عبداللہ حسین ۔نئے زمانے کا آدمی

Follow Shabnaama via email
مسعود اشعر

یوں تو ہماری ملاقات سال میں ایک دو بار ادبی کانفرنسوں اور لٹریچر فیسٹیول میں ہوتی تھی، لیکن فیس بک پر ہم ہر روز ہی ملتے تھے۔ عمر تو چوراسی سال سے زیادہ تھی مگر ذہنی طور پر وہ جوانوں کے جوان تھے۔ آج کے انسان، نئے زمانے کے آدمی۔ ملنے جلنے یا محفلوں میں جانے کا اتنا شوق نہیں تھا۔ اکیلے رہتے تھے۔ اس اکیلے پن کو دور کرنے کیلئے انہوں نے کمپیوٹر کو اپنا ساتھی اور اپنا ہم جولی بنا لیا تھا۔ اپنے دوستوں، اپنے چاہنے والوں اور باقی دنیا سے ان کا رابطہ اور رشتہ کمپیوٹر کے ذریعے تھا۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ وہ اکیلے بھی تھے اور اکیلے نہیں بھی تھے۔ فیس بک ان کی تنہائی کا مداوا کرتی تھی۔ اس فیس بک پر پاکستان ہی نہیں پاکستان سے باہر بھی ان کے بے شمار دوست تھے۔ ان دوستوں کے ساتھ صبح شام ان کا رابطہ رہتا تھا۔ ہم تو کہتے تھے کہ یہ شخص ہر وقت لیپ ٹاپ لئے بیٹھا رہتا ہے۔ تبصرے ہو رہے ہیں دنیا بھر کے معاملات پر۔ ادب و ثقافت تو ان کے موضوع تھے ہی سیاست پر بھی ان کے تبصرے سب سے مختلف ہوتے تھے۔ دوسروں سے مختلف اور سب سے الگ۔ حس مزاح بلا کی تھی۔ ان کے ناولوں اور افسانوں میں بھی اس حس کا اظہار ہوا ہے لیکن فیس بک پر یہ حس اپنے عروج پر نظر آتی تھی۔ کسی مسئلے یا کسی شخص پر جب وہ چوٹ کرتے تو وہ چوٹ ٹھیک ٹھیک اپنے نشانے پر لگتی تھی۔ میری عادت ہے کہ دنیا بھر کے اخباروں اور رسالوں میں مجھے جو بھی اچھی چیز ملتی ہے میں اسے فیس بک پر ڈال دیتا ہوں تاکہ دوست احباب بھی اسے پڑھ لیں۔ باقی دوست احباب تو اس پر اتنی توجہ کم ہی دیتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ اپنی پسند کا اظہار کر دیتے ہیں۔ لیکن اصل تبصرہ اگر کسی کا ہوتا تو وہ عبداللہ حسین کا ہی ہوتا تھا۔ میرے کالم پر بھی وہ تبصرہ کرتے تھے۔ بے لاگ تبصرہ۔ میں ان کے تبصروں سے بہت کچھ سیکھتا تھا۔

