وارث میر کی یاد میں

Follow Shabnaama via email
عطاء الرحمن

نوٹ:درج ذیل معروضات جنرل مشرف کے اقتدار کے عروج کے دور میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے زیر اہتمام ایک سیمینار میں پیش کی گئی تھیں۔ جنہیں آج مرحوم کی برسی کے موقع پر بغیر کسی ترمیم یا اضافے کے نذر قارئین کیا جا رہا ہے۔ (ع۔ر)

وارث میر ہمارے عہد کے ان اخبار نسویسوں میں سے تھے جن کے یہاں روزانہ کی خبر پر تبصرہ، اس کا تجزیہ اور علم و شعور کی گہرائی آپس میں اس طرح گھل مل جاتے تھے کہ معلوم نہیں ہوتا تھا قاری تقریباً روزانہ چھپنے والا کالم پڑھ رہا ہے یا علمی مقالے سے بہرہ مند ہو رہا ہے۔ ان کی تحریروں کی دوسری خوبی میرے نزدیک یہ تھی کہ پڑھنے والے کے اندر روز مرہ کے حالات کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے علمی تجسس ابھارتی تھیں اس میں ذوق مطالعہ پیدا کرتی تھیں۔ اس کے ذہن میں کئی سوالات پیدا کرتی تھیں۔ جرأت اظہار ان کا بڑا وصف تھا۔ ضیاء الحق کے مارشل لا کے دور میں انہوں نے فوجی آمریت کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں معرکۃالآرا تجزیے رقم کیے۔ آج جبکہ آمریت ایک مرتبہ پھر سایہ فگن ہے ان کی کمی شدت کے ساتھ محسوس ہوتی ہے۔ میں نے 1970-71ء کے قریب انہیں پڑھنا شروع کیا۔ آخر تک ان کا قاری رہا۔ ان کا ذہن منجمد نہیں تھا اور مسلسل ارتقا پذیر تھا۔ تحریر اور خیالات میں پختگی بھی آتی رہی۔ وقت کے ساتھ تجزیوں میں گہرائی اور نظر میں وسعت کا اضافہ بھی ہوا۔ نوائے وقت سے جنگ تک ان کا سفر لبرل ازم کا سفر بھی قرار دیا جا سکتا ہے لیکن یہ لبرل ازم، کوئی اس سے اختلاف کرے یا اتفاق، مانگا تانگا نہیں تھا، مشینی ہرگز نہیں تھا، ان کے ذاتی مطالعے اپنی سوچ اور گردو پیش کے حالات پر غور و فکر کا نتیجہ تھا۔ اسی لیے تمام تر لبرل ازم کے باوصف ان کے اندر کا مسلمان پوری تابندگی کے ساتھ زندہ رہا۔ ملی غیرت اپنا اظہار کرتی رہی۔ مسلمانان عالم کا درد آخر دم تک ان کی تحریروں سے جھلکتا تھا۔ بھارت کبھی ان کا قبلہ نہ رہاوہ اس ملک کے مطالعاتی دورے پر گئے لیکن آج کے دانشوروں کی مانند ’’عمرہ کرنے کی سی کیفیت اور جذبات‘‘ کے ساتھ نہیں۔ وہاں پر بھی دماغ اور آنکھیں کھلی رہیں۔ وایسی پر جو تبصرے لکھے ان میں مرعوبیت نام کو نہ تھی۔ اسی لیے میں سوچتا ہوں آج اگر وارث میر ہمارے درمیان موجود ہوتے تو موجودہ روشن خیال اعتدال پسندی کے بارے میں کیا رائے رکھتے۔ میں وارث میر کا قاری ہونے کے ناتے اپنے آپ کو اس کا طالب علم سمجھتا ہوں۔ اس لحاظ سے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں اس کا لبرل ازم موجودہ روشن خیالی کے ساتھ سمجھوتہ نہ کرتا۔ وہ اس کے خلاف بھی اس طرح آواز بلند کرتا جس طرح ضیاء الحق کے اسلام اور اس کے پردے میں لپٹی ہوئی فوجی آمریت اس کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ اسی نکتے سے میرا خیال ایک اور المیے کی جانب چلا جاتا ہے جس سے پاکستانی دانشوروں کے قبیلے کو سامنا ہے۔ خواہ وہ اسلام پسند ہوں یا آج کل کی اصطلاح میں روشن خیال58 ہم با استثنائے چند اپنی اپنی باری اور آئین کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دینے والی فوجی آمریتوں کے طرف دار رہے ہیں۔ ضیاء الحق کے دور میں ہم نے اس کی خاطر اسلام کو آڑ بنایا۔ جنرل مشرف کے عہد میں سیکولر ازم کے دلدادہ دانشوروں کے لیے وہ تمام تر آئین دوستی اور جمہوریت پسندی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے جس کا چرچا وہ ضیاء الحق کی آمریت کے دوران بہت کرتے تھے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ وارث میر زندہ ہوتے تو شاید اس مرض کی صحیح تشخیص ہمارے سامنے رکھتے اور کچھ نہ کچھ علاج بھی تجویز کرتے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا میں 1970-71ء سے لے کر 1987ء میں مرحوم کی وفات تک وارث میر کے مضامین اور تجزئیے بالاستیعاب پڑھتا رہا ہوں۔ ان کے فرزند ارجمند عامر میر نے ان تحریروں کو تین مجلدات میں مرتب کر کے شائع کر دیا ہے۔ میرے اندر خواہش موجزن ہے کہ اس مجموعے کا ازسر نو اور زیادہ غور سے مطالعہ کروں۔ شاید میرے درج ذیل سوال کا جواب مل جائے۔ ایک زمانہ تھا جسے گزرے زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہمارے چوٹی کے نہایت قابل احترام دانشور اور کالم نویس تنازع کشمیر پر وہاں کے عوام کے حق خود ارادی اور اس ضمن میں سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی پر جوش طریقے سے حمایت کیا کرتے تھے۔ مضامین اور کالموں سے کے انبار لگاتے تھے۔ تب حکومت پاکستان اور ہماری خفیہ ریاستی ایجنسیاں بھی اس مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے بہت سرگرم ہوتی تھیں۔ اب یہ صورت حال نہیں۔ ریاستی ایجنسیاں پہلی سی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کر رہیں۔ ہمارے دانشوروں کو بھی اہل کشمیر کے جائز ترین حق خود ارادی کے حوالے سے چپ سی لگ گئی ہے۔ اس پر بات کرنے سے گریزاں رہتے ہیں یا پھر ایسا ہوتا ہے کہ ان کی تحریروں سے بھارتی نقطہ نظر کی جانب جھکاؤ ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا اصل دانش وہی ہوتی جو اسلام آباد بلکہ صحیح تر الفاظ میں راولپنڈی کے ایوان ہائے اقتدار اور ایجنسیوں سے ’’فلٹر ڈاؤن‘‘ ہوتی ہوئی ہمارے دماغوں میں ٹپکتی ہے۔ کشمیر پاکستان کا قومی مسئلہ ہے ۔ مقبوضہ وادی کے مسلمان عوام کی بھارتی پنجہ استبداد سے آزادی کا سوال ہے۔ پھر اہل دانش کا ایک بڑا اور با اثر گروہ وہ ہے جو قریب کے زمانے میں امریکی سامراج کے خلاف دن رات ایک کر دیتا تھا۔ تب عالمی سطح پر روس کی کمیونسٹ سپرطاقت ان خیالات کی پشت پناہی کرتی تھی۔ اب وہ نہیں رہی تو ان کا قبلہ بھی تبدیل ہو گیا ہے۔ کمیونزم کی بجائے لبرل ازم جزو ایمان بن گیا ہے اور امریکہ کے ہر جائز و ناجائز فعل کی حمایت کا منبع ان کے دل و دماغ کی بجائے کوئی دوسرا ادارہ یا بیرونی طاقتیں ہوتی ہیں۔ ممکن ہے وارث میر مرحوم کی تحریروں کے ازسر نو مطالعے سے مجھے اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں مدد مل جائے۔

Citation
Ata-ur-Rehman, “وارث میر کی یاد میں,” in Daily Nai Baat, July 9, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%AB-%D9%85%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%DB%8C%D8%A7%D8%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA

Disclaimer
The item above written by Ata-ur-Rehman and published in Daily Nai Baat on July 9, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ata-ur-Rehman:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s