زندہ ہے وہ کہ جس کی نسلیں اُداس ہیں

Follow Shabnaama via email
شاہدہ دلاور شاہ

میں اس کی بات کرنے جا رہی ہوں جس کے آگے بظاہر موت جیت گئی مگر وہ تو مرا نہیں ۔ جس کی نہ کوئی لابی ہے، نہ کوئی پرنٹ یا الیکٹرونک میڈیا سے تعلقات ہیں نہ خواہش ہے اور نہ ہی وہ کسی پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔ اس سے بڑی مثال پاکستان میں نہیں کہ وہ نہیں بولا اس کی تحریر بولی ہے ۔ایک بار اس کے ناشر نے کہا کہ ’’نشیب‘‘ کے آغاز میں کچھ تحریر کر دیں تا کہ قاری کا لکھاری سے رابطہ رہے، تو اس نے کہا کہ کہانی میں جان ہو گی تو وہ خود کو منوا لے گی ۔اس کے خاندان میں تو پڑھنے لکھنے کا بھی رواج ہی نہیں تھا۔وہ تو پٹھان اور زمیندار تھے اور شوق کے اعتبار سے شکار سے دلچسپی رکھتے تھے۔عمر ابھی مشکل سے چھ ماہ تھی کہ ماں فوت ہوگئی پھر باپ ہی ماں بن گیا اور دونوں کا پیار دیاجو۱۹۵۶ء کو داغ مفارقت دے گیا۔ اتنی بڑی محبت چھن گئی جب ابھی پچیس سال کا ہوا۔اس محبت کے بعد اداس نسلوں سے محبت اور ایک دوسری ہستی سے بھی محبت ہو گئی۔

محمد خان نام کا یہ بچہ جو پاکستان کے حساب سے ایک مبارک دن۱۴ اگست ۱۹۳۱ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوا، کوئی نہیں جانتا تھا کہ ۴ جولائی ۲۰۱۵ء کو بہت سی نسلیں اداس کر جائے گا۔ عمر کے ابھی پانچ سال ہی گزارے تھے کہ گجرات آ گئے اور اگلے سولہ سال وہیں بسر کیے ۔بی ایس سی کرنے کے بعدجہلم کی سیمنٹ فیکٹری میں جاب مل گئی۔سیمنٹ کی فیلڈ اتنی بھائی کہ میاں والی میں بھی جا کرسیمنٹ فیکٹری میں نوکری کی۔۱۹۵۹ء میں کینڈا جانے کا موقع ملا ۔وہاں کو لمبو پلان فیلو شپ کے تحت کیمیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ لینا چاہتے تھے ۔اداس نسلیں ذہن کے نہاں خانوں میں سفر کر رہی تھیں ۔’’نیا ادارا‘‘ خوش قسمت نکلا جس نے آنے وقت کو بھانپ لیا تھا کہ وہ عبداللہ حسین کا زمانہ ہے۔اس نے پانچ سال میں مکمل ہونے والے ’’اداس نسلیں ‘‘ کی زمہ داری اپنے سر لی۔۱۹۶۳ء میں ہی اداس نسلیں کا ڈنکا بجنے لگاپھر۱۹۸۱ ء میں’’ نشیب‘‘ منصۂ شہود پر آ گیاجس میں پانچ افسانے اور دو ناولٹ شامل کر دیئے گئے

تھے۔اس کے بعد باگھ شائع کروانے کے بعد۱۹۸۹ء میں ’’قید‘‘ بھی مارکیٹ میں آ گیا۔’’نادار لوگ‘‘ بھی بہت بڑی کامیابی تھی مگر اس ناول سے دوسال پہلے ’’رات‘‘ ۱۹۹۴ ء میں پبلش ہو چکا تھا۔’’فریب‘‘ افسانوں کا مجموعہ 2012ء میں چھپا۔
لوگوں نے اس کی اداس نسلوں کو ہجرت سے جوڑنے کی بہت کوشش کی، کسی نے کہا کہ ایک بے چین شخص کی محرومیوں کی داستان ہے ۔اس طرح کی سب باتیں وقت کے ساتھ ساتھ دم توڑ جائیں گی کیوں کہ یہ تو محبت کی کہانی ہے۔ یہ تو عذرا اور نعیم کی کہانی ہے ۔ یہ تو اسی دنیا کی کہانی ہے۔یہ تو میرے دیس کی کہانی ہے۔یہ تو ہر دل کی کہانی ہے۔اس حقیقت سے کس کو مفر ہے کہ قاری کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں اور لکھنے والے کے اپنے اصول و قوانیں ہوتے ہیں ۔وہ اپنی دنیا کا آزاد پنچھی ہوتا ہے جو کائنات کے اندر مصنوعی قید خانوں کو پسند نہیں کرتا۔دنیا والے اس کی ’’اداس نسلیں ‘‘ پر مرتے تھے اور وہ اپنے ’’ باگھ ‘‘ کا طرف دار تھا۔اس پسند نہ پسند میں وہ کلی طور پر خود مختار تھا۔ شراکت داری سے اسے نفرت تھی۔وجودی فلسفے پر اس کا ایقان تھا۔ما بعد الطبعیات کے بارے میں مختلف نقطہ نظر رکھتا تھا۔وہ ریسرچ، تاریخ، سیاست اور سچائی کو اپنا ہم سفر کرتا۔علامتی ادب سے ایک حد تک پہلو تہی بھی برتتا۔

