی انتقال ہو گیا اس وقت میری عمر پچیس برس کی تھی ، زندگی کا پہلا شدید صدمہ والد کی موت سے ہوا انہی دنوں نروس بریک ڈائون کا شکار بھی ہوا اور ایک ماہ تک لاہور کے ہسپتال میں پڑا رہا، جب صحت یاب ہوا تو دو بڑے واقعے ہوئے ایک تو ’’اداس نسلیں ‘‘ کا پہلا باب لکھا ،دوسرے محبت کی ۔

لکھنے پڑھنے کی ہمارے خاندان میں کوئی روایت نہیں باپ دادا بڑے جڑی پٹھان زمیندار اور مشہور شکاری تھے والد نے البتہ جوانی میں نپولین کی سوانح پڑھی اور وہ ان کا ہیرو تھا۔ اس کتاب کو وہ عمر بھر بار بار پڑھتے اور ہمیں پڑھنے کی تلقین کرتے ۔ اس کے علاوہ ہارڈی کے بھی دو ایک ناول کا تذکرہ کرتے رہتے تھے ، مجھے بچپن ہی سے انہوں نے شکار کی عادت ڈال دی تھی، اب سے پانچ سات برس پہلے تک خوب شکار کھیلتا رہا، پھر اچانک اس سے جی اٹھ گیا۔

میں اپنے والد کا اکلوتا لڑکا تھا لڑکپن کے زمانے میں ان کے ہمراہ پندرہ پندرہ بیس بیس میل شکار کے پیچھے گھومتے ہوئے انہوں نے مجھے زمین اور آسمان کی ساری جاندار اور بے جان چیزوں کے بارے میں جو کچھ وہ جانتے تھے بتایا، کھیت، فصلیں، کسان، دھوپ، بادل، بارش، چرندپرند، رنگ، موسم، سب! پھر جاڑوں کی صبحوں کو ، طلوع آفتاب سے پہلے پہلے کی روشنی میں کمر کمر تک یخ پانی میں کھڑے، بندوقیں کندھوں پر رکھے مرغابیوں کا انتظار کرتے ہوئے انہوں نے مجھ سے مردوں اور عورتوں، انسانوں اور آدمیوں کے بارے میں باتیں کیں، لڑکپن ، جوانی اور بڑھاپا، محبت اور نفرت اور جنس دوست اور دشمنی اور قربانی اور غیرت اور زندگی کی دوسری بڑی بڑی باتوں کا ذکر کیا جب تک وہ رہے ان کی دھیمی، متوازن، دانا آواز میرے ساتھ ساتھ رہی اور کسی شخص ،کسی شے کے خوف کا سایہ بھی پاس نہ پھٹکا۔

میرے والد بڑے شاندار آدمی تھے ، پھر انہی کو میں نے چار سال تک مفلوج ومعدوم چارپائی پر پڑے آہستہ آہستہ مرتے ہوئے دیکھا، خوابوں کے ٹوٹنے کا زمانہ شروع ہو چکا تھا ایک ایک انچ بدن پر رینگ رینگ کر چڑھتی ہوئی سست رفتار موت کے نظارے نے مجھے سخت مایوس کیا۔ میرے نزدیک انسان کی عظیم الشان قوتوں کا آہستہ آہستہ بتدریج زائل ہونا زندگی کے سب سے بڑے المیوں میں سے ہے۔

Citation
Ataulhaq Qasmi, “عبداللہ حسین کو ’’تیسری قوت‘‘ کی ضرورت نہیں,” in Jang, July 9, 2015. Accessed on July 13, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86-%DA%A9%D9%88-%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%DB%8C-%D9%82%D9%88%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D8%B6%D8%B1%D9%88/

Disclaimer
The item above written by Ataulhaq Qasmi and published in Jang on July 9, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 13, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ataulhaq Qasmi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s