کلامِ عارفاں

Follow Shabnaama via email
ڈاکٹر توصیف احمد خان

عشق میں تیرے کوہ غم سر پر لیا جو ہو سو ہو

عیش و نشاط زندگی چھوڑ دیا جو ہو سو ہو (شاہ نیاز بریلوی)

علموں بس کریں او یار

علم نہ آوے وچ شمار، اکو الف تیرے درکار

جاندی عمر نہیں اعتبار، علموں بس کریں او یار

(بلھے شاہ)

ذہبی انتہاپسندی کا جواب صوفی ازم میں ہے۔ صوفیاء نے ہمیشہ اپنے کلام اور عمل سے محبت، دوستی اور بھائی چارے کا سبق دیا ہے۔ صوفیاء کی تاریخ ہزار سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ صوفیاء نے پاکستان، بھارت، ترکی، ایران، عراق اور شام سمیت تمام ممالک میں اپنے کلام سے اسلام کی حقیقی شکل پیش کی کہ لاکھوں کروڑوں لوگ اس سے متاثر ہوئے۔ خالد محمود پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں۔ انھوں نے پاکستان اور امریکا میں انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے مگر سماجی تبدیلی میں اپنا حصہ ڈالنا فرض سمجھتے ہیں۔

خالد محمود کی کاوشوں سے کلام عارفاں شایع ہو گیا ہے۔ اس کتاب کو معروف نیورو فزیشن ڈاکٹر حسن عزیز نے مرتب کیا ہے۔ ڈاکٹر زرین مغل نے اس کتاب کا انگریزی ترجمہ کیا اور گیٹس فارما نے شایع کیا ہے۔ سلطان باہو، بلھے شاہ، امیر خسرو، رومی، مولانا جامی، شاہ حسین، غلام فرید، کبیر، مہر علی شاہ، سراج اورنگ آبادی، بہادر شاہ ظفر، شاہ نیاز بریلوی، بابو حیابدایونی، علامہ اقبال، نواب صادق جنگ، ضیاء الحق، میرابائی، بو علی قلندر اور بعض نامعلوم شعراء کے فارسی، ہندی، اردو اور پنجابی کلام کو یکجا کیا گیا ہے۔

ہر شاعر کے کلام کا اردو اور انگریزی میں ترجمہ اور مفہوم بھی تحریرکیا گیا ہے۔ ممتاز شاعرہ فہمیدہ ریاض ’’کھویا ہوا خزانہ‘‘ کے عنوان سے لکھتی ہیں کہ تصوف کا پیغام محبت ہے اور یہ پیغام اپنی تحقیق کے ذریعے حاصل ہوا ہے۔ یہ راز و رموز کائنات کی تلاش ہے اور بے حد قدیم ہے۔ اسلام کا آغاز ہی بسم اﷲ الرحمن الرحیم سے ہوتا ہے اور یہ رحمت اور محبت کی اعلیٰ شکل ہے۔

برصغیر میں اس کے متوازی بھگتی کی تحریک بھی نشوونما پاتی رہی ہے۔ پاکستان کی سرزمین پر صدیوں سے یہاں کی مختلف زبانوں میں ان دونوں تحریکوں نے جو دراصل ایک ہی منبع سے پھوٹی ہیں۔ شعراء کے کلام میں اپنا جلوہ دکھایا ہے۔ یہ ہماری تہذیب و تمدن کا اہم حصہ رہا ہے اور آج کل بھی گاؤں گاؤں عارفانہ کلام چوپال، بیٹھکوں اور خاص و عام محفلوں میں گایا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے وقت کے ساتھ یہ رویہ ہمارے شہری اور معاشرتی لحاظ سے بالادست طبقات کی فکر اور زندگی سے دور ہوتا چلا گیا۔ اس بیش بہا مجموعے کے مرتب کردہ ڈاکٹر حسن عزیز نے اس گم شدہ خزانے کی بازیافت کی جو کوشش کی ہے وہ حد درجہ لائقِ تحسین ہے۔ کلامِ عارفاں میں الفاظ کا درست تلفظ، ان کا انگریزی میں ترجمہ اور اردو میں تشریح و ترجمہ کے ساتھ نامانوس الفاظ کے معنی علیحدہ درج کیے گئے ہیں۔ وہ ہمارے لیے اس عارفانہ کلام تک رسائی حاصل کرنے کے متعدد دروازے کھول رہے ہیں۔ کتاب کے ترجمے اور ترتیب میں جس عرق ریزی سے کام لیا گیا ہے اس پر بے ساختہ آفرین کہنے کو جی چاہتا ہے۔

معروف نیورو فزیشن ڈاکٹر حسن عزیز لکھتے ہیں کہ موسیقی کو روح کی غذا کہا جاتا ہے اور لگتا ہے کہ پیدائشی طور پر موسیقی کی حس ہر ذی روح میں موجود ہے، چاہے انسان ہوں یا حیوان۔ ہو سکتا ہے کہ اس بارے میں کچھ لوگوں کو اختلاف ہو لیکن اگر موسیقی کی اقسام اور اس کے وسیع تر تناظر پر نظر دوڑائی جائے تو اس نظریے کو کافی تقویت ملتی ہے۔ مثال کے طور پر لوری کو ہی لے لیجیے، دنیا کے کسی بھی ملک میں نوزائیدہ بچے پر لوری کے اثرات (صرف اس کی موسیقیت کے، نہ کہ الفاظ کے) ایک ہر طرح کے ہوتے ہیں جس سے اس نظریے کی تائید ہوتی ہے۔ ایک اور مثال یہ پیش کی جا سکتی ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اگر دو تین سالہ بچے کی موجودگی میں ایسی موسیقی بجائی جائے جس میں تال نمایاں ہو (مثلاً بھنگڑا) تو بچے کے جسم میں ایسی غیر ارادی حرکت پیدا ہو جاتی ہے جو ناچ یا ڈانس سے مشابہت رکھتی ہے۔

