مطلع صاف ہے

Follow Shabnaama via email
خالد شریف

لندن کی یادوں میں سے ایک اہم یاد بخش لائل پوری کی ہے ۔ منفرد نوکیلے اور دورِ حاضر کے مقبول ترین کالم نگار حسن نثار کی طرح بخش صاحب نے بھی لائل پور کے فیصل آباد بننے کو کبھی دل سے قبول نہیں کیا۔ یادش بخیر سرکاری ملازمت کے سلسلے میں جب ہم لائل پور پہنچے تو وہاں شعروادب کی ایک کہکشاں موجود تھی۔ درویش صفت تنویر جیلانی ایک مقامی اخبار کا ادبی ایڈیشن ترتیب دیتے تھے سو ہماری ابتدائی شعری تربیت کا ذمہ دار یہی صفحہ ٹھہرا جہاں ہم ہر ہفتے ایک غزل چھپوا کر خوش ہوجایا کرتے تھے۔ افتخار نسیم جنہوں نے بعد میں افتیؔ کے نام سے اپنی شخصیت کے مخصوص رنگ کی وجہ سے خوب معرکے سر کئے وہیں موجود تھے۔ کچھ عرصے بعد وہ امریکہ منتقل ہوگئے اور شکاگو میں رہ کر ادیبوں شاعروں کی میزبانی کرتے رہے۔ اپنی مخصوص ہیئت اور صنفی مسلک کے باوجود وہ تادمِ مرگ شعرأ و ادبا کے محبوب رہے۔ اپنے ہاں قیام کرنے والوں کے بارے میں انہوں نے ایک دلچسپ کتاب ’’مسافرانِ کرام‘‘ کے نام سے تحریر کی جس میں بہت سے جغادری ادیبوں کا کچّا چٹھہ کھول کر بیان کردیا۔ وہ ایک نیک دل اور متواضع انسان تھے جب تک جئے اپنے رنگ میں اور اپنی مرضی کے مطابق جئے۔ پروفیسر انور محمود خالد اور ریاض مجید حمد اور نعت پر پی ایچ ڈی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ انور محمود خالد دھیمے لہجے میں بات کرنے والے کم گو انسان ہیں لیکن کبھی کبھار خاموش بیٹھے بیٹھے چپکے سے ایسا چٹکلہ چھوڑتے ہیں کہ ہنسی روکے نہیں رکتی۔ ریاض مجید اردو غزل کا ایک اہم نام اور لائل پور کی پہچان جنہوں نے ’’نئی آوازیں‘‘ مرتب کرکے اُس وقت کے نمائندہ شاعروں کو ایک لڑی میں پرو کر تاریخ کا حصہ بنا دیا۔ وہی ریاض مجید جس نے کہا

وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے
رو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے

انہی دنوں میں ایک اور بڑا شاعر وہاں موجود تھا جس نے بعد میں اپنے آپ کو پوری دنیا میں منوایا۔ وہی عدیم ہاشمی جس نے کہا کہ

بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ
اُڑا دیئے ہیں پرندے شجر میں بیٹھے ہوئے

مصطفیٰ زیدی، شکیب جلالی اور رام ریاض کے لہجے میں بات کرنے والا عدیم جس نے مکالماتی غزل کو نئے ذائقوں سے آشنا کیا اور ’’ترکش‘‘ جیسی کتاب تخلیق کی۔ احسن زیدی، انجم خلیق، حفیظ احمد، حزیں لدھیانوی اور افضل احسن رندھاوا بھی خوب فعال تھے اور حسن نثار ان سب کا لاڈلا، سب سے اٹھکیلیاں کرتا ہوا سب سے محبتیں لیتا اور سب کو محبتیں دیتا ہوا بھرپور شاعری کررہا تھا۔ ’’نئی آوازیں‘‘ میں شامل اُس کی سات غزلیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عدیمؔ کے اس ہم عصر کو کالم نگاری کی نعمت اور فیوض کس بھاؤ ملے ہیں۔ اٹھارہ سالہ حسن نثار کے اِس شعر کے تیور اُسکی آج کی کالم نگاری کے تناظر میں دیکھئے

مَیں اَنا کا دیوتا کیا سر جھکانے آؤں گا
تم نے کیوں سوچا کہ مَیں تم کو منانے آؤں گا

اور پھر اس کہکشاں کا ایک اور روشن ستارہ ع خوش درخشید ولے شعلۂ مستعجل بود۔ سلیم بیتاب جس کی کتاب ’’لمحوں کی زنجیر‘‘ اسلم کمال کے بنائے ہوئے سرورق کے ساتھ شائع ہوئی تو تہلکہ مچ گیا۔ وہی سلیم بیتاب جو تمام بڑے شاعروں کی طرح عین عالمِ شباب میں ایک حادثے کا شکار ہوکر لائلپور کو اُداس کرگیا۔ وہی سلیم بیتاب جس نے ایسا لافانی شعر کہا