اس کو اپنی تحریروں کے بدلے میں چھوٹے ادیبوں کی طرح کوئی طمع یا لالچ نہیں تھا۔وہ تو اس بات کو بھی دل سے پسند نہیں کرتا تھا کہ لوگ اس سے اس کی کہانیوں یا اس کے ناولوں پر بات کریں ۔وہ تو تنقید و تحسین کا بھی خود کو سزاوار نہیں سمجھتا تھا۔اگر چہ اداس نسلوں کی شہرت کے نشے میں گھر والوں کا خیال تھا کہ یہ کوئی رسالہ یا اخبار شروع کرے مگر اس کی ازلوں کی بے نیازی نے ایسا کچھ نہ ہونے دیا۔وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ لوگ اس کے انٹرویوز کریں ،اسے میڈیا پر بلا بلا کر اس کا وقت ضائع کریں ۔ شہرت اس کی مجبوری یا ضرورت ہی نہ تھی نہ مزاج کا حصہ تھی۔اسے تو یہ بھی ناگوار گزرتا کہ لوگ اس سے اس کی تحریروں کی تفہیم چاہیں ۔وہ جھوٹے،منافق،غدار،دو نمبر ، مذہب کا لبادہ اوڑھ کربنیاد پرستوں اور ترقی پسندی کا اترن پہن کر خود کو روشن خیال ظاہر کرنے والوں پر تین حرف بھیجتااور دوغلے پن سے نفرت کرتاتھا۔وہ سچا تھا اسے سچائی سے پیار تھا۔ جو دل

