جن سے تھی کہکشاں یہ زمیں، گُم ہوئے!

Follow Shabnaama via email
ناصر زیدی

نئے سال میں یعنی جنوری 2015ء سے لے کر جون تک کی چھماہی میں کتنے ہی نابغہ ء روزگار اہلِ قلم، شاعر، ادیب، دانشور اس دنیائے فانی سے عالمِِ جاودانی کو روانہ ہو گئے۔ بقول محترمہ حمیدہ شاہین:

رشکِ مہتاب تھے جو دیئے بجھ گئے
جن سے تھی کہکشاں یہ زمیں، گُم ہوئے

اس زمیں کو کہکشاں بنا کر زیرِ زمیں گم ہو جانے والوں میں محترمہ ادا جعفری۔ ڈاکٹر آفتاب اصغر ،پروفیسر ماجد صدیقی، اعزاز احمد آزر۔ احمد ہمدانی ، ڈاکٹر کلیم عاجز ،جسٹس رانا بھگوان داس، محترمہ طاہرہ مظہر علی خاں، ڈاکٹر عبدالمجید خاں ساجد، پروفیسر اے ایچ خیال[عبدالحمید خیال]، حسن جاوید، قدیر غوثی، ایم اے شیدا[ایڈووکیٹ]، مظہر اختر ،میجر جنرل احتشام ضمیر، انوار فیروز، شوکت مہدی تنویر شامل ہیں۔ مدتوں پہلے استادِ گرامی قدر حضرتِ احسان دانش نے کہا تھا:

کوئی رہروانِ عدم سے یہ پوچھے!
کہاں کی یہ چپ چاپ تیاریاں ہیں؟

مگر جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی؟ پوچھتے بھی تو کیا۔ اپنی اپنی تیاریوں سے آگاہ کئے بغیر بھی اکثر چل دیئے۔ یہ جو مَیں نے چند نام گنوائے ہیں ان میں سے کئی سے نیاز مندی تھی، کئی سے دوستی تھی اور کئی سے تعلقِ خاطر تھا اور ایک آدھ سے محض رسم و راہ تھی، تاہم میں ان سبھی کے نام سے ،کام سے بخوبی واقف ضرور ہوں اور اپنے کالم کے قارئین کو شریکِ غم کر رہا ہوں کہ یہ دنیا غم تو دیتی ہے شریکِ غم نہیں ہوتی، بہرحال اپنی سی کوشش میں کیا حرج ہے؟چیف جسٹس پاکستان رانا بھگوان داس بھگوان سے رسم و راہ اس زمانے میں قائم ہوئی ،جب میں بیک وقت چار ماہناموں شمع، بانو، آئینہ اور بچوں کی دنیا کا مدیر تھا یہ 1963ء سے 1966ء تک کا عرصہ ہے مَیں کمال احمد رضوی کے ادارۂ ’’شمع‘‘ چھوڑ جانے کے بعد ایڈیٹر مقرر ہوا تھا۔ ماہنامہ ’’آئینہ‘‘ ایک دینی جریدہ تھا اور ہر ماہ اس میں بیس بائیس ایسی نعتیں شائع کیا کرتا تھا جن میں آنحضور حتمیؐ مرتبت سے براہِ راست تخاطب ’’تو‘‘ تجھ، تیرے سے نہ ہو، خود بھی اپنی نعت گوئی میں ادب آداب ملحوظ رکھتا تھا:

میں نعت گوئی میں ناصرخیال رکھتا ہوں
نہ لفظ آئے کبھی تُو، ترا، تجھے، تیرے

رانابھگوان داس بھگوان اپنا نعتیہ کلام ’’آئینہ‘‘ میں اشاعت کے لئے بھجواتے تو اس پابندی کو ملحوظ خاطر رکھتے۔ ان سے صرف ایک بار کراچی میں ملاقات ہوئی جب وہ ڈسٹرکٹ سیشن جج تھے مَیں فرید احمد [ ایڈیٹر ’’اخبار جہاں‘‘] کو ساتھ لے کر ان کے چھوٹے سے فلیٹ پر ملاقات کے لئے حاضر ہوا، میاں، بیوی نے مل کر ہم دونوں کی پذیرائی کی البتہ یہ احتیاط رکھی کہ کھانے اور پینے کی ہر چیز مسلمان ملازم سے بازار سے منگوا کر ’’ڈسپوزایبل‘‘ برتنوں میں سَرد کی! رانا بھگوان داس کے فارسی نعتیہ اشعار:

توئی ممدوحِ قرآنی، تُوئی مداحِ یزدانی،
نقیبِ وحدتِ یزداں رسول دوسرا باشی
سلام اے ہادی ء انساں سلام اے خواجہء بھگواں
خدائے پاک نام تو محمد مصطفؐےٰ باشی

’’آئینہ‘‘ کے لئے ارسال کردہ اردو نعتوں میں مقرر کردہ معیار کا ہمیشہ لحاظ رکھا۔ فارسی میں ’’تُوئی‘‘ کے تخاطب پر مشہورِ زمانہ مصرع اُن کی ڈھال ہوتا!

