عبداللہ حسین کی اداس نسلیں

Follow Shabnaama via email
عبدالرئوف

عبداللہ حسین نہیں رہے۔

ہفتہ کے روز صبح کے کوئی دس بجے وہ خالق حقیقی سے جاملے۔ عبداللہ حسین ’’اداس نسلیں‘‘ والے، ’’قید‘‘، ’’باگھ‘‘ اور ’’نادار لو گ‘‘ والے عبداللہ حسین۔ یوں تو انہوں نےبےشمار شاندار کہانیاں لکھیں لیکن جو شہرت انہیں ’’اداس نسلیں ‘‘کے حوالےسے ملی وہ اپنی مثال آپ ہے۔

وہ خود اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’’یہ محبت سے جنم لینے والی بے انت تنہائی تھی جس سے نبردآزما ہونے کے لئے میں نے خود کو ایک طویل حزنیہ کے حوالے کردیا اور بعد میں اس فیصلے پر جشن منایا۔‘‘

عبداللہ حسین بہت کم گو تھے۔انہوں نے بہت کم لوگوں کو انٹرویو دیئے لیکن جن لوگوں سے کھل کر بات کی ان میں ایک اقبال خورشید بھی ہیں۔ کہتے ہیں ’’اداس نسلیں‘‘ سے گزرنے کے بعد تین انکشافات ہوئے۔ پہلا یہ کہ یہ پر قوتِ ماجرا، محبت، جنگ اور ہجرت کے نئےگوشے آشکار کرتا ہے۔ دوسرا قارئین کو اسے دوبارہ پڑھنے سے باز رکھنا، ناقدین کے بس کی بات نہیںاور تیسرا یہ آپ کو گرویدہ بنا سکتا ہے۔

اپنے اس شاہکار ناول کے ابتدایئے میں عبداللہ حسین نے یکم جنوری 1984 کو لندن سے لکھا ’’ہر ادیب اپنی ہم عصر نسل کے لئے لکھتا ہے۔ یوں کبھی نہیں ہوا کہ کوئی ادیب قلم اٹھائے اور کہے کہ اب میں آنے والی نسلوں کی خاطر ادب تخلیق کرتا ہوں۔ وغیرہ وغیرہ۔ ہاں ایک کے بعد دوسری نسل بھی اس ادب کو اسی شوق سے پڑھتی اور اس کے ساتھ اپنے کو اسی قدر منسلک و مربوط محسوس کرتی ہے تو یہ بات ادیب کے لئے گویا بونس کے طور پر ہوتی ہے اور اس سے اسے- وہ جو قلم کا مزدور ہوتا ہے اتنی ہی خوشی حاصل ہوتی ہے جتنی کسی محنت کش کو عید کے موقع پرایک ماہ کی زائد تنخواہ کے ملنے کی ہوتی ہے اور وہ اس پر شکرگزار ہوتا ہے۔ گو کہ یہ کوئی عطیہ نہیں بلکہ اس کا اپنا حق ہوتا ہے۔‘‘

ناول کے آغاز ہی سے اس کی اُٹھان دیکھیں:

’’ساراگائوںمشکل سے سو گھروں پر مشتمل تھا۔ اس گائوں کا نام روشن پور تھا۔ یہ راستے سے ہٹ کر واقع تھا اور کوئی ڈاچی یا پکی سڑک یہاں تک نہ آتی تھی۔ اس طرف کے دیہات میں آمد و رفت کا سلسلہ اکوں، تانگوں یا پیدل چل کر طے ہوتا تھا۔ ٹوٹی پھوٹی ،، ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیاں تھیں جو کثرت سے ایک دوسرے کو کاٹتی تھیں اکثر اوقات ایسا ہوتا تھا کہ اجنبی گائوںمیں پہنچ کر پریشانی اٹھاتے تھے مگر یہ روز کی بات تھی اورگائوں والوں کو ایسے مسافروں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آنے کی عادت سی پڑ گئی تھی۔ بعض اوقات لوگوں کو پہر دوپہر سستانے کے لئے کھاٹ اور پیاس بجھانےکے لئے لسی پانی بھی مل جاتا تھا۔‘‘

