اقبالِ لاہوری۔۔۔تہران میں

Follow Shabnaama via email
زاہد منیر عامر

گاڑی امام خمینی ایرپورٹ سے نکلی اور تہران کی سڑکوں پر فراٹے بھرنے لگی مجھے اس بات سے دل چسپی تھی کہ بیتے ہوئے بیس برس میں آنے والی تبدیلیاں دیکھوں اس لیے میری نگاہیں گاڑی سے باہر تھیں لیکن گاڑی کے اندر بریگیڈیر تیمور افضل خان کی باتوں کا فوارہ اُبل رہا تھا ان سے یہ پہلی ملاقات تھی اور وہ تعارف کے تمام پہلو اور کانفرنس سے متعلق تمام اسرار اسی ملاقات میں جان لینا چاہتے تھے اس لیے انھیں میری اس دل چسپی کا کوئی اندازہ نہیں ہورہاتھا جو مجھے تہران کے تیزی سے بدلتے مناظرسے تھی۔میں اپنی سماعت اورگفتار کو ان کی جانب اور نگاہوں کو باہر کی جانب متوجہ کرکے ان کی پرخلوص سادگی اور اپنی داخلی تحریک میں توازن قائم کرنے کی کوشش کررہاتھا۔ ایسے میں جب میں باہر لکھے کسی فارسی جملے کوپڑھناچاہتاتو اسی لمحے وہ میری توجہ اپنی جانب مبذول کروانے والا کوئی جملہ کہہ دیتے یوں سڑکوں پر لکھے ’’ خط سفید الفبای تریفک ‘‘(سڑک پر لگی سفیدلائنیں ٹریفک کا پہلا سبق ہیں)اور’’ بارازی باز نوشتہ شوید‘‘(اشتہار:رازی کمپنی کے ساتھ ریٹائرہوں یعنی بیمہ کروائیں)قسم کے جملے توجہ سے محروم رہے جاتے اور میں ،جو اردو حروف کی لکھاوٹ پر جان دیتاہوں، اہلِ ایران کی اِن حروف سے محبت اور خوش نویسی کی جی بھر کر داد بھی نہیں دے پاتاتھا کہ گفتگو کا موضوع بدل جاتا تھا۔ دیدار و گفتار کی اس کشمکش میں مجھے تہران کے مناظر میں بہت کم تبدیلی کا احساس ہوا ۔ جزئیات کا تو ذکر نہیں مجموعی تاثر، نگاہِ اوّلیں سے مختلف نہیں تھا ۔آدھ پون گھنٹے تک گاڑی بے روک دوڑتی رہی اور بالآخر تہران کے ایک عالی شان پنج ستارہ ہوٹل’’ ایسپیناس‘‘ کے دروازے پر جارکی۔ دروازے پر ایستادہ دربانوں کے شائستہ سلام اور خیرمقدمی جملوں کے بعد اندر داخل ہوتے ہی سائرس اعظم اور اس کی ملکہ کے دیوقامت سفیدمجسموں سے سامنا ہوا جو جانے کب سے ہمارے استقبال کے لیے منتظر کھڑے تھے۔چیک اِن کے بعد عمرانی نژاد چندے میرے ساتھ لابی میں بیٹھے اور افتخار عارف صاحب سے فون پر بات کروائی ۔افتخار عارف صاحب سے ہمارا تعارف پراناہے ان کی ’’مہر دونیم ‘‘اس زمانے میں پڑھی تھی جب ابھی مہر، دونیم نہیں ہوئے تھے ۔ اس پر فیض صاحب کی داد اور شاعر کے ’’ریاض ‘‘کی تمنا بھی اسی زمانے سے یاد ہے اس ابتدا کے بعد ان کی کامیابیوں پر نگاہ دالیں تو وحشت کلکتوی کا شعر یاد آتاہے ؂

