میڈیا منڈی مصنف:اکمل شہزاد گھمن

Follow Shabnaama via email

عبید اللہ عابد

’’اس کا کام پروفیشنل سفاکی سے بھرا پڑا ہے‘‘ یہ فلیپ پر لکھی تعارفی تحریر کا آخری جملہ ہے اور کتاب کے اوراق اس کا ثبوت ہیں۔کتاب صحافت سے زیادہ صحافیوں کے ذکر پر مشتمل ہے ۔ زیر نظرکتاب کی یہی خوبی ہے کہ مصنف سوال پوچھنے والوں کو کٹہرے میں لایا ہے۔ معمولی صحافی سے اخباری مالکان بن جانے والی شخصیات کی زندگی کے روشن وتاریک پہلوؤں کا تذکرہ روایت کے خلاف مگر اخلاقی جرأت کا مظہرہے۔ مجید نظامی سے پوچھے گئے سوال مگر بڑے تلخ ہیں ۔ملاحظہ کیجیے ’’آپ اپنی تقریروں میںاکثر کہتے ہیں

،ہندوبنیا،مکار،عیار،تو پاکستان میں لاکھوں ہندو آباد ہیں؟جواب :’’ہوتے رہیں‘‘۔ روزنامہ پاکستان کاقصہ بھی ہے۔ شامی صاحب نے محتاط لب لہجہ اختیار کرتے ہوئے زیادہ تر سوالات کا جواب’’ لعنت اللہ علی الکاذبین‘‘ سے دیا۔ ’’ادھر تم ادھر ہم ‘‘ کے خالق عباس اطہر عرف شاہ جی سے ملاقات کے دوران بھی انٹرویو نگار سفاک نظر آیا۔بھٹو،بے نظیر،ضیاء کے علاوہ بعض انتہائی ذاتی سوالات بھی کئے۔مثلاً ایک سوال کہ ’’بعض لوگ کہتے ہیں آپ کے زیر سرپرستی تاج پورہ میںجواء ہوتا ہے؟‘‘ پاکستانی صحافت کے کئی حوالوں سے معروف کردار ضیا شاہدسے پوچھا’’ایک عوامی رائے کے مطابق خبریں بلیک میلر اخبار ہے۔اس میں کہاں تک سچائی ہے؟‘‘

’’کالم اور کالم نگاری‘‘ کے تحت مصنف کے ذاتی تبصرے ہیں۔ بڑے کالم کاروں کے کالموں کی ساخت،خیال اور فنی خوبیوں خامیوں کا ذکر کے ساتھ کچھ کو ’’براکالم‘‘ لکھنے والا بھی کہا ہے ۔ پھر آتے ہیں حسن نثار۔سوالات حسب معمول کاٹ دار ہیں۔

حسن نثارتلملا بھی اٹھتے ہیں۔اس انٹرویومیں ’’بے غیرت‘‘،’’بے ہودہ‘‘، ’’گند‘‘،’’بے شرم‘‘، ’’بکواس‘‘، ’’بھڑوے‘‘، ’’کتا‘‘،’’الو کا پٹھا‘‘ ،’’لعنتیوں‘‘ قسم کی تراکیب نادرہ بکثرت ملتی ہیں۔ پھر اردو اور انگریزی صحافت کے امتیازی پہلووں پر تفصیلی کلام کے بعدپاکستان کے معروف اخبارات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ آخری باب ’’ پاکستانی صوبے،زبانیں اور پرنٹ میڈیا‘‘ میں صوبوں سے شائع ہونے والے اخبارات اور ان کے مسائل مذکور ہیں۔ اس کتاب میں مصنف نے پاکستانی پرنٹ صحافت کے بہت سے اہم گوشوں سے نقاب ہٹا کر پڑھنے والوں پر احسان کیا ہے۔

Citation
Ubaidullah Abid, Syed Asim Mehmood, Farhan Fani, Ghulam Mustafa “بُک شیلف,” in Express Urdu, July 5, 2015. Accessed on July 14, 2015, at: http://www.express.pk/story/372603/

Disclaimer
The item above written by Ubaidullah Abid and published in Express Urdu on July 5, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 14, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ubaidullah Abid:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s