عبداللہ حسین کااصل نام محمد خان اور سن پیدائش 14اگست 1931 تھا۔ وہ راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ جہاں ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ پانچ برس کی عمر میں انہوں نے اپنے آبائی شہر گجرات میں قدم رکھا اور اگلے سولہ برس ان کا قیام وہیں رہا۔ 1952 میں انہوں نے بی ایس سی کی۔ اس کے بعد وہ ضلع جہلم کی ایک سیمنٹ فیکٹری میں ملازم ہوگئے۔ یہاں سے انہوں نے ملازمت چھوڑی تو دائود خیل کی ایک سیمنٹ فیکٹری میں بطور کیمسٹ ملازمت اختیار کی۔ 1959 میں انہیں کولمبو پلان فیلوشپ کے لئے منتخب کیا گیا اور وہ ڈپلومہ حاصل کرنے کینیڈا چلے گئے مگر اس سے پہلے ایک واقعہ ہوچکا تھا۔ دائود خیل میں ملازمت تو تھی مگر یکسانیت بہت تھی۔ اور اسی یکسانیت کو توڑنےکے لئے انہوں نے’’اداس نسلیں‘‘ کا آغاز کیا۔ اس ناول کی تخلیق میں انہیں پانچ برس لگے۔

ناول کی اشاعت کے لئے لوگ تیار نہ تھے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے ان کی کوئی تحریر شائع نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت ’’نیا ادارہ‘‘ نے اس ناول کو شائع کرنے کی حامی بھری لیکن ان سے مطالبہ کیا گیا کہ پہلے وہ ایک مختصر کہانی لکھیں سو انہوں نے’’ندی‘‘لکھی جسے رسالہ ’’سویرا‘‘ میں شائع کرکے انہیں ادیب کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ 1963میں ’’اداس نسلیں‘‘کی اشاعت نے ادبی دنیامیں تہلکہ مچا دیااورلوگوں نے اسے اردو کے بہترین ناولوں میں شمار کیا۔ اسی ناول پر بعدمیں انہیں آدم جی ایوارڈ دیا گیا۔

اس دوران حالات کو اپنی مرضی کا نہ پا کر عبداللہ حسین انگلینڈ چلے گئے۔ وہاں ان کا قیام خاصہ طویل رہا۔گو وہ 1976 میں مستقل قیام کے ارادے سے وطن واپس پہنچے لیکن حالات اب بھی خراب تھے سو وہ واپس چلے گئے۔1981 میں پانچ کہانیوں اور دو ناولوں پر مشتمل ان کا مجموعہ ’’نشیب‘‘ شائع ہوا۔ انکے ایک ناول ’’واپسی‘‘ پر ہالی ووڈ میں ایک فلم بھی بنی جس میں مشہور بھارتی اداکار اوم پوری نے بھی کام کیا ہے۔ ’’نشیب‘‘ پر ٹیلی ویژن نے بھی ایک ڈرامہ بنایاجسے بے حد پسند کیا گیا۔

بعد کی تحریروں میں ’’باگھ‘‘ ، ’’قید‘‘ ، ’’رات‘‘ اور ’’نادار لوگ‘‘ شامل رہیں۔ 2012 میں ان کی کہانیوں پر مشتمل مجموعہ ’’فریب‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ان کہانیوں کے مجموعہ کو انگریز ناقدین نے بھی سراہا۔ سنڈے ٹائمز نےاپنے شمارے میں اس کی بہت تعریف کی۔ عبداللہ حسین کی بعض تحریریں انگریزی میں بھی ہیں۔ “Afghan Girl” شائع ہوچکا ہے۔ بعض تحریروں کو محمد عمرمیمن نے انگریزی میں ڈھالا ہے۔

خود عبداللہ حسین کو اپنا دوسرا ناول ’’باگھ‘‘ زیادہ پسند تھا۔ کہتے ہیں کہ ’’باگھ‘‘زیادہ چست اور گتھاہوا ہے‘‘اگرچہ یہ ناول انہوں نےاپنےانگلینڈ کے رہنے کے دوران لکھا۔ خود کہتے ہیں کہ میں نےاس ناول میں انگریزی کاایک لفظ بھی استعمال نہیں کیا۔ جب یہ ناول چھپا تو لوگوں نے کہا کہ عبداللہ حسین تم اتنی مدت سے انگلینڈرہ رہے ہو مگر لگتا ہے اس تمام وقت تم اپنے گائوں سے باہر نہیں نکلے۔

ایسے لوگ اب کہاں ملیں گے جنہوں نےادب کی ایسی خدمت کی ہو۔ عبداللہ حسین چلے گئے لیکن ان کی طویل بیماری اور تنہائی کی زندگی کی وجہ سے یہ کہنا عجیب سا لگتا ہے کہ بہت افسوس ہوا۔مستنصر تارڑ کہتے ہیں کہ ’’اس بنجارے کا طویل عذاب ختم ہوا۔‘‘

Citation
Abdul Rauf, ” عبداللہ حسین کی اداس نسلیں,” in Jang, July 5, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B3-%D9%86%D8%B3%D9%84%DB%8C%DA%BA/

Disclaimer
The item above written by Abdul Rauf and published in Jang on July 5, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Abdul Rauf:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s