سومالیا کا نور الدین فرح اور کریم مِسکے

Follow Shabnaama via email
مستنصر حسین تارڑ

میں سومالیہ کے ناول نگار نورالدین فرح کے ناول ’ہائڈنگ ان پلین سائٹ‘‘ کا تذکرہ کر رہا تھا۔ یوں تو اچیبے کو افریقی ناول کا گرینڈ اولڈ مین قرار دیا جاتا ہے جس کے ناول ’’تھنگز فال اپارٹ‘‘ نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا تھا کہ یہ ناول جس نظر سے یورپ افریقہ کو دیکھتااور بیان کرتا ہے اسے ایک تاریک براعظم اور ’’سفید فام لوگوں کا بوجھ‘‘ قرار دیتا ہے اُس سے یکسر جدا یہ ایک افریقی کا لکھا ہوا پہلا افریقی ناول تھا۔۔۔ میں نے حال ہی میں ’’تھنگز فال اپارٹ‘‘ کے علاوہ اس کے دو اور ناول بھی پڑھے ہیں جن کا تفصیلی بیان پھر کبھی سہی۔۔۔ ابھی نور الدین فرح کے ناول ’’ہائڈنگ ان پلین سائٹ‘‘ کی مختصر بات کرتے ہیں۔یہ بنیادی طورپر ایک بہن بیلا اور بھائی آر کے درمیان محبت کی ایک کہانی ہے۔۔۔ بیلا، ایک جدید خیالات کی حامل نہایت دل کش لڑکی اور اس کا بھائی آر جو افریقہ میں یو این او کا ایک اعلیٰ افسر ہے، دونوں دوستوں کی مانند ایک دوسرے کے دکھوں اور محبتوں میں شریک رہتے ہیں۔۔۔ آر ایک مغربی خاتون سے شادی کر لیتا ہے جو بیلا کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ وہ فضول خرچ اور آوارہ مزاج ہے، اُن دونوں کے درمیان علیحدگی ہو جاتی ہے کہ وہ ایک ہم جنس پرست عورت ہے اور ایک افریقی ہندوستانی خاتون کے ساتھ ہندوستان چلی جاتی ہے۔۔۔ اپنے دونوں بچے بھی ترک کر دیتی ہے۔۔۔ پھر آر دہشت گردی کا شکار ہو کر مارا جاتا ہے۔ بیلا پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے، اُدھر وہ مغربی خاتون اپنے بچوں پر قابض ہونے کے لیے واپس آجاتی ہے کہ اسے امید ہوتی ہے کہ یوں وہ ایک وسیع جائیداد کی مالک بن جائے گی۔۔۔ یہ ایک دل کو موہ لینے والا اثر انگیز ناول ہے۔ میں کھلے دل سے اس کی سفارش کروں گا۔

کریم مِسکے کا ناول ’’عرب جاز‘‘ میرے لیے ایک غیر متوقع خوشی ثابت ہوا۔۔۔ ویسے میں آج تک نہ نور الدین فرح سے واقف تھا اور نہ کریم مسکے کے نام سے واقف تھا۔ کریم مسکے موری تانیہ میں پیدا ہوا، اس کا باپ افریقی اور ماں فرانسیسی تھی۔ ان دنوں وہ پیرس میں مقیم ہے۔۔۔ ’’عرب جاز‘‘ اگرچہ ایک ادبی شاہکار ہے لیکن اس کا تانا بانا ایک جاسوسی ناول کی مانند بنا گیا ہے۔۔۔ لارا نام کی ایک خوش شکل عورت کو اس کے پیرس کے فلیٹ کی کھڑکی میں مردہ حالت میں پایا جاتا ہے۔ اس کا ہمسایہ احمد ایک اپنے آپ میں مست انسان ہے جسے خبر تک نہیں ہوتی کہ لارا، جو ایک ایئر ہوسٹس ہے اس کے عشق میں مبتلا ہے۔۔۔ وہ جب کبھی پرواز پر جاتی ہے تو احمد اس کے آرکڈ پھولوں کے گملے کو باقاعدگی سے پانی دینے کے لیے اس کی فلیٹ میں آتا ہے تو اسی پر شک کیا جاتا ہے۔۔۔ پولیس کے دو اہلکار جین اور ریچل اس قتل کی تفتیش کے دوران پیرس میں آباد ہو چکے مختلف قومیتوں کے مسلمانوں پر بھی شک کرتے ہیں اور یہ سب نہایت مؤثر کردار ہیں۔۔۔ اور ان میں کچھ بنیاد پرست بھی ہیں۔ اس ناول کا اہم ترین وہ حصہ ہے جہاں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان جو مشترکہ عقیدے ہیں اُن کا تقابل کیا گیا ہے۔۔۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عیسائی یورپ کسی حد تک مذہب سے باغی ہو چکا ہے جب کہ یہ مسلمان اور یہودی ہیں جو اپنے عقیدے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں یوں امریکہ اور یورپ میں مذہب کے دفاع کے لیے مسلمان اور یہودی شانہ بہ شانہ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے نظر آتے ہیں بلکہ آپ دیکھئے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاملات پر امریکہ کے ساتھ جو پیش رفت ہوئی ہے اُس کی مخالفت میں سعودی عرب اور اسرائیل کی پالیسی ایک ہی ہے۔