میں نے تو یونہی راکھ میں پھیری تھیں انگلیاں
دیکھا جو غور سے تری تصویر بن گئی

بات شروع ہوئی تھی بخش لائلپوری سے جنہوں نے تادمِ مرگ لائلپور کے نئے نام کو قبول نہیں کیا۔ صحیح معنوں میں ایک ترقی پسند شاعر جس نے شاعری میں اپنے مسلک سے کبھی سرِمو انحراف نہیں کیا۔ ’’لہو کا خراج‘‘ سے ’’زمیں بولتی ہے‘‘ تک بخش صاحب کی شاعری اُن کے فنی قد کاٹھ اور فکری کردار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دوستی اور دشمنی دونوں میں انتہا پسند۔ دوست کو پوری دنیا کے سامنے گلے لگانا اور دشمن کو اُس کی موجودگی میں تنقیص کا نشانہ بنانا کوئی بخش صاحب سے سیکھے یعنی منافقت نام کو نہیں۔ مہمان نواز ایسے کہ دیارِ مغرب میں اُن جیسا کوئی ڈھونڈے سے نہ ملے۔ ایک بار اوسلو سے واپسی پر طبیعت مچل گئی کہ چند دن لندن کے موسم کا لطف اٹھایا جائے۔ پانچ افرادِ خانہ کو اچانک سامنے دیکھ کر اُن کی پیشانی پر شکن نہیں آئی۔ بہو کو بلا کر کہا لو بھئی تم کہتی رہتی ہو میں نے میکے جانا ہے۔ اب ہمارے مہمان آگئے ہیں تم چند دن میکے گزار آؤ کمرہ خالی کردو۔ وہ نیک بخت بھی ہنستی ہوئی اپنا بیگ سنبھال کر چلی گئی البتہ ہر صبح اپنی ڈیوٹی پر جانے سے پہلے ناشتہ بنانے کے لیے آتی رہی۔ ایک دن ترنگ میں آئے تو کہنے لگے یہ جو میری بیگم شمیم ہے نا جب شادی کرکے لائلپور سے میرے پاس لندن پہنچی تو ایک دن تو ہم نے اس کی خوب خاطر تواضع کی کوئی کام نہیں کرنے دیا۔ اگلے دن صبح پوچھنے لگی بخش صاحب کپڑے دھونے والی نہیں آئی، صفائی والی نہیں آئی، کھانا پکانے والی نہیں آئی تو مَیں نے آہستگی سے کہا شمیم تم ہی ہماری کپڑے دھونے والی، صفائی والی اور کھانا پکانے والی ہو۔ یہاں ہم سب کام خود ہی کرتے ہیں۔ یہ سن کر شمیم نے چھم چھم رونا شروع کردیا۔ آج وہی شمیم آپ کے سامنے ہے جو اپنے دفتر میں بھی مکمل ڈیوٹی دیتی ہے اور پورے گھر کے نظام کو بھی سنبھالے ہوئے ہے۔

صبح ناشتہ کررہے تھے کہ اعجاز کا فون آگیا۔ ’’بخش صاحب مطلع ہوا ہے‘‘۔ بخش صاحب بولے ٹھہرو ذرا کھڑکی سے باہردیکھ لوں۔ سچ مچ کھڑکی تک گئے پھر کہا اعجاز باہر تو مطلع بالکل صاف ہے۔ تمہیں کیا ہوا ہے؟ پیشے کے اعتبار سے ٹیکسی ڈرائیور اعجاز احمد اعجازؔ یاروں کا یار کسی شاعر دوست کی آمد کا پتہ چل جائے تو ہیتھرو پر موجود اور جب تک شاعر لندن میں سارے کام بند، بخش صاحب سے عقیدت میں احسان شاہد، خدا اُسے سلامت رکھے اور اعجاز ایک دوسرے سے بڑھ کر، اُستاد شاگرد اب دونوں وہاں جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔ سچ ہے کہ لندن ہو یالائل پور شہر دوستوں سے ہوتے ہیں۔ بخش صاحب کے لیے کہا گیا ہماری غزل کا ایک شعر

اب نہ چڑیاں ہیں نہ اخبار نہ کپ چائے کا
ایک کرسی ہے جو دالان میں رکھّی ہوئی ہے

Citation
Khalid Sharif, ” مطلع صاف ہے,” in Jang, July 4, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%B9-%D8%B5%D8%A7%D9%81-%DB%81%DB%92/

Disclaimer
The item above written by Khalid Sharif and published in Jang on July 4, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Khalid Sharif:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s