میں ہوتا کہہ دیتا کبھی منافقت سے کام نہ لیتا۔یہی وجہ تھی کہ اس کالہجہ کرخت اور دبنگ تھا۔وہ ادبی مسخروں اور بونوں کے قریب بھی نہ پھٹکتا۔و ہ ذاتیات اور دنیاوی جاہ و منصب کے سخت خلاف تھا۔وہ ان نام نہاد ادیبوں سے خائف تھاجوفکری طور پر تو کنگال تھے مگر گلے میں دانشوری کا پیپا ڈال کر پیٹتے رہتے۔وہ ادیب نما درندہ نہیں بلکہ روشن ضمیر لکھاری تھا۔اس نے ایسے دور میں اپنے آپ کو منوایاجب معاشرے کے علمی و ادبی طبقات پرنمودو نمائش کا غلبہ چھا چکا تھا۔قلم کو زرداروں نے خریدنا شروع کر دیا تھا۔شعور و لا شعور میں جنگ جاری تھی ۔با شعور بھاری التفات کے بوجھ تلے دبنے لگے تھے۔کتابیں چھپ رہی تھیں مگر مقصدیت اور مفاد پشت میں تھا۔اس نے فکری و شعور ی قحط زدہ بنجر زمین میں تخلیقی اور غیر نظریاتی سوچ کی کوکھ سے بے نیازی پیدا کرکے خود کو بڑا ادیب منوایا۔اس کی شخصیت اپنے معاصرین اور جونئیرز کے لیے دمِ غنیمت تھی۔وہ جیا تو کروفر کے ساتھ، لکھا تو زندگی بخش،مرا توخلا پیدا کر گیا جو شاید ہی کسی سے پورا ہو۔عبداللہ حسین ناول نگار ہی نہیں ایک بڑا فنکار بھی تھا۔اس نے ناولوں اور افسانوں کے کرداروں کو نامکمل یا ادھوار نہیں چھوڑا کہ وہ در در کی ٹھوکریں کھاتے پھریں۔ اس نے محاسن و معائب سمیت ان کو مکمل زندگی دی ہے۔ اس نے بلا وجہ کرداروں میں گھسنے کوشش بھی نہیں کی۔نہایت ہنر مندی سے ایک طرف بیٹھ کرمضبوط فکری و فنی چابک سے ان کو امر ہو جانے کی طاقت بخشتا رہا اور اس میں بغیر شعوری طاقت کے کامیاب رہا۔عام ہونے کے باوجود بھی اس کے کردار عامیانہ نہیں کہ پہلی خواندگی میں تحریر کھل کر سامنے آجائے مگر اس بات کی بھی اسنے کوئی سعیء بے کراں نہیں کی۔وہ چوں کہ فطری طور پر ادیب تھااس لیے اس کے فن پارے میں ہمیں کہیں اجنبیت محسوس نہیں ہوتی ۔کسی جگہ مصنوعی پن کا ٹانکا نہیں لگایا۔وہ کترن اور اُترن کا بھی قائل نہیں۔ اگر وہ کسی آگ کا دریا سے متاثر ہوتا ہے تو بھی کہہ دیتا ہے اور اگر اپنے ہم عصروں سے اثر نہیں لیتا تو بھی برملا اظہار کر دیتا ہے۔لیت و لعل سے بات کرنا اسے پسند نہیں۔ہر بڑے ادیب سے فطرت تین زمانوں کے لیے لکھواتی ہے۔ اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ اپنی نسل کے لیے لکھا، ہماری نسل کے لیے لکھا اور آنے والی نسل کے لیے لکھا۔
ادب میں ایک خاص حد تک مقصدیت کا قائل تھا ۔جبر اسے کبھی اچھا نہیں لگا۔نہ ہی اس نے مقصدیت تھوپنے کی کوشش کی۔اسے نہ اعزازیے کی خواہش نہ رائیلٹی نہ ملنے کا خوف تھا۔اس کا مطالعہ وسیع تھا ۔وہ دستو فسکی،ولیم فاکنز من، چیخوف ،کامیو، سارتر اور ٹالسٹائی وغیرہ سے متاثر تھا۔روحانیت پر کوئی خاص ایمان نہیں تھا۔ شاعری میں غالبؔ کو بڑا شاعر مانتا، تاہم میرؔ ، اقبالؔ ، فیضؔ اورناصرؔ کاظمی سے محبت کرتا۔ اس کی انگریزی بہت اچھی تھی ۔اس نے کئی دہایوں تک پاکستان میں انتظار کیا کہ کوئی اس کی اداس نسلوں کی ٹرانسلیشن کر دے مگرا تنے بڑے ناول سے شاید سب گھبراتے تھے ۔آخر یہ ذمے داری بھی اپنے کاندھوں پر لی اور اپنے انگلش قاری تک اپنا پیغام پہنچایا۔جہاں بہت سے معاملات میں ہمارا مزاج عبداللہ حسین سے ملتا ہے وہاں ہم بھی ان کی طرح سختی سے اس اصول پر گامزن ہیں کہ زبانوں کی وسعت اسی میں مضمر ہوتی ہے کہ زبانیں کھلے دل سے سمے کی پلنے والی زبانوں سے لفظوں کا تبادلہ کریں ۔ اس میں زبانوں کوزندگی اور تازگی ملتی ہے۔ایک اور قدر جو ہم سے لگا کھاتی تھی وہ یہ کہ عبداللہ حسین ہماری طرح جھکنے ارو بکنے والا لکھاری نہیں ہے ۔اس کو بھی زندگی میں بہت سے ایوارڈز اور ہمدردیوں کی آفر ہوئی مگر اس نے قبولنے سے انکار کیا۔اخیری عمر میں اس نے دوستوں کے کہنے پرایک دو جگہ نرمی فرمائی۔ایک الحمرا آرٹ کونسل کی جانب سے ملنے والے اعزاز سے انحراف نہ برتا اور دوسرا دنیا سے رخصتی سے چند دن پہلے اکادمی ادبیات کی جانب سے ملنے والے کمال فن ایوارڈ کو بخوشی قبول فرمایا۔ شاید وہ ادیب کا حق مرنے نہیں دینا چاہتا تھا۔ایسا ادیب جو ساری زندگی محبتیں بانٹتا ہے۔ یہی اس کا کل سرمایا ہوتا ہے۔۔۔

آہ ! غلام محمد قاصرؔ یاد آگئے:
کیا کروں گا جو ہو گیا محبت میں ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

Citation
Shahida Dilawar Shah, “زندہ ہے وہ کہ جس کی نسلیں اُداس ہیں,” in Daily Nai Baat, July 8, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%81-%DB%81%DB%92-%D9%88%DB%81-%DA%A9%DB%81-%D8%AC%D8%B3-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D8%B3%D9%84%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%8F%D8%AF%D8%A7%D8%B3-%DB%81%DB%8C%DA%BA

Disclaimer
The item above written by Shahida Dilawar Shah and published in Daily Nai Baat on July 8, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Shahida Dilawar Shah:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s