یہ فیس بک سے ہی مجھے معلوم ہوا کہ انہیں خون کا سرطان ہو گیا ہے۔ اس منحوس بیماری کا انکشاف بھی ایک سال پہلے ہی ہوا تھا۔ ایک دن فیس بک پر ہی انہوں نے اطلاع دی کہ آج ان کی پہلی کیمو تھراپی ہوئی ہے۔ ’’بہت تکلیف ہوئی اس عمل میں‘‘۔ کچھ ہفتے بعد بتایا کہ دوسری کیمو ہوئی ہے۔ مگر اس میں تکلیف کا کہیں ذکر نہیں تھا۔ اس کے بعد بھی فیس بک پر وہی تبصرے اور وہی ہنسی مذاق۔ تیسری کیمو کے بعد بھی ان کے حس مزاح میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ میں سوچتا تھا کہ یہ شخص کیسے فولادی اعصاب کا مالک ہے۔ اتنی تکلیف برداشت کر رہا ہے اور اس کے ماتھے پر بل تک نہیں آیا۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ کوئی معمولی بیماری ہے جو علاج معالجے کے بعد ٹھیک ہو جائے گی البتہ چوتھی کیمو تھراپی کے بعد انہوں نے فیس بک پرجو لکھا اس سے احساس ہوا کہ اب وہ خود بھی اتنے پُرامید نہیں رہے۔ انہوں نے جو لکھا، میں چاہتا ہوں اسے آپ بھی پڑھ لیں۔ چونکہ یہ انگریزی میں لکھا ہے اس لئے میں اسے انگریزی میں ہی نقل کر رہا ہوں۔ اس لئے نہیں کہ اس حالت میں انہوں نے خود کیسا محسوس کیا بلکہ اس لئے کہ ایک بڑا ادیب، ایک بڑا ناول نگار اور افسانہ نویس اس صورت حال پر کیسے نظر ڈالتا ہے

