ہمارے انگلش میڈیم سکول

Follow Shabnaama via email
منظور احمد

پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے ہم نے کبھی بھی انگلش میڈیم سکول کا نام نہیں سُنا تھا ۔ البتہ کو نوینٹ سکول ضرور ہوتے تھے جو کرسچن مشنریز کے زیرانتظام ہوتے تھے۔ اوّل تو اُس وقت پرائیویٹ یا کمرشل سکولوں کا رواج ہی نہ تھا۔ جتنے بھی اور جس قسم کے بھی سکول ہوتے تھے وہ یا تو صوبائی حکومت یا ڈسٹرکٹ بورڈز کے ماتحت ہوتے تھے۔کچھ سکول برِ صغیر کے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی تعلیمی NGO’S نے اکثر اپنے مذہب کے پیروکاروں کے طالب علموں کے لئے بنائے تھے۔ جیسے اسلامیہ سکولز، خالصہ سکولز، آریہ سماجی سکولز، بمبئے اور کراچی میں بوہری کمیونٹی کے سکولز۔ انگریزکے آنے کے بعد ہمیں برصغیر میں 4 اِقسام کے سکول ملتے ہیں۔ سرکاری سکول ، مشنری سکول ، مذہبی رفاعی اِداروں کے بنائے ہوئے سکول اور مخصوص مقاصد یا مخصوص طبقات کے لئے تعمیر شدہ سکولز۔ مخصوص سکولوں میں برنز ہال ایبٹ آباد جو امیر طبقہ کے لئے کرسچن مشنری نے ایبٹ آباد میں 1948 میں بنایا ، لارنس کالج گھوڑا گلی مری میں 150 ایکٹر رقبے پر 1860 میں تعمیر ہوا۔ ملٹری کالج جہلم 1922 میں بنا جو خالصتاً فوج میں شمولیت کے لئے نوجو انوں کو تیار کرتا تھا، حسن ابدال کیڈٹ کالج 1954 میں پنجاب حکومت کے زیرِ اہتمام بنایا گیا۔ اس کا مقصد بھی بنیادی طور پر فوج کے لئے اَفسر تیار کرنا تھا۔