فروغِ طبع خداداد اگرچہ تھا وحشت
ریاض کم نہ کیا ہم نے کسب فن کے لیے

افتخار عارف صاحب ایک خوش خیال شاعر ہی نہیں ایک اچھے براڈ کاسٹر، منتظم اوردوستوں کے دوست ہیں۔وہ آج کل’’ ایکو ‘‘کے ثقافتی شعبے کے سربراہ ہیں اور اس حیثیت سے تہران میں مقیم۔ اقبال پر منعقد ہونے والی یہ بین الاقوامی کانفرنس جس میں’’ ایکو ‘‘ممالک کے مندوبین شرکت کررہے ہیں افتخار عارف صاحب ہی کی تحریک پر منعقد ہورہی ہے جس میں ایران کا فائن آرٹس کا بڑا ادارہ ’’حوزۂ ہنری‘‘ بھی ان کے ساتھ شریک ہے اور شہر بھر میں اس کانفرنس کے اطلاعیہ بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ انھوں نے پرجوش خیرمقدم کیا اورٹیلی فون پرپُر لطف گفتگو ہوئی ۔لطفِ کلام کے سبب گفتگو نے اتنا طول کھینچا کہ عمرانی نژاد، حیرانی نژاد بنتے بنتے بچا۔۔۔اسی نشست میں عمرانی نے ڈاکٹرعلی بیات اور ڈاکٹروفا یزدان منش سے بھی بات کروادی، لیجیے اب تو گویا سارے تہران کو ہمارے پہنچنے کی اطلاع ہوگئی اور ٹیلی فونوں اور مہمانوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سب سے پہلے ڈاکٹر علی بیات ،ہوٹل تشریف لائے اور رات گئے تک میرے ساتھ رہے انھوں نے ایک مسافر کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے ایک عدد ٹیلی فون سِم بھی پیش کردی جس سے ہم اپنے تمام زمانہ قیام میں مستفید ہوئے۔ صبح جلد ملنے کے ارادے کے ساتھ ہم رات بہت دیر گئے ایک دوسرے سے جدا ہوئے، صبح ہوتے ہی عمرانی نژاد ایک بار پھر’’ سیاسی ‘‘گاڑیوں کے ساتھ آموجود ہوئے۔ راقم ، میاں اقبال صلاح الدین اور بریگیڈیر صاحب تیار لابی میں موجود تھے ان کے ساتھ ایکو کے دفتر پہنچے ایکو کا دفتر’’ اقدسیہ ‘‘کے علاقے میں ایک عمدہ دومنزلہ عمارت میں واقع ہے۔ افتخار عارف صاحب نے جوش استقبال میں ہمیں’’قبلہ عالم‘‘ کا خطاب دے ڈالا، ان سے ملاقات میں وہی حرارت تھی جو وطن سے دور ملنے والے دو محبوں کی ملاقات میں ہوتی ہے ہم اپنے ساتھ ان کی لائبریری کے لیے جو اقبالیاتی کتب لے گئے تھے ان کی خدمت میں پیش کیں، چائے پی، کچھ تصویریں بنائی گئیں اتنے میں دس بج گئے اور ہم کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کے لیے اسی عمارت کے بیسمنٹ میں چلے گئے ۔

افتخار عارف ،میاں اقبال صلاح الدین،ڈاکٹر محمد حسین ساکت ،اور ڈاکٹرمحمد بقائی ماکان اسٹیج کی رونق بنے ،جب کہ ڈاکٹر محمد رضا جباری (مدیراجرای موسسہ فرہنگی ایکو)نے خیرمقدمی کلمات کہے۔ جناب افتخار عارف (یا افتخار حسین عارف )اور تہران یونی ورسٹی کے شعبہ فلسفہ کے استاد ڈاکٹر عبدالحمید ضیائی نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور ڈاکٹر محمد حسین ساکت نے جو ویسے تو تہران کے ایک قانون دان ہیں لیکن اقبال سے بھی خصوصی دل چسپی رکھتے ہیں، مجریِ برنامہ یعنی کمپیر کی ذمہ داری سنبھالی اور راقم کو دعوتِ خطاب دی گئی ۔راقم نے چند سخن زبانِ فرنگی میں عرض کیے اور اس کے بعد حاضرینِ مجلس کی سہولت کا خیال رکھتے ہوئے فارسی کو ذریعہ اظہار بنایا، تفصیل آگے آئے گی ۔راقم کے بعد تہران یونی ورسٹی کے شعبہ اردو کے سربراہ ڈاکٹر علی بیات اور اسی شعبے کے اساتذہ؛ ڈاکٹر وفا یزدان منش اورڈاکٹر محمد کیومرثی نے مقالات پیش کیے۔ تہران یونی ورسٹی کے ان تینوں ایرانی اساتذہ کو راقم سے تلمذ رہاہے اس لیے انھیں یہاں سربلند دیکھ کر اور ان کے مقالات سن کر میرے باطن میں مسرت کی لہر دوڑ گئی ۔میں انھیں مقالات پڑھتے ہوئے سن رہاتھا اور میری آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔ خوشی کے آنسو ۔۔۔ڈاکٹر وفا نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج انھوں نے افتخار عارف صاحب کو سب سے زیادہ خوش دیکھاہے یقیناً یہ دن افتخار عارف صاحب کے لیے خوشی کا دن تھا کہ ’ایکو‘ کے زیر اہتمام سرزمینِ تہران میں اقبال کی یاد منائی جارہی تھی لیکن میرے لیے بھی ایک یادگار دن تھا،اپنے تلامذہ کی سربلندی پر مسرت کا جو احساس مجھے حاصل ہوا وہ ایک یادگار تجربہ تھا ۔

