وارث میر ۔’’اُٹھ درد منداں دیا دردیا، اُٹھ تَک اپنا ’’پاکستان‘‘

Follow Shabnaama via email
سعید اظہر

کل جمعرات9جولائی 2015ہے!

پاکستان کی تاریخ علم و فکر میں آج کے دن حریتِ فکر کے ایک مجاہد پروفیسر وارث میرؔ نے اس کارگہِ فانی سے سے عالم جاوداں کی ابدیت میں اپنے سفر حیات کا آغاز کیا…..
چار میں سے انکے ایک فرزند ارجمند عامر میر کی جانب سے اپنے والد گرامی ’’پروفیسر محمد وارث میر….. ہلال امتیاز‘‘ کی یاد میں مرتب کردہ ’’وارث میرؔ کی کہانی‘‘ کے صفحہ 20 پر قاری کوپتہ چلتا ہے : ’’وارث میرؔ کا انتقال 9جولائی 1987ءکے روز دل کا دورہ پڑنے سے صبح تقریباً 6بجے لاہور میں ہوا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 48سال تھی۔ انہیں پنجاب یونیورسٹی نیوکیمپس کے قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔ پروفیسر وارث میرؔ کے پسماندگان میں ان کے چار بیٹے حامد میر، فیصل میر، عامر میر ، عمران میر اور بیٹی ہما میر شامل ہیں۔19جولائی 1993 کو ان کی بیوہ ممتاز میر بھی انتقال کرگئیں۔‘‘

9جولائی 1987 کی اس تاریخ وفات کے حساب سے، وہ گویا 9جولائی 1939 کے روز اس جہان فانی میں تشریف لائے!

صدر ادب و احترام کے بعد ان کی کہانی کے دو اور وقوعہ جات کاذکر لازماً کیا جانا چاہئے!

اولاً، پاکستان کےسابق منتخب صدر آصف علی زرداری کی جانب سے 23مارچ 2012 ءکو، بعداز مرگ انہیں ہلال امتیاز دیا جانا ، اعترافی اعلان کی رو سے: ’’میں بحیثیت صدر ِ اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب محمد وارث میرؔ مرحوم کو صحافت کے شعبہ میں امتیازی مرتبہ حاصل کرنے پر ’’ہلالِ امتیاز‘‘ کااعزاز بعد از وفات عطاکرتاہوں۔‘‘

ثانیاً، ’’ 2013(24مارچ) میں بنگلہ دیش کی حکومت نے مشرقی پاکستان میں یحییٰ خان کے فوجی ایکشن اور بنگالیوں کے قتل عام کے خلاف اپنی تحریروں کے ذریعے آواز بلند کرنے پر پروفیسر وارث میرؔ کو ’’فرینڈز آف بنگلہ دیش‘‘ لبریشن وار ایوارڈ کےاعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا۔‘‘ ….. اور کتاب کے مطابق ’’وارث میرؔ کی خدمات کا اتنے طویل عرصے بعد اعتراف کرنے پر بنگلہ دیشی حکومت نے پروفیسر وارث میرؔ کے خاندان سے تحریری معذرت بھی کی۔ پروفیسر وارث میرؔ کاایوارڈان کے بڑے صاحبزادے اور معروف صحافی حامدمیر نے 26مارچ 2013ءکو ڈھاکہ میں وزیراعظم حسینہ واجد کے ہاتھوں وصول کیا۔‘‘