’’عرب جاز‘‘ کریم مسکے کا پہلا ناول ہے۔

اور ہاں مسلمان ناول نگاروں کا ذکر کرتے ہوئے میں مختصراً معروف امریکی ناول نگار خاتون جائس کیرل اوٹس کے ناول ’’دے سیکرے فائس‘‘ یعنی ’’قربانی‘‘ کا حوالہ بھی دوں گا۔۔۔ اگرچہ میں متعدد بارنیو یارک جا چکا ہوں لیکن مجھے قطعی طور پر گمان نہ تھا کہ اس شہر کے نواح میں ایسے درد ناک اور ہولنا، غربت زدہ علاقے بھی ہیں جہاں زندگی ایک جہنم ہے۔ یہ ناول ایک نوجوان سیاہ فام لڑکی سیبل کے بارے میں ہے جس کی زبردستی اور نہایت وحشیانہ طریقے سے آبروریزی کی جاتی ہے اور پھر کیسے سیاہ فام لیڈر اسے اپنی ناموری کے لیے استعمال کرتے ہیں اور آخر تک نہیں کھلتا کہ واقعی سیبل اس ظلم کا شکار ہوئی تھی یا پھر یہ ایک منصوبہ بند سازش تھی۔۔۔ لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے۔

چلئے پھر مسلمانوں کی جانب لوٹتے ہیں۔۔۔ اسلام آباد کے آکسفورڈ لٹریری فیسٹیول میں میرے لیے دو پُر مسرت حیرتیں تھیں۔ ایک تو ہندوستانی ادیب، ناشر اور عورتوں کے حقوق کی چیمپئن۔۔۔ اروشا۔۔۔ اور دوسری ثریا خان۔۔۔ حیرتیں اس لیے کہ کچھ برس پیشتر جب جرمنی کی ایک سرکاری ادبی تنظیم لٹریری ورک شاٹ نے ہائیڈل برگ کے پروفیسر کرسٹینا آسٹن ہیلڈ، جنہون نے جرمنی زبان میں قرۃ العین حیدر کی ناول نگاری پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، ان کے مشورے سے میرے ناول ’’راکھ‘‘ کو جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے نمائندہ ناول قرار دیا اور مجھے برلن آنے کی دعوت دی جہاں اس ناول کی ڈرامائی تشکیل کی گئی تو وہاں۔۔۔ اُروشا اور ثریا خان بھی تھیں۔ میں نے ثریا خان کی رفاقت میں برلن میں چند نہایت ادبی اور خوشگوار لمحے گزارے تھے۔۔۔ وہ سٹیج پر تشریف فرما تھیں جب میں اُنہیں پہچان کر ان سے ملنے گیا تو وہ مجھے پہچان کر کچھ جوشیلی ہو گئیں تو میں قدرے شرمندہ ہو گیا۔ ثریا خان نے برلن میں مجھے اپنا ایک ناول ’’نور‘‘ دستخط کر کے دیا تھا جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ ثریا ہالینڈ میں پیدا ہوئی تھیں، ان دنوں ایک نیو یارکر ہیں لیکن وہ اپنی پاکستانیت سے دستبردار نہیں ہوئیں ، اپنے آپ کو ایک پاکستانی ناول نگار کہتی ہیں۔ چونکہ کاملہ شمسی کی مانند اس سانحے کا کچھ امکان نہیں کہ ثریا خان اُردو میں لکھا کچھ بھی پڑھتی ہوں اس لیے میں بلاخوف و خطر کہہ سکتا ہوں کہ ’’نُور‘‘ ایک بہت ہی معمولی ناول ہے۔ اس کی واحد خوبی یہ ہے کہ یہ انگریزی میں لکھا گیا ہے۔

مجھ سے بہت سے لوگ مزید خفا ہو جائیں گے، ناراض ہو کر میرے بیری ہو جائیں گے جب میں یہ کہوں گا کہ ہم اردو ناول نگار ایک کنویں میں بندہیں ’’آگ کا دریا‘‘ ، ’’اداس نسلیں‘‘ اور ان میں ’’راکھ‘‘ یا بہاؤ بھی جی چاہے تو شامل کر لیجیے، ہم ان دو چار ناولوں کی مسلسل جگالی کر رہے ہیں۔۔۔ مغرب اور امریکہ کو تودفع کیجیے۔ ہم جانتے ہی نہیں کہ مراکو، تیونس، الجیریا، سومالیہ یہاں تک کہ سعودی عرب میں کیسے کیسے ناول لکھے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے کنویں میں سے باہر نہیں آنا چاہتے۔ تو پھر پڑے رہتے ہیں، ہم جہاں ہیں خوش ہیں، ہم ملنگوں کو نہ چھیڑا جائے ورنہ ہماری ناول نگاری کی عظمت مجروح ہوجائے گی۔

Citation
Mustansar Husain Tarar, “سومالیا کا نور الدین فرح اور کریم مِسکے,” in Daily Nai Baat, July 5, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%B3%D9%88%D9%85%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%D8%A7-%D9%86%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86-%D9%81%D8%B1%D8%AD-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D9%85-%D9%85%D9%90%D8%B3%DA%A9%DB%92

Disclaimer
The item above written by Mustansar Husain Tarar and published in Daily Nai Baat on July 5, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Mustansar Husain Tarar:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s