ضیاؔ فتح آبادی ادب کا روشن ستارہ

Follow Shabnaama via email
شاہدہ دلاور شاہ

کج فہموں نے ادب اور ادیب کو خانوں اور خطوں میں بانٹ کر دونوں کو محدود کر دیا ہے۔تخلیق کار دھرتی کا سرمایا ہوتا ہے ۔سچا اور جینوئن ادیب انسان کے لیے لکھتا ہے ،انسان کے لیے ہنستا ہے ،انسان کے لیے روتا ہے اور انسان کے لیے لڑتا ہے۔اس کے پیشِ نظر علاقہ، نظریہ، دھرم یا ذاتی مفاد نہیں ہوتانہ ہی وہ اس میں خود کو مقید کرتا ہے البتہ وہ اپنی ذات میں مشارطہ،مراقبہ،محاسبہ اور مواخذہ کو ملحوظ خاطر ضرور رکھتا ہے ۔۔۔سو قاری کو بھی تخلیق کار کے لیے نرم گوشہ رکھنا چاہیے۔ہاں البتہ ادبی رجحانات اور معیارات سے کمٹمنٹ ضروری ہے ۔ اسکے لیے لچک کی گنجائش نہیں دی جا سکتی۔ اگر ہم اردو ادب کی بات کریں تو یہ غلط نہ ہو گا کہ اردو زبان کا خمیرہند اسلامی تہذیب و ثقافت کی آمیزش سے تیار ہوا ہے ۔ زبانیں خوشبو کی مانند ہوتی ہیں اوریہ بات آپ سب جانتے ہیں کہ خوشبو کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا ۔یہ اپنا راستہ خود متعین کرتی ہے۔زبانیں معاشروںیا مذاہب کی بھی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ معاشروں اور مذاہب کو ان کا مرہون منت ہونا ہوتا ہے۔وہ ۱۹۱۳ء میں پیدا ہوئے اور ۱۹۸۶ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ان کی شاعری اور نثر میں وہ تمام میلانات و رجحانات پائے جاتے ہیں جو اس وقت کے لوگوں کے لیے بہتر تھے۔اپنی اس سوچ کو انہوں نے غزل، نظم، مسدس، مخمس، ثلاثیات، سانیٹ، قطعات، رباعیات، نعت، مرثیہ، افسانے، انشائیے، تذکرے اور تنقید کے پہناوے میں ظاہر کیا۔

ضیاؔ فتح آبادی بیسویں صدی کا ایک بڑا نام ہے۔ جنہوں نے شعری اور نثری ادب میں خود کو منوایا اور اپنی الگ شناخت قائم کی۔وہ اردو زبان کے ان محسنوں میں سے ہیں جنہوں نے قلم کے زور سے فطری ترقی پسند سوچ کی آبیاری کی۔ انہوں نے جو ادب نئی نسل کے کیے چھوڑا ہے وہ تا دیر اس سے اکتسابِ نور کرے گی۔

دیکھا گیا ہے کہ بہت کم اولاد ایسی ہوتی ہے جو اپنے پُرکھوں کے نام کو آگے بڑھائے۔ضیاؔ فتح آبادی کے لائقِ تحسین بیٹے دیویندر سونی نے اپنے باپ کی یاد گار کے طور پر ’’مہر فاؤنڈیشن‘‘ قائم کر رکھا ہے ۔یاد رہے کہ ضیاؔ فتحِ آبادی کا اصل نام مہر لال سونی ہے۔ اسی نام کی نسبت سے مہر فاؤنڈیشن ہے۔ضیاؔ فتح آبادی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ انہیں ہندو اور مسلمان دونوں محبت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔کیوں کہ ان کی جدو جہد سب کے سامنے تھی ۔وہ شاعر، نثر نگار،مقرر اور بہت اچھے انسان بھی تھے۔موسیقی اور تھیٹر کے بھی دلدادہ تھے۔ابھی آپ یونی ورسٹی میں طالب علم ہی تھے کہ۱۹۳۷ء میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ ’’نورِ مشرق‘‘ چھپ کر منصہ شہود پر آ گیا۔اس مجموعہء کلام کی خاص بات یہ تھی کہ اس کے آخر میں ضیاؔ صاحب نے نو سانیٹ (Sonnets) بھی لکھے ہیں ۔اس دور میں سانیٹ ایک نئی صنف تھی جو براہ راست انگریزی ادب سے اردو میں آئی تھی۔ضیا فتح آبادی کی تخلیقات میں تہذیبی رجحان کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے جس میں ترقی پسند سوچ اور عصری حسیت کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں انسان دوستی کا مذہب اور سبق پڑھنے والے کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ وہ رنگ و نسل، مذہب و ملت اور ذات پات کی بالکل طرفداری نہیں کرتے۔ان کے گیتوں میں احمد راہی کے گیتوں کی سی بے ساختگی،میرا جی کے گیتوں جیسی جدت، اختر شیرانی کے گیتوں جیسی حلاوت اور حفیظ جالندھری کے گیتوں جیسی سپردگی کی گونج سنائی دیتی ہے۔ان کے دبنگ لہجے میں جہاں ہمیں عہدِ موجود کے انسان کی بے کسی دکھائی دیتی ہے تو وہیں پر انسان کی اپنی شناخت اور پہچان کی تلاش کا سفر اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔آپ کہتے ہیں :

عمارتیں ہیں بلند اور سر نگوں انساں
یہ وہ زمیں ہے جہاں آسماں نہیں ملتا
پھر کہتے ہیں :

