تشبیب: ایک سچا عہد نامہ

Follow Shabnaama via email
جمیل احمد عدیل

خالد احمد واقعتا آج بھی ایک بابرکت شاعر ہیں کہ سچے ناعت کے لیے ماضی کا صیغہ کسی نوع کی مناسبت نہیں رکھتا۔ انہوں نے عشق رسالت مآب ﷺ سے اپنے قلب کو زندہ کیا، قدرت نے ثنا خواں ہونے کی نسبت سے ان کے نام کو دوام کے انعام سے سرفراز کر کے لازوال نقش میں تبدیل کر دیا۔ ممدوح کی تقدیر میں امر رہنا لکھ دیا گیا ہو تو مداح اور مدحت کا ’اپنے آپ‘ بقا سے رشتہ استوار ہو جاتا ہے۔ وصافِ رسولؐ ہونا ایک اعزاز ہے۔ اور خالد احمد کا امتیاز یہ ہے کہ انہیں اپنے منصب کی عظمت کا غایت درجہ احساس و ادراک ہے۔ اسی لیے وہ اظہارِ عقیدت کے محدود منطقے میں مقید نہیں رہتے بل کہ حضورؐ کی عظیم شخصیت سے وابستہ اُن تمام حوالوں کو موضوعِ سخن بناتے ہیں جو حیات کی جملہ جہتوں سے اسی طرح منسلک ہیں جیسے آفتاب سے حرارت اور ضو جڑی ہوئی ہیں۔

خالد احمد کی ’’تشبیب‘‘ کا مطالعہ اس اعتبار سے نعمت ثابت ہوأ کہ شعریت کی اعلا جمالیات، تہذیبِ لفظ کی مخصوص کو ملتا اور تلازمہ کاری کی بہترین نفاست کو کہیں معمولی سی زک بھی نہیں پہنچی اور ہر شعر زیست کی صداقت سے گہرا انسلاک اور پختہ ناتا رکھتا ہے۔ اور یہ بڑا ہی نازک مقام ہے۔ صاحبو! کہنا بس یہ ہے کہ عام نظریات کی پیش کش ہی معیار فن کو برقرار رکھنے کے لیے کچھ کم آزمائش کا سبب نہیں ہوتی۔ مذہبی تصورات اور مقدس شخصیات کے تذکار تو اور بھی پل صراط ثابت ہوتے ہیں۔ اس پہلو سے خالد احمد کے نعتیہ قصائد کا مجموعہ ’’تشبیب‘‘ شاعری کا دلآویز نمونہ ہے۔ اور یہ رعنائی کسی اتفاق کا صلہ نہیں بلکہ شاعر کے تربیت یافتہ شعور کا ارمغان ہے۔ انہیں خوب معلوم ہے حضورؐ مطلق صداقت کا عنوان ہیں، اضافیت کی محدودیت کا ان کی پاکیزہ ذات سے کوئی علاقہ نہیں۔ یوں خالق کائنات، وحی، سیرت اور قرآنِ فطرت کے تسلسل کو جس منزہ وجود میں انہوں نے مرکوز محسوس کیا وہ عمل کسی لمحاتی داخلے جذبے کا ثمر نہیں تھا بلکہ معروضیات کے پیمانوں پر پورا اترتا تھا۔ اس طرح مجرد متخیلہ منہا ہوتی چلی گئی اور ارضی حقائق آسمانی حقائق سے پیوست ہو کر ان پر منکشف ہوتے چلے گئے۔

اس پس منظر میں خالد احمد کا نعتیہ کلام متداول رسمیات سے یکسر مختلف ذوق اور ذائقے کا ترجمان ہے۔ آپؐ کے نام میں اسمِ دوام کا پنہاں ہونا ختم نبوت کا اشاریہ ہے کہ قیامت تک کے لیے ہر نوع کی قدیم و جدید ضرورت ضرورتِ رسالت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ یعنی اوراقِ قرآن سے باہر رہنما اصولوں کی تلاش اب سعی لا حاصل ہے۔ بدیہی امر ہے جسے قوانین خدا وندی کا عرفان حاصل ہے وہی آپؐ اور آپؐ کے پیغام کی سرمدیت کو ان اشعار کے قالب میں ڈھال سکتا ہے:

اے رازِ ابجد
قفلِ زمان و مکان
اے ازلوں کے نور
اے انتوں کی جان
تیرے نور سے ہیں
روشن سات زمان
اے رازِ ابجد
اے اسمِ امکان