Went for my fourth chemo. Painful. I hope it would go away. I abhor pain. But then I abhor most of the world, and it hasn’t gone away. So there. Writers are unhappy lot. They want to change the world to their vision ,and can’t even begin to make themselves understood. Tragic
وہ بہت خوبصورت انگریزی لکھتے تھے۔ انہوں نے یہی تو لکھا تھا کہ وہ درد اور تکلیف سے نفرت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کا یہ درد دور ہو جائے۔ مگر وہ تو دنیا کی اور بھی بہت سی چیزوں سے نفرت کرتے تھے۔ جب دنیا کی وہ چیزیں دور نہ ہوئیں تو ان کا درد کیسے دور ہو سکتا تھا۔ یہ ایک حساس انسان اور ایک سوچنے سمجھنے والے ادیب کا تاثر ہے۔ جی ہاں، ادیب اپنے خوابوں اور اپنی خواہشات کے مطابق اس دنیا کو بدلنا چاہتا ہے۔ اور چونکہ اس میں وہ کامیاب نہیں ہوتا اس لئے ہمیشہ مضطرب اور ناخوش رہتا ہے۔ اور یہی اس کا المیہ ہے۔ یہی عبداللہ حسین کا بھی المیہ تھا۔ اس پوسٹ کے بعد ہی مجھے احساس ہوا کہ اب عبداللہ حسین اپنی موذی بیماری سے مایوس ہو چکے ہیں۔ اور یہ ہم سب کے لئے انتہائی تشویش کی بات تھی۔ اب تک ہم ان کی فیس بک پوسٹ سے ایک قسم کا اطمینان محسوس کرتے تھے مگر جب فیس بک پر یہ پیغام ملا تو ہم ان سے ملنے ان کے گھر چلے گئے۔ ہم سے مراد ہے انتظار حسین ایرج مبارک اور میں۔ یہ 13 جون کا دن تھا۔بہت ہشاش بشاش نظر آئے۔ آدھ پون گھنٹہ ہم ان کے پاس بیٹھے رہے۔ انہوں نے اپنی بیماری کے بارے میں صرف اتنا بتایا کہ یہ آخری کیمو تھی۔ اب دس دن بعد ایم آئی آر ہو گا اور اس کے بعد پتہ چلے گا کہ اب کیاعلاج کیا جائے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے لندن کے قصے سنانا شروع کر دیئے۔ فیض صاحب سے ملاقات۔ ساقی فاروقی کی باتیں۔ اور اس رات کا قصہ جب ن م راشد نے ساری رات اپنی نظم ’’حسن کوزہ گر‘‘ اپنے خاص ڈرامائی انداز میں سنائی تھی۔ وہ ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے اور ہم میں سے کسی کو بھی احساس نہیں ہو رہا تھا کہ ہم کسی بیمار آدمی سے باتیں کر رہے ہیں۔ انتظار حسین کے ساتھ ان کی چوٹیں چلتی رہتی تھیں۔ وہ انتظار حسین سے مذاق میں پوچھتے تھے کہ یہ بتائو اتنے بہت سے انعام اور ایوارڈ لینے کا طریقہ کیا ہے؟ اور انتظار حسین ہنس کر ٹال دیتے تھے۔ اس دن ہم نے انہیں مبارک باد دی کہ آپ کو وزیر اعظم کا کمال فن انعام مل گیا ہے تو ہماری طرف اشارہ کر کے کہنے لگے کہ یہ ان چند لوگوں کی ضد کا نتیجہ ہے۔ اس سے پہلے وہ اس بارے میں فیس بک پر لکھ چکے تھے کہ اس انعام نے انہیں ان کے راستے سے بھٹکا دیا ہے۔ اور پھر لکھا تھا کہ یہ انعام ملنے سے انہیں غالب کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ بنا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا۔۔۔وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے۔
بہرحال انہوں نے یہ انعام قبول کر لیا۔ بلکہ میں تو اکادمی کے سربراہ ڈاکٹر قاسم بگھیو کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے اس انعام کا چیک عبداللہ حسین کی زندگی میں ہی انہیں پہنچا دیا ورنہ روایت یہ ہے کہ انعام کے اعلان کے کافی عرصے بعد ایک تقریب ہوتی ہے اور وزیر اعظم اپنے ہاتھ سے یہ انعام دیتے ہیں ۔ جی، تو عبداللہ حسین چلے گئے۔ اب ان کے ادب اور ان کی تخلیقات کے بارے میں تو ہمارے نقاد اور پروفیسر حضرات لکھتے ہی رہیں گے اور انہیں لکھنا بھی چاہئے کہ اب ان کے لئے موقع ہے عبداللہ حسین کے مکمل ادبی سرمائے پر نظر ڈالنے کا۔ مگر میرے لئے تو عبداللہ حسین ایک ایسا خلا چھوڑ گئے ہیں جو شاید کبھی پُر نہ ہو سکے۔ یہ خلا ہے فیس بک سے ان کی غیر حاضری کا۔ ہر روز صبح اٹھ کر سب سے پہلے میں اپنے لیپ ٹاپ پر یہ دیکھتا تھا کہ آج عبداللہ حسین نے کیا لکھا ہے۔ اگر ان کا کوئی پیغام نہیں ہوتا تھا تو بڑی پریشانی ہوتی تھی۔ چوراسی سال کی عمر میں بھی انہوں نے اپنے آپ کو نئی دنیا اور اس دنیا کے نئے آلات اور نئے اوزاروں کے ساتھ وابستہ رکھا تھا۔ اب میں فیس بک پر ان کے سارے پیغام ایک بار پھر دیکھ رہا ہوں۔ اور اسی فیس بک پر ان کی صاحب زادی نور فاطمہ کا وہ آخری پیغام بھی پڑھ رہا ہوں جس میں انہوں نے لکھا تھا ’’میرے والد کومہ میں چلے گئے ہیں۔ خون کے سرطان کی یہ آخری اسٹیج ہے۔ آپ سب ان کے لئے دعا کیجیے‘‘۔ اور اس کے ساتھ ہی ہر طرف سے دعائوں کے پیغام ملنا شروع ہو گئے تھے۔ مگر دعائیں اب کس کام کی تھیں۔ عبداللہ حسین خود ہی تو کہہ گئے تھے کہ خواہش کرنے سے درد نہیں جاتا۔ درد بھی نہیں جاتا اور دنیا کی وہ تمام چیزیں بھی ہماری نظروں سے دور نہیں ہوتیں جن سے ہم نفرت کرتے ہیں۔

Citation
Masood Ashar, “عبداللہ حسین ۔نئے زمانے کا آدمی,” in Jang, July 7, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86-%DB%94%D9%86%D8%A6%DB%92-%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%93%D8%AF%D9%85%DB%8C-%D8%A7%D9%93%D8%A6/

Disclaimer
The item above written by Masood Ashar and published in Jang on July 7, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Masood Ashar:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s