پاکستان میں 1965 تک سرکاری سکولوں کی تعلیم اوسط درجے سے اعلیٰ درجے تک کی بھی تھی۔ اُستاد طالبِ علموں کی تیاری میں دلچسپی لیتے تھے۔ پرائیویٹ ٹیوشن کا رواج ضرور تھا لیکن اس کے لئے ابھی تجارتی قسم کی اکیڈیمیاں نہیں کھلی تھیں۔ طالبِ علم ٹیوشن انفرادی طور پر لیتے تھے۔ عام طور پر اُستاد کے گھر پر جاکر پڑھتے تھے اور بعض مرتبہ اُستادگھر پر آکر پڑ ھاتا تھا خصوصاً خواتین سٹوڈنٹس کے لئے۔ ہمارا نصابِ تعلیم فرسودہ اور دانستہ غلط بنیادوں پر تشکیل دیا ہوا ہونے کے باوجود، ہمارے طالبِ علم قابلیت میں کم نہ ہوتے تھے۔ اِمتحانوں میں نقل کرنا واقعی جرم سمجھا جاتا تھااور نقل کرکے پاس ہونے والے طالبِ علم کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ سب سے پہلا انگلش میڈیم سکول جو کمرشل بنیاد پر لاہور گلبرگ میں کھلا، وہ آئزر ڈے سکول کے نام سے تھا جو ایک بیوہ اِنگلش لیڈی مسز علی نے شروع کیا تھا۔ یہ 1962 کی بات ہے۔ خوشحالی کی علامت گلبرک کالونی کے رہائشی بچے جو اچھے سرکاری یا مشنری سکولوں میں داخلہ حاصل نہ کر سکتے تھے ، وہ بچے اس سکول میں داخل ہوتے تھے مسز علی خود بھی محنت سے پڑھاتی تھیں اور سٹاف سے بھی کام لیتی تھیں۔ اس سکول کی کوئی دوسری برانچ بھی نہ تھی۔ اسی طرح گلبرگ میں ایک اور سکول پرائیویٹ طور پر ESSNA کے نام سے کھلا۔ یہ سکول بھی ایک قابل خاتون نے کھولا جو ابھی تک قائم ہے۔ اس کی بھی کوئی شاخ نہیں ہے۔1970ء کی دَھائی کی اِبتدا سے پرائیویٹ انگلش سکولوں میں کارپوریٹ کلچر کے تمام لوازمات داخل ہونے شروع ہوئے۔ اِن سکولوں کی تعداد دن رات بڑھنے لگی۔ اس کی کئی وجوہات تھیں۔ مثلاً (1) سرکاری سکولوں کا معیار گِرنا شروع ہو چکا تھا۔ طالب علموں کے ماں باپ سرکاری سکولوں کی کارگردگی سے غیر مطمین / پریشان ہو چکے تھے۔ میٹرک کے اِمتحانوں کے نتائج میں رشوت کے عمل دخل سے ۔ محنتی اور لائق طلباء کا نتیجہ جعلی ہتھکنڈوں سے خراب کر د یا جاتا تھا۔ اس لئے سکنڈری بورڈز پر بھی عوام کا اعتماد متزلزل ہو گیا۔ (2) سکنڈری بورڈز کی ناقابلِ بھروسہ کارکردگی کی وجہ سے شہری طلباء نے جو نیئراور سینئر کیمبرج کے اِمتحانات کو ترجیح دی جس کی وجہ سے انگلش میڈیم سکولوں کی ضرورت محسوس ہوئی شہری آبادی تیزی سے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اِنگلش میڈیم سکولوں کی مانگ زیادہ ہو گئی اور اِن سکولوں کی بھاری فیسیں دینے کے لئے طلباء کے والدین میں رشوت خوری بھی زیادہ ہو گئی۔ (3) تاجرانہ بنیادوں پر انگلش میڈیم سکولوں نے اپنی برانچیں بنائیں اورشہر شہر اپنے فرنچائز بھی دینے شروع کر دیئے۔ (4) انگلش میڈیم سکولوں سے فارغ التحصیل طلباء سوشل Status کی علامت بن گئے ،اَن پڑھ شہری ماں باپ نے بھی اپنے بچوں کو انگریزی سکولوں میں داخل کرنے کو ترجیح دی۔ جب انگلش میڈیم سکولوں کی طلب زیادہ بڑھی تو گلی ، محلّے میں بھی انگریزی ناموں والے سکول کھُل گئے جہاں تمام سال ” داخلہ جاری ہے” کے بورڈ نمایاں نظر آتے ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے سرکاری سکولوں کا بالکل ہی بیڑہ غرق ہوگیا۔ دیہاتی سکول صرف کاغذوں میں نظر آتے تھے۔ سائنس اور حساب کے اُستاد سرکاری ملازمت میں یا تو آتے ہی نہیں اور اگر وہ ملازمت کر بھی لیتے ہیں تو دیہاتی سکولوں میں تعیناتی سے گریز کرتے ہیں۔ہیڈماسٹر یا سکول کے کلرک کو رشوتیں دے کر اپنی حاضریاں لگواتے ہیں اور اصل کمائی وہ بڑے شہروں میں ٹیوشن سے حاصل کرتے ہیں۔ شرح پیدائش متواتر بڑھنے سے ہماری آبادی کا 65 فیصد حصہ نوجوان اور سکول جانے والے بچوں پر مشتمل ہے۔ اِن نوجوانوں کا 70فیصد حصہ دیہاتوں میں رہتا ہے جہاں سرکاری سکول صرف اعداد و شمار کے لیے موجود ہیں۔ ہماری آبادی کا دیہاتی غریب نوجوان مجبوراً آرٹس کے فرسودہ سے مضامین میں میٹرک کرتا ہے۔ اُسے نہ تو کسی سائنس کالج میں داخلہ مل سکتا ہے اور نہ ہی وہ اچھا ہنر مند بن سکتا ہے۔ دیہاتی پس منظر کا غریب بچہ اگر تمام تر تعلیمی سہولتوں کے باوجود بورڈ کے اِمتحان میں کوئی پوزیشن حاصل کر لے تو وہ پھر اخباری خبر بن جاتی ہے۔ لیکن عمومی طور پر ہمارے دیہاتو ں کے بچے سائنس کی تعلیم سے محروم ہی رہتے ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں حکومتی لا پرواہی کے علاوہ سرکاری سکولوں کی بڑے پیمانے پر ناکامی کی وجہ لوکل گورنمنٹ کے اِدارے کا نہ ہونا ہے۔ جب یہ ملک ، ابھی کاروباری سیاست دانوں کے ہتھّے نہیں چڑھا تھا، تو میٹرک تک کی تعلیم کا انتظام ڈسٹرکٹ بورڈ یا مونسپل کمیٹیوں کے پا س ہوتا تھا۔ مونسپل کمیٹیوں کے ممبران سکولوں کی کارکردگی پر نظر رکھتے تھے۔ اُستاد غیر حاضریاں نہیں کرتے تھے۔ میری عمر کے 99 فیصد لوگ دیہاتوں کے سکولوں سے ہی پڑھے ہوئے ہیں۔ اِن ہی لوگوں میں سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام ، ڈاکٹر عبدالقدیر، ڈاکٹر ثمر مبارک، بڑے بڑے طبیب، وکیل، اخبار نویس، انجینئرز، پروفیسرز، شعراء، ادیب اور ہمارے نشانِ حیدر ہیروز شامل ہیں۔