حسنِ بیان کا معجزہ ارتفاعِ فکر سے کچھ کم تر نہیں ہے۔ آیاتِ قرآنی کا نصف اعجاز لاریب اس کے اُسلوب سے منسوب ہے۔ اگر دانائی مرموز معارف تک رسائی نہیں بھی حاصل کر پائی تو سخن فہم طرزِ نگارش کے طلسم پر دم بخود ہوئے بنا نہیں رہ سکا۔ ’’تشبیب‘‘ ان چند کتب میں سے ایک ہے جو قاری کو نئے لفظوں سے محبت کرنے پر آمادہ کرتی ہے گویا اسے پڑھنا سکھاتی ہے، جہانِ معانی کی جدید جہتوں سے تعلق استوار کرنے پر اکساتی ہے۔ طرفہ نکتہ اس میں یہ پوشیدہ ہے کہ پڑھنے والا لغت ہائے حجازی کا قارون ہونے میں ترغیب محسوس کرنے کی بجائے مختلف الفاظ اور نادر تراکیب کو ذکرِ محبوبؐ کی نامیات سے نسبتیں قائم کر کے وصول وقبول کرتا ہے۔ اس تجربے کی لطافت سے کیسے انکار کیا جائے کہ ان قصائد کی قرأت کے دوران ایک بھی اجنبی لفظ ابلاغ کی راہ میں مزاحم نہیں ہوتا۔

انسان نے انتخاب کی آزادی سے غالباً کچھ زیادہ ہی فائدہ اٹھالیا ہے۔ بہرطور صدیوں کے تجربات نے یہ آموختہ اسے از بر کرادیا ہے کہ راستی پر قائم رہنے کے لیے نتائج سے بڑی حقیقت اور کوئی نہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ برا کرنے سے باز نہیں آتا۔ دراصل گناہ کی Magnetization سے بڑا جادو اب تک ایجاد نہیں ہو سکا۔ صرف ایک چیز ہے جو، انسان کو گناہ سے دور رکھ سکتی ہے اور وہ ہے کسی شخصیت کا اثر! نعت فی الحقیقت عہد نامہ ہے، ایک امتی کا اپنے رسولؐ سے! اس کا اعادہ، کومٹ منٹ کو ایسی پختگی عطا کر دیتا ہے کہ پھر گناہ کی قوتِ جاذبہ کشش سے دستکش ہونے لگتی ہے۔ ’’تشبیب‘‘ کی اسی بلا تمہید گریز نے مدحیہ قصیدے میں وہ جان ڈال دی ہے کہ شاعر کے لیے معاً دعا نکلتی ہے کہ اس کی طلب پہ مطلوب کو پیار آجائے!

علاوہ ازیں یہ بھی ’’تشبیب‘‘ کا فیضان ہے کہ معلوم ہوا ہے فرد کی تفرید، تجرید سے براہِ راست اُنس کا رشتہ جوڑنے میں خاص دلچسپی نہیں رکھتی۔ طبعاً ہر نوع اپنی نوع سے ہی لگاؤ رکھ سکتی ہے۔ بے شک ’’تشبیب‘‘ کے بعض اجزا بلا واسطہ حمدیہ ہیں لیکن جو ’وجود‘ انسانی حواس کے آنگن میں لباس مجاز کی رعایت سے اترتا ہے، اس میں اجنبیت نہیں رہتی۔ یہ رسولؐ ہیں جو بشر کو اللہ کی بار گاہ میں پہنچا گئے ہیں، وگرنہ رب سے رشتے کے معانی بھلا کب کھلتے!۔۔۔! خالد احمد کی نعتیہ شاعری نے ایک ایسی حقیقی، سچی، موجود شخصیت سے قاری کو عقیدت اور محبت کے دھاگے میں پرو دیا ہے، جن کی سر فرازی کا زمزمہ اپنے آپ مسلسل گنگناہٹ میں تبدیل ہو جاتا ہے:

تیرے جگراتے
صبحوں کے نگران
تیرا صدق نماز
تیرا خلق اذان
تیرے بول حدیث
تیری چُپ قرآن
حق تیرا کردار
حق تیرا عنوان
تیری چھاؤں رہے
مجھ پر دھوپ سمان

Citation
Jamil Ahmad Adil, “تشبیب: ایک سچا عہد نامہ,” in Daily Nai Baat, July 6, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%AA%D8%B4%D8%A8%DB%8C%D8%A8-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B3%DA%86%D8%A7-%D8%B9%DB%81%D8%AF-%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81

Disclaimer
The item above written by Jamil Ahmad Adil and published in Daily Nai Baat on July 6, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Jamil Ahmad Adil:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s