!عبداللہ حسین بھی رخصت ہوگئے

Follow Shabnaama via email
توفیق بٹ

کالم تو مجھے پندرھویں رمضان کو پاکستان آرفن کیئر فورم کے زیر اہتمام منائے جانے والے ”یوم یتامیٰ“پر لکھنا تھا مگر کل ہمارا ادب بھی یتیم ہوگیا ہے۔ ”اُداس نسلیں“ چھوڑ کر عبداللہ حسین رخصت ہوگئے۔ اِک روز پہلے کسی نے فیس بک وال پر اُن کی بیماری کی اطلاع دی تو میں نے اُن کے گھر فون کیا۔ گھنٹی بجتی رہی مگر کسی نے فون اٹینڈ نہیں کیا۔ موبائل فون وہ بہت کم استعمال کرتے تھے۔ یہ بات اُنہوں نے خود مجھے بتائی تھی۔ میں نے اِس کی وجہ اُن سے پوچھی تو کہنے لگے ”ایک اور بیماری نہیں پال سکتا “….ایک سال قبل جناب مجیب شامی نے مجھے فون کیا اور کہا ”ہمارے ممتاز ناول نگار عبداللہ حسین کی کمر میں تکلیف ہے‘ آپ اُن کے لئے ڈاکٹر عامر عزیز صاحب سے وقت لے کرمجھے بتائیں“….مجھے حیرانی ہوئی جناب مجیب شامی نے اِس ضمن میں خود عامر عزیز صاحب سے بات کیوں نہیں کی؟ کیونکہ پاکستان کے چند قلم کار جن کی عامر عزیز دل سے عزت کرتے ہیں ایک اُن میں شامی صاحب بھی ہیں۔ ملک کا یہ نامور آرتھوپیڈک سرجن پی آر کے معاملے میں بہت کمزور ہے‘ اِس حوالے سے کچھ لوگوں یا قلم کاروں کو اُن سے گلہ بھی رہتا ہے مگر جن چند قلم کاروں کے ساتھ اپنے تعلق کو وہ بہت اہمیت دیتے ہیں شامی صاحب اُن میں سرفہرست ہیں….پہلے میں نے سوچا میں شامی صاحب سے پوچھوں آپ خود اُن سے بات کیوں نہیں کر رہے ؟ پھر خیال آیا ملک کے ایک ممتاز ترین ناول نگار کی خدمت کا اعزاز مل رہا ہے تو مجھے اِس سے محروم نہیں ہونا چاہئے۔ میں نے عامر عزیز صاحب کو فون کیا اور عبداللہ حسین کے لئے اُن سے وقت مانگا تو وہ کہنے لگے ”پاکستان کا یہ اتنا بڑا نام ہے‘ وہ بزرگ ہیں‘ میں نے اُنہیں کیا وقت دینا ہے آپ اُن سے وقت لیں میں خود اُن کی خدمت میں حاضر ہو جاﺅں گا“….میں نے یہ بات شامی صاحب کو بتائی تو وہ بہت خوش ہوئے‘ اُنہوں نے مجھے عبداللہ حسین صاحب کے گھر کا نمبر لکھوا دیا اور کہا آپ اُن سے بات کر لیں۔ مین نے فون کیا اور اُنہیں بتایا ڈاکٹر عامر عزیز خود آپ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتے ہیں۔ وہ بولے ”ہماری طرف سے اُن کا شکریہ ادا کریں مگر ہو سکتا ہے اُنہیں ہمارے ایکسرے یا کچھ ٹیسٹ وغیرہ کروانے پڑیں اور ظاہر ہے وہ گھر پر نہیں ہو سکتے‘ اِس لئے ہم اُن کے پاس خود جائیں گے “….اُسی روز میں اُنہیں سر جی مڈ لے گیا۔ عامر عزیز اُنہیں بہت محبت سے ملے۔ اُن کے تازہ ایکسرے کروائے‘ پھر اُن کی وہیل چیئر پکڑ کر فزیو تھراپسٹ کے پاس لے گئے۔ اتنی محبت اور توجہ سے اُنہیںدیکھا واپسی پر وہ مجھ سے کہنے لگے ” یہ تو بہت کمال کے ڈاکٹر ہیں‘ آدھی تکلیف تو میری اِن سے مل کر ہی دور ہوگئی ہے“….