جوں جوں ہمارے ملک میں easy دولت کی بہتات ہوئی اور خاص طور پر جب یہ دولت کم پڑھے لکھے طبقے کے پاس زیادہ آئی تو اس طبقے نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے پرائیویٹ سکولوں کی طرف رُخ کیا۔پرائیویٹ اِنگلش میڈیم سکولوں نے اس کم پڑھے لکھے لیکن بہت امیر طبقے کو متاثر کرنے کے لئے اپنے سکولوں کے نام انگریزی کے علاوہ فرانسیسی اور لاطینی زبان میں رکھنے شروع کر دئیے ۔ جتنا مشکل نام اُتنی ہی زیادہ فیس Lysetuf, Lyceum, Academia, Chueifat ، جیسے ناموں کے سکول کے علاوہ ایسے سکول بھی ہیں جو تعلیم دینے کا خاص System رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مشہور سسٹم جو ہم سُنتے آئے ہیں وہ تو کنڈرگارٹن اور مونٹیری سسٹم ہوتا تھا جو بڑی ریسرچ کے بعد جرمنی اور فرانس نے تشکیل دیا تھا۔ ہمارے پاکستان میں راتوں رات کسی کاروباری نے سکول بنایا اور اُس کو اپنے System کا نام دے دیا۔ ہمارا نو دولتیا طبقہ مزید متاثر ہو گیا۔ تمام دنیا کے ماہرین تعلیم کہتے ہیں کہ کم از کم پرائمری تک تعلیم بچوں کو مادری زبان میں دی جانی چاہیے تاکہ اُنکی Comprehension مضبوط ہو۔ ہم عجیب پاکستانی ماں باپ ہیں جو خود گھر میں ٹھیٹھ سرائیکی، سندھی، پنجابی، پوٹھوہاری اور پشتو یا بلوچی بولتے ہیں اور اپنے بچے سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمیں یا گھر میں آنے والے انکلوں / مہمانوں کو سلام بھی انگریزی میں کرے۔ پورے پاکستان میں اس وقت چھوٹے بڑے مجموعی طور پر انگلش میڈیم سکول ایک لاکھ سے زائد ہیں۔ اس کے علاوہ تمام سال ” داخلہ جاری ہے” قسم کے سکول تو اَن گنت ہیں۔