پایا نہ دَیر میں نہ حرم میں کوئی سراغ
اپنی تلاش لے کے مجھے در بدر گئی

شعری دنیا میں ضیا ؔ فتح آبادی کہیں کہیں مجھے تضادات کا شکار بھی دکھائی دیے۔ضیاؔ فتح آبادی نے یورپین تخلیق کاروں کے ساتھ ساتھ میر انیسؔ ، علامہ محمد اقبالؔ ،جوشؔ ملیح آبادی اور اختر شیرانی وغیرہ سے بھی استفادہ کیا ۔ان کی کچھ معروف تصانیف ’’سورج ڈوب گیا ‘‘(نو مختصر افسانوں کا مجموعہ)مطبوعہ لندن اکتوبر ۱۹۸۱ء ، ’’زاویہ ہائے نگاہ ‘‘(۱۹ شعرا و دباء پر تاثراتی مضامین)جنوری ۱۹۸۳،’’ذکرِ سیمابؔ ‘‘ (علامہ سیمابؔ اکبر آبادی کا سوانحی خاکہ) ۱۹۸۴، ’’شعروشاعر‘‘ (۲۰شعرا کے خود نوشت سوانح )۱۹۷۴، اور ’’ مضامینِ ضیاؔ فتح آبادی‘‘ (غیر مطبوعہ )، ’’ضیاؔ فتح آبادی کے خطوط‘‘ (غیر مطبوعہ) ہیں۔اگر ان کے اعلیٰ طرزِ سخن وری اور نثر نگاری کو کمیت و کیفیت کے اعتبار سے پرکھا جائے وہ عظیم ترقی پسند تخیق کار اور صاحب طرز ڈرامہ نگار ہیں۔ان کی شاعرانہ عظمت اورمفکرانہ بلندی کا اعتراف ان کے عہد کے بڑے شاعر بھی کرتے تھے۔وہ روایت کا احترام بھی کرتے تھے اور وہ پورے شعور کے ساتھ اس روایت سے انحراف بھی کرتے تھے۔وہ مختلف ہیئتوں میں تخلیقی اظہار کی بے پناہ قوت رکھتے تھے۔ان کو زبان و بیان پر خاصی قدرت تھی۔لفظیات و تراکیب ان کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی رہتیں۔

ان کی شاعری اقلیمِ شعر و سخن میں صدیوں تک لوگوں کے دلوں پر راج کرے گی۔محبت اور سماج ان کے محبوب موضوع تھے۔محبت ایک عظیم جذبہ ہے جس کو سطحی سوچ کے خود ساختہ اصولوں کے پیندے میں نہیں رکھ سکتے ۔یہ ایک ماورائی طاقت ہے جو ہر آفت اور مشکل کے سامنے ڈٹ جاتی ہے۔

انہوں نے اپنی زندگی میں جو سماجی اتار چڑھاؤ دیکھے، ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے مگرانہوں نے شکست و ریخت کی ہنگامہ خیزی میں اپنی انسانیت نواز اخلاقیات کو کبھی مجروح نہیں ہونے دیا۔

اے دل لبِ گویا سے تو ممکن ہی نہیں تھا
جو کام نگاہوں نے کیا نامہ بری کا
رکھتا ہوں نشیمن میں بھی آدابِ قفس یاد
شکوہ نہیں صیاد سے بے بال پری کا

ضیاؔ فتح آبادی کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ انہوں نے نئے پرانے رنگوں کی آمیزش سے جذبات اور تخیل کا ایک حسین نگار خانہ مرتب کیا ہے جو کشش ثقل کی مانند اپنی طرف کھینچتا ہی چلا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ:

محفلِ شوق میں آیا ہوں ضیاؔ مہر بلب
گنگناتا ہوا پُر سوز غزل جاؤں گا

آپ ہندو ہونے کے باوجود آپﷺ سے عقیدت و محبت کا اظہار یوں فرماتے ہیں ۔۔۔

اخلاق کی تعلیم ہے فرمانِ محمدؐ
توحید کا دریا، مئے عرفانِ محمدؐ
ملتی ہے یہاں روح کو برنائی و تسکین
ہے سایہء حق، سایہء دامانِ محمدؐ
گھٹتی گئی کوتاہیء چشم و دلِ انساں
بڑھتی ہی گئی شوکتِ دیں شانِ محمدؐ
ہر نقشِ قدم ان کا نشانِ رہِ منزل
سب قافلے والے ہیں ثنا خوانِ محمدؐ
پردے ابھی آنکھوں پہ جہالت کے پڑے ہیں
پائے کوئی کیسے درِ فیضانِ محمدؐ
لکھی گئی دنیا میں ضیاؔ نورِ یقیں سے
انسان کی تاریخ بہ عنوانِ محمدؐ

جس طرح پاکستان کی یونی ورسٹیوں نے یہاں کرشن چندر صدی ، حالی صدی، شبلی صدی،منٹو صدی اورفیض صدی منائی ہیں اسی طرح ضیاؔ فتح آبادی صدی بھی منائی جائے ۔

Citation
Shahida Dilawar Shah, “ضیاؔ فتح آبادی ادب کا روشن ستارہ,” in Daily Nai Baat, July 4, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%B6%DB%8C%D8%A7%D8%94-%D9%81%D8%AA%D8%AD-%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%D8%A7%D8%AF%D8%A8-%DA%A9%D8%A7-%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86-%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%81

Disclaimer
The item above written by Shahida Dilawar Shah and published in Daily Nai Baat on July 4, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Shahida Dilawar Shah:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s