میں نے عرض کیا ” میری دعا ہے آپ کی باقی آدھی تکلیف بھی دور ہو جائے‘ پھر ہم آپ سے گزارش کریں گے ”اُداس نسلیں“ جیسے اور خوبصورت ناول ہمارے لئے لکھیں۔ یہ جناب عبداللہ حسین سے میری دوسری ملاقات تھی جس کے بارے میں کئی روز تک اپنے دوستوں اور بچوں کو میں بتاتا رہا۔ پھر کبھی کبھی فون پر اُن سے بات ہو جاتی۔ میں اُن کا حال احوال پوچھتا۔ اِک روز وہ مجھ سے کہنے لگے ”کمر میں درد تو آپ کے عامر عزیز صاحب کے علاج کی وجہ سے بہت حد تک دور ہوگیا ہے مگر جو بیماریاں اِس کے علاوہ مستقل طور پر ہماری ”بن بلائی مہمان“ بنی ہوئی ہیں اُن سے جان چھڑانے کے لئے کوئی عامر عزیز نہیں مل رہا“….میں کبھی کبھی اُن سے ملنا چاہتا تھا‘ دیر تک اُن کے پاس بیٹھنا چاہتا تھا۔ اپنا قد بڑا کرنا چاہتا تھا مگر اُن کی خراب صحت کے باعث اپنی یہ خواہش پوری نہ کر پاتا۔ اُن کے ناول دنیا بھر میں مقبول ہوئے۔ ابھی میں سوچ رہا تھا کاش اُن کے بارے میں ویسا خوبصورت کالم میں لکھ سکتا جیسے خوبصورت اُن کے ناول تھے اور خود بھی وہ اپنے ناولوں جیسے ہی تھے….ہم جب گورنمنٹ کالج لاہور میںطالب علم تھے تو اُس وقت ہماری نظر میں پاکستان کے سب سے بڑے ادیب اشفاق احمد تھے۔ ہم اکثر اُن سے ملنے جاتے۔ وہ بہت حوصلہ افزائی فرماتے۔ اُن دِنوں وہ اُردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر تھے۔ اُن کا دفتر اپر مال لاہور میں واقع تھا۔ عبداللہ حسین کا نام پہلی بار اُن سے ہم نے سنا تھا۔ کسی سے فون پر وہ کہہ رہے تھے ”عبداللہ حسین کمال لکھتے ہیں“….ہم نے سوچا وہ کس پائے کے ادیب ہوں گے جن کی تعریف ادیبوں کے ”گرو“ جناب اشفاق احمد کر رہے ہیں۔ یہ شاید1988 ءکی بات ہے۔ ہم نے اُن سے ملنے کا فیصلہ کر لیا۔ اشفاق احمد سے اُن کا پتہ پوچھا تو اُنہوں نے بتایا وہ برطانیہ میں مقیم ہیں۔ پھر یہ تشنگی ہم نے اُن کے ناول پڑھ کر کم کر لی۔ باگھ‘ قید‘ نشیب‘ اُداس نسلیں‘ نادار لوگ اور رات کے نام سے کئی خوبصورت ناول اُنہوں نے لکھے مگر جو شہرت ”اُداس نسلیں“ کو ملی وہ اُن کی باقاعدہ شناخت بن گئی۔ جیسے بانو قدسیہ کی پہچان ”راجہ گدھ“یا قدرت اللہ شہاب کی ”شہاب نامہ“ سے ہے اُن کی تمام کتابیں سنگ میل نے چھاپیں۔ اِس اشاعتی ادارے کے سربراہ نیاز احمد تھے۔ میں اُنہیں ادیبوں کا ”نیاز مند“ کہا کرتاتھا۔ ادیبوں کی خدمت کرتے کرتے خود ایک ادیب کے طور پر وہ مشہور ہوگئے تھے۔ حالانکہ وہ سادہ سے ایک انسان تھے۔ ادیبوں سے ٹوٹ کر محبت کرتے‘ اُن کی کتابیں چھاپتے اور اُنہیں اِس کا معقول معاوضہ اکثر اوقات کتاب چھپنے سے پہلے ہی دے دیتے۔ جس پائے کے عبداللہ حسین ادیب تھے اُسی پائے کے نیاز احمد ادیبوں کے خدمت گزار تھے۔ اللہ اُنہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ اُن کا گھر اشفاق احمد کے گھر کے بالکل قریب ماڈل ٹاﺅن میں واقع تھا۔ شاعروں اور ادیبوں کی خدمت کا ایک انداز بلکہ مقبول انداز یہ بھی تھا اپنے گھر میں شاعروں اور ادیبوں کو ناشتے‘ لنچ یا ڈنر پر وہ مدعو کرتے اور ایسے ایسے شاندار کھانے اُن کے لئے تیار کرواتے مہمان اُنگلیاں چاٹتے رہ جاتے۔ سویٹ ڈش میں ”گجریلہ“ بہت کمال کا ہوتا تھا۔ ایک بار عبداللہ حسین پاکستان آئے تو اُن کے اعزاز میں ایک شاندار عشائیے کا اہتمام اُنہوں نے کیا اور میری یہ خوش قسمتی مرحوم حسن رضوی کی وساطت سے مجھے بھی اُنہوں نے دعوت دی۔ یہ جناب عبداللہ حسین سے میری پہلی ملاقات تھی۔ پہلی ہی ملاقات میں‘ میں نے محسوس کیا وہ بہت کم گو انسان ہیں۔ کسی نے کچھ پوچھا تو جواب دے دیا‘ خود کسی سے بات کی تو بہت مختصر….یہ خوبی اُن کی شخصیت کا آخری دم تک حصہ رہی۔ اُن کی تحریریں کسی پی آر کی محتاج نہیں تھیں۔ ایسے دھیمے اور نفیس انسان کی رخصتی پر میں سوچ رہا ہوں ہم سے اللہ کی ناراضگی شاید بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک تو ایسے لوگ پاکستان میں اب پیدا نہیں ہو رہے‘ جوتھے وہ بھی رخصت ہو تے جا رہے ہیں….میں خود کو عبداللہ حسین کی تحریروں پر بات کرنے کے اہل نہیں سمجھتا۔ کچھ یادیں تھیں جو میں نے تازہ کر دیں۔ ایک دُکھ البتہ مجھے ہمیشہ رہے گا۔ اتنے بڑے ادیب کے جنازے میں تین صفیں بھی مکمل نہ ہو سکیں جبکہ اُن کی وفات پر فیس بک پر اُن سے اظہار محبت و عقیدت کرنے والوں کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اب ایک تعزیتی ریفرنس بھی اُن کی یاد میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ مجھے یقین ہے بڑے بڑے ادیب‘ دانشور اُس میں مرحوم کے ساتھ محبت کے دعوے کریں گے‘ دوستی کے قصے سنائیں گے۔ کاش اُس وقت کوئی کھڑے ہو کر اُن سے سوال کرے جس کے ساتھ آپ کو اتنی محبت تھی یا جو آپ سے اتنی محبت کرتا تھا‘ اُس کے جنازے کو کندھا دینے کی توفیق کیوں نہیں ہوئی؟؟؟

Citation
Tofeeq Butt, “!عبداللہ حسین بھی رخصت ہوگئے,” in Daily Nai Baat, July 7, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%B1%D8%AE%D8%B5%D8%AA-%DB%81%D9%88%DA%AF%D8%A6%DB%92

Disclaimer
The item above written by Tofeeq Butt and published in Daily Nai Baat on July 7, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Tofeeq Butt:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s