اسی اجلاس میں خانم ڈاکٹر فرزانہ اعظم لطفی ،بریگیڈیرتیمور افضل خان اور ڈاکٹر محمد بقائی ماکان نے بھی مقالات پیش کیے ۔ڈاکٹر بیات کے مقالے کا عنوان : ’’افشاگری ھای اقبال درمجلس ابلیس‘‘ تھا ۔تہران یونی ورسٹی کے شعبہ اردو کے استاداور سابق صدر شعبہ ڈاکٹر محمد کیومرثی کا مقالہ’’ اقبال اور بیداری اسلامی‘‘ کے موضوع پر تھا انھوں نے کہاکہ فکر اقبال میں کارفرما بنیادی جذبہ قرآن سے تمسک ہے، اقبال احیائے فرہنگِ اسلامی کے خواہشمند ہیں جس کی بنیادتوحید پر ہے۔ ڈاکٹر وفا یزدان منش کا مقالہ ’’نحوۃ بہ کارگیری تلمیحاتِ فارسی و اسلامی درغزلِ اردویِ اقبال لاہوری‘‘ بہت توجہ سے سناگیا جس میں انھوں نے سیاسی، مذہبی اور اجتماعی مضامین کے لیے اقبال کی غزل میں بروئے کار آنے والی اسلامی تلمیحات کی پیش کش میں نئے مفاہیم کا سراغ لگاکرسامعین کو حیران کردیا۔

ہندوستانی وفد کے ارکان ڈاکٹر اختر مہدی ،ڈاکٹر علی اکبر شاہ اور ڈاکٹر اخلاق احمد آہن نے بھی اسی اجلاس میں مقالات پیش کیے ۔ڈاکٹر اختر مہدی اور ڈاکٹر اخلا ق احمد آہن جواہر لعل نہر ویونی ورسٹی میں جب کہ ڈاکٹر علی اکبر شاہ دہلی یونی ورسٹی میں زبان و ادبیات فارسی کے اساتذہ ہیں۔شرکا میں جہاں نوجوان نسل کے نمائندے موجود تھے وہاں تہران کے نہایت اہم دانشور اور اقبال دوست بھی نظر آرہے تھے ،اس علمی محفل میں ڈاکٹر معصومہ غلامی اورڈاکٹر علی کاؤسی بھی موجود تھے ۔ڈاکٹر معصومہ نے مولانا روم کی اردوشروح پراور ڈاکٹر علی کاؤسی نے غالب کی فارسی نظم و نثر کے اردو تراجم پر تحقیق کر کے پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کی ہیں ۔یہ دونو ایرانی اردو دان بھی ہماری پنجاب یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں اورانھیں ہم ایران میں اردو کے سفیروں میں شمار کرتے ہیں ۔

Citation
Zahid Munir Amir, “اقبالِ لاہوری۔۔۔تہران میں,” in Daily Nai Baat, July 8, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84%D9%90-%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1%DB%8C%DB%94%DB%94%DB%94%D8%AA%DB%81%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA

Disclaimer
The item above written by Zahid Munir Amir and published in Daily Nai Baat on July 8, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Zahid Munir Amir:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s