پرائیویٹ کمرشل سکولوں کی چونکہ ڈیمانڈہے اس لئے وہ گلی محلّے میں بھی کھُل رہے ہیں۔ بے ہنگم بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے سرکار اپنے ذرائع سے اتنے سکول بنا نہیں سکتی ۔ بلکہ دوسرے ممالک میں بھی تعلیم کی ترقی میں پرائیویٹ سیکٹر کا زیادہ حصہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں صرف لاہور شہر کو ہی لے لیں۔ اس شہر کی آبادی میں ہر سال قریباً 170,000 بچوں کا اضافہ ہو جاتا ہے ، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر سال 170,000 بچے سکول جانے کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں۔ اِن 170,000 سکول جانے کی عمر کے بچوں میں سے 50 فیصد بھی اگر سکول میں داخلہ لینا چاہیں گے تو کم از کم 150 نئے سکولوں کی ضرورت صرف لاہور میں ہو گی۔ ہر سال اِتنے سکول حکومت تو تعمیر کر نہیں سکتی۔ ظاہر ہے اس خلا کو پرائیویٹ سکول ، جو زیادہ تر تجارتی بنیادوں پر کام کرتے ہیں، پُر کرنے کے لئے میدان میں آتے ہیں۔ مشہور انگلش میڈیم سکول اپنی شاخیں بڑھا لیتے ہیں اور کمتر درجے کے پرائیویٹ سکول گلی ، محلوں میں مزید کھل جاتے ہیں۔ حکومتی سکول حسبِ آبادی بھی تعمیر ہوں تو موجودہ سکولوں میں نئے طالبِ علموں کو داخلہ دے کر کلاس رومز کو اور زیادہ Crowded کر دیا جاتا ہے۔ جب ڈویژنل پبلک سکول ماڈل ٹاؤن لاہور قریباً 15 ایکڑ پر بنایا گیا تھا تو اُس وقت ہر کلاس روم میں 25 طلباء کی گنجائش رکھی گئی تھی لیکن آج 25 سال بعد اس سکول کی ہر کلاس میں 60-70 بچوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ اتنے بچوں کی کلا س کو اُستاد فی طالبِ علم کتنا وقت دے سکتا ہے۔ درمیانے اور چھوٹے درجے کے انگلش میڈیم سکول تعلیم کے لحاظ سے تو کم تر ہوتے ہی ہیں لیکن فیسوں کے نام پر اور مختلف حیلے بہانوں سے طلباء کے ماں باپ سے رقم بٹورنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ ایسے سکولوں نے اپنے طلباء کی یونیفارم کی سپلائی کا انتظام اپنے مقرر کردہ ٹھیکیداروں کے ذریعے سے کیا ہوتا ہے تاکہ ٹھیکیدار وں سے بعد میں کمیشن لیا جا سکے۔ اس قسم کے سکولوں نے اسٹیشنری اور کتابوں کی دوکانوں سے بھی سودا کیا ہوا ہوتا ہے ۔ یہاں تک کہ سکول کی ٹک شاپ بھی سکول کے مالک کی شراکت سے بنتی ہے۔ ایسے سکولوں میں زیادہ تر اُستانیاں ہوتی ہیں جو غیر تربیت یافتہ ہوتی ہیں اور عموماً غیر شادی شدہ ہوتی ہیں۔ جوں ہی کسی اُستانی کی شادی ہوتی ہے اور اگر وہ ملازمت چھوڑ دیتی ہے تو دوسری اُستانی آجاتی ہے۔ ایسی اُستانیوں کا Turn over زیادہ ہوتا ہے۔ سکول بھی اُن کو واجبی سی تنخواہ دیتے ہیں۔ غیر معیاری اِنگلش میڈیم سکولوں نے ہماری نئی نسل کا مزید کام خراب کر دیا ہے۔ اِن سکولوں کے طلباء کے ماں باپ زیادہ تر اَن پڑھ ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ فیس دے کر ، قمیض پتلون اور نکٹائی والی یونیفارم پہن کر ہمارا بچہ تعلیم یافتہ ہو جائے گا۔ حالانکہ ضروری نہیں کہ تعلیم بہتر طور پر حاصل ہوتی ہو،ان غیر معیاری اور تجارتی پرائیویٹ سکولوں کے بچوں کو اچھی شہریت کی تعلیم بھی نہیں دی جاتی۔ جیسے جیسے ہماری بے تحاشہ آبادی میں اِضافہ ہورہا ہے اُسی طرح تجارتی غیر معیاری سکول کھُل رہے ہیں۔ شائد ہم تعلیمی لحاظ سے ہمیشہ ترقی پذیر ہی رہیں گے۔

Citation
Manzoor Ahmad, ” ہمارے انگلش میڈیم سکول ,” in Daily Pakistan, July 5, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/05-Jul-2015/242222

Disclaimer
The item above written by Manzoor Ahmad and published in Daily Pakistan on July 5, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Manzoor Ahmad:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s