بنگلہ دیش حکومت کی جانب سے وارث میرؔ کو ’’بعد از مرگ‘‘ اس ایوارڈ کے دیئے جانے پر پاکستان میں ’’حب الوطنی‘‘ اور ’’غیرت‘‘ کے ذمہ داروں نے اپنی عادت کے عین مطابق غیرمہذب انداز ِ اظہار اپنایا جس پر پاکستان کے معتدل مزاج اینکرپرسن اور معتبر اخبار نویس سہیل وڑائچ کے بیانئے نے قوم کی توجہ ان لوگوں کے انارکسٹ شور و غوغا کی جانب سے قطعی طور پر ہٹا دی۔ وڑائچ ’’وارث میرؔ کی کہانی‘‘ کے صفحہ 78 پر لکھتے ہیں: ’’بنگلہ دیشی حکومت نے تحقیق کے بعد مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن اوراسکے نتیجے میں ہونیوالی ہلاکتوں کیخلاف آوازبلند کرنے پر وارث میرؔ ، غوث بخش بزنجو، فیض احمد فیضؔ، حبیب جالب اور ملک غلام جیلانی کو بعد از مرگ ان اعزازات سے نوازا۔ ان بیش قدر ایوارڈز کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائےتو یہ کتنی قابل تحسین بات ہے کہ یہ نامور لوگ اس وقت کے مغربی پاکستان کے شہری ہونے کےباوجود اختلافی نقطہ ٔ نظر رکھتے تھے اور اکثریت سے ہٹ کر سوچتے تھے۔ مگر افسوس کہ ان ایوارڈز کو اس نقطہ ٔ نظر سے دیکھنے کی بجائے غداری اور جرم کے تناظر میں دیکھا گیا….. باقی نام تو برداشت کرلئے گئے مگر دائیں بازو کے چند نام نہاد دانشوروں اور لکھاریوں کے لئے سب سے زیادہ قابل گردن زدنی پروفیسر وارث میر ؔ ٹھہرے۔ کبھی نفرت کی جھوٹی آڑ لے کر اورکبھی طنز کے نشتر چبھوتے ہوئے وارث میرؔ کی تحریروں کے مخصوص اور من پسنداقتباسات کے حوالے دیئے گئے تاکہ اپنی مرضی کی تاریخ لکھی جاسکے۔ ان سب حوالوں کا مشترکہ ذریعہ وارث میرؔ کا وہ نامکمل سفرنامہ ہے جو انہوں نے المیہ مشرقی پاکستان سے تھوڑا عرصہ پہلے لکھا تھا۔‘‘ سہیل وڑائچ نے اپنے موقف کی نہایت جاندار تفصیل مزید بیان کی ہے جسے جگہ کی تنگ دامنی کے باعث روکنا پڑ رہا ہے، قاری خود ان صفحات کے مطالعہ سے ’’مشرقی پاکستان المیئے ‘‘کے درد کا اصل چہرہ دیکھ سکتاہے۔

ثالثاً، ’’وارث میر کی کہانی‘‘ کاایک اور وقوع تاریخ کے سینے پر ہمیشہ رقم رہیگا۔ دائیں بازو کے بعض مذہبی اور غیرمذہبی متشدد اورفسادالمزاج حملہ آوروں سے زِچ رہنے پر وارث میرؔ کی زندگی خرچ ہوتی جارہی تھی۔ وفات سے کچھ عرصہ قبل وہ مقتدر ترقی پسند ادیب و مفسر جناب احمد بشیر سے ملے۔ آگے احمدبشیر کی زبانی، کہتے ہیں: ’’اپنی موت سے فقط ایک روزپہلے وہ مجھے اخبار جنگ کی سیڑھیوں میں ملا، اس کے ہاتھ میں ایک مضمون تھا، اسکے چہرے پر زردی کھنڈر رہی تھی، سانس پھولی ہوئی تھی مگر اس کی آنکھیں خشمگیں تھیں۔ اس نے کہا ’’میری طبیعت خراب ہے۔ رات بھر میں سو نہیں سکا۔ اپنے ہاتھوں سے کچھ لکھ سکنے کی بھی مجھ میں سکت نہیں تھی۔ اسلئے میں نے مضمون اپنے بچے کو ڈکٹیٹ کروایا ہے‘‘….. وہ ہانپ رہا تھا، بولا:تم نےکل کے اخبار میں پڑھا ہوگا، ضیا الحق نے دانشوروں کو سیم اور تھور سے تشبیہ دی ہے، میں نے سوچااس کا جواب نوری آنا چاہئے۔ سواس امر کے باوجود کہ میں بیٹھ بھی نہیں سکتا اس کا جواب میں نے لکھا دیا۔ موت سے پہلے میں اس کا حساب چکانا چاہتا ہوں۔‘‘