بعداز خدا بزرگ تُوئی قصہ مختصر

رانا بھگوان داس بھگوان سے خط کتابت بھی رہی۔ جب وہ چیف جسٹس ہو گئے خود ہی بہ وجوہ ملنے سے اجتناب کیا۔ ڈاکٹر کلیم احمد عاجز سے البتہ کبھی ملاقات نہ ہو سکی، جہاں بھی رہے فون پر رابطہ رہا۔ ایک بار پاکستان آئے تو کراچی آٹھ دس روز قیام رہا۔ میں اسلام آباد میں تھا وہ اسلام آباد نہ آ سکے۔ میں کراچی نہ جا سکا کہ ان دنوں مَیں وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کا اسپیچ رائٹر تھا۔ فون پر کلیم عاجز صاحب سے اکثر گفتگو رہتی۔ ان کے ایک مشہورِ زمانہ شعر کے اکثر غلط منسوب ہوتے رہنے کی بھی بات ہوتی، وہ صحیح شعر یوں ہے:

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو!

کلیم عاجز 1925ء میں عظیم آباد [پٹنہ] سے متصل بہار شریف کے ایک گاؤں تلہاڑ میں پیدا ہوئے۔ پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کیا۔ شاعری کا شغف ابتداء سے تھا کلاسیک کو خوب پڑھا اور خود میرثانی کہلائے۔ منفرد لب و لہجے میں متعدد شعری مجموعے مطبوعہ یادگار چھوڑے جن میں:’’وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘‘۔۔۔ ’’جب فصلِ بہاراں آئی تھی‘‘۔۔۔’’پھر ایسا نظارا نہیں ہوگا‘‘۔۔۔ ’’جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی‘‘۔۔۔ بھارت کا سب سے بڑا حکومتی ایوارڈ ’’پدم شری‘‘ بھی حاصل کر رکھا تھا۔ 16فروری 2015ء کو جھاڑ کھنڈ کے ضلع ہزاری باغ میں انتقال ہوا۔ تدفین پٹنہ میں آبائی قصبے میں ہوئی۔ متذکرہ چار شعری مجموعوں سمیت ان کی درجن بھر کتب اردو ادب کا اثاثہ ہیں۔

ممتاز افسانہ نگار، شاعر، ادیب براڈ کاسٹر قدیر غوثی بھی 3جون 2015ء کو 74برس کی عمر پا کر طویل علالت کے بعد رخصت ہوئے۔ وہ حیدرآباد (سندھ) میں تھے ، وہیں رہے، مر کے بھی وہیں ہیں۔ ایک افسانوی مجموعہ ’’خواب کہانی‘‘ وفات سے کچھ عرصہ قبل چھپ گیا تھا۔ بہت سے ادبی جرائد میں چھپتے رہتے تھے ۔حیدرآباد کے استاد اختر انصاری اکبرآبادی کے ’’نئی قدریں‘‘ کی ترتیب و تدوین میں مدتوں استاد کا ہاتھ بٹایا۔ ’’سیپ‘‘ کراچی اور میرے دورِ ادارت میں ’’ادبِ لطیف‘‘ لاہور میں بھی ان کی تحریریں چھپتی رہیں۔ معاصر روزنامہ ’’جنگ‘‘ کی اشاعت 25جون 2015ء میں جناب ادریس بختیار نے اپنے کالم میں میرے نام کے ساتھ ’’سیپ‘‘ لکھ دیا، جبکہ ’’ادبِ لطیف‘‘ ہونا چاہیے۔ قدیر غوثی سے پہلا بھرپور تعارف 1971ء میں حیدرآباد میں ہوا۔ ان دنوں یارِ عزیز فخرِ عالم نعمانی نے میرے اعزاز میں ایک بھرپور مشاعرہ کر دیا تھا، وہ ان دنوں ریڈیو حیدرآباد سے وابستہ تھے۔ بعدازاں اسلام آباد ریڈیو کے کنٹرولر / اسٹیشن ڈائریکٹر ہو کر آجکل وہیں ریٹائرڈ لائف گزار رہے ہیں۔