اس کے علاوہ اور بہت سے ساز موجود ہیں جن کا اثر ہر ذی روح پر پڑتا ہے خواہ انسان ہو یا جانور۔ ڈاکٹر عزیز لکھتے ہیں کہ طبی سائنس کا طالب علم ہونے کی وجہ سے راقم کے ذہن میں اکثر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا موسیقی یا دیگر فنون لطیفہ میں دلچسپی یا مہارت بھی اسی طرح نسل در نسل منتقل ہو سکتی ہے جیسے جنیاتی طور پر رنگت، جلد کی ساخت یا قد کاٹھ وغیرہ۔ منطقی طور پر اس کے واقعے ہونے کے امکانات بہت قوی ہیں مگر اس پر کسی بالواسطہ اور باضابطہ سائنسی تحقیق کا حوالہ غالباً موجود نہیں لیکن بلاواسطہ کچھ شواہد موجود ہیں۔ مثلاً کچھ بچوں کی دماغی ساخت پیدائشی طور پر عام بچوں سے مختلف ہوتی ہے۔ وہ تمام عمر دنیا و مافیہا سے بالکل لاتعلق ہوتے ہیں۔

وہ صرف اپنی ہی ایک دنیا میں تمام زندگی گزار دیتے ہیں۔ ان کی زبان بھی اپنی ہی ہوتی ہے جسے صرف بچے کی ماں کسی حد تک سمجھ سکتی ہے۔ سائنسی اصطلاح میں اسے Adtism کہا جاتا ہے۔ یہ بچے نہ کسی سے آنکھ ملا کر بات کر سکتے ہیں نہ کسی اور بچے کے ساتھ کھیل میں شریک ہو سکتے ہیں۔ ایسے کچھ بچوں میں قدرتی طور پر بعض ایسی حیرت انگیز صلاحیتیں ہوتی ہیں کہ ان کے اظہار پر لوگوں کو یقین نہیں آتا۔ ایسی صلاحیتوں میں موسیقی کا شوق نمایاں ہے۔ دنیا میں کچھ بچے تو ایسے بھی ہیں جو کئی صفحات پر مشتمل سمفنی (Symphony) بھی لکھ سکتے ہیں۔ حالانکہ انھیں کسی قسم کی تعلیم نہیں دی گئی ہوتی۔ وہ لکھتے ہیں کہ اپنے بچوں اور نئی نسل کے لیے صوفیانہ کلام کے متن کی فراہمی کی اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے آج سے تقریباً دو دھائیاں پہلے مجھ میں تحریک پیدا ہوئی۔

میں نے ان خاص محفلوں میں کہ جہاں گائیکوں کو منتخب کلام کی فہرست پہلے سے فراہم کر دی جاتی ہے اس فراہم کردہ فہرست کا متن اور ترجمہ لکھ کر بانٹنا شروع کیا۔ میری یہ کوشش بہت کامیاب ہوئی۔ اس کوشش اور عمل کا بہت دلچسپ نتیجہ سامنے آیا۔ وہ یوں کہ اس کے بعد کی محفلوں میں اکثر سامعین کے سامنے اس منتخب کلام کی فوٹو کاپیاں رکھی ہوتی تھیں۔یہ کلام آہستہ آہستہ اکٹھا ہوتا گیا اور اس مجموعے کی بنیاد بن گئی۔ ڈاکٹر عزیز لکھتے ہیں کہ اس مجموعے کو کتابی شکل میں پیش کرنے کا اولین مقصد یہ ہے کہ وہ طالبان علم جو تصوف اور لوک موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں اور پیش کیے جانے والے اس کلام کو لفظی اور مفہومی طور پر سمجھنا چاہتے ہیں وہ اس مجموعے سے فائدہ اٹھائیں۔

کتاب کے باب افتتاحیہ کے موضوع ’’موسیقی کیا ہے‘‘ میں تحریر کیا گیا ہے کہ موسیقی فنون لطیفہ کی وہ صنعت ہے جس میں آواز کے سروں کے امتزاج سے ایک ایسا رواں تسلسل پیدا کیا جاتا ہے جو دلکش، ہم آہنگ اور متوازن ہے اور تال میں ہوتا ہے۔ موسیقی دنیا کے ہر خطے میں موجود ہے لیکن مختلف ثقافتوں، علاقوں، ممالک اور مذاہب میں اس کا اپنا الگ انداز ہوتا ہے۔ خوبصورت لے آؤٹ اور جاذبِ نظر رنگ کے ساتھ یہ کتاب 250 صفحات پر مشتمل ہے۔ خالد محمود نے انتہائی عمدہ فریضہ انجام دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے انتہاپسند ذہن تبدیل ہو سکتے ہیں۔

Citation
Tauseef Ahmad Khan, “کلامِ عارفاں,” in Express Urdu, July 4, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://www.express.pk/story/372378/

Disclaimer
The item above written by Tauseef Ahmad Khan and published in Express Urdu on July 4, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Tauseef Ahmad Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s