اور پھر وارث میرؔ نے ضیاالحق کا حساب چکا دیا۔ انہوں نےلکھا؛ ’’جنرل محمد ضیا الحق نے لاہور کی ایک ادبی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کو کھوکھلا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہم پاکستان سے سیم اور تھور ختم کرنے پرپوری توجہ دے رہے ہیں اور نظریاتی سرزمین پر بھی کسی قسم کا سیم و تھور برداشت نہیں کریں گے۔ اس خبر کو پڑھنےکے بعداگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ جنرل صاحب کا اشارہ جی ایم سید یاولی خان کے بیانات کی طرف ہے تو اسے اپنی غلط فہمی دور کرلینی چاہئے۔ قیام پاکستان کے یہ کھلے کھلے ناقدین جنرل صاحب کی مخالف سیاسی قوتوں کے حریف ہیں اور یوں یہ لوگ فطری طور پر جنرل صاحب کی حکومت کے حلیف کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ جنرل صاحب نے بھی ان بزرگوں کے لئے کبھی کوئی درشت یا طنز آمیز لفظ استعمال نہیں کیا۔ حال ہی میں جی ایم سید کو غفار خان کی عیادت کے لئے بھارت بھجوانے میں صدر پاکستان نے جس فیاضی، فراخدلی اور غیرمعمولی دلچسپی کامظاہرہ کیاہے۔ وہ ان کے حسن اخلاق اور دوست نوازی کی روایات کے عین مطابق تھا ا ور بھارت کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی جی ایم سید نے جس قسم کا ’’پاکستان شکن‘‘ بیان دیا ہے اس پر کسی کاقلم حرکت میں نہیں آیا۔قلم پاکستان شکنی پرحرکت میں کیوں نہیں آتا۔ میں دوبارہ عرض کروں کہ جنرل ضیا الحق جب پاکستان دشمنوں کاذکر کرتے ہیں تو وہ اس وقت صرف ان لکھنے پڑھنے والوں کاذکر کر رہے ہوتے ہیں جواپنی شناخت ترقی پسندانہ خیالات کے حوالے سے کراتے ہیں۔‘‘

عامر میر کی مرتب کردہ اس کتاب ’’وارث میرؔؔ کی کہانی‘‘ کے مطابق ’’پروفیسر وارث میرؔ نے یہ مضمون سابق جنرل ضیا الحق کی ایک تقریر کے جواب میں 5جولائی 1987 کو اپنی وفات سے چند روز پہلے ’’جنگ‘‘کے لئے تحریر کیا تھا اور یہ ان کا آخر ی مضمون تھا جو ان کی 9جولائی کو وفات کے بعد شائع ہوا۔ وارث میرؒ کی یہ تاریخ ساز تحریر آپ کو فکر و نظرکی اس صدائے بازگشت کے جہانوں کی سیر کراتی اور ان سے متعارف کراتی ہے جن کے مکینوں نے ہمیشہ کہااور لکھا ’’ہاتھ ہمارے قلم ہوئے‘‘!
چنانچہ حریت ِ فکر کے اس مجاہد وارث میرؔ کے اپنے مضامین کے ایک مجموعے کو جب ’’حریت ِ فکر کے مجاہد‘‘ کے ٹائٹل سے کتابی شکل دی گئی اس مجموعے کے پہلے مضمون کا عنوان ہی ’’ہاتھ ہمارے قلم ہوئے‘‘تھا ۔

’’وارث میر کی کہانی‘‘ کے مرتب عزیز ی عامرمیر نےاپنے والد گرامی کا حق تو ادا کیا، ان کے فکری اثاثے کے تناظر میں وہ اس حق کو طویل عرصے سےادا کرتے چلے آرہے ہیں لیکن یہ کالم نویس اس کہانی کے فکری امام وارث میرؒ کے تذکرہ کا ابھی حق ادا نہیں کرسکا۔وارث شاہؒ کے ایک مصرعہ میںلفظی تصرف کی جسارت کرتے ہوئے، اپنی خواہش ناتمام ملتوی کرتاہوں :

’’اُٹھ درد منداں دیا دردیا، اُٹھ تک اپنا ’’پاکستان‘‘

Citation
Saeed Azhar, “وارث میر ۔’’اُٹھ درد منداں دیا دردیا، اُٹھ تَک اپنا ’’پاکستان‘‘,” in Jang, July 8, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%D9%88%D8%A7%D8%B1%D8%AB-%D9%85%DB%8C%D8%B1-%DB%94%D8%A7%D9%8F%D9%B9%DA%BE-%D8%AF%D8%B1%D8%AF-%D9%85%D9%86%D8%AF%D8%A7%DA%BA-%D8%AF%DB%8C%D8%A7-%D8%AF%D8%B1%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D8%8C/

Disclaimer
The item above written by Saeed Azhar and published in Jang on July 8, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Saeed Azhar:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s