ملتان میں اسی ششماہی میں پہلی سہ ماہی کے دوران پروفیسر عبدالمجید خاں ساجد بھی راہٹی ملک عدم ہوئے وہ گورنمنٹ کالج ملتان کی لائبریری کے لائبریرین رہے اور پھر اردو، پنجابی زبانوں کے قلمکار محقق ہوئے۔ ایک کتاب ’’اقبال دی حیاتی‘‘ پر پاکستان رائٹرز گِلڈ کی وساطت سے علاقائی زبانوں کا ایوارڈ حاصل کیا اور اکادمی ادیباتِ پاکستان سے بھی ایوارڈ لیا۔ اقبال کی صحیح تاریخ و سنہ پیدائش کے تعین کے سلسلے میں معتبر قرآئن اور براہین کے حوالوں کے ساتھ 29دسمبر 1873ء کا تعین کیا، جسے ڈاکٹر وحیدقریشی نے بھی تسلیم کیا، مگر ہُوا پھر وہی جو سرکاری سطح پر ہونا تھا، یعنی 9نومبر 1877۔۔۔1984ء میں عبدالمجید خاں ساجد نے ’’بانگِ درا‘‘ کی چھ اور ’’بالِ جبریل‘‘کی چار نظموں کو ’’دِلاں دا چانن‘‘ کے عنوان سے منظوم پنجابی زبان میں منتقل کیا۔

ممتاز، شاعر، ادیب، نقاد احمد ہمدانی 26فروری 2015ء کو80برس کی عمر میں راہی ملک عدم ہوئے، ان کی تدفین اگلے روز 27فروری کو بعد از نماز جمعہ کراچی ہی میں ہوئی۔ وہ ریڈیو پاکستان کراچی سے بطور اسٹاف آرٹسٹ وابستہ ہوئے تھے اور پھر پروڈیوسر بھی رہے۔ کراچی سے ان کے ’’ادبی نثری مجلے‘‘ میں مجھے اکثر شرکت کا موقع ملا۔ ایسے ہی ایک ادبی مجلے میں سلیم احمد نے میرے حوالے سے ہوا کے دوش پر یہ جملے چار دانگِ عالم میں پھیلائے تھے:’’ناصر کاظمی کے بعد ناصر زیدی، ناصرتخلص کے وہ اہم شاعر ہیں جن کی غزل میں تازہ ہوا کا جھونکا محسوس کیا جا سکتا ہے‘‘۔۔۔!

احمد ہمدانی مرحوم، محبِ گرامی نسیم درانی کے سہ ماہی ’’سیپ‘‘ میں باقاعدگی سے چھپتے تھے اوراپنے مضامین نظم و نثر کے ذریعے اکثر مباحث کے دروا کرتے تھے۔ تنقیدی مضامین کے مجموعے کے ساتھ ساتھ شعری مجموعہ ’’پیاسی زمین‘‘ یادگار ہے۔چودھری ایم اے شیدا[ایڈووکیٹ سینئر] سیاسی تجزیہ نگار، کالم نویس، مصنف،قانون دان، تحریک پاکستان کے پُرجوش کارکن تھے۔ حکومتِ پنجاب کی طرف سے انہیں ’’تحریکِ پاکستان‘‘گولڈ میڈل بھی ملا ہوا تھا۔ وہ ہائی کورٹ بار لاہور کے ایگزیکٹو ممبر رہے، بہت المال پنجاب کے ڈسٹرکٹ چیئرمین بھی رہے۔۔۔ صاحبِ قلم تھے’’توڑ دیں زنجیریں‘‘ ان کی ایک یادگار کتاب ہے، جس کے فلیپ اشفاق احمد، منو بھائی اور ارشاد احمد حقانی نے لکھے۔ ’’توڑ دیں زنجیریں‘‘ تحریک پاکستان کی عہد ساز تاریخ کی یادوں پر مشتمل ہے۔۔۔!

Citation
Nasir Zaidi, ” جن سے تھی کہکشاں یہ زمیں، گُم ہوئے! ,” in Daily Pakistan, July 8, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/08-Jul-2015/243232

Disclaimer
The item above written by Nasir Zaidi and published in Daily Pakistan on July 8, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Nasir Zaidi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s